ہندوستان

گندگی سے جوجھتا سماج

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
آج سماج کئی طرح کی گندگی وآلودگی کے بوجھ سے جوجھ رہاہے۔ اس کی منفی اثرات سے زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ کھلے میں رفع حاجت کوہی لیجئے ۔ یہ ایسا عمل ہے جوکئی طرح کی بیماریوں وپریشانیوں کا سبب بنتا ہے بھارت کی لگ بھگ آدھی آبادی ابھی بھی ٹوائلٹ استعمال نہیں کرتی۔کھلے میں پڑی غلاظت ڈائریا کی بڑی وجہ ہے سابق میں کئی مرتبہ ڈائریاو ہیضہ مہاماری کی شکل اختیار کرچکاہے ۔ نمونیا کے بعد ڈائریا بچوں کی موت کی بڑی وجہ ہے ۔سرکار نے ملک کو 2021تک ODF یعنی کھلنے میں رفع حاجت سے نجات دلانے کامنصوبہ بنایا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ باہر میں فراغت حاصل اور کھلے میں غلاظت کا پڑا رہنے دینے کے نشان ہماری تہذیب وروایت میں بھی نظر آتے ہیں کچھ دنوں پہلے تک بنارس میں کئی میل تک گنگا کے کنارے لوٹا لئے فراغت حاصل کرتے لوگوں کو دیکھا جاسکتا تھا یہ فراغت کے بعد گنگا میں نہاکر اپنے گھر واپس جاتے تھے ۔انسانوں کے ادھ جلے جسم، مردہ جانور اور پوجا کے بعد ہون کی راکھ ،پھول اور کوڑا ندیوں میں بہانے کی پرانی عادت ہے۔ اب تو فیکٹریوں کا کچرا بھی ندیوں میں بلاروک ٹوک بہہ رہا ہے ۔
یونیسیف کے جوائنٹ مونیٹرنگ پروگرام کے اندازے کے مطابق دنیا کی 32فیصد آبادی یعنی 2.4بلین لوگوں کے پاس سینی ٹیشن کی سہولت موجود نہیں ہے وہیں بھارت کے 564ملین لوگ کھلے میں رفع حاجت کو جاتے ہیں ۔ واٹر ،سینی ٹیشن اور ہائیجین واش ملینم ڈیولپمنٹ ایجنڈے کا خصوصی حصہ ہے۔ صاف پانی کے دستیابی کے گول کو تو دنیا نے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سینی ٹیشن کا گول 700ملین لوگوں تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ سینی ٹیشن وہائیجین کی بہتر سہولت کی فراہمی کے بنا بچوں کی اموات ،بنیادی تعلیم ،بیماری میں کمی اور غریبی کو دور نہیں کیا جاسکتا ۔ یونیسیف کا مانناہے کہ حالات بہتر ہورہے ہیں ۔1990میں 54فیصد لوگ ٹوائلٹ ا ستعمال کررہے تھے 2015میں یہ تعداد بڑھ کر 68فیصد ہوگئی ہے لیکن ابھی بھی کھلے میں رفع حاجت کیلئے جانے والوں کی تعدادبہت بڑی ہے۔یہ ریلوے لائن کے کنارے ،گلی کے گٹر میں جھاڑیوں کے پیچھے یا ندی ، تالابوں کے پاس رفع حاجت کو جاتے ہیں ۔اس سے ماحول کے ساتھ ندی وتالابوں کا پانی آلودہ ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم ازکم 10فیصد آبادی بے کار پانی سے اگائی گئی کھانے کی اشیاء استعمال کرتے ہیں ۔ کھلے میں پڑی غلاظت مکھیوں کو متوجہ کرتی ہے ،مکھیاں اس گندگی کو کھانے پینے کی چیزوں پر چھوڑ دیتی ہیں جو ہیضہ ڈائریا پیچس ،ہیپاٹائٹس اے ،ٹائی فائڈ اور پولیوں کی وجہ بنتی ہے ۔ صرف ڈائریا کی وجہ سے ہر سال دو لاکھ اسی ہزار لوگوں کی موت ہوجاتی ہیں ۔
کھلے میں رفع حاجت کو پوشن اور بچوں کے پیٹ میں کیڑوں کی بھی بڑی وجہ ہے عورتوں میں خون وپانی کی کمی کی بھی بڑی وجہ یہی ہے عورتیں باہر جانے کے ڈر سے پانی کم پیتی ہیں کیوں کہ وہ دن کے وقت ضرورت کیلئے باہر نہیں جاسکتیں انہیں اندھیراہونے کا انتظار کرناپڑتا ہے لگاتار پانی و کم کھانے کی وجہ سے وہ کوپوشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ان سے پیدا ہونے والے بچے بھی پیدائشی طورپر کوپوشن کے شکار ہوتے ہیں ۔ بھارت میں 42فیصد بچے کوپوشن کا شکار ہیں۔پیدائشی طورپر غذائیت کی کمی کے شکار بچوں میں تغذیہ کی کمی کبھی دورنہیں ہوپاتی ان کا جسمانی وذہنی ارتقا نہیں ہوپاتا ۔ عمر کے لحاظ سے ان کی لمبائی ووزن کم ہوتاہے ۔ اس طرح ترقی یافتہ ملک میں کمزور پیڑھی تیار ہورہی ہے اتنا ہی نہیں عورتوں کوزنا ،بدسلوکی اغوا اورزہریلے کیڑوں کے کاٹنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے ۔25فیصد لڑکیاں اسکول میں ٹوائلٹ نہ ہونے کیو جہ سے اسکول چھوڑ دیتی ہیں۔
اس مدے سے عوام کو جوڑنے کیلئے یونیسف نے کرکٹ کاسہارا لیا ۔ٹی ۔20 میچوں کے دوران یونیسیف آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے تعاون سے ٹیم سوچھ کلینک لانچ کئے۔اس میں مقامی رضا کار تنظیموں اور اسکولی بچوں کو بھی جوڑا گیا ۔ٹیم سوچھ ہر اس میزبان شہر گئی جہاں ٹی ۔20 میچ کھیلے جا نے تھے ۔ اس موقع پر بچوں نے صاف صفائی اور سینی ٹیشن کی اہمیت کوسمجھا اور بیت الخلاء کے بعد و کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا عہد لیا۔ ٹیم سوچھ لانچ سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ جس طرح بلے سے مار کر گیند کو دورکیا جاتاہے اسی طرح بیت الخلاء استعمال کراور ہاتھ دھونے کو معمول بناکر اپنی زندگی سے بیماریوں کو دور بھگانا ہے اس مہم میں بچوں کی بھاگیداری نے انہیں حوصلہ دیا۔اسی کے بعد کئی علاقوں میں عوامی ٹوائلٹ اور گلیوں وغیرہ کی صاف صفائی بچوں نے اپنے دم پرکروانے کا کام کیا ہے۔کئی اسکولوں میں بچوں نے اسکول کے ذمہ داروں کو اس بات کیلئے مجبور کیا کہ وہ اسکول کے بیت الخلاء کی صاف صفائی و مینیٹینس کروائیں۔
کئی مرتبہ یہ کہتے سنا گیا ہے کہ کھلے میں رفع حاجت کیلئے یا تو غریب یا پھر گاؤں کے لوگ جاتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا بھارت میں یہ مسئلہ تہذیب وروایت سے جڑاہوا ہے لوگ باہر ضرورت کیلئے جانے کو برا نہیں سمجھتے ۔ورنہ مہنگی مہنگی گاڑیو ں سے اتر کر سڑک کے کنارے پیشاب کرتے لوگ نظر نہیں آتے۔ دراصل اس مسئلہ کا تعلق غربت سے کم ذہنیت سے زیادہ ہے اس لئے اس دقت سے نپٹنے کے لئے سماج کو سینی ٹیشن وہا ئی جین کو اپنی گفتگو کا حصہ بنانا ہوگا ۔ ساؤتھ افریقہ ہم سے زیادہ غریب ملک ہے وہاں کے سلم اور ہمارے جھگی جھونپڑی علاقے میں ذہنیت کے فرق کو صاف دیکھا جاسکتاہے۔ وہاں ہر جھگی کے پاس ماچس کی ڈبیا کی طرح کھڑاایک ٹوائلٹ دکھ جائے گا۔ راستہ صاف ستھرا ہوگا سرکار نے سلم ٹوازم نام سے ایک شعبہ بنا رکھا ہے۔ لوگ وہاں آکرجھگی جھونپڑی کو مینیج کرنا سیکھ سکتے ہیں ہمارے یہاں سڑک سلم سے ملے کھلے میدان میں لوگوں کو رفع حاجت کرتا دیکھ سکتے ہیں وہاں کی سڑکیں نالیاں بج بجاتے کوڑے سے آٹی بدبو پھیلاتی دکھائی دیں گی۔ سڑکو ں پر گندا پانی بہتا ہوا مل جائے گا یہی یہاں سلم کی پہچان ہے۔
یونیسیف نے اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے اسکول مینجمنٹ، رضا کار تنظیموں، صحافیوں اور اسکولوں میں پڑھ رہے بچوں کے والدین کو اس مہم سے جوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اس مقصد سے وہ ملک کے مختلف حصوں میں ورک شاپ منقعد کررہی ہے ۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو اس مہم میں سب کو شامل کر سکتا ہے۔ سرکار نے جس طرح پٹرول پمپ کے لائنس کے ساتھ بیت اخلاء کو جوڑا ہے اسی طرح 10سیٹ والے تمام ریستوراں یا ہوٹلوں کو بھی ٹوائلٹ بنانے کیلئے مجبور کیا جاناچاہئے۔ اس مہم میں مذہبی رہنماؤں کی سرگرم حصہ داری ہو کیوں کہ وہ روایتوں کو بدلنے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ کئی ریاستوں نے ٹوائلٹ بنانے کیلئے مالی امداد دینے کا انتظام کیا ہے ۔ تمام ریاستوں کو اس طرح کی اسکیمیں شروع کرنی چاہئے ۔ جن لوگوں کا اپنا گھر نہیں ہے ان کیلئے بھی صاف ستھرے پبلک ٹوائلٹ کا انتظام ہونا چاہئے۔معذوروں و خواتین کے لئے ٹوائلٹ کا الگ نظم کیا جائے ۔ عدالتوں وعوامی سرگرمی والی جگہوں پر بھی صاف ستھرے بیت الخلاء ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نریندرمودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جو اعلانات کئے ا ن میں سوچھ بھارت ایسا پروگرام تھا جس کی ان کے مخالفین بھی مخالفت نہیں کرسکے ،لیکن اس مہم کی ناکامی پر سب کو دکھی ہوناہی چاہئے کیوں کہ یہ دیش کے بنیادی سوالوں سے جڑا ایک سوال ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ سب ملکرملک کو صاف و سوچھ رکھنے میں اپنی ذمہ داری نبھائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close