ہندوستان

ہجومی تشدد سے متاثر ریاستیں

 نورمحمد خان

(ممبئی)

وطن عزیر میں گزشتہ 6برسوں کے دوران ہند کے آئین و قوانين سالمیت اور قومی یکجہتی کو تار تار کرنے والی سیاسی مفادپرستی و فرقہ پرستی کی فصلوں سے پیدا ہونے والے گئو رکھشھکوں نے ہجومی تشدد کے واقعات کو اتنی تقویت بخشی کہ روزبروز تشدد میں اضافہ ہوتا ہی جارہا ہے۔ ہجومی تشدد کی زد میں انے والے دلت مسلم کرسچن أدیواسی کے علاوہ پولیس افسران بھی تشدد کا شکار ہوچکے ہیں لیکن حکومتوں اور قائدین کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ موصولہ خبروں کے مطابق ملک میں ماضی کی سیکولر حکومتوں میں فرقہ وارانہ فسادات اور بم دھماکوں میں مسلمانوں کی تباہی و بربادی کی فہرست میں اول مقام حاصل تھا وہیں مرکز وریاست کی بی جے پی اور سیکولر حکومتوں میں بھی مسلمان دلت آدیواسی اور کرسچن محفوظ نہیں ہیں 2012 سے لیکر 2019 تک ملک کے 21 ریاستوں آسام،بہار، آندھراپردیش، دہلی، جھارکھنڈ، جموں کشمیر، گجرات، کرناٹک، کیرالہ،پنجاب،مدھ پردیش،منی پور،مہاراشٹرا،اڑیسہ،راجستھان، تلنگانہ، تاملناڈو، اترپردیش،مغربی بنگال،ہماچل پردیش اور ہریانہ میں 128واقعہ میں 175 حملے ہوئے جس میں 305افراد تشدد کا شکار ہوئے۔ تشدد میں 47اموات واقع ہوئیں جبکہ 83افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ہجومی تشدد میں تناسب دیکھا جائے تو تمام حادثات میں 56فی صد مسلمان 9 فی صد دلت 9فیصد ہندو کرسچن 2فیصد ٹرائبل کاسٹ اور سکھ 1 فیصد ہیں جبکہ آدیواسی 2 فیصد ہیں نیز نامعلوم 18فیصد ہیں۔ ہجومی تشدد میں 86فی صد مرد اور 8فی صد خواتین شامل ہیں ہندوستان کی تین ریاستوں سے 2012 میں پنجاب میں ایک واقعہ میں دو افراد تشدد کا شکار ہوئے، وہیں 2013میں ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں دو واقعات میں ایک شخص تشدد کا شکار ہوا۔ 2014 میں گجرات کرناٹک اور دہلی میں تین واقعات میں کل11 افراد ہجومی تشدد کا شکار ہوئےجس میں کوئی جانی نقصان  نہیں ہوالیکن مرکز میں بی جے پی کے قیام کے بعد 2015میں 9 ریاستوں، دہلی،ہریانہ،ہماچل،جموں کشمیر،کرناٹک،مدھ پردیش،منی پور،راجستھان اور اتر پردیش میں کل 13مقامات میں 49 افراد تشدد کی زد میں آئے جس میں 11افراد کی موت واقع ہوئی۔  2016میں 12 ریاستوں میں آندھراپردیش، دہلی، گجرات، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، پنجاب، راجستھان، تلنگانہ، اترپردیش اور مغربی بنگال میں کل 30 واقعات میں 67افراد ہجومی تشدد کا شکار ہوئے جس میں 9لوگوں کی اموات ہوئیں۔  2017میں 16ریاستوں میں آسام، بہار، دہلی، گجرات، ہریانہ، جموں کشمیر، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرا لہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، اڑیسہ، راجستھان، تاملناڈو،اترپردیش اورمغربی بنگال میں کل 43واقعات میں 108افراد ہجومی تشدد کا شکار ہوئےجس میں 13افراد کی موت ہوئی۔ 2018میں آسام، بہار،ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں کشمیر،جھارکھنڈ،کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان اور اتر پردیش میں کل31 واقعات میں 57افراد تشدد کا شکار ہوئے جس میں 13افراد کی موت ہوئی۔

 2019 میں آسام،ہریانہ،جھارکھنڈ،کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں کل 5 واقعات میں دس افراد تشدد کا شکار ہوئے جس میں ایک شخص کی موت ہوئی ریکارڈ کے مطابق کل 47 اموات میں اترپردیش میں 8 مسلمان 3ہندو کل 11اموات ہوئیں، جھارکھنڈ میں 5مسلمان ایک کرسچن اور ایک آدیواسی کل7 اموات ہوئیں۔  مغربی بنگال میں 5مسلمان اور ایک ہندو کل 6 اموات ہوئیں، ہریانہ میں 6 مسلمان کی موت ہوئیں، راجستھان میں 4مسلمان، آسام میں دو مسلمان اور ایک آدیواسی کل 3 افراد کی موت ہوئی۔  مدھیہ پردیش میں دو ہندو اور ایک مسلمان کل 3 اموات ہوئیں۔  کرناٹک میں ایک ہندو اور ایک مسلمان کل 2 افراد کی موت ہوئی۔ بہار میں مسلم1،جموں کشمیر میں مسلم1،گجرات میں مسلم1،منی پور میں مسلم1اور ہماچل پردیش میں مسلم1،اموات ہوئیں جس میں کل 37 مسلمان8ہندو1کرسچن اور ایک آدیواسی کی موت ہوئی۔ جبکہ آندھراپردیش اور گجرات کے اونا میں دلتوں کی پٹائی اس لیے کی گئی تھی کیونکہ دلت مری ہوئی گائے کی کھال نکال رہے تھے۔

مرکز میں بی جے پی حکومت قیام کے بعد مابلیچنگ کی ابتدا 14 اگست 2014کو دہلی سے متصل دو مسلمان محمد اسرار اور آفتاب کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسرا واقعہ 23 اگست کو کرناٹک منگلور میں پمپویل میں رونما ہوا جس میں عبدالسمیرصادق اورشوکت علی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ علاوہ اس کے گجرات میں 7 اکتوبر کو سورت نوساری روڈ پر واقع دابھیر گائوں میں ہجومی تشدد کا واقعہ پیش آیا جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔  2015میں دہلی، جموں کشمیر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، منی پور، راجستھان، ہماچل پردیش، اترپردیش اور ہریانہ میں تشدد کے واقعات ہوئے۔ وہیں اس تشدد میں کل گیارہ اموات میں سب سے زیادہ چار اموات اترپردیش میں ہوئی جبکہ مدھیہ پردیس میں دو جموں کشمیر منی پور راجستھان ہماچل اور ہریانہ میں ایک ایک موتیں ہوئیں 2015میں موت کا پہلا واقعہ مدھیہ پردیش کے داموہ میں  23مئی کو پیش آیا جس میں ہجوم نے گلا سوما بنجارن اور گنیش بھلا کو موت کے گھاٹ اتار دیا یہ دونوں متوفی ہندو تھے۔ دوسرا واقعہ 30مئی کو بیرلوکا راجستھان میں بیف فروخت کرنے کے الزام میں عبدالغفار قریشی (60)کولوہے کی سلاخوں اورڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ تیسرا واقعہ 2اگست کو اترپردیش میں واقع کیمرالا میں اناف، عارف اورناظم تینوں کی ہجومی تشدد میں موت ہوئی۔ چوتھا واقعہ 28ستمبر کو اترپردیش کےدادری میں پیش آیا جہاں گھر میں بیف رکھنے کے الزام میں محمد اخلاق کو ہلاک گیا تھا جبکہ دوبچوں اوربیوی کو زد وکوب کیا گیا تھا۔ پانچواں واقعہ 14اکتوبر کو ہماچل پردیش کے سرمور علاقے میں پیش آیا تھا جہاں نعمان کی موت واقع ہوگئی تھی اور محمدنیشو،سلمان، گلزاراور گلفام نامی تین افراد زخمی ہوئےتھے۔ چھٹا واقعہ جموں کشمیر کے اودھم پور میں پیش آیا جہاں زاہد احمد بھٹ کی موت ہوئی اور شوکت احمد کے علاوہ ایک نامعلوم شخص زخمی ہوا تھا۔ساتواں واقعہ 2نومبر کو منی پور میں واقع امپھال کے ایک گائوں میں محمدحشمت علی( 55)کی ہجومی تشدد میں موت ہوئی۔ آخری واقعہ 9دسمبر کو ہریانہ میں واقع کرنال کے بھانوکیری گائوں میں پیش آیا جہاں خوش نور نامی شخص کی موت ہوئی اور احسان نامی شخص زخمی ہوا تھا۔

2016میں آندھراپردیش،دہلی،جھارکھنڈ، گجرات،کرناٹک،پنجاب، مدھیہ پردیش،راجستھان، تلنگانہ،اترپردیش، مغربی بنگال اور ہریانہ میں کل تشدد کے 30 واقعات میں 9 لوگوں کی موتیں ہوئیں، جس میں ہریانہ میں تین جھارکھنڈ میں دو جبکہ مغربی بنگال اترپردیش کرناٹک گجرات میں ایک ایک شخص کی ہجومی تشدد کی زد میں آنے سے موت ہوئیں۔  2017میں آسام، بہار، دہلی، جھارکھنڈ،گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش،مہاراشٹر،اڑیسہ، راجستھان،تاملناڈو،اترپردیش، مغربی بنگال اور ہریانہ میں کل 43واقعات میں 13اموت ہوئیں، جس میں سب سے زیادہ مغربی بنگال میں دو تشدد کے دوران پانچ اموات ہوئیں۔ جھارکھنڈ میں تشدد کے سات واقعات میں دوافراد کی موت ہوئی جبکہ راجستھان میں 5واقعات میں 2اموات ہوئیں اور آسام میں ایک واقعہ میں دوافراد کی موت ہوئی۔ ہریانہ اور اتر پردیش میں ایک ایک موت ہوئی۔

 2018میں آسام،بہار،جھارکھنڈ،جموں کشمیر، گجرات،کرناٹک،کیرالہ، مدھ پردیش، راجستھان، اترپردیش، ہماچل پردیش اور ہریانہ میں کل 31واقعات میں 13افراد کی موت ہوئی جس میں سب سے زیادہ اترپردیش میں 8واقعات میں پانچ افراد کی موت ہوئی۔  جھارکھنڈ میں تین واقعات میں دوافراد کی موت ہوئی جبکہ آسام، بہار، کرناٹک، مدھیہ پردیش، راجستھان اور ہریانہ میں ایک ایک اموات ہوئیں۔  2019 میں 22مئی تک پانچ ریاستوں آسام جھارکھنڈ کرناٹک مدھیہ پردیش اور ہریانہ میں کل پانچ واقعات ہوئے، جس میں جھارکھنڈ میں ایک شخص کی موت واقع ہوئی(بشکریہ فیکٹ چیکرڈاٹ ان )

2014میں ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں کمپيوٹر اور ایک ہاتھ میں قران دیکھنا چاہتا ہوں لیکن 2014کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی ملنے کے بعد حکومت اپنے وعدے پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اس نےبی جے پی کی ذیلی تنظیموں کو ایسی آزادی دی کہ گئو رکشھا کے نام پر ملک میں ہجومی تشدد کا رخ اختیار کرکے مسلمانوں کا قتل عام کیا جانے لگا۔ کیا اسی کا نام سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے؟سنیئر صحافی نرنجن ٹاکلے نے قریب تین ماہ قبل دہلی میں ایک اجلاس کے دوران سامعین سے مخاطب ہو کر بتایا کہ گئورکشھا کے نام پر غنڈہ گردی کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گجرات میں میں تین مہینہ سے زائد رفیق قریشی کے نام سے احمدآبا میں رہا تھا اور جانوروں کاکاروبار کرنے والوں کے ساتھ کاروبار کیا اسی دوران میں نے 32ٹرکوں میں الگ الگ مقامات کا سفر بھی کیا بجرنگ دل وغیرہ کے لوگ جانوروں کے ٹرک والوں میں سے گائے کے ٹرک سے 14-15ہزار روپیہ لیتے ہیں بھنس کے ٹرک سے 6500روپیہ لیتے ہیں اور پانڑا کے ٹرک سے 5000ہزار وصولتے ہیں۔  اسی طرح سے ان کا کاروبار چلتا ہے نرنجن ٹاکلے نے کہا کہ پالنپور میں چودھری نامی بجرنگ دل کے ایک شخص سے ملاقات کی وہی پورا کام سنبھالتاہے۔ اس سے میں نے کئی بار بات کی ایک سوال کے جواب میں نرنجن کہتے ہیں یہ لوگ روپیہ کی وصولی کے علاوہ جانوروں کا چمڑا مفت میں لیتے ہیں انھوں نے یہ بھی کہا کہ چودھری سے پوچھا کہ چمڑا وغیرہ آپ لوگ لیتے ہیں تو چودھری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھگوان کی پوجاکریں یا چمڑے کی نرنجن نے مزید کہا کہ اگر تمہیں مہاراشٹر میں لے جانا ہے تو تمہیں ولساڈ میں بابو بھائی دیسائی سے ملاقات کرنا ہوگی وہی ممبئی کا کام سنبھالتا ہے نرنجن ٹاکلے نے یہ بھی کہا کہ پالن پورکے امیرگڑھ چیک پوسٹ سے ڈیڑھ کروڑ روپیہ کی وصولی ہوتی ہے اور یہ بھی بتایا کہ ہم لوگوں کو اس لئے مارتے ہیں کہ لوگوں میں خوف کا ماحول برقرار رہے۔ اسی طرح کی کئی باتوں کا انکشاف کیا اور اپنے تاثرات پش کیے۔ نرجن ٹاکلے کی باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ یہ فاشزم کا بزنس ماڈل ہے اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ملک میں جتنے بھی گئو رکشا کے نام پر ہجومی دہشت گردی میں امواتیں ہوئی ہیں یہ صرف جانوروں کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ہوئی ہیں اس لیے آج بھارت بیف سپلائی میں دنیا میں ایک نمبر پر ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ملک کی سالمیت اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close