ہندوستان

کیا ہر مرض کی دوا سپریم کورٹ ہے؟

ملک میں کرکٹ سے دولت کمانے والوں نے بے رحمی اور بے شرمی کی حد کردی ہے۔ مہاراشٹر ہائی کورٹ نے بھیانک خشک سالی کی وجہ سے حکم دیا تھا کہ مہاراشٹر میں اس سال آئی پی ایل کے میچ نہ کرائے جائیں اور اس کی وجہ بھی بتائی تھی کہ فیلڈ کو کھیل کے قابل بنائے رکھنے کے لئے 60 لاکھ لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے۔ منتظمین نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ ہم پینے والا پانی استعمال نہیں کریں گے۔ لیکن جو صورت حال میڈیا کے ذریعہ دکھائی جارہی ہے۔ ہر چند کہ وہ دس فیصدی سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ صرف لاتور، عثمان آباد جیسی آبادیوں کے خشک ہوتے کنوئیں ہیں جن کو دکھایا جارہا ہے۔ لیکن وہ دور دراز کے دیہات کون دکھائے گا جہاں نہ جانے کے راستے اس قابل ہیں کہ ان پر قیمتی گاڑیاں جاسکیں اور نہ وہاں کا منظر ایسا ہے جسے دکھایا جاسکے۔ بہرحال جو دکھایا جارہا ہے اس سے ہی اندازہ ہورہا ہے کہ لڑکے لڑکیاں جان پر کھیل کر ایک گھڑا پانی لاتی ہیں اور وہ گھر میں اس طرح خرچ ہوتا ہے جیسے مسلمان آب زمزم اور ہندو گنگا جل خرچ کرتے ہیں۔
اچھا تو یہ ہوتا کہ مہاراشٹر کے صحتمند وزیر اعلیٰ جن کے بارے میں برابر خبریں آرہی ہیں کہ وہ بہت فکرمند بھی ہیں اور ہر کام سے زیادہ پانی کی طرف سے فکرمند ہیں۔ وہی آئی پی ایل کی انتظامیہ سے کہہ دیتے ہیں کہ اس سال ہم اپنے صوبہ میں کوئی میچ نہیں کھیلنے دیں گے۔ لیکن تفریحی ٹیکس کی صورت میں ملنے والے حصہ کی رقم سے شاید ان کے منھ میں بھی پانی آگیا۔ تو لوگ ہائی کورٹ کی طرف دوڑے۔ ہائی کورٹ نے دردمندی کا ثبوت دیتے ہوئے صرف دو میچ کھیلنے کی اجازت دی تو بے شرم سپریم کورٹ پہونچ گئے۔ اور اب سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد کہ مئی میں ایک بھی میچ مہاراشٹر میں نہیں ہوگا۔ اپنے بال نوچ رہے ہیں اور سابق وزیر شکلا جیسے لوگوں کا تو حال پاگلوں جیسا ہورہا ہے۔ انہوں نے ایسے درجنوں کام بتادیئے جہاں ان کے نزدیک جو پانی خرچ ہورہا ہے وہ آئی پی ایل سے کم درجہ کے کام ہیں۔ مہاراشٹر ہائی کورٹ نے اورنگ آباد میں شراب کی گیارہ فیکٹریوں کو بھی حکم دیا ہے کہ ان کا 60 فیصدی پانی کم کردیا جائے۔ حیرت ہے کہ اس کی مخالفت میں دو وزیر سامنے آگئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان فیکٹریوں میں کام کی کمی کی گئی تو سیکڑوں مزدور بے روزگار ہوجائیں گے ۔ اور یہ سن کر مزید حیرت ہوئی کہ وزیر بننے سے پہلے یہ دونوں وزیر دو فیکٹریوں کے ڈائرکٹر تھے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اورنگ آباد میں جولائی تک کا پانی موجود ہے۔ وہاں باہر سے پانی منگوانا نہیں پڑے گا۔
مہاراشٹر کی حکومت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکام کی بھی ان سنی کررہی ہے۔ جبکہ تین دن پہلے وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو یقین دلایا تھا کہ وہ انہیں ملک کے لئے قابل فخر سمجھتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کو حکم دیا تھا کہ ڈانس باروں پر لگی پابندی ختم کردی جائے۔ حکومت نے اس میں کلی پھندنے لگائے اور ایسے پے در پے استعمال کئے کہ ڈانس بار والے چیخ پڑے۔ اور وہ پھر سپریم کورٹ گئے۔ وہاں سے پھر کہا گیا کہ بھیک مانگنے اور گلی گلی گندگی پھیلانے سے اچھا تو یہ ہے کہ وہ اپنے فن سے پیسے کمائیں۔ حکومت کو اس کا ڈر ہے کہ ڈانس کی آڑ میں آگے کی حرکتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ لیکن جو حکومت جسم فروشی کے لائسنس دیتی ہو اور اس کی فیس سے سرکاری کام کراتی ہو وہ کس منھ سے ڈانس کے بہانے جسم فروشی کی فکر کررہی ہے؟ بات وہی ہے کہ جوانی کے جوش میں وہ سپریم کورٹ سے بھی زور آزمائی کررہے ہیں۔
بات ہورہی تھی آئی پی ایل کے میچ کی اجازت ملنے نہ ملنے کی۔ آئی پی ایل کے ذمہ داروں پر اعتراض ہے کہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ ملک کے کئی حصوں میں خشک سالی کا اثر ہے۔ ان لوگوں نے جب اس کے پروگرام بنائے تو کیوں یہ نہیں سوچا کہ ان شہروں میں نہ کرائے جائیں جہاں سوکھے کا اثر ہے اور انہوں نے ایسی شدید گرمی کے دن ہی کیوں رکھے؟ اس کا جواب تو وہ دیں گے لیکن ہمارا خیال ہے کہ مہاراشٹر پر سارا زور اس لئے ہے کہ وہی ایسی ریاست ہے جہاں 50 لاکھ سے زیادہ ایسے لوگ ہوں گے جو مختلف صوبوں سے اپنے بال بچوں کو چھوڑکر کمانے آتے ہیں ان کے پاس وقت بھی ہوتا ہے اور وہ تفریح کے لئے چار گھنٹے قربان کردیتے ہیں۔
اب یہ تو مودی سرکار کے سوچنے کی بات ہے کہ ہندوستان جیسے غریب ملک میں کھیلوں کی عیاشی کے لئے کتنا وقت دیا جائے؟ ہر شہر اور قصبہ میں ایسے اسکول کالج یونیورسٹیاں اور مدرسے ہیں جہاں بورڈنگ بھی ہیں جن میں بچے رہتے ہیں۔ ہم نے تو ہر جگہ یہ دیکھا ہے کہ شام کو دو تین گھنٹے ہر جگہ بچوں کو کھیل کے لئے آزادی دی جاتی ہے اور اگر پورے دن کا کرکٹ جیسا کھیل یا سالانہ مقابلوں کے لئے ضرورت ہوتی ہے تو اس کے لئے چھٹی کا دن دے دیا جاتا ہے۔ لیکن ملک میں کرکٹ کا حال تو یہ ہے کہ دن ہو یا رات ٹسٹ میچ کے پروگرام ہوں یا ایک روزہ یا 20 اوور کے۔ ہر سال ہر مہینے اور ہر دن صرف کھیل ہوتا ہے۔ اور کھلاڑیوں کا یہ حال ہے کہ یا وہ دوسرے ملک جارہے ہیں یا دوسرے ملک سے آنے والی ٹیم سے کھیل رہے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کا اصل کام صرف کرکٹ کھیلنا ہے۔
بی سی سی آئی نے اگر دولت کی بھوک میں اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں تو حکومتوں کا کیا فرض نہیں ہے کہ وہ کھیل کی حد اور وقت پر لگام لگائے؟ مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ کی حالت ایسی ہے جیسے گاؤں یا محلہ میں کئی ارتھیاں اور جنازے رکھے ہوں اور گاؤں کے دولتمند اصرار کریں کہ ان کے بیٹے کی شادی میں ہر طرح کا باجا بھی بجے گا اور رنڈیاں بھی ناچیں گی۔ کیا یہ معمولی بات ہے کہ اپنے گھر والوں کے لئے بار بار دس لیٹر کی کین بھرکر لانے والی ایک لڑکی نے دم توڑ دیا۔ یا ایک کنبہ ایک برتن میں رکھے ہوئے پانی کو دیکھ رہا ہے اور مشورہ کررہا ہے کہ اس پانی سے کیا کیا جائے؟ جہاں ایسا روح کو تڑپا دینے والا ماحول ہو وہاں بی سی سی آئی صرف پیسوں کے لئے نیم برہنہ لڑکیاں نچاکر اور درمیان کے وقفہ میں تعلیم یافتہ مگر خوبصورت لڑکیوں کو فیلڈ میں کھڑا کرکے تماش بینوں کے جذبات کی تسکین کرے تو اس کا اس کے علاوہ کیا مطلب ہے کہ مظاہرہ صرف کھیل کا نہیں بلکہ بقول اقبالؒ ؂
آہ بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
کا بھی ہے۔ اور اسے بروکری بھی کہا جاتا ہے۔ کاش مرکز اور صوبے اس کا بھی خیال کریں۔(یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close