ہندوستان

کیا انسان ہونا ایک گالی ہوگیا ہے؟

حفیظ نعمانی

وزیراعظم شری نریندر مودی جن کے بارے میں شہرت تھی کہ وہ بے ضرورت بھی بولتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ بھی بولتے ہیں ان کی طرف ہندوستان کا ہر باشعور شہری دیکھ رہا ہے کہ وہ چپ کیوں ہیں؟ اور وہی نہیں ان کے وزیر داخلہ جو آسنسول میں بی جے پی کے خلاف اٹھنے والی آواز پر وہاں کی حکومت سے رپورٹ طلب کرلیتے ہیں وہ بھی جموں اور اُناؤ کے آخری درجہ کے گھناونے اور شرمسار کرنے والے واقعات پر بھی خاموش  ہیں۔ صرف ایک مرکزی وزیر جو فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد سیاست میں آئے ہیں انہوں نے ضرور کہا کہ کٹھوعہ جموں میں جو کچھ 8 سالہ بچی کے ساتھ ہوا اس سے یہی لگتا ہے کہ انسان ہونا ایک گالی ہے۔ اور جانور ہم سے کہیں اچھے ہیں۔ شری وی کے سنگھ نے ان سب کا منھ بند کردیا ہے جو حیوانیت کا انسانوں کو طعنہ دیتے تھے۔ اور یہ بات ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ یہ جانوروں اور حیوانوں کی توہین ہے۔

معاشرہ شہر کا ہو یا دیہات کا ہر جگہ یا پلے ہوئے جانور یا آوارہ جانور نر اور مادہ ملتے ہیں لیکن یہ شیطان کی اولاد صرف انسان ہیں جو ایک لڑکی یا عورت کے ساتھ ایک کے بعد ایک اپنا اپنا منھ کالا کرتے ہیں۔ ہر جگہ یہ منظر نظر آتا ہے کہ ایک مادہ کتیا کے پیچھے دس دس کتے اس اُمید میں ساتھ چلتے رہتے ہیں کہ دیکھیں کس کا نصیب جاگتا ہے پھر جب کوئی ایک کتا کتیا سے تعلق بنا لیتا ہے تو پھر انسانوں کی طرح دوسرے کتے اس کا انتظار نہیں کرتے کہ یہ ہٹے تو ہماری باری آئے وہ اپنے نصیب پر صبر کرتے ہوئے چلے  جاتے ہیں۔

جموں میں بی جے پی نے ترنگا ہاتھوں میں لے کر جس طرح ان شیطانوں کی حمایت کی ہے اور ایک آٹھ سالہ معصوم کے ساتھ روح کو جھنجھوڑ دینے والے واقعات کے بعد جلوس نکالے ہیں، جموں بند کیا ہے اور شیطانوں کی حمایت میں بھارت ماتا کی جے اور جے شری رام کے نعروں کے درمیان چارج شیٹ داخل کرنے کی مخالفت کی ہے اور کیس کو سی بی آئی کے سپرد کرنے پر زور دیا ہے اس کے بعد سمجھ میں نہیں آتا کہ شری نریندر مودی سے کیسے معلوم کیا جائے کہ حلف لینے کے بعد جو انہوں نے پہلی تقریر سینٹرل ہال میں کی تھی اور جس میں کہا تھا کہ بی جے پی میری ماں ہے جس نے مجھے آج یہاں تک پہونچایا ہے کیا یہ وہی بی جے پی ہے جو آٹھ سالہ بچی کے ساتھ اسے بیہوش کرکے اور بھوکا پیاسا رکھ کر منھ کالا کرنے والوں اور اس کے مرنے کے بعد بھی اس سے اپنا منھ کالا کرنے والوں کو جے شری رام کے نعروں سے بچانے کی کوشش کررہی ہے اور کیا یہ وہی بی جے پی ہے جس کی حکومت کے لئے مودی جی نے پورے اُترپردیش میں ہندوئوں اور مسلمانوں کو ہی نہیں اچھے ہندوئوں اور گندے ہندوئوں کو الگ کردیا اور دونوں میں نفرت کی دیوار کھڑی کردی اور جو حکومت بنائی جس کے لئے بزرگ گورنر رام نائک سے کہلایا کہ ایک سال بے مثال اور اس حکومت کو ہائی کورٹ کے محترم ججوں نے کہا کہ ریاست میں نظم و نسق کی حالت ابتر ہوچکی ہے وہ کیا آج بھی مودی جی کی ماں ہے ؟

اُنائو میں ایک لڑکی کے باپ کو ایم ایل اے کے بھائیوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جس بیدردی سے مارا ہے اور پوری پولیس جیل کے عملہ اور ڈاکٹروں نے جس درندگی کا ثبوت دیا ہے جس کے نتیجہ میں آخرکار اس نے جیل میں دم توڑ دیا اور وہی ایم ایل اے 40  گاڑیوں کا قافلہ لے کر ایس پی کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بھگوڑا نہیں ہوں اپنی بیوی کا علاج میو ہاسپٹل میں کرارہا ہوں۔ اور ایس پی اتنے خوفزدہ ہوجاتے ہیں کہ گردن پکڑکر اس وقت اسے بند کرانے کے بجائے یہ تک معلوم کرنے کی ہمت نہیں کرتے کہ اتنی سی بات کہنے کے لئے 200  آدمیوں کو لانے کی کیا ضرورت تھی؟

حکومت نے جب تحقیقات کے لئے ایک ٹیم اُنائو بھیجی تو ہزروں حمایتی بلائے گئے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ ایم ایل اے کے حمایتی کتنے ہیں؟ انہوں نے جو رپورٹ بھی دی وہ اپنی جگہ لیکن اب دوسری چال چلی گئی کہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد کردیا اور خبروں کی حد تک سی بی آئی نے مقدمہ ہاتھ میں لے لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جموں میں بھی سی بی آئی کا نعرہ انہوں نے دیا جو پاپیوں کو بچانا چاہتے تھے اور اُنائو کے مقدمہ میں بھی انہوں نے مطالبہ نہیں کیا جن کی لڑکی کی آبروریزی کی گئی اور فریاد کرنے پر جس کے باپ کو پانی ڈال ڈال کر مارا گیا اور تڑپا تڑپاکر آنتیں تک پھاڑ دیں اور اسے موت کی نیند سلاکر آخری رسوم بھی ادا کردیئے کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

دہلی خواتین کمیشن کی صدر سوتی مالیوال نے وزیراعظم کو خط لکھ کر معصوم بچیوں کی آبرو تار تار کرنے والوں کو چھ ماہ میں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے معلوم کیا ہے کہ کیا عصمت دری کی شکار بچیوں کی چیخوں کی آواز انہیں سنائی نہیں دیتی؟ انہوں نے وزیراعظم کو لکھا ہے کہ کیا بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو کا نعرہ اب آپ نے واپس لے لیا؟ محترمہ سوتی مالیوال نے لکھا ہے کہ ہم نے 55  لاکھ خط آپ کی خدمت میں بھیجے تھے دُکھ کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم کچھ کرنے کی تو دور کی بات بولنا بھی نہیں چاہتے۔ خواتین کمیشن کی صدر نے اپیل کی ہے کہ اُنائو کے جس ایم ایل اے کو صوبائی حکومت بچانا چاہ رہی ہے اسے گرفتار کیا جائے اور اس گھرانے کی پوری حفاظت کی جائے جس کی بیٹی کی آبرو تار تار کردی اور جس کے سرپرست کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

آخر میں ہم پھر مرکزی وزیر وی کے سنگھ کی بات یاد دلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ میں یہ بات جذبات سے ہٹ کر کہہ رہا ہوں کہ مجرموں کو ایسی سزا ملنا چاہئے کہ اس کی مثال ہمیں نسل در نسل یاد رہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ فلمی دنیا کے بھی تمام بڑے لوگوں نے اپیل کی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

ایک بات پر سب حیران ہیں کہ اُترپردیش کی حکومت نے سی بی آئی کو کیوں آواز دی؟ اس لئے کہ سی بی آئی کو عام آدمی مقامی پولیس سے مایوس ہوکر یاد کرتا ہے۔ اُنائو کی صورت حال یہ ہے کہ جو لڑکی اس مقدمہ کا اہم کردار ہے وہ کہہ رہی ہے کہ تمام ثبوت پولیس کے پاس موجود ہیں اور سی بی آئی کو ایم ایل اے کو گر فتاری سے بچانے کے لئے حکو مت نے بلایا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پولیس سی آئی ڈی سی بی سی آئی ڈی پر عام آدمی کو اس لئے اعتبار نہیں ہوتا کہ وہ صوبائی سرکار کے ماتحت ہوتی ہیں۔ اب اگر صوبائی حکومت کو بھی ان پر اعتبار نہیں ہے تو پھر ان کو کروڑوں روپئے تنخواہ کیوں دی  جائے۔ ان سب کو سرکار کے دوسرے کاموں میں لگایا جائے اور امن و قانون سی بی آئی کے سپرد کردیا جائے۔ اب تک تو حزب مخالف اور ہائی کورٹ ہی اترپردیش کے بارے میں یہ رائے رکھتے تھے کہ حکومت فیل ہوگئی ہے اب یوگی سرکار نے سی بی آئی کی مدد لے کر خود تسلیم کرلیا ہے کہ حالات ان کے قابو سے باہر ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close