ہندوستان

ہر صبح گجرات،  ہر شام مظفر نگر ہے

عزیر احمد

وادی کشمیر کو اس کی خوبصورتی،  دلکشی اور رعنائی کی وجہ سے جنت کہا گیا ہے،  اس کے اندر محبوب کی خوشبو،  اس کی مہک اور اس کی عشوہ طرازی پائی جاتی ہے،  لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنت نشان کشمیر موت کا سوداگر ہے،  آدمی صبح کو گھر سے نکلتا ہے تو اسے یقین نہیں ہوتا ہے کہ وہ شام کو صحیح سلامت گھر لوٹے گا یا نہیں،  ہر طرف خوف کے سائے ہیں،  کافی دیر سے سوچ رہا ہوں کہ کچھ لکھوں، مگر الفاظ غائب ہیں،  خیالات منتشر ہیں،  سمجھ میں نہیں آتا کہ غیروں کی بے حسی پہ لکھوں یا اپنوں کی بے بسی پر،  مسلمانوں کی بے غیرتی پہ لکھوں،  یا ان جبہ و قبہ اور دستار کو زیر قلم لاؤں جو ایک داعی اور مبلغ کو گرفتار کرانے کے لئے سڑکوں پہ ننگا ناچ کرتے ہیں،  مگر انہیں کشمیر میں بہتا لہو دکھائی دیتا،  انہیں کشمیریوں کی آہ و فغاں سنائی نہیں دیتی،  وہ صم بکم عمی کی پوری تصویر نظر آتے ہیں…کشمیر میں 50 سے زائد لوگوں کو مار دیا گیا،  100 لوگوں کی آنکھیں چلی گئیں،  ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں،  مگر کہیں کوئی آواز نہیں،  کہیں کوئی احتجاج نہیں،  یونیورسٹیوں کے بچوں کے سوا کوئی سڑک پہ نہیں اترا،  کسی نام نہاد بریلوی عالم نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں،  کسی شیعہ نے کالم نگاری نہیں کی،  کسی ٹی وی چینل نے اسے اپنی سرخی نہیں بنائی،  کوئی ارنب اس پہ نہیں چیخا،  حالانکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں ایک مبلغ،  اور داعی کو دہشت گرد قرار دینے کی پوری سازش کرڈالی،  ان کی گرفتاری کے مطالبہ کیا،  ذاکر دہشت گرد ہے کے نعروں سے سڑکوں کو بھر دیا،  مگر اب یہی لوگ اندھے اور گونگے بہرے بن گئے،  خاموشی کی ایک بھیانک لہر…مگر اللہ کا شکر ہے،  اب بھی اس ملک میں انصاف پسند طبقہ موجود ہے،  انہوں نے اس اجتماعی اور حکومتی ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا،  جنتر منتر پہ دھرنے دئیے،  سوال پہ سوال اٹھائے…

کشمیر میں حالات عید کے تیسرے دن کے بعد سے ہی خراب ہیں،  برہان وانی سمیت دو لوگوں کو عسکریت پسند اور علیحدگی پسند کے نام پہ مار دیا گیا،  جس سے لوگوں کا غم و غصہ پھوٹ پڑا،  احتجاج کے شعلے بھڑک اٹھے،  کچھ جگہوں پہ پولیس نے مظاہرین پہ گولیاں بھی چلائیں،  اس کے بعد سے حالات خراب ہوتے چلے گئے،  لوگوں اور فوجیوں میں ٹکراؤ ہونا شروع ہوگیا،  اندھادھند گولیوں کی برسات ہونے لگی،  نتیجے کے طور پہ کثیر تعداد میں لوگوں کی اموات ہوئی،  اور کافی لوگ زخمی ہوئے.

اس میں کوئی شک نہیں،  کہ کشمیر اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہے،  مگر کشمیری بھی اسی ملک کا حصہ ہیں،  ان کا خون بھی خون ہے،  وہ بھی انسان ہیں،  انہیں بھی درد ہوتا ہے،  احتجاج ان کا حق ہے،  مگر اس احتجاج پہ گولی چلوانے کا حکومت کا کوئی حق نہیں،  احتجاج تو ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ہوتے ہیں،  مگر ان پہ گولی نہیں چلتی،  احتجاج تو پٹیلوں نے بھی کیا تھا،  جاٹوں نے بھی کیا تھا،  اربوں کھربوں نقصان کیا تھا،  مگر ان پہ گولی نہیں چلی،  متھرا میں سرکاری زمین پہ قبضہ کرلیا گیا،  اسے چھڑانے کے لئے گئے 43 پولیس اہلکاروں کو داروغہ سمیت مار دیا گیا،  مگر گولی ان پہ بھی نہیں چلی،  حکومتی گولی تو اس وقت بھی نہیں چلی تھی جب دہلی کی سڑکوں پہ سکھوں کا سرعام قتل کیا گیا تھا،  گولی اس وقت بھی نہیں چلی تھی جب گجرات فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کو سر عام قتل کردیا گیا تھا،  ان کی عصمتیں لوٹ لی گئیں تھیں،  بچوں کو ماؤں کے پیٹ سے نکال کے مار دیا گیا تھا،  اور پولیس تماشائی کھڑی تھی،  گولی تو اس وقت بھی نہیں چلی تھی جب بابری مسجد شہید کردی گئی تھی،  اور دنگائی سرعام فساد مچاتے پھر رہے تھے،  گولی اس وقت بھی نہیں چلی تھی جب گلبرگ سوسائٹی میں 69 لوگوں کو زندہ جلادیا گیا تھا….آخر کشمیر میں ایسی کیا بات ہے کہ جب بھی احتجاج ہوتا ہے،  تشدد پھوٹ پڑتا ہے،  گولیوں کی برسات ہونے لگتی ہے،  اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی لوگ لقمئہ اجل ہوجاتے ہیں،

کہیں نہ کہیں تو خرابی ہے،  کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ ہے،  یہ خرابی سسٹم میں بھی ہے،  ہم میں بھی ہے،  اور ہم ظلم کے خلاف بول نہیں پارہے ہیں،  ہمارے قلم میں اتنی طاقت نہیں کہ ہم اس کے خلاف لکھ سکوں،  ہمارے زبانوں میں اتنی قوت گویائی نہیں  کہ لوگوں کے قتل عام پہ صدائے احتجاج بلند کرسکیں. حالانکہ ظلم ظلم ہوتا ہے چاہے وہ انفرادی  ہو،  یا اجتماعی،  اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کی ذمہ داری.

اور حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کے درد کو سمجھے،  انہیں اپنا سمجھے،  ان کے ساتھ پیار سے کام لے،  انہیں اپنے سے قریب کرنے کی کوشش کرے،  صرف بیان بازیوں پہ اکتفا نہ کرے،  یہ کہنے سے کام نہیں چلنے والا کہ "کشمیر میں خراب حالات کے پیچھے پاکستان کا ہے”،  اگر اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے،  تو پھر یہ حکومت کی نا اہلی ہے کہ وہ کشمیر کی طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو روک کیوں نہیں پاتی ہے،  وہ لوگ غیر ملکی ہوکر نوجوانوں کو ورغلا سکتے ہیں،  مگر حکومت کے ذمہ داران ملکی ہوکر نوجوانوں کو صحیح راستے پہ نہیں لاسکتے؟؟. حکومت کو چاہئیے کہ سارے صورت حال کا تجزیہ کرے،  اس بارے میں غور و فکر کرے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے یہ کشمیری ملک کے خلاف ہوجاتے ہیں،  آخر وہ کون سے اسباب ہیں جس کی وجہ سے یہ کشمیری ملک کے فوجیوں سے لڑنے پہ آمادہ ہوجاتے ہیں. صرف حب الوطنی اور قومی یکجہتی کا نعرہ لگانے سے کام نہیں چلے گا،  بلکہ کشمیریوں کے قرب جانا پڑے گا،  انہیں بھی اس ملک کا شہری سمجھنا پڑے گا،  ان کے دکھ،  درد کو محسوس کرنا پڑے گا،  خود کی کمزوری کی سزا شہریوں کا دینا نا انصافی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Close