ہندوستان

گولی کان کے پاس سے نکل گئی

حفیظ نعمانی
احسان کا بدلہ تو احسان ہی ہوتاہے ۔لیکن بات اگر ذات سے بڑھ کر قوم اور ملت پر آجائے تو فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا ۔شاملی کے ممبر پارلیمنٹ شری حکم سنگھ نے ہمارے اوپر اس وقت ایک احسان کیا تھا جب وہ وزیر تھے ۔اور جانوروں کی افزائش کا محکمہ انکے پاس تھا۔  ہمارا ان کا کہیں سے کہیں تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
کہانی یہ تھی کہ ہم امین آباد میں رہتے تھے ۔مکان خوب بڑا تھا ہم نے اپنے داماد کا تبادلہ لکھنو کرا لیا تھا جسکی وجہ سے بڑی بیٹی اور داماد بھی ساتھ رہتے تھے۔ ہمارا بڑا بیٹا مدینہ منورہ میں تھا اور اس کی بیوی بھی اسکے پاس تھی۔ مسئلہ پہلی ولادت کا تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ بہو لکھنو آجائے۔ مگر ہمارے بیٹے کے وہاں کئی ڈاکٹر وں سے تعلقات تھے ان کا مشورہ تھا کہ سعودی عرب کے اسپتالوں سے اچھی مسلمان لڑکیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔اور اگر تم چاہو تو اپنی والدہ کو بلا لو۔
مختلف پروگرام بنائے آخر کا ر یہ فیصلہ ہوا کہ میری اہلیہ ہی مدینہ چلی جائیں ۔اور انہیں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔اس وقت داماد کے تبادلہ کے احکام آگئے اور انکا تبادلہ بجنور ہوگیا ۔جہاں کوئی ایسا نہیں تھا جہاں داماد پانچ چھ مہینے رہ سکیں اور کھا پی سکیں ۔اور ہم بھی یہ مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ اپنی غرض کی وجہ سے داماد کو بھیج دیں اور بیٹی کو اپنے پاس روک لیں ۔اگر کوئی صور ت تھی تو صرف یہ کہ تبادلہ رکوالیا جائے لیکن ہم ایک بار اس سے پہلے رکو ا چکے تھے ۔اور وزیر حکم سنگھ سے ہمارا کوئی تعلق بھی نہیں تھا ۔اور وہ بی جے پی کی حکومت تھی ۔اتفاق سے ان کے ایک اس زمانہ کے دوست جب وہ کانگریس میں تھے ہمارے بہت مخلص دوست تھے ۔ایک دن اچانک وہ آئے ۔اور باتوں باتوں میں ذکر آیا کہ حکم سنگھ کے پاس آیا تھا اس سے ایک کام تھا ۔بات اور بڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ وہی حکم سنگھ ہیں جو اس محکمہ کے وزیر ہیں جس میں ہمارے داماد ہیں۔
ہم نے کہا کہ اگر تم نے اپنا کام نہ کرالیا ہوتا تو ایک کام حکم سنگھ سے ہمارا بھی کراتے۔ ہمارے دوست کہنے لگے کہ یہ کیا بات ہوئی۔ میں اگر دس کام اورکہوں گا تو وہ گیارہ کام اور کریگا۔تم بتاؤ بات کیا ہے ؟ ہم نے پورا مسئلہ سامنے رکھا ۔کہنے لگے میں دار الشفاسی بلاک کے چار نمبر میں ہوں تم رات کو آٹھ بجے آجاؤ۔ اسی وقت چلے چلیں گے ۔اور آج ہی حکم کرا دیں گے ۔رات کو حکم سنگھ سے ملے دل کھو ل کر تعارف کرایا اور ہر وہ بات کہہ دی جو کہی جا سکتی تھی۔  جب یہ کہا کہ بھابھی حج کو جارہی ہیں تو انھوں نے بات کاٹ کر کہا کہ تم بھائی کو بھی حج پر بھیج دو تبادلہ رک جائے گا ۔اتنا اور عرض کردوں کہ ہمارے دوست نے یہ بھی کہہ دیا کہ اور یہ میری طرح ہی تمہاری پارٹی کے خلاف ہیں ۔اور جرنلسٹ ہیں لیکن اگر تمہیں انکی مدد کی ضرورت بڑے گی تو یہ تمہاری مدد کریں گے ۔حکم سنگھ نے بھر پور تو اضع کی اور اسی وقت ڈائرکٹر کو ٹیلی فون کیا کہ صبح کوکہ فائلیں لیکر آجانا ۔اور ہم سے کہا کہ اپنا نمبر میرے پی اے کو دیدیجئے اور انکا لے لیجئے ۔ان سے معلوم کر لیجئے گا۔
پندرہ دن کے بعد ہم نے تیسری بار فون کیا کہ ابھی تک آرڈر نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ رات کو آپ گھر آجایئے اور منتری جی سے مل لیجئے۔ ہم گئے تو کہا کہ ڈائرکٹر کہہ رہا تھا کہ انکی وجہ سے گیارہ افسروں کا اور تبادلہ رکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انکا نہیں ہوا تو ہمارا کیوں کیا جارہا ہے؟ لیکن میں نے اس سے کہہ دیا تھا کہ میں زبان دے چکا ہوں اس لئے اسے تو روک دو۔ اور میں نے ہی کہا تھا کہ 15دن کی چھٹی لے لو ۔اور اپنے سب تبادلے ایک سال کے لئے روک لو کونسی مصیبت آئی جا رہی ہے۔
حکم سنگھ نے پھر پی اے سے کہا کہ فون کرو کہ۔۔۔۔کی فائل لیکر ابھی آجاؤ ۔انھوں نے جواب دیا کہ میرے پاس اسوقت گاڑی نہیں ہے ۔میں کل آجاؤں گا حکم سنگھ کا پارہ چڑ ھ گیا اور کہا کہ گاڑی میں بھیج رہا ہوں آپ فائل نکال کر تیار رہو۔اور ڈرائیور سے کہا کہ اگر کوئی پہاڑہ پڑھائے تو سالے کو ڈکی میں ڈال کر لانا ۔اور پھر ہم سے کہنے لگے کہ افسر وزیروں کو انگلی پر نچانا چاہتے ہیں ۔وہ سالے ہمیں قانون پڑھاتے ہیں ۔اور یہ نہیں جانتے کہ جمہوری حکومت اور انگریزوں کی حکومت میں یہی فرق ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ چاہے 20تبادلے رک جائیں لیکن ایک پریوار کا پروگرام ڈانو ڈول نہ ہو۔تبادلوں کا کیا ہے وہ اگلے سال کردئے جائیں گے ۔اور تین برس کی کیا شرط ہے دو سال میں تبادلہ کردیا جائے ۔اور اسی رات میں آرڈر ہوگئے اور جاٹ نے دکھا دیا کہ جاٹ کی بات پتھر کی لکیر ہوتی ہے۔
کل این ڈی ٹی وی انڈیا کے رپورٹر کوجب وہ صفائی دے رہے تھے اور فہرست دکھارہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ فرقہ واریت کی وجہ سے نہیں ہوا ہے اسوقت ہم نے صورت دیکھی تب پہچانا ۔عمر تو ہر کسی کو کمزور کر دیتی ہے ۔دو دن سے جب حکم سنگھ سن رہے تھے اور لکھ رہے تھے تب خیال نہیں آیا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ حکم سنگھ صرف جاٹ ہی نہیں ہوتے ۔ان سے پہلے کملا پتی ترپاٹھی کے زمانے میں بہرائچ کے ایک ٹھاکر حکم سنگھ وزیر تھے ۔اتفاق کی بات کہ وہ بھی ہمارے اوپر ایک احسان کرچکے تھے۔
شاملی کے ممبر پارلیمنٹ کی ہی بات نہیں جو کوئی اتر پردیش جیسی ریاست کا وزیر رہ چکا ہو وہ پارلیمنٹ کا ممبر ہو جائے یا گورنر وہ چاہتا یہی ہے کہ اگر ہو سکے تو وزیر اعلیٰ بن جاؤں ۔اور نہ بن سکوں تو وزیر توبن ہی جاؤں ۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر یہ جو پھلجڑی انہوں نے جو چھوڑی تھی وہ اس لئے چھوڑی ہو کہ اگر اس سے امت شاہ کوئی فائدہ اٹھاسکیں تو میں انکی نظر میں ہیرو ہو جاؤں گا ۔لیکن انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ شاملی مغربی یوپی میں سب سے حساس قصبہ ہے۔ اگر ذرا سی بھی گنجائش ہوتی تو رمضان شریف میں مسلم اکثریت کا کیرانہ اور شاملی خون سے سرخ ہوجاتے۔
حکم سنگھ وکیل ہیں ۔اور برسوں کانگریس میں بھی رہ چکے ہیں ۔شاید اسی کا اثر ہوگا کہ جیسے ہی انھوں نے دیکھا کہ وہ غلط چال چل گئے ہیں ۔انھوں نے خود قدم پیچھے ہٹالئے ۔اور کہدیا کہ یہ فرقہ وارانہ نہیں ہے ۔اور میں اسے دوسرے نقطۂ نظر سے بھی دیکھوں گا ۔لیکن جو ہونا تھا وہ ہوچکا ۔انکی ہی شہ پر امت شاہ نے اسے ایسا ہی کشمیر بنا دینا چاہا جیسا کشمیری پنڈتوں کے نکلنے کے بعد کشمیر ہوا تھا ۔ہم ضرور ان سے کہیں گے کہ ایسے کھیل جوانی میں کھیلے جاتے ہیں بڑھاپے میں نہیں ۔اگر اور کوئی تعمیری کام کرتے تو مرکز میں اس لئے وزیر بن سکتے تھے کہ مودی صاحب کو جاٹ کی ضرورت ہے ۔اور حکم جیسا جاٹ تو انکے بہت کا م آسکتاہے ۔بہر حال کھیل بگڑ گیا ۔اور میڈیا نے شاملی اور کیرانہ کو خونریزی سے بچالیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close