ہندوستان

کیوں یادآئے امبیڈکر؟

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
ملک میں بابا صاحب کی قبولیت گزشتہ برسوں کے مقابلہ نسبتاً بڑھی ہے۔ چناؤ پر مشتمل جمہوری نظام نے اس میں اضافہ کیا ہے۔آج ہر سیاسی پارٹی کے اعلیٰ لیڈران اپنی سیاسی زمین کو دھیان میں رکھ کر امبیڈکر کو یادکررہے ہیں۔ وجہ دیش کی کل آبادی کے چوتھائی سے زیادہ ووٹوں کا امبیڈکر کے ساتھ جڑنا ہے۔ تمام پارٹیوں کی یہی کوشش ہے کہ وہ اپنے کو امبیڈکر کا سچا جانشین ثابت کریں اوربتائیں کہ صرف وہی امبیڈکر کے راستہ پر چل رہے ہیں۔ یعنی وہ دلتوں وکمزور طبقات کے سب سے بڑے ہمدرد ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ دلتوں وکمزوروں کو ان کا حق دینے کے بجائے امبیڈکر کی جے جے کار کرنے سے ووٹوں کی برسات ہوجائے گی۔ اب تو ہندوتوا وادی طاقتیں بھی کہنے لگی ہیں کہ امبیڈکر ہمارے ہیں۔ نریندرمودی ان کے 125ویں یوم پیدائش پر ان کے آبائی وطن مہو پہنچے۔ انہوں نے اپنے انداز میں امبیڈکر کو یاد کیا۔ اس موقع پر مودی جی نے ملک گیر مہم’’ گرام ادے سے بھارت ادے شروع کی۔
راہل گاندھی، سونیا گاندھی نے اپنے طریقے سے بابا صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے آئین کی تدوین اوراس میں دلتوں کو دےئے گئے حقوق کو دوہرایا۔ اس مرتبہ اروندکجریوال بھی میدان میں ہیں۔ انہوں نے دہلی میں ریلی کرا مبیڈکر سے اپنی عقیدت کااظہار کیا۔ دراصل ان کی نظر پنجاب کے ا لیکشن پر ہے۔ رہا مایاوتی کا سوال تو وہ امبیڈکر پر اپناپہلا حق سمجھتی ہیں اورکیوں نہ سمجھیں بابا صاحب کی تصویر اٹھاکر ہی تووہ یہاں تک پہنچی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جے بھیم کے ساتھ اب لال سلام کا ہم بولا بھی سنائی دینے لگا ہے۔ حیدرآباد سے اسدالدین اویسی جے بھیم کے ساتھ جے میم کی سنگت بٹھانے کی جگت میں لگ گئے ہیں۔ اس کی ناکام کوشش کسی زمانے میں نظام حیدرآباد اور مشہور دلت لیڈر بی شیام سندر نے بھی دلت مسلم یونٹی موومنٹ کے ذریعہ کی تھی۔ دہلی میں امام عبداللہ بخاری اور کانسی رام نے بھی اس طرف قدم بڑھائے تھے لیکن کسی وجہ سے وہ آگے نہ بڑھ سکے۔
جب تاریخ کے محافظ خانہ سے کسی بڑی شخصیت کو نکال کر اس کی نمائش لگائی جاتی ہے تو سیاست میں کچھ اہم ہونے والا ہوتا ہے۔ مثلاً لوک سبھا انتخابات2014سے کچھ پہلے نہرو کی وراثت کو کنڈم کرنے کیلئے سردار پٹیل کو باجے گانے کے ساتھ یاد کیاگیا تھا۔ بہار میں کشواہا ووٹوں کوحاصل کرنے کیلئے سمراٹ اشوک کو زندہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لوک سبھا چناؤ کے فوراً بعد تین ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو دیکھتے ہوئے گاندھی کو اپنانے کا دکھاوا ہوا تھا۔ مغربی بنگال میں سبھاش چندربوس کارڈ بھی کھیلنے کی کوشش ہوئی لیکن زیادہ بات بنتی نہ دیکھ کر اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیاگیا۔ آئندہ جن صوبوں میں انتخابات ہونے ہیں ان میں دلت ووٹوں کا کردار غیر معمولی ہوگا۔ اسی لئے اچانک امبیڈکر سنگھ اور بھاجپا کی آنکھوں کے تارے بن گئے۔ جبکہ زندگی بھر بابا صاحب مذہب(ہندتوا) کی بنیاد پر سیاست’ہندوراج‘سماجی نا برابری اور ورنڈ واد (منوواد)کی مخالفت کرتے رہے
آئین ساز کمیٹی کی میٹنگ کے اختتام پر بابا صاحب نے اپنی تقریر میں کہا تھا’’مذہب، بھکتی مکتی کی راہ ہوسکتی ہے لیکن سیاست میں دینداری یقینی طورپر تانا شاہی کا راستہ ہی کھولے گی۔ ہمیں اپنی سیاسی جمہوریت کو سماجی جمہوریت بنانا چاہئے۔ اگر ہم نے سماجی جمہوریت کی بنیاد تیارنہیں کی توسیاسی جمہوریت زیادہ نہیں چلے گی۔ سماجی جمہوریت کا مطلب ہے زندگی جینے کا ایسا طریقہ جوآزادی، برابری اوربھائی چارے کی قدروں کو تسلیم کرتی ہے۔ ان تینوں کی تری مورتی ہے۔ ان میں سے ایک کو بھی الگ کردینے کا مطلب ہے جمہوریت کے مقصد کو ہی پیچھے چھوڑدینا۔ اگر برابری اور آزادی نہیں ہوگی تو کچھ لوگ باقی پر حکمرانی کرنے لگیں گے۔ ابھی تک بھارت ایک ایسا سماج ہے جس میں واضح طورپر غیر برابری ہے۔ اگر یہ لمبے وقت تک چلا توہماری سیاسی جمہوریت خطرے میں پڑجائے گی۔ اس لئے جتنی جلدی ہو سکے ہمیں غیر برابری کوختم کرنا ہوگا‘‘
آزادی کے سترسال بعدبھی کیا ہمارا سماج ان کمیوں کو دور کرسکا جن کی طرف امبیڈکر نے اپنی تقریر میں اشارہ کیاتھا۔ کیادلتوں وکمزور طبقات کا استحصال رک سکا؟ تعجب ہوتا ہے کہ امبیڈکر کے اتنے مہان بھکتوں کی موجودگی میں بھی برابری پر مشتمل سماج نہیں بن سکا۔ نہ ہی امبیڈکرکو ان کی جگہ مل سکی اورنہ دلتوں کی حالت میں کوئی تبدیلی آئی، وہ آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں امبیڈکر کے زمانے میں کھڑے تھے۔لگ بھگ17 کروڑ دلت گاؤں چھوڑکر روزی روٹی کی تلاش میں شہر آچکے ہیں۔ یہ کروڑوں دلت بھارت کے ایسے مہاجر ہیں جن کے انسانی حقوق کی کسی کو فکر نہیں ہے۔ چھواچھوت، بچہ مزدوری، دلت ہراسمنٹ وغیرہ قانون ہونے کے باوجود کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ دلتوں و کمزور طبقات کے ساتھ زیادتی کی خبر نہ آتی ہو۔ حد تویہ ہے کہ سرکاروں نے دلتوں کیلئے انگریزی ہی نہیں مادری زبان تک میں تعلیم مشکل کردی ہے۔ سرکار کہہ رہی ہے کہ دلت مہنگی نجی تعلیم نہیں خرید سکتے تو سرکاری اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھائیں۔ جبکہ لاکھ سے اوپر سرکاری اسکول بے موت مرچکے ہیں۔ بچے کھچے مرنے کے کگار پر ہیں۔ غلام بھارت میں بالک بھیم راؤ امبیڈکر کو جس طرح کی معیاری تعلیم حاصل ہوئی تھی، آزاد بھارت میں سرکاریں کیا اس طرح کی تعلیم دلتوں وکمزورطبقات کو دے پارہی ہیں؟
امبیڈکر سماج سے چھواچھوت، نابرابری، ناانصافی کو دور کردلتوں کو سماجی غلامی سے آزاد کرناچاہتے تھے۔ انہوں نے اس خواب کو بھارت کے آئین میں پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دلتوں کی اس حالت کیلئے کانگریس کو ذمہ داربتایا جاتاہے۔ کانگریس نے لمبے وقت تک مرکز وریاستوں میں حکومت کی ہے اس لئے اس کی ذمہ داری تو بنتی ہے لیکن کیوںآج بھی گجرات کے زیادہ تر گاؤں میں دلت عورتیں کنوؤں سے خود پانی نہیں لے سکتیں؟کوئی دوسرا آکر رحم کرے اپنے برتن سے پانی بھر کر ان کے برتنوں میں ڈال دے تودلتوں کی پیاس بجھے۔ کیوں اس صوبے سے آج بھی سننے کوملتا ہے کہ چائے کی دوکانوں پر الگ دلت گلاس رکھے جاتے ہیں؟ کانگریس تو پندرہ سال سے یہاں اقتدار سے باہر ہے۔ اس بھید بھاؤ کو مٹایاجاسکتا تھا یا کم از کم اس کو کم کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی تھی، ہوئی کیا؟
گجرات ہی نہیں یہ حالت پورے ملک کی ہے۔ راجستھان میں دلت دولہے آج بھی گھوڑی نہیں چڑھ سکتے۔ بھلے ہی دولہا خود پولس والا ہو۔ بہار کے اسکولوں میں دلت بچے کلاس میں الگ بٹھائے جاتے ہیں۔ مڈ ڈے میل وہ خود چھونہیں سکتے۔ کئی مندروں میں دلتوں کے داخلے پر پابندی ہے۔ دلت اپنے جانوروں کو اس تالاب میں نہلایا پانی نہیں پلا سکتے جہاں اعلیٰ ذات کے لوگوں کے جانور پانی پیتے ہیں۔ جنوبی ہند کے کئی مندرروں میں برہمنوں کی جھوٹی پتلوں پر دلت لوٹتے ہیں۔ ملک بھر میں دلت بچیاں جنسی استحصال کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ انہیں مشکل سے ہی کبھی انصاف مل پاتا ہے۔ کم وبیش ہر صوبے کی حالت یہی ہے۔ کہیں کم کہیں زیادہ۔ دلتوں سے چھواچھوت پورے ملک میں لگ بھگ ایک جیسی ہے۔ دیش میں یاکسی ریاست میں کب کسی پارٹی نے، کسی سرکار نے ایسے بھید بھاؤ کو مٹانے کیلئے کوئی سماجی آندولن چلایا؟ مایاوتی نے بھی نہیں۔
پچھلے ستر سالوں میں ہزاروں دلتوں کے ممبرپارلیمنٹ،ایم ایل اے چنے جانے، صدر جمہوریہ، وزیر اور وزیراعلیٰ بننے کے باوجود دلتوں کو لے کر سماج کانظریہ آج بھی وہی یوں ہے؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ ریزرویشن کی جہاں مجبوری نہیں ان اداروں یا شعبوں میں دلتوں کی نمائندگی کیوں نہیں؟ کیوں کچھ نہیں بدلا؟ وجہ ایک ہی ہے دلتوں کیلئے جو کچھ کیاگیا وہ محض دستوری یا سیاسی مجبوریوں کے تحت ہی کیا گیا دل سے کچھ نہیں کیاگیا۔یہاں تک کہ دلت نیتاؤں یا دلت پارٹیوں نے بھی نہیں۔ اسی وجہ سے عام دلت وہیں کے وہیں ہیں جہاںآزادی سے پہلے تھے۔ البتہ دلت نیتاؤں اورپارٹیوں نے دلت سماج کو سیاسی طورپر اس لائق ضرور بنایاہے کہ آج ہر سیاسی دل امبیڈکر کانام جپنے کو مجبور ہے۔
سوال یہ ہے کہ دلت اچانک سیاست کے ایجنڈے پر کیوںآگئے؟ وجہ وہ ایک ووٹ بینک توہیں ہی اصل مدعا ایک لائن کا ہے یعنی دلت جب تک اپنے کو ہندو پہچان سے جوڑ کر نہیں دیکھیں گے تب تک دلتوں پر سنگھ کے ہندتوا کا نسخہ اثرنہیں کرے گا۔ وہ ہندوراشٹر کے کورایجنڈے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنے رہیں گے۔ سنگھ دلتوں کی الگ پہنچان کو ختم کرانہیں ہندوپہچان میں گم کرنا چاہتا ہے۔ اس کااظہار نریندرمودی نے لکھنؤ کی ریلی میں روہت ویمولا کو ماں بھارتی کا پترکہہ کر کیا تھا۔ اسی لئے سنگھ اب امبیڈکر کی مالا گلے میں لٹکاکر گھومنا چاہتا ہے۔ سنگھ کو لگتا ہے کہ بہار اور اترپردیش میں یادوں کو چھوڑ کر دیش میں پچھڑے ورگ پر اس کی پکڑ مضبوط بن چکی ہے۔ دلتوں میں مایاوتی کو چھوڑکر اس کیلئے کوئی چنوتی نہیں ہے لہٰذا مایاوتی کے بعد کی دلت سیاست پراس کی گہری نظر ہے۔
وقت آگیاہے کہ دلتوں کو نئے موڑپر آئی سیاست کو سمجھنا ہوگا۔ اپنے سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک دلت طلبہ وطالبات کو کلاس میں یا کلاس کے باہر الگ طریقے سے کیوں رکھاودیکھا جاتاہے؟ صفائی کارکن دلت کیوں ہوتے ہیں؟ دوسروں کی گندگی دلت کیوں ڈھوئیں؟ سیوروں میں گھس کر زہریلی گیس سے دلت ہی کیوں مریں؟ جوتوں چپلوں کی مرمت دلت ہی کیوں کریں؟ وہ دکھاوے اور بہکاوے کے سہارے کب تک کل چھل سے پروسے ہوئے پرگزارا کرتے رہیں گے۔ یاامبیڈکر کے دےئے ہوئے کامیابی کے اصول۔ تعلیم حاصل کرو،متحد رہو، جدوجہد کروکولے کر آگے بڑھیں گے اورنئی طرح کی سیاست کو جنم دیں گے تاکہ دلتوں کوپوناپیکٹ کی غلامی سے آزادی ملے۔ سماج سے نابرابری، ناانصافی ختم ہو۔ آئین اپنی اصل روح کے ساتھ نافذ ہو تا کہ کسی میں بھی محرومی کااحساس نہ رہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close