ہندوستان

ہاں میں شہید ’بابری مسجد‘ ہوں!

نازش ہما قاسمی

میری تعمیر مغل بادشاہ کے اودھی گورنر میر باقی نے ۱۵۲۸ء میں ایودھیا میں کی۔ میں اسلامی طرز تعمیر کا ایک شاہ کار نمونہ تھی۔ مغلوں کی آن، بان، شوکت و عظمت کو بیان کرنے والی ایک تاریخی مسجد تھی جہاں مسلمانانِ ہند نماز پڑھ کر مجھے آباد کیے ہوئے تھے، جہاں مسلمان رات کی تنہائی میں خدا کے حضور دعائے نیم شبی کرکے مرادیں پارہے تھے؛ لیکن عبادت و سلوک کے اس عظیم سلسلے پر روک لگا دی گئی اور میری تعمیر کے تین سو سال بعد مجھ پر آفت آنا شروع ہوگئی۔ مجھے شہید کرنے اور اس کے نیچے مندر دریافت ہونے کی بات کہی گئی؛ لیکن میر باقی نے جہاں میری تعمیر کی تھی وہاں کوئی مندر نہ تھا وہاں رام جی کا جنم نہیں ہوا تھا، یہ تاریخی حقیقت و شہادت ہے؛ لیکن ہندوستان پر طویل عرصے تک حکومت کا خواب دیکھنے والے انگریزوں نے جب یہ دیکھا کہ ہماری سازشیں یہاں کامیاب نہیں ہورہی ہیں، ہندو مسلم دونوں شانہ بشانہ ہوکر ہمارے خلاف متحد ہیں تو اس نے دونوں کے درمیان مذہبی خلیج پیدا کرنے کےلیے جھوٹی و من گھڑت تاریخ گڑھی اور وہ خلیج بنانے میں کامیاب بھی ہوگئے۔

پھر آزادئ ہند کے دو سال بعد کانگریس کے دور حکومت میں ۲۲؍۲۳ دسمبر کی درمیانی رات میں لوگوں نے اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر میرے محراب کے پاس رام للا کی مورتی رکھ دی، ہنگامہ ہوا، شور شرابہ ہوا کانگریس نے دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کیا، بظاہر اس حرکت پر اظہار افسوس کیا اور اندر اندر فرقہ پرستوں کی حمایت جاری رہی۔ ۲۹؍دسمبر ۱۹۴۹ کو مجھے سرکاری تحویل میں دے دیا گیا اور ۱۹۵۰ میں مجھ پر تالا لگا دیاگیا ۔ برسوں سے نماز پڑھتے آرہے مسلمانوں کو نماز سے منع کردیاگیا، جس کی وجہ سے میرے منبرو محراب سے دل سوز آوازیں آنی بند ہوگئیں، رات کی تنہائی میں درویش شب کی زار و قطار رونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی دلفریب و رقت آمیز گڑاگڑاہٹیں بند ہوگئیں، اور وہاں رکھی مورتیوں کی پوجا پاٹھ اور مندر کی برقراری کا حکم قائم رہا۔ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۸۴ کو رام جنم بھومی ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ پھر ۱۹۸۵ء کو مجھ پر لگے تالے کو کھول دیاگیا اور نام نہاد رام بھکتوں کو پوجا پاٹ کی مکمل اجازت دے دی گئی۔ پھر مجھ عظیم الشان مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ سابق وزیر اعلیٰ اترپردیش “ملائم سنگھ یادو” کے دور میں ۳۱ اکتوبر اور ۲؍ نومبر ۱۹۹۰ کو کارسیوکوں کی ایک بھیڑ نے مجھے شہید کرنے کے لیے حملہ کیا، جس پر ملائم سنگھ نے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی بازی چلی اور کار سیوکوں پر گولی چلا دی جس کی وجہ سے وہ بظاہر سیکولر کا امام قرار دیاگیا۔

پھر اس کے بعد حالات جوں کے توں رہے؛ ایودھیا حساس رہا پورے ملک میں ایک خونی رتھ یاترا کی شروعات ہوئی ،مجھے شہید کرنے کے لیے بھیڑ اکٹھا کی گئی اور پھر تاریخ ہند کا المناک دن ۶؍ دسمبر آیا جس دن عدالت کو بھروسہ دلا کر عدالتی نظام کی توہین کی گئی، رام کے جھوٹے بھکتوں نے آئینِ ہند کے معمار بابا صاحب امبیڈکر کے یوم پیدائش کے موقع پر منظم حملہ کر کے مجھے شہید کردیا، بھکتوں نے آئینِ ہند کی دھجیاں اڑائیں، جس سے ہندوستان کے ماتھے پر ایسا کلنک لگ گیا جو کبھی ختم نہیں ہوگا، آزاد ہندوستان کے عدلیہ و آئین کا مذاق اڑاتے ہوئے پوری دنیا میں عظیم ہندوستان کو رسوا کیاگیا۔پھر اس کے بعد ملک بھر میں فسادات کا دور شروع ہوا، میری جبیں پر سجدہ ریز ہونے والوں کی املاک تباہ کی گئیں، انہیں اجاڑا گیا، لوٹا گیا، قتل کیا گیا، ان کی ماؤں بہنوں کی کوکھ اجاڑی گئی، ممبئی میں بم دھماکے ہوئے، ہزاروں مسلمان سمیت سیکولر ہندو مارے گئے؛ لیکن مجھے شہید کرنے والے، موقعۂ واردات پر میری شہادت کی خوشی میں باہم گلے لگنے والے اور دیگر گناہ گار و اقبالیہ مجرمین اب بھی آزاد ہیں؛ لیکن ممبئی فرقہ وارانہ فسادات کے مجرمین سزا پاگئے یا ملک بدر ہوگئے۔

میں اب بھی عدالت پر امید و آس لگائے ہوئے ہوں؛ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میری امید بر آئے گی؛ کیوں کہ عدالت عظمیٰ کے ججوں نے عدالتی کارروائی پر سوال اُٹھایا ہے، فرقہ پرستوں نے عندیہ دے دیا ہے کہ جہاں میں تھی وہاں ہر حال میں مندر ہی بنے گا۔ خواہ عدالت کا فیصلہ کچھ بھی ہو۔ میرا مقدمہ لڑنے والی تنظیمیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیۃ علما ہند اور سینٹرل سنی وقف بورڈ ٹھوس و مضبوط ثبوت ہونے کی بنا پر عدالت عظمیٰ سے آس و امید لگائے ہوئے ہیں۔ شہادت کو ۲۶؍ سال گزر گئے ہیں، الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اسے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا ہے، جہاں سماعت فی الحال ملتوی ہے۔

مسلم قیادت پر مجھے اور مسلمانانِ ہند کو پورا بھروسہ اور اعتماد ہے؛ لیکن مجھے فروخت کرنے والے سوداگر، ان تنظیموں کے ارادوں کو متزلزل کرناچاہتے ہیں، مسلم قیادت پر سے مسلمانوں کا اعتماد ختم کرنا چاہتے ہیں، حکومت وقت کی سازش کے شکار ہوکر میرا سودا کرنے کے لیے مشورے دے رہے ہیں، مجھے کسی اور جگہ منتقل کرنے لیے امت کو بہکایا جارہا ہے، قرآن و حدیث کا مطلب غلط بیان کرکے ان کا سہارا لیا جارہا ہے، اسلامی تاریخ میں مسجد کو منتقل کرنے کی نظیریں پیش کررہے ہیں، فقہ حنبلی کا حوالہ دے رہے ہیں، شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اسلام میں آج تک کسی بھی مسجد کو مندر بنانے کے لیے نہیں دیا گیا ہے، اس کی کوئی نظیر نہیں ہے؛ کیوں کہ جس زمین پر ایک بار مسجد بن جاتی ہے وہ زمین تاقیامت مسجد باقی رہتی ہے۔ عدالت کا خواہ کوئی بھی فیصلہ آئے، میرا مقدمہ لڑنے والی قیادت اور تنظیموں کا یہی واضح اور دو ٹوک موقف ہے۔ بقول مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری ’’ہم مسجد سے دستبردار نہیں ہوسکتے، ایک مسجد کی زمین مندر بنانے کے لیے حوالے کرنا بہت غلط نقطۂ نظر ہے یہ معاملہ عدالت میں ہے اگر فیصلہ مسجد کے خلاف آتا ہے تو پھر مسلمان مجبور ہوگا؛ لیکن اسے اللہ کے سامنے جواب دہی میں آسانی ہوگی کہ اس نے مسجد کی جگہ مندر کے لیے نہیں دی؛ بلکہ ملک اور آئین کے فریم میں رہتے ہوئے کوشش کی کہ حق و انصاف ہماری طرف ہے، ہم سپریم کورٹ سے فیصلہ حاصل کریں، اس کے سوا مسلمانوں کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے”۔

واقعی یہ تاریخ لکھی جائے گی کہ مسلم قیادت نے حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا، مجھے دوسری جگہ منتقل کرنے کو منظور نہیں کیا آئین و عدالت کا احترام اور پاس و لحاظ کرتے ہوئے امید لگائے رکھی، مایوسی و قنوطیت کو پاس نہیں آنے دیا اور مجھے امید ہے کہ خدا دور رَس قیادت اور مسلمانوں کو مایوس نہیں کرے گا۔ ان شاء اللہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close