کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (11) – جاں باز یا دغاباز

رمیض احمد تقی
ایک ایسا نظام جو لوگوں کو داخلی اور خارجی فتنوں سے محفوظ رکھے ، ان کی جان ، مال اور عزت وآبرو کی حفاظت کرے اورملک میں امن وسلامتی کاضامن ہو،اسے پولیس سے تعبیر کرتے ہیں؛ ماہرِ لسانیات جرمی بینتھم (Jeremy Bentham ) نے پولیس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:’’ Police is in general a system of precaution ‘‘کہ پولیس ایک ایسا نظام ہے جو ہر دم الرٹ رہے اور خبر گیری کرتا رہے ۔تاریخِ انسانی میں جب لوگ قبیلوں، گاؤں، قصبوں اور شہروں میں آباد ہونے لگے ،تواس وقت انہوں نے اپنی اور اپنے سامان کی حفاظت کے لیے پہرداری کا نظام قائم کیا، اس کے بعد سے ہرزمانے اور ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں پولیس کا وجود ضرور رہا ہے ،بلکہ موجودہ نظامِ پولیس قدیم زمانے کے پہرداری نظام کی ارتقائی شکل ہے ، اس کی ضرورت ، اہمیت اورافادیت سے کسی کو مجالِ انکار نہیں، ترقی کے اس دور میں بھی پولیس ہمارے معاشرے کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، بلکہ اس نظام کے بغیر کوئی بھی معاشرہ کبھی ترقی کرہی نہیں سکتا؛البتہ ہر دور میں اس کو کسی نہ کسی قانون کا ضرور پابند بنایاگیاہے، تاکہ اس کا افادہ عام ہو، قدیم ہندوستان میں بھی پولیس کا وجودرہا ہے ،البتہ 1857 کے غدر کے بعد پہلی مرتبہ برطانیہ نے 1861 میں ہندوستانی پولیس کا ایک منظم قانون بنایا ، تاکہ ملک میں دوبارہ اس طرح کا انقلاب رونما نہ ہوسکے، بعدازاں وقت اور حالات کے پیشِ نظر موقع بہ موقع اس میں مختلف ترمیمات اورتبدیلیاں بھی ہوتی رہیں ، تاکہ یہ شعبہ ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک ہوکر خالص مصالحِ عامہ کے لیے کام کرسکے ۔ آئین ہند کی دفعہ 23 میں ملک کے ہر صوبہ کواس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ محکمۂ پولیس کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنا خود کا ایک علیحدہ قانون بنائے ، داخلی اور خارجی سطح پر امن وسلامتی بحال کرنے کے لیے غیرجانب دارانہ، مؤثر اور معتد بہ پولیس کا نظم کرے اورپھر منتخب شدہ افراد سے ان کی ذمہ داریوں کے تعلق سے عہدو پیمان بھی لے، گرچہ ملک کی آبادی اور ان کے نت نئے مسائل کے تناظر میں پولیس کی کمی ہمیشہ عوام کو کھلتی رہی ہے ،چنانچہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ایک لاکھ عام لوگوں کے بالمقابل تقریباً ایک سو تیس پولیس ہیں، تاہم ہر وی آئی پی کے مقابلے میں اوسطاً تین پولیس اہلکارہوتے ہیں،نیز ان پولیس اہلکاروں کو ان کے عہدے اور کام کے اعتبار سے مختلف شعبۂ حیات میں تقسیم کردیاگیا ہے، تاکہ ہر شعبہ سے منسلک افراد اپنی ذمہ داریوں کو بہ آسانی حسن وخوبی کے ساتھ انجام دے سکے ، مگرصد حیف ! ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ‘‘آج ملک میں عوام کو جن نوع بہ نوع مصیبتوں اور تکلیفوں کا سامنا ہے ان کے پیچھے مختلف رنگ وحلیے کے ساتھ قوم وملت کے یہی رکھوالے نظرآتے ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے ملک کی پولیس اپنے اوپر جن نظریات کا مکھوٹا چڑھا رکھی ہے اور ان کے نت نئے کارناموں کی جو داستان اخبارورسائل کی شہ سرخیاں بنتی ہیں ،وہ مستقل سوالوں کی زد میں ہیں کہَ ایا وہ ملک میں امن وسلامتی بحال کرنے کے لیے ہیں، یا پھر ان کا مشن ہی گلستاں کو گلشنِ خراباں میں تبدیل کرنا ہے؛چوری ڈکیتی،مارپیٹ، عصمت دری وجسم فروشی ، گداگری اور دنگاوفساد ان تمام جرم میں کہیں نہ کہیں انہی نام نہاد امن کے ٹھیکہ داروں کاہاتھ ہوتا ہے، بلکہ کسی بھی جرم کو اس وقت تک عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا، جب تک اس میں کوئی پولیس شامل نہ ہو، گذشتہ سال دہلی سے ایک پولیس آفیسرکو گرفتار کیا گیا جو36 سے زائد چوری اور اِسمگلنگ کے واقعات میں ملوث تھا، اسی لیے ماہرینِ سماجیات کایہ کہنا ہے کہ’ ہندوستانی پولیس کرائم اور کرپشن کے خلاف عمومی طور پر بہت زیادہ فعال اورمنظم نہیں ہے،چنانچہ گذشتہ سال صرف دہلی میں عصمت دری کے تقریباً 600 واقعات رونما ہوئے ، جوان کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو آئینہ دکھانے کے لیے یہ کافی ہیں ۔
درحقیقت محکمۂ پولیس میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی تنخواہیں اتنی نہیں ہوتی کہ وہ آسمان کو چھوتی مہنگائی کے اس دور میں اپنی ضروریات کو بہ آسانی پوری کرسکیں، اس لیے وہ رشوت کا سہارا لیتے ہیں، جس کے باوصف جرم اور ظلم دونوں کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں،’ڈی این اے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013 میں نومبر تک صرف پونے میں تقریباً ایک سو پولیس آفیسر کو رشوت لینے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ، بلکہ اے سی بی ممبئی (Anti-Corruption Bureau, Mumbai ) کے کرائم ڈیٹا کے مطابق جنوری 2013سے مارچ2013تک جو کیسز ان لوگوں نے درج کیے، ان میں سب سے زیادہ کیسز محکمۂ پولیس کے خلاف تھے؛ چنانچہ ان ایام میں بدعنوان پولیس آفیسروں کے خلاف اے سی بی نے چالیس کیسز درج کیے جن میں رشوت کی مالیت تقریباً 72,24,200 لاکھ پکڑی گئی ، 2011 میں پولیس اہلکاروں کے خلاف 89 کیسز درج ہوئے، جبکہ 2012 میں 127 کیسزجس میں تقریباً 16,83,750 لاکھ روپیے ممبئی پولیس نے رشوت میں حاصل کیا تھا۔ ’ڈی این اے‘ ممبئی‘ (14/4/2013) یہ توصرف صوبۂ مہاراشٹرا کی ممبئی اور پونے پولیس کی بدعنوانی کی ایک چھوٹی سی جھلک تھی ، ورنہ اگر ملک کے ہر صوبہ کے ہر ضلع اورہر پولیس تھانہ کی کہانی بیان کی جائے ، تو شایداس کے لیے ایک موٹی کتاب بھی ناکافی ہو؛ ٹائمس آف انڈیا(جولائی (2013 میں عالمی بدعنوانی کے حوالہ سے ایک تجزیہ پیش کیا گیا کہ گذشتہ بارہ مہنیوں کے سروے کے مطابق عالمی سطح پر عوامی خدمات اور ادارے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے 27 فیصد لوگ رشوت اداکرتے ہیں، جبکہ ہندوستان میں انہی امور کے لیے ہر دو ہندوستانی میں سے ایک یعنی 54 فیصد لوگ رشوت ادا کرتے ہیں !!
القصہ یہ ان نام نہاد جاں بازوں کے شعبۂ حیات کے ناتمام پہلو کی معمولی جھلک تھی، تاہم ان کی زندگی کا ایک دوسرا پہلواس قدر سفاک اور ہیبت ناک ہے کہ شاید آپ کو ان کا انسان ہونا بھی تعجب خیز معلوم ہو ، یہ چھوٹے سے لے کر بڑے ملزمین اور مجرمین کی اپنی کالی کوٹھریوں میں جس انداز سے ضیافت کرتے ہیں ، اس کا صرف تصور ہی ہمارے ہوش اڑادینے کے لیے کافی ہے، تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ جس بیچارے کو اس دسترخوان پر بیٹھنا نصیب ہوتا ہوگا، اس پر کیا بتتی ہوگی، اس کے شب وروز کس قدر تکلیف دہ اور ہولناک ہونگے؛ عالمِ جمہوریت میں تشدد کے خلاف سب سے کمزور قانون رکھنے والے ممالک میں پولیس تشدد اور عدالتی تحویل میں اموات کے مقدمات کی سب سے زیادہ تعداد ہندوستان میں ہے،دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2002 میں پولیس اسٹیشن اور عدالتی تحویل میں کل اموات کی تعداد تقریباً 1,307 تھی، Asian Centre for Human Rights (ACHR) کی تحقیق کے مطابق پورے ملک کے پولیس اسٹیشنوں میں ہر روز چار افراد جاں بحق ہوتے ہیں ۔ 2002 سے 2007 تک پولیس حراست میں تقریباً 7,500 لوگوں کی موت ہوئی، بلکہ 2001 سے 2010 کے درمیان پولیس حراست میں تقریباً14,000 لوگوں نے دم توڑا،جبکہ’ اے سی ایچ آر‘ کی دوسری رپورٹ میں یہ مذکور ہے کہ گذشتہ دس سالوں میں پورے ملک میں تقریباً1,5004 لوگ پولیس حراست میں مارے گئے اور عدالتی تحویل میں تقریباً12,727 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں ،نیز رپورٹ میں یہ بھی لکھاہے کہ گرفتاری کے 48گھنٹوں کے درمیان پولیس حراست میں 99.99 فیصدہلاکتیں صرف اور صرف تشدد کے باوصف ہوتی ہیں،گرچہ بعد میں ان کو حادثاتی ، خودکشی یا قدرتی موت ثابت کرنے کی ناکام کوششیں بھی کی جاتی ہیں، مگر پوسٹ مارٹم کی رپورٹیں اکثر ان کے دعوؤں کی تردید کرتی ہیں ،یہ حکومتی تمام اعداد وشمار جو حقوقِ انسانی تنظیم نے فراہم کی ہیں وہ صرف پولیس حراست اور عدالتی تحویل میں ہوئی اموات کے بارے میں ہیں، ورنہ تو آرمی اور فوجی تحویلات میں تشدد کی بنیاد پر جو اموات ہوتی ہیں ان کا صحیح علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔
ان تشدد کے حوالہ سے ہندوستانی حقوقِ انسانی واچ کے صدر’ میناکشی گانگولی‘ کا کہناہے کہ ملک میں جب بھی کوئی جرم سرزد ہوتا ہے، تو ہماری پولیس اطمینان بخش ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہوتی ہے اور جو دلائل وہ پیش کرتی ہیں ان کی بنیاد اکثرو بیشتر تشدد ہوتا ہے، یعنی وہ ملزمین پر جبرواکراہ کرکے ان کو جرم قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں‘ ۔ یہ لاریب حقیقت ہے کہ پولیس سچ اگلوانے کی پاداش میں متاثرین کے ساتھ ہمیشہ تشدد کا سہارا لیتی ہے، چھوٹی سی چھوٹی چیز کو ثابت کرنے کے لیے وہ بے جا تشدد کا استعمال کرتی ہے؛ گالی گلوج، مارپیٹ، بجلی جھٹکا، سرین اور اعضائے رئیسہ پر ضرب کاری یہ سب تو بالکل عام بات ہے،بلکہ ایک معمولی سزا بھی بجلی جھٹکا سے پاک نہیں ہوتی، پولیس کی انسانیت سوزی کا اندازہ احتشام قطب کے اس واقعے سے بھی لگایا سکتا ہے کہ 11/ 7 ممبئی بم دھماکہ کیس میں تحقیقات کے دوران کس طرح وہ پولیس کے تشدد کا نشانہ بنتارہا،اس کا بیان ہے کہ دن میں کئی مرتبہ اس کے ہاتھ کے باطنی حصہ، سرین ، پاؤں اوربدن کے مختلف حصوں پر لوہے کی گرم پٹی سے مارا جاتا ،کبھی کپڑا اترواکرالیکٹرک شاک دیا جاتاتھا؛ بایں طور کہ ایک ننگا تارپاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ عضو خاص کو باندھ دیا جاتا اور پھر وقفہ وقفہ سے اس میں کرنٹ پاس کیا جاتاتھا،توکبھی کرسی پر اس طرح جکڑ دیا جاتا کہ سر بالکل بھی جنبش نہ کرسکے اورپھر سر پرپانی ڈالاجاتا تھا اور کبھی الٹا لٹکاکر ناک میں بھی پانی ڈالا جاتا تھا،یہ کافی تکلیف دہ عمل ہوا کرتا تھا،ان عمل کے درمیان بسا اوقات جب میں بے ہوش ہوجاتا ،تو مجھے ہوش میں لایاجاتا اور پھرسے میرے اوپر وہی عمل دہرایا جاتاتھا‘۔ اس کے علاوہ بھی ہماری پولیس کے پاس ٹارچر کے مختلف طریقے ہیں، جن سے انسان ایک زندہ لاش بن کر رہ جاتا ، یا پھر وہیں تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے ، ان کی درندگی اور حیوانیت سے زندہ بچ کر نکل آنا کسی معجزہ سے کم نہیں ہے، حالانکہ یہ نظام اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ اس سرزمین پر انسانیت کی حرمت باقی رہے ،ملک میں امن و امان کی فضا قائم ہو،مگر جب محافظ خود مخالف اور سرپرست خودشرپرست بن جائے، تو وہاں امن کی فضا کیسے قائم ہوسکتی ہے، آج مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پورے ملک میں جو عجیب وغریب افراتفری،بے چینی، بے سکونی اور ہنگامی کیفیت برپا ہے، انسانوں کا بے دریغ قتل عام ہورہا ہے،عزت وآبرو لوٹی جارہی ہیں اورمال واسباب چھینے جارہے ہیں، وہ دراصل اسی نظام میں خرابی کا ایک نتیجہ ہے!!!

(مضامین ڈیسک)



⋆ رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی
رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جمہوریت: ایک طلسماتی دنیا

 عشرت جہاں کو کہاں تک کامیابی ملی،یا اس کی آڑ میں بی جے پی کہاں تک ملک کے عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہی،یہ ایک ا لگ موضوع ِ بحث ہے،تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے کے بعد عشرت جہاں کی شخصیت لوگوں کی نظروں میں کسی طلسماتی دنیا کی ٹوائے گرل کے طور پر توضرور ظاہر ہوگئی اورپھر ہفتوں اور مہینوں پردۂ سیمیں پراس کی آسیب زدہ کہانیاں دہرائی جاتی رہیں۔