ہندوستان

ہجوم زنی کے بعد جو ہوتا ہے..!

اخلاق کے قتل کے بعد سے ۵۰؍سے زائد مسلمانوں کو گئو کشی کے الزام میں ہجو م نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ندیم عبدالقدیر

یہ سچ ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن جب بے قصور وں کے قتل کو کارنامہ سمجھا جانے لگے، سیاسی عزائم میں رنگ بھرنے کیلئے قتل کے ملزمین کی عزت افزائی کی جانے لگے اور خونریزی کو وطن پرستی کا نام دیا جانے لگے تو سمجھ لیجئے کہ آپ  کا سماج جانوروں کے باڑے میں بدل چکا ہے۔آپ جنگل میں زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ کے ارد گرد وحشی رقص کررہے ہیںاور شاید آپ کے اندر بھی ایک جانور پل رہا ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا  بلکہ یہ  انسان کو جانور بنانے اور اسے قتلِ عمد پر آمادہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

بی جےپی کے مرکزی وزیر جینت سنہا نے جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں گئو کشی کے الزام میں علیم الدین کو قتل کردینے والے ۸؍مجرمین  کے اعزاز میں ایک نشست منعقد کی۔  اعزازی نشست میں ملزمین کا منہ میٹھا کیاگیا، ان کی گل پوشی کی گئی  اور ان کے ساتھ فوٹو کھینچوائے گئے۔یہ سارے کام کسی نچلی یا مقامی سطح کے لیڈر نے نہیں بلکہ مرکزی وزیر نے کیا۔ ان ملزمین کی تقدیر میں یہ عزت افزائی اور اعزاز محض ان کے علیم الدین کو قتل کردینے کے کارنامے کے باعث ہی ممکن ہو سکی۔ ان ملزمین کو دو روز قبل ہی جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی مل تھی۔ اس سے قبل نچلی عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ علیم الدین  کے قتل کا ویڈیو بھی بنایا گیا تھا۔ اس کے باوجود بھی  عدالت نے ضمانت دینے میں کوئی  پس و پیش نہیں کیا۔
یہ واحد مثال نہیں ہے۔ حافظ جنیدپر گزشتہ برس دہلی کے قریب ٹرین میں صرف اس لئے حملہ کردیاگیا  کیونکہ وہ مسلمان تھے اور اس واقعہ کے وقت سفید کرتا، پائجامہ اور جالی دار ٹوپی پہنچے  ہوئے تھے۔ شدید زخمی حالت میں جنید اور ا ن کے  بھائی کو  اسوٹی اسٹیشن پر پھینک دیا گیا، یہ بھیانک واقعہ تھا لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ اس سے زیادہ ڈراؤنا تھا۔ خون میں لت پت جنید کو لئے ا سکا بھائی مدد کیلئے پکارتا رہا لیکن پورے اسٹیشن  سے کوئی بھی اُن کی مدد کو نہیں آیا۔ حتیٰ کہ ریلوے کے ملازمین، مسافر، اسٹال مالکان یا اسٹاف، کوئی بھی نہیں۔آخر کار حافظ جنید نےوہیں تڑپتے ہوئے اپنے بھائی کی گود میں ہی دم توڑ دیا۔ اسی طرح اخلا ق کو قتل کرنے والے ایک ملزم کی جیل میں موت ہوگئی تو اس کی لاش کو ترنگے میں لپیٹا گیا۔ اس کی آخری رسومات میں بی جےپی کے لیڈران نے شرکت کی۔ ایسا گمان ہورہا تھا کہ ملک کی بہت بڑی ہستی فوت ہوگئی۔ اس کی عزت و تکریم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔

یہ وہ واقعات ہیں جو ہجوم زنی کی واردات کے بعد ہوئے۔اگر اب بھی آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہجوم زنی اچانک واقع ہوجانے وا لی وارداتیں ہیں تو آپ کی سادہ لوحی یقیناً ہمدردی کی مستحق ہے۔ جس سماج میں ایک بے قصور اور کمزور انسان کو قتل کرنے والے  ملزمین کے اعزاز میں نشست منعقد کی جانے لگے اس سماج سے اگر آپ اس بات کی امید کرتے  ہیں کہ وہ ہجوم زنی سے باز آجائے گا تو آپ کو ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے۔

اگر ہجوم زنی کو ہم ایک عارضی جوش یا  غیر منصوبہ بندی سے انجام دی گئی واردات کانام دیتےہیں تو اس کے بعد ہونے والے ان واقعات کو کیا عنوان دیا جائے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہجوم زنی کی واردات اچانک ہوتی ہے اور یہ غیر منصوبہ بند ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ ہی اچانک ہوتی ہے اور نہ ہی  غیر منصوبہ بند ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے بہت محنت کی جاتی ہے۔ اس کی منصوبہ سازی انتہائی چالاکی سے انجام دی جاتی ہے اور اس کےلئے ذہنوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ یہ سارے کام اتنی چالاکی سے کئے جاتےہیں کہ عام آدمی کو اس بات کا شعور ہی نہیں ہوپاتا کہ اس کے اندر ایک جانور پرورش  پارہا ہے۔ اس کیلئے اخبارات کی جھوٹی خبروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلوں کے نفرت سے بھرے مباحثوں کو کار آمد بنایا  جاتا ہے۔ اور پھر اس پر وہاٹس اپ اور سوشل میڈیا کی افواہوں  کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ انہیں مذہب  کے سہارے اکسایا جاتا ہے۔ ان کے اندر غیض و غضب  کے بارود بھرے  جاتے ہیں۔ انہیں ایک مقصد دیا جاتا ہے۔ حب الوطنی اور وطن پرستی   کے جذبات کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ان تمام ذرائع سے عام آدمی کے ذہنوں میں نفرت، زہر اور غصہ کا لاوا بھر چکا ہوتا ہے۔ یہ لاوا  صرف اپنے پھٹنے کا انتظار کرتے رہتا ہے انہیں صرف گئو کشی یا بچہ اغوا کرنے کی افواہ کی چنگاری کی ضرورت رہتی ہے، اور جیسے ہی یہ چنگاری ان کے ذہن میں تیار بارود سے مس  ہوتی یہ بارود پوری قوت سے پھٹ پڑتا ہے۔

   تب اسے اتنا سوچنے کاہوش ہی نہیں رہتا وہ اس بات کو سمجھے یا اس کی پڑتال کرے کہ جن ملزمین کو پیٹنا وہ اپنا دھرم سمجھ بیٹھا ہے ا ن ملزمین نے واقعی ایسا کوئی جرم کیا بھی ہے یا نہیں۔ جہاں تک قانون، عدالت اور پولس کی بات ٹھہری تو ہجوم پولس  کو اپنے    پیروں کی دھول ، عدالت کو فضول اور قانو ن کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ بیٹھتا ہے۔

 یوپی میں دادری کے بساڑہ گاؤں میں اخلاق کے قتل سے جنم لینے والے ہجوم زنی  کے آسیب نے دیکھتے ہی دیکھتے یو نہی پورے ملک کو اپنی جکڑ میں نہیںلے لیا  ہے۔ یہ آسیب اچانک ہی توانا نہیں ہوا ہے بلکہ اس کی باقاعدہ نشو ونما کی گئی۔

وطن عزیز کے درجن بھر سے زیادہ شہروں میں ہجوم زنی کی ورداتیں رونما ہوچکی ہیں۔ جن میں لوگوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کردیاگیا۔ حالیہ واردات مالیگاؤں کی ہے جہاں بچہ چوری کے شک کے تحت ہجوم بے قابو ہوگیا۔بھیڑتشدد پر  اس قدر آمادہ تھی وہ  دو سال کے بچے کو بھی قتل کرسکتی تھی۔ یہ بھیڑ پولس کے قابو میں بھی مشکل سے ہی آئی۔ یہاں اتنی خیریت رہی کہ متاثرین کی جان بچ گئی۔ دو روز قبل آسام میں تین سادھوؤں کو بھی بچہ چور ی کے شک میں ہجوم نشانہ بنانے جارہا تھا لیکن یہاں بھی بروقت پولس کی مداخلت سے سادھو ؤں کی زندگی سلامت رہی۔اس سے پہلے دھولیہ میں پانچ افراد کو پنچایت دفتر میں ہی بھیڑ نے مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ چنئی میں بہار کے دو مزدوروں کو بھی بچہ چور سمجھ کر بھیڑ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس سے پہلے ہاپوڑ میں قاسم کو گئو کشی کے الزام میں بھیڑ نے زدو کوب کرکے ہلاک کردیاتھا۔ اس قتل کابھی ویڈیو بنایا گیا۔ یہ  واقعات پچھلے چند دنوں کے ہی ہیں۔

اخلاق کے قتل کے بعد سے ۵۰؍سے زائد مسلمانوں کو گئو کشی کے الزام میں ہجو م نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کے علاوہ بچہ چوری کے الزام بھی  درجن سے زیادہ لوگوں کو تشدد پر آمادہ بھیڑ نے ہلاک کردیا۔ایک بھیڑ اچانک ہی تشدد پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ اس بات کو سمجھے بغیر کہ آیا وہ جسے نشانہ بنا رہی ہے اور جس الزام کے تحت نشانہ بنا رہی ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔ ہجوم کے دماغ پر شیطان سوار رہتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ بہت نیک کام میں اپنا حصہ لے رہےہیں۔یہ ذہنیت، یہ نظریہ اوریہ سوچ منصوبہ بند طریقہ پر پھیلائی گئی نفرت اور زہر سے پروان چڑھی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں ہجوم زنی کو قابل فخر کام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کیلئے اعزازی نشست منعقد کرنا، ان کی لاش کو ترنگے میں لپیٹنا  اس منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ ہجوم زنی سماج کا ایک اہم مسئلہ بنتے جارہی ہے۔ یہ انتہائی خوفناک رجحان ہے، لیکن ہجوم زنی کے بعد جو ہوتا ہےوہ دراصل اس سے کہیں زیادہ ڈراؤناہے،کیونکہ یہ اگلے شکار کیلئے ہجوم کو پھر سے تیار کرتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close