کہانی اپنے ہندوستان کی :قسط (5)- سیاسی بدعنوانیاں

رمیض احمد تقی

Rameez
قوم کی تاریخِ عروج وزوال میں قائدین کا اہم رول ہوتا ہے ، قائد اگر اپنی عوام کے تعلق سے واقعی مخلص ہو تو وہیں سے اس قوم کے عروج کی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے، مگر جب قائدہی خود خائن ورہزن بن جائے، تو پھراس قوم کا زوال یقینی ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان کی سب سے بڑی بد نصیبی یہی رہی ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک اس کو کوئی ایسا قائد اور رہبر نہیں ملا جو ملک اور اس کی عوام کے تعلق سے مخلص ہو۔ گو کہنے کو تو تمام سیاسی قائدین اپنی اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے یہ صداضرورلگاتے ہیں کہ صرف وہی ملک وملت کے خیرخواہ ہیں ، مگر کیا ان کے دل ان کی زبانوں کا آئینہ ہوتے ہیں؟ملک میں کل سیاسی پارٹیاں تقریباً 1703 ہیں، جن میں 6 قومی اور 54 صوبائی مشہور پارٹیاں ہیں، ان کے علاوہ رجسٹرڈ غیرمعروف پارٹیاں1643 ہیں، تاہم ان تمام پارٹیوں کاسلسلۂ نسب کہیں نہ کہیں کانگریس اور بی جے پی تک پہنچ کر ہی ختم ہوتا ہے ، اس لیے یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ ملک کی یہی دوپارٹیاں ہیں، جن میں سے تقریباً نصف صدی سے زائد مدت تک نظامِ حکومت کانگریس کے ذمہ رہا ، جبکہ درمیان میں پانچ سال اورگذشتہ دوسالوں سے اس ملک پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔مگر کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ کانگریس اوربی جے پی نے ملک کی تعمیر وترقی میں بالکل مخلصانہ کردار ادا کیا ہے؟تو اس کا جواب بھی ہمارے آج کا موجودہ ہندوستان ہے۔
اس حقیقت سے کسی کو مجالِ انکار نہیں کہ ہندوستانی سیاست میں مجرم بھی منصف بن سکتا ہے، بلکہ دنیائے ظلم کابادشاہ اس نام نہاد جمہوریت کا ناخدا مہربان بھی ۔ آزادی سے قبل راجا مہاراجاؤں اور انگریزوں نے اس ملک میں ظلم کی کھیتی کی ، توآزادی کے بعد امن ٹھیکہ دار سیاسی رہنماؤں نے اس کھیتی کو اپنے جرم کے پانی سے سیراب کیا اور کار گاہِ ظلم وجرم میں ان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، مگر کیا مجال کہ قتل وخون کی چھینٹیں ان کے صاف وشفاف دامن کو رنگ دے؛ تن پر وہ جو سیاست کا خول چڑھا رکھے ہیں۔نیشنل الیکشن واچ اور (Association for Democratic Reforms)ADR نے جب 2014 کے 280لوک سبھاامیدرواں کے حلف نامہ کاتجزیہ کیا تو ملک کی ان دونوں بڑی قومی پارٹیوں کے ہر تین امیدواروں میں سے ایک کے خلاف کوئی نہ کوئی مقدمہ ضرور درج تھا اور رپورٹ لکھے جانے تک جن 469 امیدواروں کو الیکشن کے لیے نامزد کیا گیا، ان میں سے تیس فیصد امیدوار سنگین جرم میں ملوث تھے، جبکہ ان میں سے تیرہ فیصد کے خلاف قتل واغوا جیسے سنگین جرم کا الزام تھا، رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے 35فیصد امیدواروں کے خلاف کرمنل کیسز درج تھے،جن میں سے سترہ فیصد ایسے مجرم تھے جن پر قتل واغوا، عصمت دری اور فرقہ وارانہ فساد برپاکرنا جیسے سنگین الزامات تھے، جبکہ کانگریس کے 27 فیصد امیدواروں کے خلاف فوج داری کا مقدمہ درج تھا، جن میں سے دس فیصد کے خلاف سنگین الزامات تھے۔ٹائمس آف انڈیا کے حوالہ سے نیشنل واچ اور اے ڈی آر ہی کی رپورٹ کے مطابق 2009 کے منتخب شدہ 543 ممبرِ پالیمنٹ میں سے 162 ممبرِ پارلیمنٹ 306 مجرمانہ کیس میں ملوث تھے، جن میں تقریباً 76 لوگوں کے خلاف قتل واغوا اور عصمت دری کے الزامات تھے اور طرفہ کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی ممبرِ پارلیمنٹ 2014 میں دوبارہ ممبرِ پالیمنٹ منتخب کیے گئے ، بلکہ اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق 2004 میں جن چوبیس ایم پی کے خلاف سنگین الزامات تھے، 2009 میں انہیں دوبارہ ممبرِ پارلیمنٹ منتخب کیا گیا،چونکہ انہیں سیاسی مراعات حاصل ہوتی ہیں، اس لیے وہ اپنے اوپر لگائے گئے سا رے الزامات کو زیادہ دن باقی نہیں رہنے دیتے ، بلکہ بسا اوقات ان پر الزامات کی ساری فائلیں بیس سال تجاوز کرجانے کے بعد بند کردی جاتی ہیں، جبکہ اوسطاً سات سالوں تک ان کا کیس توزیرِ غور رہتا ہی ہے ۔ (Aesthetic and Interpretive Inquiry)AII کی رپورٹ کے مطابق 2009 میں پچاس ایم پی 136 انتہائی مجرمانہ کیس کے ملزم تھے، مگر ان کاکیس پچھلے دس سالوں سے زیرِ غور ہے اور کئی ایک کے کیس تو پچھلے تیس سالوں سے پینڈینگ میں ہیں،بلکہ ٹرینمول پارٹی کے ایم پی امید وار کامیشور بیٹھا کے خلاف دس قتل اور چھہ ارادۂ قتل کا معاملہ درج ہے، مگر ان کا کیس پچھلے دس سالوں سے پینڈینگ میں ہے۔ اگر صرف ملک کے دارالحکومت دہلی میں زیرِغور معاملات کی بات کی جائے تو صرف اس ایک شہر میں کم از کم 23ایم پی تو ایسے ہیں جن کا کیس کئی سالوں سے زیرِ غورہے، ان میں سے تیرہ ایم پی تو ایسے ہیں جو انتہائی مجرمانہ معاملہ ملوث ہیں۔دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہیں جو سرکاری فوج دستیاب ہوتی ہیں ،ان کے علاوہ ان کے پاس خود کی فوجی طاقت اور بے شمارغیر قانون ہتھیاربھی ہوتے ہیں۔ اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق 1987 سے 2012 کے درمیان ملک کے ایم پی حضرات نے جو غیر قانونی ہتھیار خریدے ہیں ان کی تعداد تقریباً756 ہے اور بعض معاملات میں وہ آٹومیٹک اور سیمی آٹومیٹک گنوں کابھی استعمال کرتے ہیں جو صرف آرمی اور یا پھر دہشت گرد جماعتوں ہی کے پاس دستیاب ہوتی ہیں، اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہمارے قانون کے یہ محافظ کس قدر قانون شکن ہیں؟
صوبائی اور سیاسی پارٹیوں کی سطح پراگر ہم اپنے ان محافظوں کاجائزہ لیں، تو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق صوبۂ جھارکنڈ کے چودہ ایم پی میں سے سات ایم پی کا شمار کرمنلوں میں ہوتاہے، مہاراشٹرمیں47.9 فیصد،گجرات میں42.3 فیصد ، بہار میں 40فیصد, جبکہ یوپی میں 37.5 فیصد ایم پی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں ، شیو سینا میں اسی فیصد ایم پی کرمنل ہیں ، جبکہ بی جے پی میں چالیس فیصد اور تقریبا اتنے ہی کانگریس پارٹی میں کرمنلزہیں ۔قومی سیاسی تجزیہ نگار جناب اے کے بی کرشنا نے سچ کہا ہے کہ گو یہ تمام سیاسی پارٹیاں چیخ چیخ کر بدعنوانی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں، مگر حقیقت یہ کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی کرپشن اور بدعنوانی سے خالی نہیں ہے۔
جہانِ سیاست کے ان ناخداؤں کے دوہرے رنگت کا ہم کبھی پتہ لگاہی نہیں سکتے ، ہماری نظر میں جوجرم کی انتہاہے، وہیں سے ان کے جرم کی دنیا شروع ہوتی ہے ، ان کے پاس نہ تو مال کی کمی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی طاقت کا خوف،اے ڈی آر کے مذکورہ بالاسروے کے مطابق جن280امیدوار وں کے حلف نامہ کا تجزیہ کیا گیا ان میں سے ساٹھ فیصد امیدوار ایک کروڑ سے زائد املاک کے مالک تھے،صرف یہی نہیں ، بلکہ ملک اور بیرونِ ملک کے بڑے بڑے تاجروں سے مل کر یہ غیر قانونی دھندھا کرکے کالا دھن بیرونِ ملک جمع کرتے ہیں ، تو وہیں علاقائی مافیاؤں کی مدد سے جو در اصل انہی کے پالتو کتے ہوتے ہیں، ملک میں الیکشن کے موقع پر اپنے لیے سیاسی میدان ہموار کرتے ہیں۔یہ نام نہاد قائدینِ قوم وملت جن کے کندھوں پر حکومت کابار رکھ کرہم چین کی نیند سوجاتے ہیں اور یہ سوچنے کی قطعی زحمت نہیں کرتے کہ جن کو ہم نے اپنی جان و مال اور عفت وعصمت کا محافظ چنا ہے وہ موت کے سوداگر ہیں، جو وقت پڑے تو ملک کو بھی بیچ دے اور یہ سیاسی بدعنوانیاں اب تو ہمارے ملک کی سیاست میں اس قدر رچ بس گئی ہیں کہ شاید اس کو دور کرنابھی ممکن نہ رہا، ہمیشہ سے یہی ہوتا آرہا کہ پہلے الیکشن کے مقابلہ میں دوسرے الیکشن میں بدعنوان سیاست دانوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے،یقیناًجمہوریت میں ہمارا رول کسی کو بھی کرسی دینا اور چھننا ہوتا ہے، مگرکیا کبھی ہم نے سوچا کہ جن کوساٹھ سالوں سے ہم ووٹ کرتے چلے آرہے ہیں، ان میں سے کتنوں نے اخلاص کے ساتھ ملک و ملت کو فائدۂ بہم پہنچایا ہے ، کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے ایک ووٹ سے کتنے مجرم مزید پیداہوجاتے ہیں، جو ملک کو کنگال اور خود کو دجال بناڈالتے ہیں،یہ حقیقت ہے کہ ببول کے درخت پر آم نہیں لگتے!!!



⋆ رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی
رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جمہوریت: ایک طلسماتی دنیا

 عشرت جہاں کو کہاں تک کامیابی ملی،یا اس کی آڑ میں بی جے پی کہاں تک ملک کے عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہی،یہ ایک ا لگ موضوع ِ بحث ہے،تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے کے بعد عشرت جہاں کی شخصیت لوگوں کی نظروں میں کسی طلسماتی دنیا کی ٹوائے گرل کے طور پر توضرور ظاہر ہوگئی اورپھر ہفتوں اور مہینوں پردۂ سیمیں پراس کی آسیب زدہ کہانیاں دہرائی جاتی رہیں۔