ہندوستان

گجرات کی بدبو- مودی جی 66ویں سالگرہ پر دلتوں کا نادر تحفہ

ڈاکٹر سلیم خان

گجرات کے اندر بی جے پی دوہرے عذاب کا شکار ہے۔ ایک طرف پٹیل برادری کی آگ ہے اور دوسری جانب دلت سماج کی کھائی ہے۔ گجرات کو خوشنما بناکر پیش کرنے کیلئے گجرات حکومت کے سیاحتی محکمہ نے امیتابھ بچن کی مدد سے’’ گجرات کی خوشبو‘‘  نامی مہم چلائی تھی۔ اس کے جواب میں گجرات کے دلت ’’بدبودار گجرات‘‘ کے عنوان سے ایک پوسٹ کارڈ مہم شروع کرنے جارہے ہیں۔ جس کے تحت وزیراعظم اور امیتابھ بچن سمیت ہزاروں لوگوں کو پوسٹ کارڈ لکھ گجرات آنے کی دعوت دی جائے گی  تاکہ وہ گجرات میں مری ہوئے مویشیوں سے اٹھنے والے تعفن کو محسوس کرسکیں۔ چونکہ وزیراعظم   نریندر مودی اور بی جے پی صدر  امیت شاہ دونوں کا تعلق گجرات سے ہے اس لئے وہاں پر ہزیمت  بی جے پی کویقیناً  مہنگی پڑے گی۔

امیت شاہ کی یہ حالت زار صرف گجرات تک محدود  نہیں ہے۔ اتر پردیش میں امیت شاہ نے متھرا کے اندر 40ہزار دلتوں کے ساتھ بودھ بھکشووں کے استقبال کا منصوبہ بنایا تھا لیکن مایا وتی کے خلاف ایک بیان سے بی جے پی کے خلاف کچھ ایسی ہوا  بنی کہ  40 دلت بھی  جمع نہیں ہوپائے نتیجہ یہ نکلا کہ ریلی منسوخ کرنی پڑی  لیکن اب یہ فتنہ بی جے پی کے حدود سے نکل کر آرایس ایس کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ گوا کے اندر امیت شاہ کی آمد کے موقع پر آرایس ایس کے لوگوں نے سیاہ پرچم لہرا کر احتجاج کیا۔ گوا کے اندر آرایس ایس کے سنگھ چالک سبھاش ویلنگکر کا صوبائی حکومت کے انگریزی میڈیم اسکول کی سرپرستی کو لے کر پرانا اختلاف ہے۔ ان کا موقف ہے کہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہیےاس لئے انگریزی میڈیم اسکولوں کی سرکاری مدد بند کی جائے۔

گوا کے اندر اقتدار میں بنے رہنے کیلئے بی جے پی اس مطالبے کو قبول نہیں کرسکتی۔ وہاں تو اس نے گئو کشی کی بابت بھی مصالحت کررکھی ہے اور نہ صرف یہ کہ گوا کے اندربیف پر پابندی نہیں ہے بلکہ اضافی  ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کرناٹک سے بڑے جانور کا گوشت کھلے عام در آمد کیا جاتا ہے۔ وہ تو خیر ویلنگکر نے بیف کے بجائے اپنی تحریک کو زبان تک محدود کررکھا ہے ورنہ وہاں کےمقامی  لوگ اسی کو تندور میں جھونک دیں گے۔ امیت شاہ کو اپنے خلاف کالی جھنڈیاں دیکھ کر اس قدر غصہ آیا کہ اس نے آرایس ایس پر دباو ڈال کر سبھاش ویلنگکر کی بھی وہی حشر کیا جوکہ  گجرات میں آنندی بین کا کیا تھا۔ آنندی بین تو خیر امیت شاہ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں لیکن سبھاش ویلنگکر نے بغاوت کردی اور ان کے ساتھ 450 سوئم سیوکوں نے سنگھ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کراسے لہو لہان کر دیا۔

اس ایک واقعہ نے کئی غلط فہمیاں دور کردیں۔ اول تو یہ کہ بی جے پی آرایس ایس کے اشارے پر چلتی ہے۔ اب تو یہ صورتحال یہ ہے کہ آرایس ایس بی جےپی کو ساشٹانگ نمسکار کرتی ہے۔ اسے کہتے ہیں اقتدار کا چمتکار۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ویلنگکر کی چھٹی نہیں ہوتی اور سنگھ کو 450 سوئم سیوکوں کا صدمہ نہ برداشت کرناپڑتا۔ ایک اور غلط فہمی یہ تھی کہ سنگھ نہایت منظم تحریک ہے۔ اس کے کارکنان بڑے نظم و ضبط کے پابند ہیں لیکن سیاست کی ہوا کھانے والے سویم سیوک بارہا بغاوت کرچکے ہیں۔ جن سنگھ کے صدر بلراج مدھوک نے الگ ہوکر اپنی جماعت بنالی تھی۔ اس کے بعد اوما بھارتی، واگھیلا، کیشو بھائی پٹیل، کلیان سنگھ، شتروگھن سنہا، کیرتی آزاداوریدورپا جیسے نہ جانے کتنے لوگ بی جے پی کو چھوڑ کر باہر گئے بھی ااور واپس بھی آگئے لیکن آرایس ایس میں یہ نہیں ہوا تھا سو امیت شاہ کی مہربانی سے یہ  بھی ہوگیا۔ اس  کا رنامہ کو انجام دینے کےلئے امیت شاہ صاحب خاص مبارکباد کے مستحق ہیں۔

 سبھاش ویلنگکر نے صاف طور پر یہ الزام لگایا ہے کہ انہیں وزیردفاع منوہر پریکر اور امیت شاہ پر تنقید کرنے منع کیا گیا۔ مہیش نے سوال کیا کہ اس طرح کی پابندیوں کے ساتھ کوئی سماجی کام کیسے کرسکتا ہے ؟ اس سوال کے بطن سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو سنگھ پریوار خود اپنے ارکان اور رہنماوں پر زبان بندی کی قدغن لگاتا ہے وہ بھلا غیروں کے اختلاف کو کیسے برداشت کرے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام تر چکنی چپڑی باتوں کے باوجود عدم رواداری ان لوگوں کے رگ وپئے میں بسی ہوئی ہے جس کے سبب سے یہ اول تو قوم کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر خود اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ویلنگکر کی جگہ اب لکشمن بہرے کو آرایس ایس کی کمان تھمائی گئی ہے۔

 مودی اور امیت شاہ کے راج میں یہی ہوگا کہ بہرے اور گونگوں کو ذمہ داریاں سونپی جائینگی تاکہ وہ صدائے احتجاج نہ بلند کرسکیں لیکن خلاف توقع  لکشمن بہرے  نے بھی امیت شاہ کے رویہ کو غلط ٹھہرا کر اپنے پیش رو سبھاش ویلنگکر کے موقف کی تائید کردی۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ کو مظاہرین سے مل کر ان کی شکایت کو سننا چاہئے تھا۔ امیت شاہ کا ملاقات سے انکار اس  تنازع کا سبب ہے۔ ممکن ہے  یہ  باغی سویم سیوکوں کا غصہ ٹھنڈا کرکے انہیں دوبارہ سنگھ میں لانے کی ایک چال ہو لیکن اس سازش کو سوئم سیوکوں سے بہتر اور کون سمجھ سکتا ہے ؟آرایس ایس جس طرح والے ویلنگکر کے ہمنواوں کو رجھانے کیلئے اپنا جال ڈال رہی ہے  اسی طرح ویلنگکر بھی اپنی مورچہ بندی میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے آپ کو آرایس ایس  کے نظریہ سے تو الگ نہیں کرتےلیکن اس کے رہنماوں کو تنقید ککا نشانہ  بنا رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے شاہ اور پریکر کو موردِ الزام ٹھہرایا  اور پھر کہہ دیا کہ سرسنگھ چالک تو غلط ہوسکتے ہیں لیکن سنگھ غلط نہیں ہوسکتا۔

 بھاگوت نے چونکہ ویلنگکر کو نکال باہر کیا  اس لئے بھاگوت پر نشانہ سادھنا ان کی ضرورت تھی مگر ایسا کرتے ہوئے آرایس ایس پر تنقید نہ کرنے  انہیں بڑا فائدہ ہوا۔ بغاوت کے بعد ویلنگکر کے متوازی اجلاس میں ریاست بھر کے2000 سوئم سیوک شریک ہوئے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے نیزشئے اور مات کے اس کھیل میں بازی کون مارتا ہے؟  سنگھ کے مبہم بیانات سے سنگھ اس کا بھاری نقصان ہوگا اور اگر ویلنگکر اپنا سیاسی محاذ بنا کر انتخاب کے میدان میں اترتے ہیں تو سنگھ کیلئے اپنے کارکنان سے بی جے پی کی حمایت کروانا مشکل ہوجائیگا۔ ویسے بی جے پی کے ایک دشمن نما دوست شیوسینا تو ابھی سے ویلنگکر کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اس بار کیجریوال بھی گوا کے انتخاب میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ویلنگکر اور کیجریوال کے درمیان کیا کھچڑی پکتی ہے؟ لیکن یہ طے ہے کہ گوا میں بی جے پی الیکشن کے بعدبیف کباب بیچے گی۔

 گوا تو خیر ایک ننھی سی ریاست ہے اور اس کے انتخاب کا قومی سطح پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا لیکن  گجرات کی بدبو نامی  مہم کے آغازکی خاطر دلتوں نے مودی جی  کے جنم دن کا شبھ مہورت نکالا ہے۔ اپنی 66 ویں سالگرہ پر مودی جی کیلئے اس بدبودار پوسٹ کارڈسے اچھا تحفہ اور کون سا ہوسکتا ہے؟ اونا کے دلت رہنما جگنیش میوانی کے مطابق  گجرات میں دلتوں نے مرے ہوئے جانوروں کو ٹھکانے لگانا بند کردیا ہے۔ صوبے میں سیکڑوں گائیں ادھراُدھر مری پڑی ہیں۔ اسی طرح دلت بھی مارے جارہے ہیں۔ میوانی نے مزید بتایا کہ 14 ستمبرکو وہ احمدآباد میں ایک جلسۂ عام کا انعقاد کرکے ریل روکوتحریک  کی منصوبہ بندی کرنے والےہیں۔ گجرات کے اندر بی جے پی کی مشکلات میں دن بہ دن  اضافہ ہوتا جارہا ہے اگر یہ سلسلہ نہیں رکا تو وہ دن دور نہیں اس پارٹی  کی سیاسی  لاش بھی ایک ایسی حالت میں کسی سڑک کے کنارے پڑی نظر آئےکہ سنگھ بھی اس کا پرسانِ حال نہ  ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close