ہندوستان

ہمیں  اپنی عدالتوں  پر پورا بھروسہ ہے 

آجکل مسلمانوں  کے درمیان بامبے ہائی کورٹ کی قابل احترام جج محترمہ مردولا بھاٹکر کے ایک فیصلے کا بڑا چرچہ ہے۔ جون2014 میں  ایک مسلم نوجوان انجینئر محسن شیخ کو ہندو راشٹریہ سینا کے شر پسندوں  نے مار ڈالا تھا۔ ان شر پسندوں  کو پولس نے موقع سے گرفتار کیاتھا۔ اب 12 ؍جنوری کو محترمہ بھاٹکر نے ان میں  سے تین کو ضمانت دیدی ہے۔ یہ کوئی نئی یا اچنبھے کی بات نہیں  ہے۔ منصفین یا تو ضمانت دیتے ہیں  یا نہیں  دیتے۔سزا سناتے ہیں  یا بری کردیتے ہیں ۔ یہی ان کے فرائض ہیں ۔ اسی کی روٹی وہ کھاتے ہیں۔ مگر جسٹس مردولا بھاٹکر نے اپنا فیصلہ ملزمین کے حق میں  سنانے کے لئے جس دلیل کا سہارا لیا ہے وہ نئی بھی ہے اور اچنبھے کی بات بھی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں  کہ یہ دنیا کی عدالتی تاریخ میں  آب زر سے لکھے جانے کے لائق دلیل ہے۔ انھوں  نے وطن عزیز کی بھی اور دنیا کی عدالتی تاریخ میں  ایک سنگ میل قائم کیا ہے۔ اور کیوں  نہ کرتیں  ؟وہ دیکھ رہی تھیں  کہ پچھلے چند سالوں  سے ہندوستان کے مرد منصفین مسلمانوں  کے تعلق سے ایک سے بڑھکر ایک فیصلے سنا رہے تھے۔ نہ مقامی جیوڈیشیل سوسائٹی سے ڈرتے تھے نہ بین الاقوامی سے۔پھر خود بین الاقوامی جیوڈیشیل سوسائٹی کا یہی حال ہے۔ان حالات میں  اگر Learned Justice محترمہ مردولا بھاٹکر نے مردوں  کے نہلے پر اپنا دہلا ماردیا تو کیا برا کیا۔ وہ جانتی ہیں  کہ یہ پوری کمیونٹی جرم ضعیفی کے آزار میں  مبتلا ہے۔ کوئی تامل ناڈو والے تھوڑے ہی ہیں۔

قارئین شاید یہ جاننے کے لئے بے چین ہوں  کہ محترمہ مردولا بھاٹکر نے ایسا کیا کارنامہ انجام دے دیا جس کی بنا پر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ دل جگر بلکہ سارے ہی اعضاء کو تھام کر سنئے بلکہ بہتر ہے کمزور دل تو پاس سے ہٹ ہی جائیں۔ Learned Justice محترمہ بھاٹکر نے مقتول محسن شیخ کے قتل کے تین ملزمین کو ضمانت دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں  لکھاہے ’’مرنے والے کی واحد غلطی یہ تھی کہ اس کا تعلق دوسرے مذہب سے تھا۔ میں  مانتی ہوں  کہ یہ بات درخواست کنندگان؍ملزم کے حق میں  جاتی ہے۔ درخواست دہندگان؍ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں  ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذہب کے نام پر انھیں  اکسایا گیا اور انھوں  نے قتل کردیا۔‘‘انھوں  نے اپنے فیصلے میں  مزید ایک جگہ لکھا ہے ’’ حملے کے واقعے سے پہلے ملزمین نے میٹنگ کی۔ مہلوک بے گناہ محسن سے ان کی کوئی دشمنی نہیں  تھی اور نہ ان کا کوئی ایسا رادہ تھا۔ ‘‘ کیا ان الفاظ کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک غیر ارادی قتل تھا۔ اور جب مقدمہ چلے گا تو وہ غیر ارادی قتل کا ہوگا؟کیا یہ اصل مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کے لئے اشارہ ہے کہ وہ کس طرح مقدمہ چلائے؟ہمارے جیوڈیشیل سسٹم کے جونیئر ججوں  کو اس فیصلے سے کیا کیا سبق ملتے ہیں  اس کو بھی ہم مختصراً یہاں  بیان کر دیتے ہیں۔ اگر قاتل اور مقتول الگ الگ مذاہب کے ہوں  تو یہ مقتول کی غلطی faultمانا جائیگا اور اس کی کم سے کم سزا قاتل کو ضمانت ہوگی اور ممکن ہے اسی بنیاد پر بریت بھی حاصل ہو۔پھر مستقبل کے جج صاحبان کو مقتول کے الگ مذہب کا ہونے کو قاتل کے حق میں  ایک اہم دلیل سمجھ کر استعمال کر نا پڑے گا اور ملزمین کے مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونے کو بھی اہمیت دینی پڑے گی۔ حالانکہ مجرمانہ ریکارڈ کا نہ ہونا تین باتوں  کو ظاہر کرتا ہے (1)وہ واقعی اب تک معصوم رہے ہوں (2)پولس کی نظروں  سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں (3)اتنی مضبوط پیٹھ رکھتے ہوں  کہ پولس بھی انھیں  نظر انداز کر دیتی ہو۔ ہندو شر پسند تنظیمون کا یہی حال ہے۔ ہمارے ملک میں  مختلف مذاہب ہی نہیں  مختلف رنگ نسل اور جنس کے لوگ بھی رہتے ہیں ۔ اس دلیل کافائدہ ان کو بھی پہونچے گا۔ شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو قتل کر کے اس دلیل کے تحت قتل کرکے رعایتیں  سمیٹ سکتی ہے۔ یہی دلیل مختلف رنگ و نسل کے قاتلوں  کو کام بھی آئے گی ہمارے عدالتی نظام میں  کرپشن گھس چکا ہے یہ ہم نہیں  کہتے بلکہ عدالتی نظام میں  اونچے عہدوں  پر براجمان مختلف لوگوں  نے کہا ہے۔یہ دلیل ایسے کرپٹ لوگوں  کے بڑے کام آئے گی۔

مگر ہر طرف خیریت نہیں  ہے۔ جسٹس مردولا بھاٹکر کا یہ سنہری حرفوں  والا فیصلہ کچھ ’’بد خواہوں ‘‘ کو گراں  بھی گزرا ہے۔ ممکن ہے انھیں  جسٹس کی یہ دور اندیشی سمجھ نہ آئی ہو۔ یہ انھیں  اسی وقت سمجھ میں  آےئگی جب وہ خود کسی کو قتل کریں  گے۔(1) انڈین ایکسپریس میں  ملند نام کے ایک قاری نے کمنٹ کیا ہے ’’ایک ہندو ہونے کے باوجود میں  بھی ہائی کورٹ کے فیصلے پر حیران اور افسردہ ہوں۔ قانون اور عدالت کو مذہبی جذبات سے بالاتر ہونا چاہئے اور ایسے مجرموں  کے تعلق سے کوئی فرق نہیں  پڑتا کہ وہ مشتعل کئے گئے ہیں  یا نہیں  وہ صرف مجرم ہیں  جو معصوم انسان کو مذہبی امتیاز کے نام پر اور غصے میں  ہلاک کرنے والے ہیں ۔ ایسی تنظیم کو بلیک لسٹ کیا جانا چاہئے۔اور تا حیات پابندی عائد کی جانی چاہئے‘‘۔(2)اسی اخبار میں  مسٹر رمیش گوگاٹے لکھتے ہیں ’’جسٹس مردولا بھاٹکر کا یہ فیصلہ بہت ڈسٹرب کرنیوالا ہے۔ اگرہائی کورٹ کے ججز ایسے فیصلے دیتے ہیں  تو واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ ہمارا عدالتی نظام کدھر جا رہا ہے۔ ہم اس طرح کے امتیازات میں  پاکستان کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ ‘‘

مگر ہم جسٹس مردولا بھاٹکر کی دلیل کو بالکل بھی اوٹ پٹانگ نہیں  سمجھتے۔بھئی ان سے پہلے بھی ان کے سینئرس نے اس قسم کے فیصلے دئے ہیں  مثلاًبابری مسجد کی زمین کے ملکیت کے تنازعے میں  الہ باد ہائی کورٹ کے تین ججوں  کی بنچ (1) جسٹس ایس یو خان(2)جسٹس سدھیر اگروال (3)جسٹس ڈی وی شرما نے30 ستمبر 2010 کو بڑا نادر روزگار فیصلہ سنایا تھا۔تنازعہ یہ تھا کہ77ء2ایکڑ زمین جس پر بابری مسجد واقع تھی سنی سنٹرل وقف بورڈ کی ہے یا ہندو مہا سبھا کی۔ مگر الہ باد ہائی کورٹ کے فاضل جج صاحبان نے اصل تنازعہ کو چھیڑے بغیر77ء2 ایکڑ زمین 3 فریقوں  میں  بانٹ دی تھی۔ چلئے یہ تو کوئی کارنامہ نہیں  تھا اسلئے اپنے کارنامے کو مزید قابل رشک بنانے کے لئے ہمارے فاضل جج صاحبان نے تیسرا فریق رام للا کو بنایا تھا جو کہ وطن عزیز کے فاضل مورخوں  کے نزدیک ایک خیالی شخصیت ہے۔ ظاہر ہے اس جرات کا جواب دنیا میں  کوئی بھی پیش نہیں  کر سکتا اور قوی امکان یہ ہے کہ یہ کارنامہ تا قیامت لا جواب ہی رہے گا۔ اب ہمارے جیوڈیشیل سسٹم میں  ثبوت و گواہ کی جگہ آستھانے لے لی ہے۔ ہم نہیں  مانتے کہ مذکورہ بالا فیصلے میں  ہمارے جج صاحبان کا کوئی قصور ہے۔ہمارے نزدیک غلطی مسلمانوں  کی ہے۔ انھیں  بھی چاہئے تھا کہ کچھ فرضی مذہبی شخصیات کو فریق بناتے۔ ہمیں  یقین ہے کہ ہمارے فاضل جج صاحبان ان کے لئے بھی اسی فراخدلی کا ثبوت دیتے۔اگر مسلمانوں  کے پاس فرضی مذہبی شخصیات نہیں  ہیں  تو پیدا کریں۔

ابھی چند ہی دنوں  پہلے تامل ناڈو کے کھیل جلی کٹو پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آیا ہے۔یہ فیصلہ بھی بڑا لاجواب ہے۔ مگر مغربی خواہشات اورامنگوں  کے مطابق ہے۔ مغرب اب مائل بہ زوال ہے ان کا فلسفہ ان کے اصول ان کی تہذیب اب تضادات سے بھری پڑی ہے۔اب مغربی تہذیب اور بین الاقوامی قوانین یہ کہتے ہیں  کہ انسان کی کوئی قیمت نہیں  اب مغربی انسانوں  کے لئے جانور قیمتی ہیں۔ مگر وہی مغرب اپنے یہاں  کی بل فائٹنگ کو فخر سے پیش کرتا ہے۔ اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں  ہے۔جلی کٹو کیا ہے؟اسی بل فائٹنگ کا انڈین روپ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں  کہ 2010 سے2014 کے درمیان جلی کٹو کے اس کھیل میں  17 انسان مر چکے ہیں  اور 1100 زخمی ہو چکے ہیں  مگر عدالت عظمیٰ نے چند بیلوں  کی وجہ سے جلی کٹو کی اس رسم پر پابندی لگادی ہے۔ یہ آدم بیزاری کا معاملہ ہے یا بیلوں  سے محبت کا ؟یہ بھی ممکن ہے کہ بیل چونکہ گائے کا شوہر ہو تا ہے اسلئے محبت ابل پڑی ہو ؟اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جانوروں  پر ظلم کی آڑ لے کر جلی کٹو میں  ہونے والے انسانی جانوں  کے اتلاف و نقصان کو روکا گیا ہو۔ ہم بہرحال اپنے منصفین سے اچھی امیدیں  رکھتے ہیں ۔ کیا کریں  وہ بے چارے بھی بہرحال مجبور ہوتے ہیں ۔ مثلاً سابق چیف جسٹس آف انڈیا جناب ٹی ایس ٹھاکر صاحب عدلیہ کی حالت زار کی بنا پر ہر اس محفل میں  رودیتے تھے جس میں  وزیر اعظم جناب نریندر مودی موجود ہوتے تھے۔وہ روتے روتے چلے گئے مگرکسی کے کانوں  پر جوں  نہ رینگی۔یہ ایک بہت بڑے شخص کی بے بسی تھی۔ اسی طرح آج کل دنیا جانوروں  کے عشق میں  مبتلا ہے۔ جانوروں  کو انسانوں  کے ظلم سے بچانے کے لئے تو درجنوں  تنظیمیں  ہیں  مگر انسانوں  کو انسانوں  کے ظلم سے بچانے والا کوئی نہیں ۔ اب بڑے شہروں  سے گھوڑا گاڑی یا تانگے غائب ہو چکے ہیں  فلموں  میں  بھی اب جانوروں  کو بڑے احتیاط سے استعمال کرنا پڑ رہا ہے مگر ایکسٹرا روز زخمی ہوتے ہیں  انھیں  کوئی پوچھتا نہیں۔ پہلے جانور انسانوں  کے لئے ذریعہ تفریح ہوا کرتے تھے جلد ہی ہماری ترقی ہمیں  جانوروں  کے لئے ذریعہ تفریح بنا دے گی۔مستقبل میں  بندر کی ڈگڈگی پر مداری ناچا کرے گا۔ ہم سوچتے ہیں  کہ یہ جانوروں  سے محبت ہے یا ناٹک۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close