ہندوستان

گئو ماتا کے رکشک یا بھارت ماتا کے بھکشک

ڈاکٹر سلیم خان

اندیور نے 1971 میں فلم چھوٹی بہن کیلئے ایک بھجن لکھا جس کی خاص بات یہ تھی کہ اس کورفیع، کشور،لتا اور آشا  سب نے گایا۔  اس بھجن کے بول ’’ہے رے کنھیا کس کو کہے گا تو میاّ ، ایک نے تجھ کو جنم دیا اور ایک نے تجھ کو پالا‘‘ پوری طرح سنگھ پریوار پر صادق آتے ہیں ۔ سنگھ پریوار کی بھی کرشن کنھیا کی طرح دو مائیں ہیں ۔ ایک بھارت ماتا اور دوسری گئو ماتا۔ ایک نے اس کو جنم دیا اور ایک نے اس کو پالا۔ اس لئے یہ باہر سے شیر نظر آتا ہے اس لئے کھال تو ماں کی ہے لیکن اندر سے بیل ہیں  اس لئے کہ   پرورش  شیر کے بجائے گائے  کا دودھ پی کر ہوئی ہے۔ سنگھ پریوار کی سانڈوں والی حرکت کا یہی راز ہے۔     سانڈ چونکہ  نہایت احمق جانور ہے اس لئے لوگ اس سے دور ہی رہتے ہیں۔ اندیورنے آخری بند میں لکھا تھا ۔ ’’ایک نے تجھ کو دی ہیں رے آنکھیں ایک نے دیا اجالا ‘‘۔ اب ان بیچاروں کو گائے کیا اجالا دیتی اس لئے یہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں کرتے رہتے ہیں۔     عقل کا استعمال  بالکل نہیں کرتے اور صرف لاٹھی کی زبان سمجھتے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ عامر خان کے صرف یہ کہنے پر کہ ان کی اہلیہ نے ہندوستان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے ان دیش بھکتوں آسمان سر پر اٹھا لیا لیکن اروند کیجریوال کے یہ کہہ دینے پر بھی یہ لوگ مجھے مروا بھی سکتے ہیں  سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔

پہلے زمانے میں  مویشی  کسان  کی جمع پونجی ہوا کرتے تھے۔ جب فصل اچھی ہوتی اور وہ خوشحال ہوجاتا تو گائے بیل خرید کر رکھ لیتا بعد میں جب  بدحالی آتی  تو انہیں بیچ کر اپنا گذارہ کرتا ۔ اب حال یہ ہے کہ   جن ریاستوں میں گئو کشی پر پابندی ہےگائے بیل کی کھپت ہی ختم ہوگئی ہے ۔  خشک سالی کے دوران جب کسان خود دانے دانے محتاج ہوجاتا ہے اسے بلاوجہ  اپنے مویشیوں کو بھی پالنا پڑتا ہے۔ اس لئے   کہ بازار میں ان کا کوئی خریدارنہیں ہے۔   پہلے کچھ لوگ ان مویشیوں  کو ہانک کر یا گاڑیوں میں سوار کرکے ان ریاستوں میں لے جاتے تھے جہاں گئو کشی کی اجازت ہے اب تو دہشت کا یہ عالم ہے مویشیوں کو بازار لے جانے والوں کی بھی جان کوخود ساختہ ہندو ملیشیا سے خطرہ لاحق ہے۔  اس لئے کوئی ان کے قریب نہیں پھٹکتا۔ ایسے میں کسان  پریشان ہےکہ اپنے بچوں کا پیٹ پالے، اپنی اصلی ماں  کی بھوک مٹائے یا اس نقلی ماں کا پیٹ بھرے ۔ کسانوں کا بوجھ ڈھونے والے بیل  کو اس حکومت نے کسانوں پر بوجھ بنا دیا ہے۔ کسان کو مجبورکردیا گیا ہے کہ دودھ دینا بند کردینے والی گائےکو آوارہ گھومنے کیلئے چھوڑ دیا جائے۔

بڑے جانور کا گوشت جب انسانوں کی غذا تھےتو شیر چیتے کافی محنت کرکےجنگلی جانوروں کا شکار کرکے ان پر گزارہ کرتے تھے۔ اب حال یہ ہے کہ گائے بیل ویسے ہی چلتے پھرتے مل جاتے ہیں بس فرق  یہ ہے کہ اس کیلئے وحشی جانوروں کو جنگل سے نکل شہر وں میں آنا پڑتا ہے۔ ویسےفی زمانہ   شہروں  کے لوگ درندوں سے زیادہ گئو ماتا  کےبھکتوں سے دہشت زدہ ہیں  اس لئے کسی کو پریشانی نہیں ہوتی۔ درندہ تو بیچارہ بھوک کا مارا ڈرتے ڈرتے چوروں کی مانند شہروں میں منہ اندھیرے داخل ہوتا ہے اور چپ چاپ بے ضرر  لاوارث جانوروں کو لے کر بھاگ جاتا ہے    لیکن یہ خونخوار توندو مل بھکت تو بلا خوف و خطر کہیں بھی وقت منہ مارتے پھرتے ہیں۔ خواتین تک ان کے عتاب سے محفوظ نہیں ہیں۔  مدھیہ پردیش کےمندسور ریلوے اسٹیشن پر کھلے عام سلمیٰ  اسماعیل میواتی اور شمیم اختر حسین کوگالی گلوچ کے بعد زدوکوب کرنے والی شرمناک ویڈیو اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

اس سے قبل گجرات میں اونا کے مقام پر جہاں ۷ دلتوں کو  گئو کشی کے الزام میں مارا پیٹا  کیا  گیا ۔اونا کے ایک چشم دیدگواہ  دہیمنت راٹھور   کے مطابق  اس نے خود  رات ساڑھے گیارہ بجے دیکھا کہ ناجا شیورہ اہیر کی گائے  کا شکار کرکے   ایک شیرنی اپنے  تین بچوں کے ساتھ کھا رہی ہے ۔ شیر نی  کھلے عام   دو گھنٹوں تک  گئو ماتا کونوش فرما تی رہی   یقیناً راٹھور کی طرح اور لوگوں نے بھی اپنی چھت کے اوپر سے یہ منظر دیکھا ہوگا لیکن کوئی مائی کا لال اپنے بلِ سے باہر نہیں آیا ۔ شیرنی کی موجودگی میں کسی بیل  کو  گئو ماتا کی  یاد نہیں آئی ۔ دوسرے دن صبح بالو سرویہ کو بلا کر اسے ٹھکانے لگانے کیلئے کہا گیا  اور جب وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گائے کی کھال اور دیگر مفید باقیات نکال رہا تھا تو اچانک سارے چوہے شیر بن کر بے قصور لوگوں پر ٹوٹ پڑے ۔ اب حال یہ ہے کہ دلتوں نے مردہ جانوروں کو ہاتھ لگانا ترک کر دیا ہے بلکہ ایک گائے کی لاش تو وہ ضلع کلکٹر کے دفترکےسامنے لے جاکر پھینک آئےہیں  ۔

 اس دوران  ضلع  انتظامیہ کو مردہ جانوروں کی تدفین کا ایک نیا  مشغلہ مل گیا  ہےاور صرف اونا ضلع میں  ایک ہفتہ میں سرکاری خرچ سے  150 جانوروں کو دفنایا جاچکا ہے۔  اسے کہتے  ہیں بیل کا دماغ کہ پہلے جب مویشیوں  کی افادیت ختم ہوجاتی تھی تو ہندو کسان انہیں قصائی کو بیچ دیتا تھا دونوں کو دو پیسے مل جاتے تھے ۔ اب  ان جانوروں کو درندے کھارہے ہیں کسی کو کچھ نہیں ملتا ۔جب یہ مویشی  اپنی فطری موت مرجاتے تھے تو انہیں  دلتوں کے حوالے کردیا جاتا تھا۔ وہ بلا قیمت اس کا کام تمام کردیا کرتے تھے۔ اس کی کھال اور سینگ وغیرہ سے دو پیسے کمالیتے تھے۔ اب وہ بھی نہیں ہوتا۔ کھالوں سے چمڑے کی صنعت اور چمڑے سے جوتے کی صنعت پھلتی پھولتی تھی اب وہ بھی  جیتے جی دفن ہورہی۔ اسی کے ساتھ آستھا کے نام پر دیہی معیشت کے ایک اہم ستون کو مسمار کردیا گیا ہے جوعوامی فلاح و بہبود کا سبب تھا ۔اس طرح اندرونِ ملک چمڑے کی صنعت جب اجڑ جائیگی تو جوتے بیرونِ ممالک سے درآمد کئے جائیں گے۔  ایسے میں عوام چینی جوتوں کے ساتھ انتخاب کا انتظار کریں گےتاکہ امپورٹیڈ جوتے سے اس حکومت کی آرتی اتاری جائے۔

فی زمانہ گئو بھکتوں کے بلند حوصلوں کی بنیادی وجہ پولس کی ہمدرد ی  یا خوفز دہ ہوناہے۔ وہ ان کا بال بیکا نہیں کرتی بلکہ مظلوموں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کردیتی ہے۔ مندسور میں یہی ہوا جب پولس سے پوچھا گیا کہ ابھی تو فورنسک کی رپورٹ بھی نہیں آئی  جو یہ ثابت کرے کہ وہ گائے گوشت تھا اور تم نے ملزم خواتین  کو متعدد الزامات میں گرفتار بھی کرلیا  تو اس نے جواب دیاجب رپورٹ آئیگی تو لگا دی جائے گی ۔ انتظامیہ کا اعتماد بتاتا تھا کہ رپورٹ  کیا آئیگی اور جب پولس سے یہ پوچھا گیا کہ بلوائیوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا تو جواب تھا  ہمیں کوئی شکایت نہیں ملی شکایت کے ملنے پر ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ یہ عجب انصاف ہے مظلوم کوبلاشکایت  گرفتار کرلیا جائے لیکن ان  ظالموں کو پکڑنے  کیلئے جن کی ویڈیو ساری دنیا میں پھیلی  ہوئی ہےآنکھیں موند کر شکایت کا انتظار جائے۔

اس معاملے میں ابتدائی فورنسک رپورٹ نے ثابت کیا کہ گوشت  گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا تھا اس لئے خواتین کو رہا ہوگئیں لیکن چونکہ اس واردات  کی مذمت ایوان پارلیمان میں بھی ہوئی اس لئے  مجبوراً  4 مردوں کو بے دلی سے گرفتار کیا گیا ۔ دراصل ویڈیو کو غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان نامردوں کوملزم  خواتین نے  ڈانٹ کربھگا دیا تھا ۔ اس کے بعدبھارت ماتا کے ویر سپوت  اپنی عورتوں کے پاس آئے اور درگا واہنی کے جم غفیر نے ایک زخمی اور دوسری خاتون  پر یلغار کردی ۔ حملہ  آور   مردوں  کے ساتھ ساتھ زیادتی کرنے والی عورتوں بھی حراست میں لیا جابا ضروری ہے تاکہ دوبارہ وہ جھانسی کی رانیاں کسی بزدل کے جھانسے میں نہ آئیں۔ اس ویڈیو کی مدد سے خواتین کی شناخت بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن  پولس ان خواتین کے خاکے جاری کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ ویسے جن غنڈوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں  بھی  یقین ہوگا کہ  عدالت میں مقدمہ کمزور کردیا جائیگا اور ناکافی ثبوت  کی بناء پر وہ باعزت رہا کردئیے جائیں گے۔

مندسور میں سلمیٰ  اسماعیل اور شمیم اختر  کے خلاف بہادری دکھانے والوں کا نفاق  اسی سال جنوری کے اندر مدھیہ پردیش ہی میں دیواس سے 30 کلومیٹر دور ٹون خورد نامی گاوں میں دیکھا جاسکتا ہےجہاں  پولس  نے ایک بی جے پی رہنما انور میو اور اس کے چار رشتے داروں کو گائے ذبح کرنے کے بعد گوشت کے ساتھ گرفتار کرلیا تھا۔  انور بی جے پی کے اقلیتی سیل کی ضلعی شاخ سے متعلق تھا ۔ پولس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گوشت گائے کا تھا اور اس کا نمونہ  تصدیق کیلئے متھرا روانہ کردیا گیا تھا لیکن پھر معاملہ دب گیا۔ اس واقعہ کے منظر عام پر آتے ہی بی جے پی نے انور کو پارٹی سے نکال باہر کیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ جس وقت انور نے اپنے گھر میں  گائے ذبح کی وہ بی جے پی کے اندر تھا۔

اس واردات کے بعدجب علاقہ میں تناو پھیل گیا تو اضافی پولس بندوبست تعینات کردیا گیاجو لازماً انور کی حفاظت کیلئے تھا ۔ انتظامیہ نے فوراً امن کمیٹی کا اجلاس بلا یا تاکہ کشیدگی قابو سے باہر نہ ہو جائے ۔ اس دوران  کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی گئی اور ملزمین پرکوئی دست  درازی کی جرأت نہیں کرسکا اس لئے کہ وہ بارسوخ لوگ تھے ۔ ان دلیروں گئو بھکتوں  کا ہاتھ کمزور اور بے بس خواتین پر تو اٹھ جاتا ہے لیکن طاقتور کی جانب یہ نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ انور میو کے پاس جانور کے ذبیحہ کا لائسنس تھا لیکن برسوں سے اس کی تجدید نہیں  ہوئی تھی اور اس میں بھی گائے ذبح کرنے کی اجازت نہیں تھی۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں  سنگھ کا آدمی  اگر مسلمان ہو تب بھی حفظ و امان  میں رہتا ہے۔

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جس روز سپریم کورٹ میں ویاپم گھوٹالا فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیاتو  اسی دن یہ واقعہ ذرائع ابلاغ کچھ اس طرح چھا گیا کہ عدالت عالیہ کی ڈانٹ پھٹکاراس کے شور شرابے میں پوری طرح دب گئی۔ عدالت نے ویاپم کو ایک قومی سطح کی بدعنوانی قراردیا اور کہا کہ یہ گھوٹالا ہمیں بے حد چونکا رہا ہے۔ اس پر آنکھیں موند لینے سے یہ نہیں رکے گا۔ یہ سال در سال ہونے والی بدعنوانی ہے۔ یہ اجتماعی نقل کا نہیں بلکہ ایسا عظیم گھوٹا لا ہے جس میں رول نمبر تک بدل دئیے گئے۔ کورٹ نے سنجیدہ اورمحنتی طلباء  کی حق تلفی کو تسلیم کیا۔  اپنے فیصلے میں عدالت عالیہ نے سی بی آئی  کو تفتیش میں سست روی کیلئے آڑے ہاتھوں لیا اور پوچھا کہ اب تک کیا ہوا؟ اور جانچ کب تک مکمل ہوگی؟ دراصل ویاپم کا معاملہ صرف داخلے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والے کئی سماجی کارکن اور صحافیوں کو پراسرار انداز میں قتل کردیا گیا ہے۔ وہ تو خیر صوبے میں اور مرکز میں بی جے پی کی سرکار ہے ورنہ وزیراعلیٰ کب کے جیل کی چکی پیس رہے ہوتےلیکن  پھر بھی بکرے کی ماں کب تک گئو ماتا کی شرن میں  خیر منائے گی۔

گئو رکشا کو لے کر آج کل ایوان پارلیمان سے لے کر سڑک تک اور ذرائع ابلاغ سے عدالت تک ہر طرف ہنگامہ مچا ہوا ہے لیکن مودی جی خاموش ہیں۔ اس پر حیرت کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ احمدآباد سے دہلی آنے کے بعد وہ  اونچا سننے لگے  ہیں۔ ان کو عوام کی فریاد یا عدالت کی پھٹکارتونہیں مگر  امریکہ کی ڈانٹ ضرور سنائی دیتی ہے۔امریکی چمڑی  بھی خاصی موٹی ہے اس لئے اس کو بہت تاخیر سے  ہوش آتا ہے۔ گزشتہ سال   گرجا گھروں کے خلاف  سنگھ پریوار کےحملے  جب بہت تیز ہوگئے  تب کہیں  جاکربراک اوبامہ نے اس کی مذمت کی اور مودی جی پر بھی اس کا اثر ہوا۔ اب بھی وہ امریکی ڈنڈے کا انتظار کرتے رہے اور بالآخر مندسور سانحہ کے بعد   امریکہ کا مذمتی بیان آہی گیا ۔ وزارت  خارجہ کے ترجمان جان کربی نے نہ صرف تشویش کا اظہار کیا بلکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی دہائی دی۔  امید ہے چین میں اوبامہ کےساتھ ملاقات سے قبل مودی جی اپنی چپی ّ توڑیں گے۔

اس بابت بنیادی سوال یہ ہے کہ جو بے وقوف  گئو رکشک معصوم لوگوں پر حملے کرتے پھرتے ہیں وہ  ہندو ہردیہ سمراٹ سے یہ نہیں پوچھتے کہ یوپی اے کی حکومت میں جب بیف کی درآمد کے سبب ہندوستان میں گلابی انقلاب آیا تو آپ کا سر شرم جھک گیا تھا ۔اس وقت ہندوستان برازیل کے بعد دوسرے نمبر پر تھا اب  پہلے نمبر پر آگیا  ہےتو آپ کا سینہ فخر سے پھولا  ہوا  کیوں ہے؟آپ کی سرکار نے اپنے بجٹ میں نئے مذبح خانوں کی تعمیر اور تجدید کیلئے 15 کروڈ کیوں مختص کئے؟ مذبح خانوں کے قیام پر دی جانے والی 13 قسم کی سرکاری سہولتیں ہنوز کیوں جاری و ساری ہیں؟ مثلاًسرد خانوں پر 50 سے 100 فیصد تک کی چھوٹ ہے۔ پیکنگ پر 30 فیصد کی اور اس کے لٹریچر کی اشاعت پر 40 فیصد کی سہولت ہے۔ماہرین سے استفادہ اور عملہ کی تربیت پر بھی 50 فیصد کی بچت ہے۔عام لوگوں کے استعمال کی  گھریلو گیس کی سبسڈی ختم کرنے پرتو خوب زور دیا جاتا ہےلیکن   بیف کی  برآمد پرانکم ٹیکس کی دفع 80 کے تحت جو چھوٹ ہے اس کو کیوں ختم  نہیں کیا جاتا؟

 مودی سرکار بیف کاروبار کے فروغ میں اس  قدر دلچسپی رکھتی ہے کہ اس نے نئے مذبح خانوں میں لگنے والی مشینوں اور کل پرزوں  کی درآمدپر لگنے والے 10 فیصد ٹیکس کو گھٹا کر 4 فیصد کردیا  اور یہ حقیقت ہے کہ مودی سرکار کے اقتدار میں آتے ہی پہلے 6 ماہ میں بیف کی درآمد 15 فیصد بڑھ گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سرکاری سہولتوں سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ کاش کے یہ احمق  گئو رکشک جانتے کہ بیف برآمد کرنے والی 6 بڑی کمپنیوں کے مالکین میں  کئی ہندو ہیں ۔  اس کاروبار میں ملوث 50 فیصد لوگ ہندو  سماج سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مظفر نگر کے فساد میں ملوث بی جے پی رہنما سوم پال نے بھی  علی گڑھ میں ایک مذبح خانہ کھول رکھا تھا۔ بی جے پی کو انتخاب سے قبل چندہ دینے والوں میں ایک بڑا نام  الاّنا کا بھی ہے جو بیف برآمد کرنے والا معروف ادارہ ہے۔ ایک طرف عام لوگوں کو بیف کے ساتھ دیکھ   کر زدوکوب کیا جاتا ہے دوسری طرف بیف بیچنے والی غیر ملکی کمپنیوں مثلاً کے ایف سی ، میک ڈونالڈ اور ڈومینوز کو لائسنس دیا جاتا ہے اور ان سے استفادہ کرنے والے گاہکوں کی بڑی تعداد غریب مسلمان نہیں بلکہ امیر ہندو ہے۔

ہندوستان جس وقت آزاد ہوا یہاں کوئی قومی گوکل مشن نہیں تھا جس پر 500  کروڈ روپئے خرچ کئے جاتے لیکن اس کے باوجود ملک میں گوونش یعنی گائے ، بچھڑے ،بیل اور سانڈ کی تعداد ایک ارب اور21 کروڈ کے آس پاس تھی جبکہ  ملک کی آبادی صرف 35 کروڑ تھی ۔ اب آبادی بڑھ کر 1 ارب 21 کروڑ کو پار کرگئی لیکن گوونش گھٹ کر 10 کروڑ پر آگیا۔  گئو بھکتوں کو یہ سوال حکومت سے کرنا چاہئے کہ گائے کی نسل کو بچانے کے بے شمار قوانین کے باوجود یہ الٹ پھیر کیوں ہوگیا؟  کیا یہ اعدادو شمار ان دعوں کو مشکوک نہیں بناتے کے صرف بھینس کا گوشت برآمد کیا جاتا ہے؟  ایک جانب بڑے سرمایہ دار سرکاری خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں دوسری طرف کبھی آستھا تو کبھی میک ان انڈیا کا نعرہ لگا کر عوام کو جھنجھنا پکڑا دیاجاتا  ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوعوام  پرکبھی گئو ماتا تو کبھی بھارت ماتا کا جنون سوار کرکے انہیں  عام مسلمانوں اور دلتوں کے پیچھے لگا دیا جاتاہے اوراس  ہیجان کی آڑ میں  کچھ خاص سرمایہ دار اپنے سیاسی آقاوں کی مدد سے اپنی تجوری بھرتے رہتے ہیں ۔عیش  کوئی اورکرتا ہے اور اس کی قیمت کوئی اور چکاتاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close