ہندوستان

ہجومی قتل کا بڑھتا گراف: ذمہ دار کون؟

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی

اللہ رب ا لعز ت نے دنیا تخلیق فر مائی اور انسانوں کو اشرف ا لمخلو قات کا شرف بخشااور علم و دماغ جیسی نعمت بھی عطا فر مائی(یہ رب کریم کا احسان عظیم ہے) علم اور دماغ سے انسان نے ترقی کی سیڑ ھیاں طے کرتے کرتے مریخ کا سفر، چاند پر کمند اور ان گنت نئی نئی ایجاد کرتے جا رہا ہے جس میں فائدے اور نقصانات کی ایجاد بھی شامل ہے۔ جہاں آرام دہ اورتیز رفتارسفر کے لئے ہوائی جہاز بنائے، وہیں اویکس (Ovix) میراج 29 اور ڈرون(Drone) جیسے حملہ آور بمبار طیار ے بھی بنا کر انسانیت پر ظلم کے پہاڑ گرا کر ساری حدیں پار کر دی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مہلک ہتھیا روں کی اتنی مقدار(Quantity) مو جود ہے کہ پوری دنیا 29بار ان ہتھیا روں سے نیست ونا بود ہو سکتی ہے، اس میں روز بروز اضا فہ ہی ہو رہا ہے اللہ رب ا لعزت نے انسانوں کو زینہ بزینہ ترقی دینے کا وعدہ فر مایا۔ ( القرآن، سورہ نحل16، آیت8) تر جمہ : اسی نے گھوڑے اور خچر پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمھاری رونق بنیں۔ وہ اور بہت سی چیزیں(تمھارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے جن کا تمھیں علم تک نہیںہے۔ رب تبارک و تعا لیٰ نے انسانوں کو بتد ریج، رفتہ رفتہ، زینہ بزینہ، در جہ بدر جہ، ترقی دینے کا وعدہ فر مایا اللہ ہی کی دی ہو ئی نعمت علم وعقل سے انسان نے ایسی ایجادات کی ہیں جن سے فائدے ہیں لیکن یقینا اس میں بے شمار نقصا نات بھی ہیں۔

بڑ ھتے ہوئے جرائم کا ذمہ دارسوشل میڈیااورحکومت:

دور جدید کی حیرت انگیز ایجاد مو بائل ہے جو کہ موجودہ زمانہ کی ناگزیر چیز بن گئی ہے امیر، غریب، بچہ، جوان، بوڑھا، کسان سے لے کر پائلٹ تک اس کا گر ویدہ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اس کا غلام بن گیا ہے، نو جوان نسل کی بر بادی میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے جدید مواصلاتی نظام نے جہاں انقلاب بر پا کیا ہے وہیں سیکڑوں مسائل بھی پیدا کر دیئے ہیں جن کا حل ڈھونڈنا انتہائی ضرو ری ہے اگر ان مسائل کا حل ڈھونڈھانہ گیا تو آگے اور زیادہ تباہی آئے گی اور اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا۔ آج واٹس ایپ، انسٹا گرام، یو ٹیوب، ٹیلیگرام وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ جہاں اپنی بات دوسروں تک جلد پہچانا بہت آسان اور فائدے مند ہے، وہیں یہ ذرائع انسانی موتوں کے بھی ذمہ دار ہیں اسی سے حضرت انسان جو اشرف المخلوق ہے وہ قدم قدم پر لمحہ بہ لمحہ جھوٹی خبریں گندی چیزیں پھیلا رہا ہے، اسی میں موب لنچنگ جیسا خطر ناک معا ملہ ہے اس میں حکو مت کی بھی شہ ہے جب سے سنٹرل اور صوبوں میں بی جی پی کی حکو متیں بنی ہیں پورے ملک میں اقلیتوں پر طرح طرح کے بہانوں سے حملہ کرکے جا ن سے مار دینا ایک فیشن بن گیا ہے ڈھٹا ئی، بے شر می، بے خوفی، ہٹ دھر می کا یہ حال ہے کہ مار نے کے بعد خود مجرمین ویڈیو بناکرسوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیںتاکہ پورے بھارت کو ڈرا یا جاسکے۔ ان کو یہ زعم پیدا ہو گیا ہے ’’سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کا ہے کا‘‘ قا نون کے رکھ والے ان کے چہیتے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے گائے کے نام پر، بچہ چوری کے نام پر، ٹرینوں میں سیٹ کے جھگڑے میں طرح سے مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے ابتک موب لنچنگ (بھیڑ کے ذریعہ جان مارنا)میں 100 سے زیادہ موتیں ہو چکی ہیں جس میں80 فیصد مسلمان ہیں۔

سوشل میڈیانے تو ساری حدیں پار کر دی ہیں کوئی خبر آئی یا پھر غلط خبر ہی کیوں نہ ہو فوراً بھیجنا(Share) کر نا دل و ماغ سے بغیر سوچے سمجھے ایک سکنڈ بھی ضائع کئے بغیر ڈاکیہ کا کام کر نے لگتے ہیں۔ واضع رہے ڈاکیئے کا کام ہے جو چیز اسے پہچا نے کے لیے دی جائے وہ اس چیز کو اسی کو دے جسے دینا ہے نہ کہ وہ ساری دنیا کو بانٹتا پھرے کو ئی خبر کوئی اطلاع کسی بھی انسان کے پاس آئی تو سب سے پہلے اطلاع پانے والے انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ پتہ لگا ئے کی یہ اطلا ع (information) صحیح ہے یا جھوٹ ہے اس کی تحقیق کرے اگر غلط ہے تو سب سے پہلے اطلاع بھیجنے والے سے بات کرے اور سختی سے منع کرے کہ آئندہ قطعی ہم تک جھوٹی باتیں نہ بھیجیں۔ حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کے پاس جب ان کا پرندہ ھُدْھُدْ جو انکی خد مت پر معمور تھا اطلاع لا یا جس کا ذکر قرآن مجید میں اسطرح ہے۔ ھُدْ ھُدْ پرندہ بھی خبروں کو بیان کر نے میں اصول وضوابط کا پابند تھا چنانچہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا: ( القر آن، سورہ نمل27، آیت22) ترجمہ: میں سبا کے متعلق ایک یقینی خبر لایاہوں۔ یہا ں ھُدْ ھُدْ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے یہ سنا ہے یا ایسا پڑھا ہے یا مجھے ایسی خبر پہنچی ہے۔ اسی طرح ھُدْ ھُدْ کی خبر کے تئیں حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کا موقف بھی آج کے لوگوں یا ہماری طرح نہیں تھا کہ کوئی خبر ملنے کے بعد فورً اسے آگے (Forward) کردیں یا اسے (copy paste) کر نے لگیں بلکہ ھُدْھد کی خبر سننے کے بعد حضرت سلیمان علیہ ا لسلام نے فر مایا:(القرآن، سورہ نمل27، آیت27)سلیمان (علیہ ا لسلام) نے کہا’’ ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔

 قر آن کریم سے یہ معلوم ہوا کہ خبر کی تحقیق کرنا اور اس کی سچائی یا جھوٹ کا پتہ لگانا یہ انبیائے کرام کا طریقہ رہا ہے۔ اس لیے ہم کو آپ کو بھی چا ہیے کوئی بھی ایسی خبر ادھر ادھر نہ پھیلائیں جس کی سچائی کا علم اور یقین آپ کو نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ خبر سچ بھی ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خبر اس پیغام کو دیکھے سمجھے کہ اس  پیغام(Massage) کو دوسروں کو پہنچا نا فائدہ مند ہے یا نہیں، کہیںاس خبر سے فتنہ فساد نہ پھیل جائے خوب اچھی طرح سوچے۔ سوشل میڈیا میں جو پیغام آتے ہیں اس کے یوزر زیا دہ تر جلد باز ہو تے ہیں ادھر میسیج آیا اور لگے ادھر فاروڈ کرنے سب سے پہلے بھیج کراپنے کو بڑا تیس مار سمجھتے ہیں اور اس کا کر یڈٹ اپنے نام کر نا چاہتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ یہ پیغام آن کے آن سکنڈوں میں تمام دنیا میں پہنچ جا تا ہے اور پھر یہی نہیں جن تک یہ پیغام پہنچتا ہے وہ بھی دوسروں تک پہنچانے میں ذر ادیر  نہیں لگا تے دوسروں تک آگے(forward) کر نے میں اور آپ کا بھیجا ہوا پیغام سیکڑوں، ہزا روں لو گوں تک پہنچ جاتا ہے پھر اس جھوٹی خبر سے کتنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں کیا کبھی آپ نے سو چا ہے، کتنا گناہ ہو تا ہے معلوم ہے آپ کو ذرا سوچئے، قرآن کریم میں رب

ذو الجلال کا فر مان ہے۔ (القر آن، سورہ نمل27، آیت105 ) تر جمہ: جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی وہی جھو ٹے ہیں، (کنز الایمان) ایک جگہ ہے لعنۃ اللہ علی الکذ بین۔ جھو ٹوں پر اللہ کی لعنت ہے، جس پر اللہ کی لعنت ہو گی وہ کیسے فلاح پائے گا۔ حدیث پاک ہے۔ یحیٰ بن یحیٰ، سلیمان تیمی، ابو عثمان ہدی، کی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا: آ دمی کے لیے جھو ٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے( جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیاجاسکتا ہے) کہ ہر سنی ہوئی بات بیان کردے۔ (صحیح مسلم، باب ہر سنی ہوئی بات بیان کر نے کی مما نعت، حدیث 9)

دوسری حدیث حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ آپ نے فر مایا:آدمی کے جھو ٹے ہونے میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔ ( صحیح مسلم، حدیث 11،) جھوٹ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ربِ ذوالجلال کی اس پر لعنت ہے۔ جھوٹ ایک ایسا متعدی مرض ہے و ائرس(virus ) زہریلا مادہ کی طرح  تیزی سے پھیلتا ہے جھوٹ بھی سائبر کرائم کی طرح ایک جرم ہے، واٹس ایپ کے جھوٹے میسیجوں نے کتنے معصوموں کی جان لے لی ہے سوشل(social media) کے ذریعہ جھوٹ کو بری طرح سے بڑھا وا مل رہاہے آپ دیکھیں جھوٹے میسیج بھیج کر بھیڑ اکٹھا کرنا ماب لنچنگ، جنو نی بھیڑ کے ذریعہ کہیں بچہ چوری کے نام پر، کہیں گئو ہتھیا کے بہانے، کہیں گائے کے گوشت کے زیا دہ تر مسلمانوں کو مارا جارہا ہے حکو متیں ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے مصداق اندھی بہری بنی ہوئی ہیں یہ ظلم و نا انصافی اب ساری حدیں پار کر گئی ہے یہ  ہمارے ملک ہندوستان کی گنگا جمنی تہذ یب کو بر باد کر رہی ہے جو سب کے لیے نقصان ہو گا۔

حالیہ واقعہ ہا پوڑ ضلع کے پلکھوا علاقے کے بچھیڑا گائوں میں ایک مسلمان اپنے کھیت میں گھسی گائے کو کھیت سے با ہر کر رہا تھا اور کسی نے فوٹو لیکر واٹس ایپ کر دیا کہ گائے کی تسکری کر رہا ہے آن واحد میں بھیڑ جمع ہو گئی اور قا سم اور اس کے ساتھی کو مار مار کر شدید زخمی کر دیا قاسم کی موت کھیت میں ہی ہوگئی اور دوسرا ساتھی سیریس ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ہندو دہشت گردی کا، ملک کے حالات بہت خراب ہیں۔ جرائم کا بڑھتا گراف ارباب حکو مت کے لیے چیلنج ہے۔ مو بائل چلانے والوں کو بہت احتیاط اور سوچ سمجھ کر پیغام فار وڈ کر نا چاہیئے کہ اس غلط خبر سے سماج پر کیا اثر ہو گا؟ افسوس کوئی سمجھنے کے لیے تیار نہیںہے جس کے ہاتھ میں دیکھوموبائل چیٹنگ میں لگا ہے بغیر سوچے سمجھے میسیج بھیجنے میں لگا ہے ضرورت ہے کہ لوگ ایسے فالتو کا سے باز آئیں اور دوسروں کو بھی سنجید گی سے، پیار سے سمجھائیں گناہ بے لذت کی فہرست بہت لمبی ہے جھوٹ پھیلا نا، جھوٹی گواہی دینا، فحش گو ئی، فحش گندی تصویریں دیکھنا یہ سب گناہِ کبیرہ ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فر مایا: جھوٹ گنا ہوں کی جڑ ہے اور جھوٹ گناہوں کی کھیتی کو ہرا بھرا کر دیتا ہے، اتنے بڑے گناہ کر نے والے کو کیا ملتا ہے؟ کچھ نہیں ایسے ہی گناہ کو بے لذت گناہ کہا جاتا ہے۔ خون کا قطرہ نہ آستین پہ ہے، نہ دھبہ زیر دامن میں۔ آپ کی حر کت سے کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھری۔ اللہ ہم سب کو  بچنے کی تو فیق عطا فر مائے آ مین ثم آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close