ہندوستان

ہم بے چارے مسلمان!

 ڈاکٹر عابد الرحمن

 کانگریس نے ایک بار پھر اپنی ناکامی کا ٹھیکرہ مسلمانوں کے سر پھوڑ نے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے لوک سبھا انتخابات میں شرمناک ہار کا سبب بھی اس نے مسلمانوں کو ہی قرار دیا تھا ،لیکن اس وقت ڈائریکٹ مسلمانوں کا نام نہ لیتے ہوئے ’اقلیتوں ‘ کہنے پر؎ ہی اکتفا کیا تھا کہ ’ کانگریس کو اس کی اقلیت نوازی لے ڈوبی ‘ ۔ اکونامکس ٹائمز کی ایک رپورٹ مطبوعہ 21،اپریل 2017 کے مطابق کانگریس نے یوپی اسمبلی انتخابات میں ہار کا تجزیہ کیا اور اس کے جن عوامل کا تعین کیا ہے ان میں سر فہرست یہ ہے کہ لوگوں نے کانگریس کومسلمانوں کی پارٹی سمجھ لیا اسی لئے ووٹ نہیں دیا‘ ۔ کہ ’ یہ محسوس کیا گیا کہ پارٹی اگر علٰحیدہ انتخابات لڑ تی تو بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کر سکتی تھی ،سماج وادی پارٹی سے غیر قدرتی اتحاد کی وجہ سے کئی لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ کانگریس مسلم پارٹی ہے جس کی وجہ سے غیر مسلم ووٹروں کا بڑا حصہ اس سے دور ہوگیا ۔

دوسری جانب آر ایس ایس ہندو شناخت کے پیغام کے ساتھ گھر گھر پہنچی جسے ایس پی کے ساتھ متحد کانگریس موثر طریقہ سے کاؤنٹر نہیں کرسکی ۔‘ کانگریس کی اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کانگریس یہ نہیں کہہ رہی ہے کہ مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا یا اس کی حمایت کا جابجا اور پر زور اعلان کیا یعنی مسلم پارٹی یا مسلمانوں کی پارٹی کی بدنامی وجہ بھی یہ نہیں ہے کہ مسلمان کانگریس کے ساتھ رہے بلکہ یہ ہے کہ کانگریس نے سماج وادی پارٹی سے اتحاد کیا ،یعنی مسلمان کانگریس کے ساتھ نہیں بلکہ ایس پی کے ساتھ تھے دراصل ایس پی ہی مسلمانوں کی حامی یا ان کی پارٹی تھی یا ہے کانگریس نہیں تھی اور مسلمانوں کی اس پارٹی سے کانگریس کا اتحاد بھی ’غیر قدرتی ‘ تھا یعنی دو بعد المشرقین رکھنے والی پارٹیاں ایک ساتھ آگئی تھیں ،جس کی وجہ سے لوگوں کو یہ غیر سمجھ ہو گئی کہ کانگریس بھی ایس پی ہی کی طرح مسلمانوں کی حامی ہوگئی ہے اور لوگوں کی اسی غیر سمجھ نے کانگریس کو سخت نقصان سے دو چار کیا ، اور اس میں آر ایس ایس کی ہندو شناخت نے بھی خاص رول ادا کیا ،کانگریس بھی آ رایس ایس کی اس سیاست کو صرف اس لئے کاؤنٹر نہیں کر سکی کہ اس کا (مسلمانوں کی پارٹی ) ایس پی سے اتحاد تھا ۔

اب اس میں یہ تو واضح نہیں ہے کہ اگر ایس پی سے سمجھوتا نہ ہوا ہوتا تو کانگریس آرایس ایس کی مذکورہ چال کو کس طرح کاؤنٹر کرتی لیکن جس انداز سے یہ بات کہی گئی اس کا بین السطور تو  یہی لگتا ہے کہ شاید کانگریس کے اعلیٰ دماغوں کے ذہن میں آر ایس ایس کی ہندو شناخت والی سیاست کا توڑہندو شناخت کی اس سے بھی زیادہ سخت سیاست ہی تھی جو شاید سنگھ سے بھی زیادہ شدید مسلم مخالفت پر مبنی ہوتی لیکن افسوس (مسلمانوں کی پارٹی ) ایس پی سے اتحاد کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکی۔لوک سبھا انتخابات کی ہتک آمیز شکست کے بعد سے کانگریس مسلسل اپنے آپ کو اقلیت نواز یا مسلم نواز یا مسلم پارٹی یا  مسلمانوں کی پارٹی یا مسلمانوں کی منھ بھرائی کر نے والی پارٹی کے جھوٹے الزام سے چھڑانے کی کوشش کر رہی ہے ، لوک سبھا انتخابات کے بعد تو اس نے اقلیت کہہ کر یہ کوشش کی تھی لیکن اب یوپی اسمبلی انتخابات کے بعد ڈائریکٹ مسلمان کہہ کر حجت تمام کردی، چلو اچھا ہوا اس بار کانگریس اتنی کھل کر سامنے آگئی کہ اندھوں کو بھی اس کی اصلیت کا علم ہو جائے ۔اس کی باقاعدہ شروعات دراصل یوپی اسمبلی انتخابات کی پرچار مہم سے ہی ہوگئی تھی جس کی ابتداء راہل گاندھی نے ایودھیا سے کی تھی۔جو دراصل اپنے آپ کو رام مندر کا حامی ظاہر کر کے ہندو ووٹوں کو رجھانے کی اسی کوشش کا حصہ تھی جو ان کے والد آنجہانی راجیو گاندھی نے کی تھی ،لیکن خود راجیو گاندھی بھی اس میں بری طرح ناکام ہوگئے تھے سو راہل کو بھی ہوگئے۔اور شاید کانگریس نے ایس پی سے بھی اتحاد اسی لئے کیا تھا کہ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ہندو ووٹوں کو رجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اور کھلم کھلا مسلم مخالفت پر بھی نہیں آسکتی اور اگر آبھی گئی تو وہ ’ ہندوتوا سیاست ‘ نہیں اپنا سکتی جو سنگھ کی خاص ہے،اور اگر ایسا کرتی بھی تو بی جے پی کی مخالفت کا سوال ہی ختم ہو جاتا ۔

اسی لئے اس نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے غیر بی جے پی ووٹوں کے ذریعہ یوپی میں اپنی نیا پار لگانے کے لئے ایس پی کی دم پکڑی لیکن ہوا الٹا خود تو ڈوبنے ہی والی تھی ایس پی کو بھی لے ڈو بی۔ اور اب یہ جو تجزیہ آیا ہے یہ بھی دراصل مسلم مخالفت کے ذریعہ ہندو ووٹوں کو رجھانے کی کوشش ہے لیکن اسے بھی ناکام ہی ہونا ہے کیونکہ کانگریس نے منافقانہ طور پر اس مسلم مخالفت کے ذریعہ جن لوگوں کو اب تک پالا پوسا اب وہ خود کانگریس سے بھی بڑے ہو گئے ہیں ،ان لوگوں نے اپنی مسلم مخالفت سے ابتدائً تو کانگریس کو فائدہ پہنچا یا لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس مسلم مخالفت کو کانگریس مخالفت میں ڈھالنے کی بھی کوشش کرتے رہے اور آج وہ پوری طرح کامیاب ہیں ،اب ہندتوا سیاست مسلمانوں سے زیادہ کانگریس مخالف ہو کر سامنے آئی ہے ، اب یہ لوگ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کہہ کر کانگریس کی طرح منافقا نہ طور پر ہی سہی مسلمانوں کے لئے کم از کم زبانی جمع خرچ تو کر رہے ہیں لیکن کانگریس کے لئے ان کی زبانوں پر معدو میت کے سوا کچھ نہیں ۔یہ براہ راست کانگریس مکت بھارت کا اعلان کر رہے ہیں ۔اور ہر الیکشن کا نتیجہ ان کی حمایت کر رہا ہے ۔

 کانگریس کی یہ بات دراصل مسلمانوں کے لئے چشم کشا ہے کہ ہم نے اب تک کانگریس کے لئے جس دفاعی سیاست کو اپنا یا اور اس کی وکالت کرتے رہے اس نے ہمیں سیاسی طورپر کتنی بے چارگی میں مبتلا کردیا ۔ یوپی اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیا یا نہیں یہ تو ہمیں نہیں معلوم لیکن لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو صرف مسلمانوں نے ہی ووٹ دیا یہ تو ہم کہہ ہی سکتے ہیں ،اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں جہاں کانگریس کاکوئی متبادل نہیں ہوتا وہاں ’ فرقہ پرستوں ‘ کو روکنے کے لئے کانگریس کو ہی ووٹ دیناہم مسلمان اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کانگریس اس فراض منصبی کی ادائیگی کا جو صلہ دے رہی ہے وہ ہمیں جھنجوڑ کر بیدار کرنے اور دفاعی سیاست کے لحاف سے باہر آنے اورآزادانہ و شعوری سیاست اپنانے کے لئے کافی ہے ۔ ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ

 کانگریس جو بات اب آزادی کے ستر سال بعد کہہ رہی ہے بی جے پی نے تو یہی بات صرف ڈھائی سال میں کہہ دی۔ مرکزی وزیر جناب روی شنکر پرساد نے دہلی میں ایک پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب میں دو ٹوک کہہ دیا کہ ’ مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے لیکن (پھر بھی) حکومت ان کا خیال رکھتی ہے ان کی حرمت بحال رکھے ہوئے ہے۔‘حالانکہ وزیر محترم کی اس بات کے دونوں اجزاء جھوٹ پر مبنی ہیں ،جہاں تک مسلمانوں کا خیال رکھنے کی بات ہے تو بی جے پی حکومت آنے کے بعد مسلمانوں کا کیا اور کس طرح خیال رکھا جارہا ہے یہ اظہر منالشمس ہے اور حکومت مسلمانوں کا خیال رکھتی بھی ہے اور ان کی حرمت بحال رکھتی بھی ہے تویہ مسلمانوں پر کوئی احسان نہیں ہے یا اپنے فرض سے بڑھ کر کوئی کام نہیں ہے بلکہ یہ تو اس کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے وہ آئین کو جوابدہ ہے۔اسی طرح جہاں تک مسلمانوں کے ووٹوں کا معاملہ ہے توابھی کچھ ہی دن پہلے بی جے پی کے مسلم ووٹرس کا بہت شور سننے میں آیا تھا خاص طور سے پچھلے لوک سبھا انتخابات کے بعد اور حال ہی میں یوپی میں بی جے پی کی زبردست جیت کے بعد یہ بات سامنے آ ئی تھی کہ مسلمان بی جے پی کی طرف جھکے ہیں اور بی جے پی نے بھی مسلمانوں کو رجھانے کے لئے مختلف مورچے کھول رکھے ہیں اس کے باوجود وزیر موصوف نے بڑی بے تکلفی سے کہہ دیا کہ مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے اور یہ بات دراصل ان لوگوں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے جو بی جے پی کی محبت میں بھگوے عمامے اور رومال اوڑھے پھر رہے ہیں ،ان ملاؤں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے جو بی جے پی کی قربت کے لئے صوفی کانفرنسیں کر تے پھر رہے ہیں ،ان دانشوروں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے جو گائے کے تقدس کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش میں الٹی سیدھی تاویلیں پھیلارہے ہیں ۔ان سادہ لوح مسلمانوں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے جنہوں نے اپنی شادیوں میں گائے کا تحفہ دینے کی شروعات کر دی ہے، ان جوانوں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے جنہوں نے گائے کی حفاظت کی خاطر گؤ رکشا دل بنانے کی پہل کی ہے۔

 کانگریس اور بی جے پی  دونوں کے مذکورہ بیانات ان کی اپنی ذہنیت سے زیادہ ہم مسلمانوں کی سیاسی بے چارگی ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ بیانات ہم سب کے لئے چشم کشا ہیں کہ اب ہم کانگریس کی سیاست کا پھندہ اتار پھینکیں اور بی جے پی کوبھی اس طرح گلے نہ لگائیں کہ وہ بھی ہمارے گلے کا پھندابن جائے ۔ہمیں ان بیانات کے تناظر میں دونوں پارٹیوں پر لعن طعن کر نے سے پہلے اپنی حالت درست کر نے کی سعی کر نی چاہئے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر بے چارگی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close