ہندوستان

کہانی: اپنے ہندوستان کی قسط (2) – تنگ دامانیاں

رمیض احمد تقی

Rameez

اس ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی خطِ افلاس سے نیچے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اوردوسری ایک تہائی ان غریب اور مزدوروں کی ہے ، جومحنت ومشقت کرکے پہلے لہو کو تپاتے ہیں، تب جاکر انہیں دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کو جھوپڑی نصیب ہوتی ہے اوران کی آمدنی بھی اتنی نہیں کہ وہ فرحت بخش زندگی گذار سکیں،کیونکہ ہمارے ملک کی فی کس سالانہ آمدنی ہی تقریباً ایک لاکھ روپیے ہیں جو مہنیہ کے اعتبار سے دس ہزارکی مقدار کو بھی نہیں پہنچتی اور یہ بھی ہمارے ملینائروں کی کرم نوازی ہے، ورنہ توملک کے طول وعرض میں ایسے بے شمار لوگ ہیں، جو دانہ دانہ اور پائی پائی کے محتاج ہیں اور مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ اب تودال بھی دسترخوان سے عنقا ہوگئی ہے،یہی وجہ ہے کہ اس ملک کا ایک بڑا طبقہ گداگری کرنے پر مجبور ہے؛حالیہ سروے کے مطابق ہندوستان میں تقریباً 14,51,000گداگر ہیں، گذشتہ کچھ دہائیوں کے بالمقابل اس میں ایک لاکھ سوالیوں کامزید اضافہ ہوگیاہے، صرف ممبئی میں تقریباً 3,00,000 ماگنے والے ہیں، جبکہ ملک کے دارالحکومت دہلی میں بکھاریوں کی تعدادتقریباً 60000 ہے ، جن میں تقریباً 71فیصدانتہائی غریب ہیں، نیز حیدرآباد اوربنگلور میں سے ہر ایک شہر میں تقریبا 30,000 سوالی ہیں اور گذشتہ چند سالوں میں عورت اور بچے گداگروں کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہو ا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ بڑی اور منظم تنظیمیں ہر علاقے کی پو لیس کو کھلا پلاکر ان کو بھیک مانگنے پر مجبور کرتی ہیں،اگر صوبائی سطح پر ان گداگروں کی تعداد کا تخمینہ لگائیں، توصرف یوپی میں ان کی تعداد65,835 ہے، آندھرا پردیش میں 30,218 ، تو 29,723 ،بہار میں اور مدھ پردیش میں 28,695 گداگر ہیں اور81,244 سوالیوں کے ساتھ مغربی بنگال اس فہرست میں سب سے اوپر ہے اوریہ یقیناًچونکا دینی والی بات ہوگی کہ مغربی بنگال، آسام اور منی پور میں عورت گداگروں کی تعداد مرد کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے،البتہ یہاں آپ کا یہ اعتراض بالکل بجا ہوگا کہ ان میں سے بے شمار گداگر پیشہ ور ہیں، جن کے نزدیک بھیک مانگنا کوئی عار نہیں، بلکہ ایک ہنرسمجھا جاتا ہے، تاہم ایسے لوگوں کو گداگری سے باز رکھنا، بلکہ جو حقیقی مجبورہیں ان کو بھی گھر گھر اور سڑکوں سڑکوں پھرنے پر مجبور کرنا ، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ انہیں کون دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے پر اکساتا اور مجبور کرتا ہے؟ توبتادوں کہ اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ حکومت اور ان کے کارندے ہی ہیں،جیت سے پہلے یہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور جیت جانے کے بعد لوگوں کو ہاتھ پھیلانے پر مجبور کرتے ہیں۔
ملک کے گیارہویں قومی ترقیاتی منصوبہ کے مطابق ہندوستان میں غریب لوگوں کی تعداد 300 ملین سے زائد ہے، البتہ 1973 سے لے کر 2004 تک ہمارا ملک55 فیصدی غربت کو 27 فیصد ی تک کم کرنے میں کامیاب رہاہے ، مگر یہ صرف کاغذی باتیں ہیں،ہنوزملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، غریب لوگوں کی ایک بڑی تعداد دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور دیہی آبادی کا تقریباً تیس فیصد حصہ ہمیشہ سے غربت کی مار کھاتی آرہی ہے ،البتہ گذشتہ دو تین دہائیوں سے جب لوگ دیہاتوں کو چھوڑ کر شہر وں میں ہجرت کرنے لگے ہیں، تو شرحِ افلاس میں کسی حد تک کچھ کمی واقع ہوئی ہے ، نیزیہ غربت ملک کے دیہی علاقوں میں بھی نچلی ذات اور قبائلی لوگوں میں کچھ زیادہ ہی ہے۔2005 کے شمار کے مطابق ان کی تعداد 80 فیصد تھی، تاہم کل دیہی علاقوں میں ان کی تعداد بہت کم ہے۔ہندوستان کے نقشے پر غریب ترین علاقوں میں راجستھان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ، اڑیسہ، چھتیس گڑھ ، آسام ا ور مغربی بنگال زیادہ نمایاں ہیں۔ملک کے زیادہ تر غریب ملک کے نیم بارائی گرم علاقوں میں رہتے ہیں، ان علاقوں میں پانی کی قلت اور بار بار خشک سالی کے باوصفت زراعت میں انتہائی دشواری پیدا ہوتی ہے، خاص کر جو علاقے سیلاب زدہ ہیں، مثلاً مشرقی اترپردیش سے لے کر آسام کا بالائی حصہ اور شمالی بہار کے علاقوں میں غربت زیادہ ہے اور یہ جنگلی علاقوں میں قبائلی لوگوں پر زیادہ اثر انداز ہوئی ہے،جہاں وسائل کی کمی نے انہیں اور بھی زیادہ غریب بنا دیا ہے، قدرتی آفات اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ساحلی ماہی گیر برادری کے لوگوں کی حالتِ زندگی مزید خراب ہوتی جارہی ہیں ، دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی غربت کی اصل اور سب سے بڑی وجہ پیداواری اثاثوں اور مالی وسائل تک رسائی کی کمی ہے،حد درجہ کی ناخواندگی، ناکافی حد تک صحت کی دیکھ بھال اور انتہائی محدودانداز میں سماجی خدمات کی کمی کا بھی اس میں نمایا کردار رہا ہے ، تاہم حکومت نے بھی اس میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کی ہے اور یہی تو اس عظیم جمہوری ملک کا سب سے بڑا المیہ رہا ہے کہ یہاں مالدار ملینائر بن گئے اور غریب تیلی کے بیلوں کی طرح وہیں کے وہیں کا چکر کاٹتے رہ گئے ، آزادی کے بعد سے لے کر اب تک بہت کم ایسا ہوا ہے کہ حکومت نے کسی دیہی علاقہ کو شہر میں منتقل کردیا ہو، البتہ ان میں سے جن لوگوں نے محنت ومشقت کی ، توآج ان کا شمار ملک کے مالداروں میں ہے ، یا پھر جن لوگوں نے کسی دھوتی والے کی دمچی سنبھالے رکھا ،تو اس نے بھی اپنا نام کما لیا، مگر یہ کبھی بھی واضح طور پر نہیں ملتا کہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کسی بھی پارٹی نے ملک کے کسی بھی دیہی علاقہ میں ترقی کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیا ہو، علاقہ تو دور کی بات ان میں سے کسی ایک گاؤں کی ترقی کے لیے بھی کوشاں ہوئی ہو!!
اس ملک کو آزاد ہوئے اب تقریباً ایک صدی ہونے کو ہے، ان ایام میں ہماری سیاست نے اس سرزمین پر کتنے اور کیسے کیسے گل کھلائے ہیں، یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں، ہر بار الیکشن سے پہلے یہی بتلاکر لوگوں کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کہ فلاں پارٹی اپنے وعدے میں سو فیصد ناکام رہی، اس نے یہ وعدہ کیا تھا اور اس پہاڑ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات کی تھی، مگر وہ ہنوز وہیں کھڑا ہے، آپ ہماری پارٹی کو ایک موقع دیجیے، اگرہم نے اس پہاڑ کو سونا کا نہیں بنا دیا، تو آپ لوگ میرے نام کاکتا پال لیجیے گا، مگر ستر سال بعد اب بھی اس ملک میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی ، آج تک جو علاقے پسماندہ اور غریبی سے جھوجھتے چلے آرہے تھے، جن لوگوں کو کبھی خشکی دیکھنا نصیب نہیں ہوا، جن کے بچوں نے کبھی اسکول کو نہیں دیکھا، آج تک وہ انہی کس مپرسی اور ذلت بھری زندگی گذارنے پر مجبور ہیں، پہاڑی اور قبائلی لوگوں کے ساتھ ہمیشہ سے جو دوغلی پالیسیوں کو روارکھا گیا ہے اس کے پیچھے اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ ان کو شراب پلاکر اپنے مقصد میں استعمال کریں اور انہیں ایک اچھا انسان اور قابلِ فخر شہری بننے سے باز رکھا جائے ، آپ کو یہ سن کر یہ یقیناًدکھ ہوگاکہ ہماری حکومت نے ابھی حال میں جو سو سمارٹ سیٹی بنانے کا وعدہ کیا ہے ، جن میں سے بیس شہروں کی فہرست جاری کی گئی ہے، مگر افسوس کہ ان بیس شہروں میں کہیں بھی ان علاقوں کا نام نہیں ہے ۔حالانکہ پہلے تو یہ ضروری تھا کہ جن کے پاس کپڑے نہیں ہیں ان کو کپڑے زیب تن کرائے جائیں، نہ کہ جن کے پاس کپڑے ہیں ان کے لیے مزید اونی کپڑوں کا انتظام کیا جائے اور یہ تو ابھی اعلان ہوا ہے اور اس کا نفاذ جب ہوگا اس وقت تک اس حکومت کا وقت پورا ہوچکا ہوگا اور پھر الیکشن میں وہی نعرہ بازی.. کہ ہماری حکومت نے سو علاقوں کو تاج محل بنانے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب آپ ہی بتایے کہ بھلا پانچ سال میں کیا ہوسکتا ہے،یونہی سن سن کر ہماری زندگیا ں گزرگئیں اور نیتا جی چائے بیچتے بیچتے ، عالمی سیاح بن گئے، مگر اس ملک کے غریبوں کا کیا ہوا؟؟؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close