ہندوستان

گستاخی معاف! حریت اتحاد: کسی کی نظر نالگے!

ابراہیم جمال بٹ
دنیا کی فطرت ہے کہ موسم بدلتے رہیں۔۔۔کبھی سرما ہو تو کبھی گرما۔۔۔ کبھی بہار ہو تو کبھی خزاں۔۔۔ سال بھر میں یہ موسم آتے ہیں اور نکل بھی جاتے ہیں۔۔۔اس سب سے ایک انسان اچھی طرح سے واقف ہے۔ جب گرمی کا موسم آتا ہے تو گرمی کی حدت ،شدت وتپش سے لوگ اس قدر جھلس جاتے ہیں کہ گھر سے نکلنا ہی دشوار ہو جاتا ہے۔۔۔ سرما کے موسم میں سردی کا بڑھنا اور اس پر بارش و برف باری کا جاری و ساری رہنا ۔۔۔ یہ موسموں کی تبدیلی انسان کو متاثر کر دیتے ہیں ۔ برابر اسی طرح باقی موسمی اوقات بھی انسان کو کسی نہ کسی طرح متاثر کر دیتے ہیں۔ کسی کو گرمی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن موسم سردی کا ہوتا ہے، اس طرح وہ متاثر رہتا ہے۔۔۔ اسی طرح کسی کو سخت گرمی سے بچاؤ کے لیے سرد موسم درکار ہے لیکن کیا کرے موسم گرمی کا ہے۔۔۔۔ الغرض ان متاثر کن حالات کے نتیجے میں ایک انسان تنگ بھی آجاتا ہے لیکن کہیں پر کوئی واویلا نہیں، کہیں پر کسی کی طرف سے فطرت کے خلاف اعلان بغاوت نہیں۔ کیوں کہ ایک انسان اپنی فطرت کے ساتھ ساتھ دنیائے فانی کی فطرت سے واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ اس سارے نظام کا کنٹرولر ایک ایسی طاقت ہے جو ہر وقت اور ہر جگہ ہے۔۔۔ جس کی نظر میں صرف میں ہی نہیں بلکہ پوری عالم انسانیت ہے بلکہ تمام مخلوق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے خلاف ایک قدم بھی نہیں اُٹھا پاتا ہے۔
وادی کشمیر کوگزشتہ ۲۵ برس سے جو حالات درپیش ہیں، یہاں کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئیں ، جرمِ بے گناہی کی پاداش میں مارا پیٹا گیا۔۔۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا گیا بلکہ اب تک جاری ہے۔۔۔ کبھی ووٹوں کی مدد سے سیاست کرنے والے لوگوں کے سامنے آئے اور یہاں کے لوگوں کو سبز باغ دکھا کر چل دئے۔ بانت بانت کی بھولی کے فنکار امن و اطمینان کے بہانے لوگوں کے پاس آئے اور اپنا کام نکال کر یہاں کے لوگوں کے منہ میں ’’مصنوعی چاکلیٹ ‘‘ تھما کر فرار ہو گئے۔ اسی طرح یہاں کے بہت سے ادوار میں ایک دور پرمن جدوجہد کا رہا۔۔۔ پھر اسی جدوجہدِ آزادی کے لیے منجملہ قوم کو بندوق اٹھانا پڑی۔۔۔ پھر وقت گزرتا گیا اور لوگ اس جدوجہد آزادی کے طریقہ کار میں تبدیلی لاتے گئے۔۔۔مسلح جدوجہد بھی جاری رہی اور پرامن طور بھی اس سلسلے میں کام ہوتا رہا۔ کبھی الگ الگ ناموں سے ۔۔۔ تو کبھی آل پارٹیز حریت کانفرنس کے نام سے۔۔۔ پھر کبھی حریت (ع) کے نام سے۔۔۔ حریت (گ) کے نام سے۔۔۔اور حریت حقیقی کے نام سے ۔ اور اسی طرح کئی ایک نے آزاد رہ کر اپنے اپنے ناموں سے اس سلسلے میں کام جاری رکھا۔۔۔ وقت بدلتا رہا اور حریت کے کام سے دلچسپی رکھنے والے منفرد ناموں سے بازارِ عام ہو گئے۔۔۔ سب کا ایک ہی بنیادی مقصد ۔۔۔ ظالم کے ظلم سے آزادی۔۔۔!
یوں اتار چڑھاؤ کا بازار چلتا رہا، اسی طرح جس طرح موسم بدلتے رہتے ہیں۔۔۔لیکن لوگوں نے کوئی شکایت نہیں کی۔۔۔ کیوں کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ یہ جدوجہد ہماری جدوجہد ہے۔۔۔ اس لیے انہوں نے کوئی بغاوت نہیں کی۔۔۔ کوئی شوروغوغا نہیں مچایا۔۔۔ بلکہ ہر دم ان کا ساتھ دیتے رہے۔۔۔ ہاں البتہ مغموم ضرور ہو گئے۔۔۔ اس بات سے کہ آخر اس جدوجہد آزادی کا کیا ہو گا۔۔۔ کیوں کہ جدوجہد کے عملی ماہر متحد رہنے کے بجائے بکھرنے میں ہی دلچسپی لے رہے تھے۔۔۔ وہ آئے روز ایک ایک کر کے بکھر کر ادھر سے اُدھر نکل رہے تھے۔۔۔ جن میں کئی ایک فنکار اپنی فنکاری بھی دکھاگئے اور مین اسٹریم جماعتوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اس حریت کے خیمے سے ہی فرار ہو گئے۔اور کئی برابر چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ الغرض موسم کی تبدیلی کی طرح وادئ کشمیر میں چل رہی اس تحریک آزادی کی جہدوجہد میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں جو کہ آئندہ بھی آتی رہیں گی۔
بدلتے حالات کے پیش نظر اب موجودہ حالت یہ ہے کہ پھر سے ایک صدا سنائی دے رہی ہے۔۔۔ پھر سے ایک ساتھ کام کرنے کی مشقیں ہو رہی ہیں۔۔۔ ایک ہی مسئلہ پر سب کا ایک ہی بیان۔۔۔ بلکہ سب کا ایک ہی مشترکہ بیان۔۔۔ احتجاج کرو تو سب کی طرف سے اعلان۔۔۔ مثلاً اخبار کی یہ سرخی ’’گیلانی، میر واعظ اور ملک کی نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی مشترکہ اپیل‘‘۔
ایک بات طے ہے اور اتحاد میں طاقت ہے۔۔۔ لیکن آج کی اس دنیا میں لفظ’’اتحاد‘‘ ہی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔۔۔ اتحاد کا نام سنتے ہی عوام الناس اٹھ اٹھ کے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس لفظ اتحاد کا ہونا ناممکن ہے،جو کہ صحیح بات نہیں ہے۔موسم کی تبدیلی کی طرح آج ایک اور دور سے وادی کشمیر کے لوگ گزر رہے ہیں۔بدلتے حالات کا اشارہ کس جانب ہے۔۔۔ سمجھ ہی نہیں آتا۔۔۔ کس کا دماغ کیا سوچ رہا ہے، کچھ معلوم نہیں۔۔۔ کون سی ذہنیت کام کر رہی ہے، کوئی خبر نہیں۔۔۔ ہاں البتہ ’’اتحاد کی ایک مصنوعی شکل سامنے آرہی ہے۔ آزادی پسند جماعتوں کے درمیان اس قدر ایک ہی بیان بازی پر لوگ اگرچہ خوش ہیں۔۔۔ تاہم مغموم بھی ہیں۔۔۔ انہیں غم ہے کہ پھر سے اس مصنوعی اتحاد کے بیچ دراد نہ پڑے۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ اگر عام لوگ ان کے بارے میں مغموم ہیں تو کیا یہ ہمارے حریت پسند لیڈر بھی اس بارے میں مغموم ہیں؟ اگر ہیں تو سچ مچ خیر خواہی کا جذبہ ان کے اندر ہے۔۔۔ اگر نہیں تو خدا ان کی شر سے بچائے۔۔۔ ہم تو بس یہ کہیں گے کہ ’’کسی کی نظر نا لگے‘‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close