ہندوستان

ہماری داستاں تک نہ رہے گی داستانوں میں

مدثراحمد

جس وقت ہندوستان کی آزادی کا دور چل رہا تھا اس دوران نہ صرف سیاسی سوچ رکھنے والے قائدین انقلاب کے نعرے بلند کرتے ہوئے جنگ آزادی میں جیت حاصل کی بلکہ مسلمانوں اور اردو دانوں کا ایک بڑا حلقہ اپنے اپنے شعبوں کے ذریعے سے آزادی کے لئے عام لوگوں میں جان بھرتے رہے جس کے نتیجے میں ہندوستان کو آزادی ملی۔ جنگ آزادی میں صرف مسلمانوں اور مسلم علماء کا ہی اہم رول نہیں بلکہ  اردو زبان کا اہم رول رہاہے، مختلف شعراء، ادباء، افسانہ نگار، نقاد اور صحافیوں نے مسلسل اپنے قلم سے قلمی جنگ کی اور انگریزوں کے لئے یہ زبان پوری طرح سے واقفیت والی زبان نہ ہونے کے باوجود ہندوستانی عوام کے لئے سب سے بڑی طاقت بنی رہی، اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ مگر جنگ آزادی کے بعد سے ہم مسلمانوں اور اردودانوں کی سوچ و فکر ہی بدل چکی ہے۔ جس زبان سے جنگ آزادی لڑی گئی تھی وہ زبان آج صرف مشاعروں و سمیناروں کی حد تک محدود ہوچکی ہے اور مشاعرے بھی ایسے کہ جس میں عشق و معشوقے کی کہانیاں بیان کئے جاتے ہیں۔

ہمارے یہاں منعقد کئے جانے والے مشاعروں سے ہندوستان کے مسلمانوں کے موجودہ حالات پر تبصرہ تو دور کی بات ہے اخلاقیات سے بھی کوئی سروکار نہیں رہا ہے اور ہم ان مشاعروں کا انعقاد کرتے ہوئے اس بات سے مطمئن ہورہے ہیں کہ ہماری قوم زندہ ہے، اردو زبان آبادہے۔ اگر شعراء قوم کے حالات کو دل سے محسوس کرتے تو وہ اپنے کلام میں محبوبہ کی بے وفائی اور معشوقہ کی خوبصورتی سے بالاتر سوچتے۔ قوم میں فکر جگاتے کہ قوم کی حالت کیاہے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ اسی طرح سے دیکھا جارہاہے کہ ہندوستان بھر میں جلسوں اور پروگراموں کی فہرست کے بعد اگر کسی کام میں قوم مصروف ہے تو وہ ہے سمیناروں کا انعقاد، جو سمینار ہورہے ہیں وہ بھی قوم کے موجودہ حالا ت پر نہیں ہورہے ہیں بلکہ اپنے اپنے علمی جوہر بکھیرنے اور کچھ لوگ تو دوسروں کے لکھے ہوئے مقالے پڑھوانے کے لئے سمیناروں کی شان بن رہے ہیں۔ ہمارے سمیناروں کے ٹاپکس پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیا آج قوم کو انہیں باتوں کی ضرورت ہے۔ دینی احباب سمیناروں میں ایک دوسرے مکتب فکر پر فوقیت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ فلاں دینی مسئلہ یوں ہے، فلاں مسلک میں یہ کہا جارہاہے، فلاں مسلک میں نمازوں کو طریقہ یہ ہے، فلاں شخص مجدد ہے یا نہیں، فلاں شخص کو ولی کا درجہ مل سکتاہے یا نہیں، فلاں جماعت مسلمان ہے یا نہیں ؟

دوسری طرف اہل علم حضرات و پروفیسران کی نظر اب بھی غالب، میر، فیض کی لہر بحر و مزاج سے ہٹی نہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ ان لوگوں کی تقلید میں مقالے لکھے جارہے ہیں جن کی موجودگی و غیرموجودگی سے بھی انہیں فائدہ مل سکے۔ کئی سمینار تو شخصیت پرستش پر اتر آئے ہیں۔ قوم کے حالات کیاہیں اور کس طرح سے ان حالات کو بہتر بناسکتے ہیں اس پر توجہ دینے کی کسی کے پاس فرصت ہی نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنے علم و ہنر کو پیشہ بنالیاہے اور ہر کوئی اپنے آپ کو برتر بنانے کی کوشش میں لگا ہواہے۔ ہندوستان میں ہم نے کئی ایسے شعراء، ادباء اور صحافیوں کو بھی دیکھا ہے جو سماج کا آئینہ ہیں، جو وہ دیکھتے ہیں لکھتے ہیں، جو وہ محسوس کرتے ہیں اس پر آواز اٹھاتے ہیں۔ ظلم ہوتا ہے تو اپنے ایوارڈ واپس کرتے ہیں، تشدد جب حد سے زیادہ ہوتاہے تو سڑکوں پر اترکر احتجاج کرنے کے لئے عوام کو مجبور کرتے ہیں۔ میدھا پاٹیکر، وراورا رائو، غدر، اروندھتی رائے، سوامی اگنی ویش، گریش کرناڈ، پروفیسر راجند چینی، مانسی پردھان، ارونا رائے جیسے سینکڑوں لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے سے ہندوستان کی جمہوریت، انسانیت، سماجی انصاف اور حقو ق انسانی کے لئے مسلسل کام کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزاری ہیں۔ لیکن ہمارے پاس بھی ایسی سوچ رکھنے والے قائدین تھے جو اب ڈائناسورس کی طرح ناپید ہوچکے ہیں۔

ہم مسلک مسلک اور واہ واہ۔ ۔ واہ واہ کے کھیل میں مصروف ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی کیا حالات ہیں اس پر نظریں دوڑائی جائیں، آزادی کے بعد سے یہ قوم مسلسل ظلم و ناانصافیوں کا شکار ہے، انکے پاس صلاحیتیں ہونے کے باوجود انہیں تعلیم نہیں مل رہی ہے، جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہے انکے پاس روزگار نہیں ہے، ہزاروں نوجوان بے قصورہوکر بھی جیلوں میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ مسلم لڑکیاں ملحد ہوتی جارہی ہیں۔ ہماری حالت دلتوں سے بدتر ہونے کی بات حکومتوں کی جانب سے تصدیق کئے جانے کے باوجود ہماری حالتوں کو سدھارنے کے لئے کسی کے پاس فرصت نہیں ہے، ہر کوئی ایری غیری قوم اپنے لئے ریزرویشن لے کر تعلیم، روزگار اور سماجی شعبوں میں معقول حصہ لے رہے ہیں مگر ہم ان سب سے پرے ہیں۔

وہ دن دور نہیں جب ہماری قوم واہ واہ واہ کے مشاعروں سے جب فرصت پا لے تو ہمارے آشیانے بھی غائب ملیں گے اور سمیناروں میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے سے فرصت مل جائے تو دنیا میں ہمارے وجود کی تلاش ہوگی۔ اس لئے اب بھی وقت ہے کہ اہل علم اور اہل ادب اپنی سوچ کو تبدیل کرتے ہوئے قوم کے لئے کچھ کریں۔ ورنہ ہماری داستاں تک نہ رہے گی داستانوں میں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Close