ہندوستان

کیا بی جے پی کے مقابلے میں سماجوادی پارٹی کے حوصلے پست

کیا کانگریس کی طرح سماجوادی پارٹی نے بھی بی جے پی سے لڑنے کا حوصلہ کھودیا ہے؟

قاسم سید

اب بات صاف ہوتی جارہی ہے کہ ترقی اور ہندوتو کے کاک ٹیل سے بی جے پی کی لوک سبھا الیکشن میں جو انتخابی حکمت عملی تیار کی گئی تھی اترپردیش میں مشن 2017 کے تحت اس کو صدق دلی سے دہرایا جائے گا۔ وزیراعظم 125 کروڑ عوام کی ترقی کی بات کریں گے اور فائر برانڈ لیڈر دادری، متھرا ہوتے ہوئے کیرانہ کا رخ کریں گے۔ ریاست میں امن و قانون کی بگڑتی صورت حال کو فرقہ واریت کا جامہ پہناکر ووٹوں کی صف بندی کا کھیل شروع ہوگیا ہے۔ مسلمان حسب معمول خاموش تماشائی ہیں، سیکولر پارٹیاں ان کی کنپٹی پر نال رکھ کر جبراً ووٹ وصولیں گی اور زبان بند رکھنے کو کہا جائے گا۔ کہیں ہندو ووٹ نہ بدک جائے جیسا کہ بہار میں لالو اور نتیش نے کیا۔ اب آئندہ چند انتخابات تک مسلمانوں کی یہی تقدیر ہوگی۔ ان کی حمایت کو گالی سمجھا جائے گا اور احسان کے طور پر سیکولر کہلائے جانے والے نمائندے ان کی جیب سے زبردستی ووٹ نکالیں گے۔ یہ مہربانی ہماری ان مسلم جماعتوں کی وجہ سے ہے جنھوں نے گزشتہ ربع صدی میں بی جے پی کو ہرانے کا نعرہ بلند کیا اور اسے ہراتے ہراتے مرکز تک پہنچادیا، اب اللہ جانے اور کس بلندی تک لے جائیں گے۔ یہ بات تو جملہ معترضہ کے طور پر آگئی۔

جہاں تک کیرانہ میں ہندو آبادی کے نقل مکانی کا سوال ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس جھوٹ کی پرتیں اسی میڈیا نے کھول دیں، جو نان ایشو کو ایشو بنانے میں ماہر ہے۔ یہ جھوٹ اوندھے بل گرا، حالانکہ بی جے پی اور اس کے قبیلہ کی دیگر جماعتوں کو اس میں ملکہ حاصل ہے، انھیں پینترا بدلنے میں بھی مہارت ہے۔ ابھی الیکشن کافی دور ہے، لیکن تیور بتارہے ہیں کہ راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے بی جے پی کسی بھی قیمت پر اترپردیش کو جیتنا چاہے گی۔ اب تک اکھلیش سرکار کی کمزوری نے اسے حوصلہ دیا ہے۔ ناکارہ حکمت عملی اور ہندوتو عناصر کے تئیں نرم گوشہ نے اس کی مٹی تو پلید کی ہے، اپنے ہمدردوں کو بھی دھیرے دھیرے دور کررہی ہے۔ جب بھی موقع آیا اس نے بزدلی کا ثبوت دیا جس سے اس الزام کو تقویت ملتی رہی کہ بی جے پی اور سماجوادی پارٹی میں اندرون خانہ مفاہمت ہے، ملائم سنگھ جیسے پہلوان سیاست کے ہوتے ہوئے سماجوادی پارٹی اگر بی جے پی کے سامنے سرنگوں دکھائی دیتی ہے تو دال میں کچھ نہیں بہت کچھ کالا نظر آتا ہے۔ دادری میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود مہاپنچایت کیسے ہوجاتی ہے؟ سادھوی پراچی قبیل کے لیڈر کوئی بھی بیان دینے کے لئے آزاد ہیں۔ انتظامیہ مفلوج و بے دست و پا ہے۔ متھرا کے واقعہ میں غیرذمہ دارانہ رویہ اور اب کیرانہ کی چنگاری کو بھڑکتی آگ بننے کی اجازت دینا بتاتا ہے کہ یا تو حالات پر سرکار کی گرفت نہیں ہے، بصورت دیگر وہ جان بوجھ کر ڈھیلا رویہ اختیار کررہی ہے تاکہ اقلیتوں کو خوف زدہ کرکے انھیں اپنے پالے میں رکھا جائے، جو بہت سی ٹھوس وجوہات کی بنا پر سماجوادی پارٹی اور اس کی سرکار سے سخت ناراض ہیں۔

اب یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ کیا بی جے پی اور سماجوادی پارٹی میں نوراکشتی چل رہی ہے۔ اندرونی طور پر کوئی ڈیل ہوئی ہے تاکہ مایاوتی کو روکا جاسکے۔ لوک سبھا الیکشن میں صرف ملائم فیملی کے ہی تمام ممبران کا جیتنا اور مایاوتی کی پارٹی کو ایس پی سے زیادہ ووٹ ملنے کے باوجود ایک سیٹ حاصل نہ کرپانا اس گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دوسرے کیا سماجوادی پارٹی نے بھی کانگریس کی طرح بی جے پی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اسے لگنے لگا ہے کہ وہ اپنے نامہ اعمال کی بنیاد پر عوام کا دوبارہ اعتماد حاصل نہیں کرسکے گی۔ بی جے پی اترپردیش میں دندنا رہی ہے۔ جارحانہ لب و لہجہ کے ساتھ حملہ آور ہوگئی ہے اور سماجوادی پارٹی نرم خوئی و فراخ دلی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ آخر یہ مہربانی کیوں؟ تنائو پیدا کرنے والوں کے ساتھ رعایت کیوں؟ آگ اگلنے والوں پر عنایت کس لئے؟ قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا؟ انتظامیہ کے ہاتھ پیر کس نے باندھ دیے ہیں؟ مظفرنگر کے بعد کیرانہ اور اب کاندھلہ پر بی جے پی کا دست شفقت اس پر سماجوادی سرکار کا دلار ناقابل فہم ہے۔ شاید وہ لوگ جواب حاصل کرسکیں جو سرکار کے ’فیوض و برکات‘ سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ رویہ انتہائی خطرناک اور مہلک ہے، صرف الیکشن جیتنے کے لئے دلوں میں لکیریں کھینچنے کی کوشش تباہ کن نتائج پیدا کرسکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قاسم سید

معروف صحافی اور روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر

متعلقہ

Close