ہندوستان

کیا واقعی "یکساں سول کوڈ” کا نفاذ اتنا آسان ہے؟

مھدی حسن عینی

*ڈیڑھ سو سال قبل برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہندوستانیوں کے مذہبی امور میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ اس قبل ہندو عہد اور مغلیہ عہد میں بھی کوئی مشترکہ سول کوڈ نہیں رہا اور سب نے اس امر کا اعتراف ہمیشہ سے کیا ہے کہ کسی بھی مذہب کے عائلی قوانین میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے گویا ایک ہزار سال کی تاریخ میں ہندو مسلم مشترکہ تہذیب میں کبھی بھی مشترکہ کوڈ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اس کے عدم موجودگی میں کسی عوامی نقض امن کا کوئی معاملہ بھی پیش نہیں آیا۔*

*آزاد ہندوستان کی تقریباً ستر سالہ تاریخ میں بھی ہم ایک مشترکہ سول کوڈ کے بغیر بنا کسی تنازع کے پر ہم امن طور پر جی رہے ہیں۔ اور ہزاروں سال سے بغیر کسی مشترکہ سول کوڈ کے ملک چل رہا ہے تو اب اس بحث کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے. آزاد ہندوستان کے گذشتہ سات دہائی کے حالات خود یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ملک کو کسی مشترکہ کوڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے.*

*اگر حکومت ہند یکساں سول کوڈ کا نفاذ چاہتی ہے تو اس کے پاس اس کے نفاذ کے لیے کیا جواز ہے؟*

*ملک میں سیکولر اور مشترکہ سول کوڈ کی وکالت کرنے والی تنظیموں اور خود سپریم کورٹ کو حکومت ہند سے براہ راست یہ سوال کرنا چاہئے کہ اس نے آزادی کے بعد سے اب تک دفعہ 44 کی تنفیذ کے لئے کیا کیا اقدامات کئے ہیں؟*

*اگر اس سمت ابھی تک کچھ نہیں ہوا ہے تو پھر اس کا مطلب سمجھنا چاہیئے کہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کا نفاذ ایک ملی جلی تہذیب والے ملک میں ناممکن الحصول امر ہے اور حکومتیں خود بھی اس قسم کے کوڈ بنانے اور ان پر عمل پیرائی کرانے سے عاجز ہیں۔*

*فعال و متحرک مرکزی تنظیم جمعیۃ علماء ھند و مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران سمیت ملک میں قیام امن اور سماجی انصاف کے لئے کام کرنے والی تمام مسلم تنظیموں کو چاہئے کہ دستور ہند کے رہنما اصولوں کی دفعہ 44 کو ہی "حذف” کرنے کا مطالبہ کریں تاکہ پرسنل لاء میں ترمیم کی گنجائش ہی ختم ہوجائے. اس ضمن میں مسلمانوں کو چاہیے کہ ملک گیر سطح پر عوامی تحریک کا آغاز کریں یا مرکزی حکومت سے مطالبہ کریں کہ پہلے اس یکساں سول کوڈ کا خاکہ تو پیش کرے کہ اس یکساں سول کوڈ میں کیا ہوگا؟ پھر ہم اس پر بحث کرنے کے لئے تیار ہیں تو یقیناً ً ًحکومت ہند کے لئے ایسا کوئی خاکہ پیش کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے پر…*

🔻 *ہندؤوں کے میرج کوڈ کو منسوخ کرنا…*
🔻 *سکھوں کے کرپال رکھنے پر پابندی لگانا…*
🔻 *جین مذہب کے "پیشوا” کو مادر زاد برہنہ رہنے سے روکنا اور…*
🔻 *مذھبی مقامات پر نشہ خوری پر پابندی لگانا…*

*جیسے حساس معاملات کو بھی اس یکساں سول کوڈ کے مجوزہ خاکہ میں شامل کرنا پڑے گا کیونکہ یہ سب بھی ہندوستان کے آئینی دفعات کے عین مخالف ہیں لیکن ان کو بھی مذہبی معاملات ( یعنی پرسنل لاء ) کے تحت ہی اجازت دی گئی ہے.*

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close