ہندوستان

کیا عشرت کامسئلہ سپریم کورٹ حل کرے گا ؟

حفیظ نعمانی
اگست 1947سے ابتک اگرحساب لگایا جائے تو شاید پانچ سو سے زیادہ ایسے لیڈر ہونگے جو وزیر اعلیٰ بنے ہونگے ۔لیکن حافظہ پر جتنا ہوسکا اتنا زور ڈالنے کے بعد بھی یاد نہیں آیا کہ جو انکاؤنٹر کے ڈرامے گجرات میں ہوئے وہ بھی صر ف شری نریندر مودی کے 12سالہ دور اقتدار میں ہوئے ایسے ڈرامے ان پانچ سو میں سے کسی صوبہ میں اور کسی کے دور میں ہوئے ہوں؟ شری مودی ایسے اکیلے وزیر اعلیٰ تھے جنہیں قتل کرنے کے لئے بار بار لڑکے آتے رہے اور وہ پولیس کی گولیوں کا شکاربنتے رہے ۔اور سہراب الدین اور اسکی بد نصیب بیوی کو ثر کے ساتھ جو ہوا وہ آخری ڈرامہ اسٹیج ہو کر یہ سلسلہ روک دینا پڑا اس لئے کہ جس انکاؤنٹر میں عشرت جہاں کو دکھایا گیا اس نے بھانڈا پھوڑ دیا ۔
ٹی وی چینل اے بی پی میں پریس انٹرویو میں گجرات انکاؤنٹر ڈراموں کے سب سے بڑے ڈائرکٹر ڈی جی ونجارہ بیٹھے تھے۔ ابتدا میں تو وہ سوالات سے کھیلتے رہے۔ شاید یہ سوچ کر کہ ان سے کون جیت سکتا ہے؟ پھر جو سوالوں کی جھڑی لگی تو وہ آپے سے باہر ہوگئے ۔اور انہیں کہنا پڑا کہ مخبری کی بناپر جس گاڑی کی اطلاع ہوتی ہے ہم اسکی ناکہ بندی کرتے ہیں اور وہ جب سامنے آتی ہے تو اسے روک کر کہتے ہیں کہ بس اب رک جاؤ ہم پولیس ہیں ۔اور ہم جانتے ہیں کہ تم لوگ کیو ں آئے ہو؟ بس اب باہر آکر ہتھیار ڈال دو۔ وہ جواب میں فائرنگ کرتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی جان بچانے کے لئے فائرنگ کرنا پڑتی ہے ۔اور یہی عشرت اور اسکے ساتھیوں کے ساتھ ہوا ۔ان میں دو لڑکے پاکستانی تھے ۔
یہ پریس کانفر نس تو ایک گھنٹہ تک چلی اور وہ جتنا جھوٹ بو ل سکتے تھے بولتے رہے۔ لیکن یہ تو انکو تسلیم کرنا ہی تھا کہ کار کے اندر سے آنے والی گولیوں سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔اور انکی گولیوں سے چاروں مرگئے ۔ونجارہ صاحب برابر یہ کہتے رہے کہ آئی بی نے انہیں بتایا تھا کہ ایسی ایسی گاڑی ہے اور کس طرف سے آرہی ہے ۔اس میں لشکر طیبہ کے تین لڑکے اور ایک لڑکی ہے وغیرہ وغیرہ۔اسکے بعد ہم نے ناکہ بندی کی اور مقابلہ ہوا تو وہ چاروں ماردئے گئے۔
لشکر طیبہ ہو یا جیش محمد یا کوئی دوسری دہشت گر دتنظیم ۔اگر وہ کسی دوسرے ملک کے کسی صوبہ یا مرکز کے کسی وزیر کو مارنے کے لئے بھیجی گئی تو ایسے نشانہ بازوں کو بھیجے گی جو اڑتی ہوئی چڑیا کی آنکھ میں اگر گولی مارنا ہوتو آنکھ میں ہی لگے ۔ہمارے ٹی وی جو ان پاکستانی دہشت گردوں کو پریکٹس کرتے ہوئے دکھاتے ہیں وہ اگر حقیقت ہو تب بھی اور افسانہ ہو تب بھی اس کی گواہی دیتے ہیں کہ کچھ اور ہو یا نہ ہو نشانہ انکا ضرور ایسا ہوگا کہ یہ مقابلہ میں آسانی سے مات نہیں کھائیں گے ۔اور جب واقعہ سامنے آتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا توانکے کارتوس سیلے ہوئے تھے ۔یا جیسے ہی انکی نظر گجرات کی خوانخوار ونجارہ جیسی پولیس کی ٹیم پر پڑی تو چاروں کے ہاتھ کانپنے لگے اور وہ فائر ہی نہ کر سکے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ ہماری بہادرپولیس نے پاکستانی دہشت گردوں کے ماہر جانباز وں اور فدایوں کو دس منٹ میں ختم کردیا ۔اور دوسری طرف یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہندوستانی پولیس دیکھ کر ہی انکی جان نکل گئی۔ عشرت جہاں کی وجہ سے ونجارہ کا مقدمہ کمزور ہورہا تھا ۔تو اسے مضبوط کرنے کے لئے ایک آنکھ کے امریکن ہیڈلی کا ڈرامہ رچایا گیا ۔مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ عشرت کا تعلق حافظ سعید سے ثابت کردیا جائے ۔اسکے لئے سرکا ری وکیل صاحب نے جو سوالات کی زنجیر بنائی تھی ۔اس میں اس سوال کی کیا ضرورت تھی کہ لشکر طیبہ کی کیا کوئی خواتین یونٹ بھی ہے؟ اس سوال کا تک کیا تھا ؟کیا آج تک کسی نے معلوم کیا ہے کہ جیس محمد کی کوئی تنظیم زنانی بھی ہے ۔یا فلاں کی بیویاں کتنی ہیں ؟
جیسی کہانی عشرت جہاں اور اسکے ساتھیوں کی بنائی تھی ایسی ہی ایک کہانی اور ٹی وی پر دکھائی گئی تھی کہ اور نگ آباد سے چار دہشت گردمسلمان لڑکے آر ایس ایس کے ہیڈ کواٹر کو اڑانے کے لئے ناگپور آئے ۔جو پولیس کی وردی میں تھے ۔ہیڈکواٹر کے پاس پولیس سے سامنا ہوگیا ۔اور چاروں کا ر کے اندر ہی مار دئے گئے ۔اسکے بعد اسکا بھی ڈرامہ بحث کا موضوع بنا اور آخرمیں شرم کی وجہ سے ناگپورکے کمشنر نے ملنا اور جواب دینا بند کردیا ۔
کہانی بنانے والے یہ نہیں سوچتے کہ دس دہشت گرد سمندر کے راستے ممبئی آئے اور ہوٹل تاج اور ہوٹل اوبرائے اور ریلوے اسٹیشن پر ان دس کوختم کرنے میں 70گھنٹے لگے اور انھوں نے 300سے زیادہ انسانوں کی جان لے لی ۔اور انکے مقابلہ کے لئے سیکڑوں جوان اور انتہائی ماہر کمانڈوز کو بھی اتارنا پڑا ۔یا پنجاب کے گورداس پور میں تین دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے ۔انھوں نے تھانے پر قبضہ کرلیا اور جو تباہی مچائی وہ کون بھلا سکتا ہے کہ ایک ایس پی کی بھی جان چلی گئی ۔یاپانچ لڑکے پٹھان کوٹ کے اس محفوظ مقام تک آگئے اور دو دن دو رات مقابلہ کرنے کے بعد مرسکے ۔ان واقعات کے دوش بدوش ناگ پور کا واقعہ یا عشرت جہاں کا واقعہ یا عشرت سے پہلے کم از کم دس انکاؤنٹر اورکہ وہ بھی مودی کو مارنے آرہے تھے ۔تو کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ جب مودی صاحب کو مارنا اتنا ہی ضروری تھا تو یا تو 26/11کو جیسے لڑکے بھیجے تھے ایسے بھیجے ہوتے یاایسے بھیجے ہوتے جیسے پٹھان کوٹ بھیجے تھے یہ زنانہ جیسی فوج وہ بھی بار بار بھیج کر ذلیل ہونے کی کیا ضرورت تھی ؟ اور یہی وہ بات ہے جو شری نریندر مودی کے قتل کے ارادے سے آنے والوں اور بار بار آنے والوں کے معاملہ کو ڈرامہ ثابت کرتی ہے ۔
ایک طرف تو ہیڈلی کی گواہی دوسری طرف عشرت کی فائل سے کاغذات کی گم شدگی اور دوسرے حلف نامہ کی کہانی؟ جس کے ذریعہ چدمبر پر الزام ہے کہ وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ عشرت جہاں کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔یہ صحیح ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے لیکن یہ تو ہر کسی کو مان لینا چاہئے کہ مودی کمپنی کے لئے عشرت کا لشکر سے وابستہ ہونا جتنا ضروری ہے۔ سونیا کمپنی کے لئے عشرت کا لشکر سے وابستہ نہ ہونا اتنااہم نہیں ہے ۔اور آج کی خبروں سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ چدمبرم پر جو الزام لگایا جارہا ہے اس میں دم نہیں ہے۔
جہاں تک کاغذات کی گم شدگی کا تعلق ہے تو یہ ان مقدمات میں ممکن ہے جو برسو ں سے محافظ خانہ میں پڑے دھول کھارہے ہیں۔ لیکن عشرت کے مقدمہ تو جس دن سے واقعہ پیش آیا ہے مسلسل حرکت میں ہے ۔اس میں سے ایک کاغذ کے غائب ہونے کا بھی امکا ن نہیں ۔اور اب جو آنند شرما نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس مقدمہ کو اپنی نگرانی میں لے لے ۔تو یہ حقیقت ہے کہ اس پر اگر سپریم کورٹ نے اپنا ہاتھ نہیں رکھا تو ہیڈلی کا مقدمہ بن کر رہ جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close