ملی مسائلہندوستان

کہاں گئے موسمی رہنما؟

مسیح الزماں انصاری

جب قوم اپنی روزمرہ کی زندگی میں دو وقت کی روٹی کے لئے جدوجہد کر رہی ہوتی ہے، جب ماں باپ اپنے بچوں کی اعلی تعلیم کے لیے پیسوں کے انتظام میں گھوم رہے ہوتے ہیں ، جب مسلم نوجوان اپنے روزگار کے لیے بڑے بڑے شہروں کی خاک چھان رہے ہوتے ہیں ، جب گھر والے جیل میں بند اپنے بچوں کی رہائی کے لئے کورٹ اور كچہريو کے چکر لگا رہے ہوتے ہیں ، اس وقت کوئی بھی مذہبی یا ملي رہنما ان کے دکھ میں، ان کے جدوجہد میں شریک نہیں ہوتا، ان کے غم کو باٹنے کی زحمت نہیں کرتا. مگر جیسے ہی انتخابی موسم آتا ہے تو نئے نئے ملي، مذہبی رہنما، قاید، رہبر اچانک میدان میں دکھائی دینے لگتے ہیں.

 یہ موسمی رہنما بغیر مانگے قوم کو یہ نصیحت کرنے لگتے ہیں کہ مسلمان کسے ووٹ کریں ، کس پارٹی میں جائیں ، کس کا ساتھ دیں ، کس کے ہاتھ میں مستقبل کی ڈور سونپی جائے؟ یہ سب کچھ بغیر پوچھے ہی بتانے لگتے ہیں . مدتوں کے بعد اپنے آرام گاہ سے نکل کر یہ مذہبی اور ملی رہنما مسلمانوں کے مستقبل کیلئے فکر مند نظر آنے لگتے ہیں . کبھی مذہب کے نام پر شیطان سے ڈراتے ہیں ، تو کبھی سیاست کے نام پر بی جے پی سے اور قوم کو ڈراكر اپنی زندگی چلانے والے یہ رہنما مسلمانوں کے ہمدرد ہونے کا دعوی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے.

حد تو یہ ہے کی یہ اعلان کردہ رہنما جب سیاسی میدان میں کودتے ہیں تو ملت کو متحد ہونے کی نصیحت کرتے ہیں ، مگر مذہبی معاملات میں یہ خود کبھی متحد نہیں ہوتے. قرآن مجید میں اللہ یہ کہتا ہے کہ "تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ مگر یہ ملي اور مذہبی رہنما اکثر وہی کہتے ہیں جو خود کبھی نہیں کرتے. ان تقریر جیسی بھی ہو مگر ان کے عمل سے مسلمان سیاسی گمراہی کا شکار ضرور ہوتا ہے.

حال ہی کی مثال لے لیجیے، اتر پردیش اسمبلی الیکشن میں ان ملي اور مذہبی رہنماؤں کی مسلمانوں سے جو اپیل تھی وہ ان کے متحد ہونے کے دعوے کو کس طرح خارج کرتی ہے. بدعنوانی کا الزام جھیل رہے  مولانا سلمان ندوی انتخابات کے وقت یہ کہتے ہوے نظر آتے ہیں کہ مسلمان اپنی سیاسی قيادت کو بہن مایاوتی کے ہاتھوں میں سونپ دے. مسلمانوں کے ساتھ کانگریس نے اور سماج وادی پارٹی نے دھوکہ کیا ہے۔ jamhuriyat.com کے انٹرویو میں بھی مولانا نے یہ بات کہی کہ میں مسلمانوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ متحد ہو کر مایاوتی کا ساتھ دیں ورنہ بی جے پی آجايے گي. یہی نہیں بلکہ 2012ء کے اسمبلی انتخابات میں بھی یہ اچانک اپنے آرام گاہ سے نمودار ہویے، فرنٹ بنایا، مسلمانوں سے متحد ہونے کی اپیل کی اور پھر ہار کر اپنے آرام گاہ میں واپس چلے گئے۔

 اس کے کچھ ہی دنوں بعد لکھنؤ عید گاہ کے امام مولانا خالد رشید فرنگی محلی آپ كچھ چنندا لوگوں کو لے کر وزیر اعلی اکھلیش یادو کے ساتھ تصاویر میں نظر آئے. اخبار اور سوشل میڈیا میں یہ تصاویر خوب وائرل ہوئیں جو خاموشی سے اپنا میسیج دے رہی تھی. خالد رشید فرنگی محلی اس معاملے میں بہت ماہر مانے جاتے ہیں کہ وہ جلدی میں کوئی بیان تو نہیں دیتے، مگر خاموشی سے تصاویر میں نظر آکر ملت کو اپنا سیاسی پیغام ضرور دے جاتے ہیں .

ساؤتھ انڈیا کے نئے قاید ملت و رہنما بھی بہار میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے کے بعد یوپی میں تشریف لائے تھے. تقریریں ہوئیں ، بی جے پی سے ڈرایا گیا، ماضی کے سنہرے باب پڑھ کر سنائے گئے، روشن مستقبل کی باتیں ہوئیں اور پھر ہار کر واپس چلے گئے. اب مسلمان اگلے انتخابات تک ان کے آنے کا انتظار کریں .

پوروانچل کے ایک قايد ہیں . جو نامی سرجن ہیں . چند سال پہلے پارٹی بنائی اور سیاست میں آئے. گزشتہ اسمبلی انتخابات میں 4 سیٹیں جیتیں مگر ان کے علاوہ باقی 3 باغی ہو گئے اور انہیں ہی پارٹی سے نکالنے کی سازش کی. مشکل سے پارٹی کو بچا سکے. مزاج سے بہت تیز ہیں ، مگر سیاست میں بھی سرجری کے ہنر آزماتے ہیں . 2017ء کے انتخابات  میں نشاد پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے مسلمانوں کو غلامی سے نکالنے کی بات کرتے رہے. مہم کے دوران ان پر الزام لگا، نتیجہ یہ هوا کہ اپنی ضمانت مشکل سے بچا پائی.۔

 کچھ اور بھی رہنما سامنے آئے تھے. کانپور میں کچھ مسلم رہ نماوں نے مل کر 16 پارٹیوں کی ایک فرنٹ بنایا تھا، جسے اتحاد فرنٹ کا نام دیا گیا تھا. اتحاد فرنٹ میں شروع سے ہی اس بات میں اختلاف تھا کہ فرنٹ کا سربراہ کون بنے گا. اس اتحاد فرنٹ میں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑ کر کوئی پارٹی ایسی نہیں تھی، جسے کوئی سیاسی حمایت حاصل ہو. بلکہ کئی ایسے لوگ بھی اس فرنٹ میں شامل تھے، جن کی اکیلی پارٹی ہے اور وہی قومی صدر بھی ہیں اور وہی کارکن بھی. عجیب مذاق ہے یہ. شروع میں اس فرنٹ کی خبر اردو اخباروں کے فرنٹ پر آئی، پھر آہستہ آہستہ یہ فرنٹ آپ کے کام کی طرح اخبار کے صفحات سے بھی غائب ہو گیا۔

 ماضی میں بھی مسلمانوں کی آواز بن کر ایک قاید ملت ابھرے تھے. ہزاروں لاکھوں لوگ انہیں سننے کے لئے جمع ہوتے تھے. جو یہ کہتے تھے کہ مجھے کرسی نہیں ، آيت الكرسي چاہیے. مگر آگے چل کر ملائم سنگھ نے انہیں کرسی دے دی، اب پتہ نہیں آيت الكرسي کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے۔

 مسلمانوں کی رہنمائی کے دعویدار یہیں ختم نہیں ہوتے بلکہ اور بھی کئی نام ہیں . دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے شاہی امام جب سیاسی موسم میں دھوپ لینے اور خوشگوار موسم کا جايزہ لینے کے لیے باہر نکلتے ہیں ، تو مسلمانوں کو کچھ نصیحتیں بھی کر جاتے ہیں . آج تک ان کی سیاسی پیشین گوئی کبھی صحیح نہیں ہوئی۔ پھر بھی سیاسی تذكير کرنا نہیں بھولتے. جب بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہیں ، تو کانگریس کی جیت ہوتی ہے اور جب کانگریس کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہیں تو بی جے پی. پھر بھی یہ ہار نہیں مانتے، نصیحتیں دیتے رہتے ہیں .

 ایک اور رہنما ہیں جو مودی جی کے کافی قریبی ہیں . دہلی کے امام کونسل کے صدر مولانا عمیر الیاسی. jamhuriayat.com کے انٹرویو میں مسلم نوجوانوں کو پرانی باتیں بھول کر مودی جی کو سمجھنے اور ترقی میں ان کا تعاون کرنے کی اپیل کی. انتخابات میں بی جے پی کے لیے نرم رخ اپنانے کی نصیحت بھی کی۔

اگر ہم سب اعلان کردہ ملي اور مذہبی رہنماؤں کی باتوں پر غور کریں ، تو سیاسی گمراہی کے سوا کچھ حاصل ہوتا نظر نہیں آئے گا۔ اس طرح تو قوم سیاسی اعتبار سے بھی کبھی متحد نہیں ہو سکتی اور مذہبی اعتبار سے نام نہاد علماء کبھی متحد ہونے نہیں دیں گے. جو مذہبی قا یدین اور خدا کے نام پر ایک نہیں ہو سکے وہ سیاست میں متحد ہونے کی بات کہہ کر سیاست میں فرقاپرستي کے نئے راستے ہموار کرتے ہویے نظر آرہے ہیں .

یقین نہیں تو انجام دیکھ لیجیے کہ جس بی جے پی سے یہ ہمیشہ ڈراتے رہے اور مسلم عوام کو حکمت عملی کا درس دیتے رہے، وہی بی جے پی یوپی اسمبلی الیکشن میں اکثریت سے آکر حکومت بنانے میں کامیاب رہی. ان مذہبی اور ملی رہنماؤں سے ذرا کوئی پوچھے کہ کیا حکمت عملی کا درس صرف عوام کے لئے ہوتا ہے یا آپ کی زندگی میں بھی حکمت کے لئے کوئی جگہ ہے؟ میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ اقبال نے یہ بات کس کے لئے کہی تھی کہ …

 "جنھیں آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو”

یہ ہمیشہ قوم کو یہ بتاتے رہے کہ کیا نہیں کرنا ہے اور مصروفیت میں انہیں یہ بتانے کا وقت ہی نہیں ملا کہ قوم کو کرنا کیا ہے. اگر وقت ملا بھی تو مسئلے-مسائل میں ہی الجھے رہے یا پھر فرقہ پرستی کے درس میں . قرآن میں اللہ نے بھی کچھ چیزوں کو بتایا کہ یہ حرام ہے اور اس سے بچنا ہے، باقی چیزوں کو جائز ٹھہرایا. مگر ہمارے ملي مذہبی رہنماؤں نے ‘حرام’ کی اتنی بڑی عمارت تعمیر کردی کی مسلم نوجوانوں کو صحیح منزل مل ہی نہ سکی.

 قوم کو یہ چاہئے کہ جب بھی کوئی ملي مذہبی قاید سیاسی مشورے لے کر آئے اور متحد ہونے کی بات کرے تو ان کے سامنے یہ شرط رکھیں کہ پہلے آپ سب علماء مذہبی اعتبار سے ایک ہو جائیں ، تمام مکتب فکر آپس میں اتحاد پیدا کر لیں پھر قوم کو سیاسی اتحاد پیدا کرنے کا درس دیں . ورنہ آپ مذہبی اختلافات میں الجھے رہیے اور ہمیں ہماری حالت پہ چھوڑ دیجیے. شاید اس برکت سے قوم سیاسی اعتبار سے متحد ہو جائے. ویسے بھی ماضی میں کبھی کوئی مذہبی رہنما، سیاسی رہنما نہیں بن سکا ہے.

جب مسلمان اپنی زندگی میں تمام مسائل سے گھرا ہوتا ہے، تو کوئی مذہبی یا ملي رہنما ان کا حال پوچھنے نہیں آتا. مگر سیاسی بگل بجتے ہی حضرت خانقاہوں سے نکل کر سیاسی قاید بن جاتے ہیں ، جبكہ قوم نے ان کو کبھی سیاسی ٹھيكیداري نہیں دی. اپنے بیانات اور رویوں سے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی ذمہ دار، ان رہنماؤں سے آزادی کا وقت آچکا ہے.

 اب یہ وقت آ چکا ہے کہ ان اعلان کردہ ملي رہنماؤں کی رہنمائی کی جائے اور یہ بتایا جائے کہ ہم بھی آزادی چاہتے ہیں تمہاری سیاسی نصیحتوں سے، ہم آزادی چاہتے ہیں تمہاری فرقہ پرست سوچ سے، ہم آزادی چاہتے ہیں تمہاری متحد ہونے کہ جھوٹی باتوں سے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مسیح الزماں انصاری

مضمون نگار ہندوستان کے ایک سرگرم سماجی کارکن، بہترین تجزیہ نگار اور جمہوریت ڈاٹ کام کے ایگزکیوٹو ایڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Close