ہندوستان

گلبرگ سوسائٹی قتل عام کے مجرموں کو سزا- انصاف ابھی ادھوراہے!

میم ضاد فضلی
تقریباً ساڑھے چودہ برس کے اذیت ناک انتظار کے بعد2002گجرات مسلم کش فسادات کے دوران احمدآباد کی پاش کالونی گلبرگ ہاؤ سنگ سوسائٹی کے اندر مسلمانوں کے بڑے گھرانوں کو منصوبہ بند طریقے سے جلاڈالا گیا تھا،اس معاملے میں نامزدملزموں پر طویل ترین عدالتی کارروائی چلتی رہی ،جس کا فیصلہ گزشتہ2جون2016کوخصوصی عدالت نے سنایا تھا۔اس طویل ترین عدالتی کاروائی میں24ملزمان کو مجرم قرار دیا گیاتھا اورتین بار کے التواء کے بعد 17جون2016کو خا طیوں کو خصوصی عدالت نے سزا بھی سنا دی ہے۔قابل ذکر ہے کہ جب احمد آباد کی خصوصی عدالت نے گزشتہ 2جو ن2016کوسنایاتھا۔اسی دن تما م سوشل سائٹوں ،آن لائن نیوز پورٹلز اوربین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس فیصلہ کوتشویش کی نظروں سے دیکھا گیااور سوشل سائٹوں پر حقوق انسانی کے عالمی رضاکاروں نے اسے ادھوراانصاف قرار دیاتھا۔بہر حال فیصلہ سے قبل یعنی ایس آئی ٹی جانچ کے دوران ہی بڑی مچھلیاں آئین کا جال کاٹ کر صاف بچ نکلیں تھیں ،جبکہ چند چھوٹی مچھلیاں تحقیقا تی ٹیم کے ہاتھ لگ سکیں۔یہیں سے اس معاملہ پر شبہ ظاہر کیا جانے لگاتھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اصل قصورواروں تک پہنچنے سے روک لیا گیاتھا اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی خبریں تو لگ بھگ 2007سے ہی اخبارات کی شہ سرخیاں رہی ہیں۔ویسے بھی گجرات میں یہ ساری چیزیں ہمیشہ عام رہی ہیں اور مقامی میڈیا کی زبانوں پر تالے ڈالنے کی روایت وہاں کی نریندر مودی حکومت نے ہی شروع کی تھی۔بعض بڑے سیاسی تجزیہ نگاروں اور سماجی انصاف کے محرکین ابتداء سے ہی گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ اور ملک کے موجودہ وزیر اعظم نریندر کے سلسلے میں یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے ہی صحا فت اور ذرائع ابلاغ کی زبان پر تالے ڈالنے کا رواج ڈالا ہے۔کسی زمانے میں ایک کانگریس لیڈر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر بھی یہی الزامات عائد کئے تھے اور کہاتھا کہ نتیش جی میڈیا مینجمنٹ اپنے سیاسی حلیف گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے سیکھا ہے۔خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل احمد کا یہ بیان اس زمانے میںآ یاتھا جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اوران کی پارٹی کے اتحاد سے نتیش کمار بہارمیں وزیر اعلیٰ تھے۔یہ میڈیا منیجمنٹ کیا شئے ہے اس پر آ ئندہ کسی موقع بات چیت کی جائے گی اوراس کا استعمال کرکے بی جے پی صحافت کی آزادی کا کس قدر گلا گھونٹ رہی یہ تفصیل سوال ہے۔فی الحال ہماری تحریر کا محور گجرات فسادات کی جانچ پڑتال ہے جن میں سے ایک یعنی گلبرگ سوسائٹی قتل عام کے مجرموں کوگزشتہ17جون2016کو سزا سنائی گئی ہے۔
مودی کے میڈیا منیجمنٹ کی وجہ سے ہی گجرات کے اندر حقائق تک پہنچنے میں ہمارے کوئی بھی جرأتمند صحا فی کامیاب نہیں ہوسکے۔جہا ں آزاد صحافتی ادارے اس قدر مفلوج کر دیے جائیں وہاں سرکار کی ماتحتی میں کام کرنے والی تحقیقاتی ٹیمیں کیا کرسکی ہوں گی ،یہ ایک تلخ سوال ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ مایا بین کوڈنانی یا اس وقت کے ریاستی وزیر امت شاہ اور دیگرسینئر لیڈران اتنی آسانی سے آزاد ہوسکتے تھے۔یہی وجہ ہے آج جب احمدآباد میں خصوصی عدالت نے سزا سنائی تو کئی جانب سے اس معمولی نوعیت کی سزا پر مایوسی کا اظہار کیا جانے لگا۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعدآج گجرات مسلم کش فسادات کے دوران گلبرگ سوسائٹی میں 69 لوگوں کے قتل کے معاملے میں مجرم ٹھہرائے گئے 24 لوگوں میں سے 11 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ،جبکہ 12 کو 7 سال قید اور ایک کو 10 سال کی سزا ملی ہے۔اطلاعات کے مطابق 24 میں سے 11 لوگوں کو راست طور پر قتل کا مجرم سمجھا گیا ہے، انہیں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔کورٹ نے جن 11 قصورواروں کو عمر قید کی سزا دی ہے ان کو تادم مرگ جیل کی سزاکاٹنی ہوگی۔سزاسنائے جانے کے بعد حقوق انسانی کی شہرت یافتہ رضاکار اورآزاد صحافیہ تیستا سیتلواڈ نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہیں، لیکن قصورواروں کو کم سزا ملنے سے وہ لوگ حد سے سوا بیتابی محسوس کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو عمر قید نہیں ملی ہے ان کے خلاف وہ لوگ اپیل کریں گے اورانصاف پانے کیلئے عدالتی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ایک مجرم کے رشتہ دار نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں جائیں گے،ان کے رشتہ داربے قصورہیں اور انہیں غلط طریقے سے پھنسایا گیا ہے۔ایک مجرم کی بہن نے سزاکو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انصاف نہیں ہے۔سرکاری وکیل آر سی کودیکر نے بتایا کہ کورٹ نے اس سانحہ کو سول سوسائٹی کی تاریخ میں ایک سیاہ د ن قرار دیا ہے۔گجرات فسادات میں انسانوں کے لہوسے ہولی کھیلنے والوں کیخلاف یہ فیصلہ آسانی سے نہیںآ یا ہے ۔بلکہ ابتدائی جانچ سے لے کر مقامی مشنریز کی جانبداری کی وجہ قاتلوں تک عدلیہ کے ہاتھ پہنچنے سے ہمیشہ قاصر رہے۔تحقیقات کی جانبداری پر شک جتانے، ثبوتوں کو کمزور کرنے کے الزامات اور گواہوں کے پلٹنے کی یہ ایک طویل داستان ہے یہ فیصلہ گلبرگ سوسائٹی کے منصوبہ بند قتل عام کیس میں عدالت نے 2 جون کو اپنا فیصلہ سنا یا تھا۔ عدالت کا احترام کرتے ہوئے احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے 2جون کو ہی کہا تھا کہ انصاف ابھی ادھورا ہے، مکمل انصاف کے لیے ہماری جنگ جاری رہے گی۔ اگر سپریم کورٹ کی مداخلت نہ رہی ہوتی تو شاید ساری کارروائی انصاف کا مذاق ثابت ہو سکتی تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس معاملہ جانچ پرروک لگانے اورثبوتوں کو مجہول کی بنانے کی منظم کوششیں بدستور چلتی رہیں۔
احمد آباد کی عدالت نے 2 جون کو دیئے اپنے فیصلے میں 24 لوگوں کو مجرم ٹھہرایا تھا۔ 66 ملزمان میں سے 36 کو عدالت نے بری کر دیا، جن میں بی جے پی کا ایک کونسلر بھی شامل ہے۔ چوبیس مجرم ٹھہرائے گئے لوگوں میں سے عدالت نے گیارہ کو قتل کا مجرم پایا اور تیرہ کو فساد بھڑکانے کا مجرم قرار دیا ہے اس درمیان چھ ملزمان کی موت ہو چکی ہے۔یہاں فاضل جج نے فیصلہ سناتے ہوئے احسان جعفری کے سلسلے میں جوباتیں کہیں ہیں،اس نے بھی شبہات کے کئی سوراخ کو واضح کردیا ہے۔ گجرات کی گلبرگ سوسائٹی میں 2002 میں ہوئے قتل عام میں سازش کے کسی بھی پہلو سے انکار کرتے ہوئے خصوصی عدالت نے کہا کہ کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کی طرف سے چلائی گئی گولیوں نے بھیڑ کو اکسایا اور وہ غصہ ہو گئی، جس کی وجہ سے انہوں نے اس طرح قتل عام اور حیوانیت کا ننگا رقص کیا۔حالاں کہ یہ بات جس پیرائے میں عدالت نے کہی ہے اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شاید ایس آئی ٹی اس پر بھی کچھ پختہ ثبوت خصوصی عدالت کی بنچ پررکھے ہوں گے۔مگراب تک کی تحقیقات نے ایسے کسی بھی دعویٰ کو الزام سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔
گلبرگ سوسائٹی کی منصوبہ خونریزی بھی دیگر واقعات اور قتل عام کی طرح فائلوں سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے تھے۔مگرمرنے والوں میں کانگریس کے سابق ممبر آف پارلیمنٹ احسان جعفری بھی تھے۔ اس مقدمہ کی پیروی ان کی بیوہ ذکیہ جعفری کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ اس سوسائٹی میں دنگائیوں کے ترشول کا نشانہ بننے والے چار توڑہ قبرستان شاہ عالم اوروسانہ کی سو سالہ قدیم مدینہ مسجدکی شہادت اوراس کے قرب و جوارمیں مارے کاٹے گئے غریب مسلمانوں اور جھگی جھونپڑیوں کے مکین نہیں تھے،بلکہ یہا ں مسلمانوں کا وہ طبقہ رہائش پذیر تھا جنہیں عام زبان میں دولتیا یا اشرافیہ کہا جاتا ہے۔ظاہر سی بات ہے ان غیر معمولی لوگوں پر چلائے جانے والے چاقوؤ ں سے خون کے دھبے کھرچنے آسان نہیں تھے۔بہر حال معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔فیصلہ سے مایوس لوگ انصاف پانے کیلئے آ گے تک کا سفر کرنے کیلئے آزاد ہیں۔ ذکیہ آنٹی نے تو دو جون کو ہی کہہ دیاتھا کہ وہ مکمل انصاف پانے کیلئے اعلیٰ عدالت سے بھی رجوع کریں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close