ہندوستان

ہندوستان میں پاکستانی ہاتھ کی حقیقت۔ ۔ ۔!

نہال صغیر 

بچپن سے ایک بات سنتے آئے ہیں کہ قانون کا ہاتھ بہت لمبا ہوتا ہے۔  لیکن شاید یہ آج کے دور میں غلط ثابت ہو چکا ہے۔   سینکڑوں اور ہزاروں کلو میٹر دور جس کا ہاتھ نظر آجائے یقیناًسب سے لمبا ہاتھ اسی کا ہو سکتا ہے۔  کچھ روز قبل لوک سبھا میں کشمیر کی شورش پر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی سے گھبرا کر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اراکین با تمکین کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ کشمیر کے ہنگاموں میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔   ممکن ہے کہ اراکین نے اس انکشاف پر یقین بھی کرلیا ہو کہ واقعی پاکستان اتنا مضبوط ہے کہ وہ ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں جب چاہے ہنگامے کھڑے کر سکتا ہے اور ہندوستانی حکومت کو مسائل کے منجدھار میں دھکیل سکتا ہے۔  کشمیر کا ہنگامہ جاری ہے اور اس میں مرنے والوں کی تعداد سرکاری اعداد شمار کے مطابق 48 ہو چکی ہے۔  یہ ہنگامہ اپنی جگہ پر لیکن جیسا کسی شاعر نے کبھی کہا تھا ایک ہنگامے پے ہے موقوف وطن کی رونق۔  ہمارے یہاں ہر روز نئے ہنگامے نئے مسائل منھ کھولے کھڑے رہتے ہیں۔  ممکن ہے ان سب میں بھی پاکستان کا ہی ہاتھ ہو جب وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں کشمیر کے ہنگاموں پر پاکستان کا ہاتھ ڈھونڈھ سکتے ہیں تو یہاں بھی یہ ہاتھ نہ ہو اس کی کیا گارنٹی ہے۔  کئی ہنگامے ہیں۔  ابھی تک گؤ رکشکوں نے صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا تھا اور الٹا نشانہ بننے والے اخلاق کے گھر والوں پر مقدماہ قائم ہو گیا اور اس کے گھر والوں کی پھانسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔  بہر حال مسلمانوں کے بعد نمبر دلتوں کا آگیا۔  چار دلت نوجوانوں کو ہندوتوا بریگیڈ کے بہادروں نے بڑی بے دردی سے باندھ کر مارا پیٹا اور جیسا کہ عام دستور بنتا جارہا ہے کہ ایسے کسی بھی گھناؤنے کام کا ویڈیو بھی بنایا جاتا ہے۔  مذکورہ دلت نوجوانوں کی اس پیٹائی کا بھی ویڈیو بنایا گیا اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کردیا گیا۔  پھر کیا تھا پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں ہندوستان کے ہندوتوا بریگیڈ اور ان کی مجوزہ حکومت کا اصلی چہرہ دکھا۔  نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا کیا دھرا ان کے ہی گلے آلگا۔  ایک اور ویڈیو ان کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔  وہ ہے مالیگاؤں کے مجرموں کے اقبالیہ بیان کا ویڈیو جو انہوں نے شیخی بگھاڑنے کے لئے شاید بنایا تھا۔  جس میں کرنل پروہت وغیرہ اسرائیل کی مدد سے ہندوراشٹر کی بات کررہے ہیں۔  ممکن ہے کہ یہ صرف شیخی بگھاڑنے کی بات نہ ہو انہیں مسلمانوں کے خلاف ہو رہی مسلسل ناانصافی سے یہ زعم ہو گیا ہو کہ ان کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔  لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ اس دنیا کا نظام جو قادر مطلق چلا رہا ہے وہ کسی کے دل کو پھیر بھی سکتا ہے یا کسی دورے کو مجرموں کی سرکوبی کے لئے متعین بھی کرسکتا ہے اور ہوا بھی ایسا ہی کہ ہیمنت کرکرے نے پولس ٹیم کی کچھ عزت بحال کرتے ہوئے منصفانہ تفتیش کی جانب قدم بڑھایا اور جیسا کہ کسی شاعر نے کہا کہ ’آپ اپنے دام میں صیاد آگیا ‘ والا معاملہ ہو گیا۔  ویسا ہی معاملہ حالیہ گؤ رکشکوں کی درندگی میں بھی ہو ا۔  دلتوں نے زبردست احتجاج کیا اور ایسا احتجاج کہ زمانہ مثال دے۔  انہوں نے جگہ جگہ سے مری ہوئی گائیں اٹھائیں اور سرکاری دفاتر پر پھینک آئے کہ لو برہمنوں سنبھالو اپنی ماتاؤں کو اور ان کا انتم سنسکار کرو۔ پھر تو مودی جی بھی گھبرائے اور جو لوگ مسلمانوں کا ناطقہ بند کرکے اپنی بہادری پر پیٹھ تھپتھپا رہے تھے وہ بھی منھ چھپاتے اور بغلیں جھانکتے نظر آئے۔

مذکورہ بالا معاملہ سے بھی زیادہ اشتعال اس وقت پھیل گیا جب بی جے پی کے ایک منھ چڑھے ممبر نے دلتوں کی سیاسی طور پر مضبوط لیڈر مایا وتی کے خلاف بیہودہ بیان دے دیا۔   جس نے جلتی پر پیٹرول کا کام کیا۔  مجبوراً بی جے پی کو اس بد زبان رکن کے خلاف کارروائی کرنا پڑی۔  لیکن گرفتاری بہر حال نہیں ہوئی ہے۔  اور دلت گرفتاری سے کم پر ماننے والے نہیں ہیں۔  شاید ان دلتوں کے پر تشدد احتجاج میں بھی پاکستانی ہاتھ ہو۔  آخرمعاملہ گجرات سے شروع ہوا ہے اور گجرات سے بھی پاکستان کی سرحد ملتی ہے جیسے پاکستان کی کشمیر سے سرحد ملی ہوئی ہے۔  یعنی ہر جگہ پاکستان ہی پاکستان ہے۔  اسی کا ہاتھ ہے سب کچھ میں۔  پتہ نہیں ہمارے سیاست داں اور ہماری انٹیلی جنس کیا کرتی ہے کہ پاکستانی ہاتھوں توڑ نہیں سکتے۔  کیا پاکستانی ہاتھ اتنا مضبوط اور مسٹر انڈیا کی طرح نادیدہ ہے کہ وہ نظر بھی نہیں آتا اور اپنا کام بھی کر کے چلا جاتا ہے۔   نیز یہ کہ سب کچھ جب پاکستان ہی کر نے میں ماہر ہے اور ہمارا خفیہ محکمہ ناکام و نامراد ہے تو پھر اس خفیہ محکمہ کا کیا کام ؟کیوں اسے ملکی معیشت پر بوجھ کی طرح مسلط کیا ہوا ہے ؟

اوپر جس پاکستانی ہاتھ کا تذکرہ آیا ہے اصل میں وہ ایک ایسی ڈھال ہے جس کی اوٹ میں ہمارے نکمے سیاست داں اور ہمارا نکمہ نظام اپنی خامیوں کوچھپاتے ہیں۔  جب ان سے کوئی جواب بن نہیں پڑتا تو سیدھا سا جواب دیدیتے ہیں کہ ان ہنگاموں کارروائیوں کے پس پشت پاکستان کا ہاتھ ہے۔  لیکن کیا ہمارے یہاں کے لوگ اتنے بے خبر ہیں کہ وہ ان سیاست دانوں کی باتوں کو بغیرکسی دلیل کے مان لیتے ہیں۔  کوئی ان سے کیوں نہیں پوچھتا کہ اگر ان سب میں پاکستانی ہاتھ ہی ہے تو تم کیا کررہے ہو۔  تم صرف راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں دوران گفتگو میٹھی نیند کا مزہ لینے کے لئے ہی رہ گئے ہو۔ آخر عوام کا یہ جمود کب ٹوٹے گا۔  کیا اس جمود کے ٹوٹے بغیر بھی ملک کی ترقی ممکن ہے۔  ان سیاست دانوں سے سوال پوچھا جانا چاہئے کہ یہ جو تم آئے دن ملک کو افراتفری کے ماحول میں دھکیل رہے ہو اس سے ملک کا کتنا بھلا ہونا ہے۔   لیکن مجبوری یہ ہے سیاست دانوں کو عوام کو بانٹنے میں ہی اپنی عافیت نظر آتی ہے۔  اس لئے کہ جب عوام تنازعات سے دور ہوں گے تو پھر سیاست دانوں سے ملکی ترقی کے تعلق سے سوالات کریں گے اور مجبوراً انہیں اس کا جواب دینا ہوگا نیزانہیں ترقیاتی کاموں کا حساب دینا ہوگا۔  اب بھلا مودی جی کی طرح تو کوئی صاف جھوٹ بول کر نکل نہیں سکتا کہ گیس سبسڈی سے سرکاری خزانہ کو دو ہزار کروڑ کا فائدہ ہوا ہے لیکن مودی جی اسے بائیس ہزار کروڑ بتا رہے ہیں اور ان کے بھکت اس جھوٹ کو خوب مشتہر کررہے ہیں۔ جبکہ اس بائیس ہزار کروڑ کی حقیقت یہ ہے کہ بیس ہزار کروڑ بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت گرنے سے بچت ہوئی ہے جسے وہ دو ہزار کروڑ کی سبسڈی سے جوڑ کر بائیس ہزار کروڑ بتا کر عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔  اب اگر حالات ٹھیک رہے ہر جگہ راوی نے امن ہی امن لکھا ( سیاست دانوں اور نکمے نظام کے لئے سب کچھ ٹھیک اس وقت تک ہے جب تک پاکستانی ہاتھ پر سے پردہ نہیں ہٹتا )تو پھر عوام اس دو ہزار کروڑ اور بائیس ہزار کروڑ کا سچ نہیں جان پائیں گے۔  سچ کے سامنے آنے سے یقیناًانہیں مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  اسی لئے اول تو حالات خراب کئے جاتے ہیں اور پھر اس کا ٹھیکرا پاکستان کے سر پھوڑ کر عوام میں جعلی حب الوطنی کے احساسات کو جگانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ حب الوطنی کے نشے میں ساری بد عنوانیاں اور سیاست دانوں کی ساری بدکاریاں ہوا ہوتی رہیں۔ اس سے لیفٹ رائٹ کانگریس یا بی جے پی کو ئی بھی محفوظ نہیں ہے۔  سب اسی پاکستانی ہاتھ کے اسیر ہیں۔  یہ پاکستانی ہاتھ ہی تو انہیں عوامی غصہ سے محفوظ رکھتا ہے۔  پھر کیوں نہ ہر معاملہ میں پاکستانی ہاتھ تلاش کیا جائے۔  لیکن کیا سیاست دانوں کے لئے راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔  حالات کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا ایسا نہیں ہے۔  اب عوام میں نوجوان طبقہ کی بہتات ہے اور وہ بغیر سوچے سمجھے کسی بات پر اعتماد اور یقین نہیں کرتا۔  یہی نوجوانوں کا طبقہ ان سیاست دانوں کے لئے نوشتہ دیوار ہے جسے انہوں نے نہیں پڑھا اور اس کے مطابق عمل نہیں کیا تو یہ پاکستانی ہاتھ زیادہ دنوں تک ان کی مدد کرنے والا نہیں ہے۔  موجودہ کشمیر مسئلہ سے لے کردلتوں کے احتجاج تک میں ہمیں یہی سب کچھ نظر آرہا ہے۔   ممکن ہے کہ انہیں بھی نظر آرہا ہو مگر شتر مرغ کی طرح ریت میں منھ چھپا کر سمجھ رہے ہوں کہ مصیبت ٹل گئی۔  لیکن مصیبت تو ٹلتی نظر نہیں آرہی ہے۔  موجودہ حکومت کے لئے تو اب ہر جگہ آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔ جو پینترا بدلتے ہیں ہندو مسلمانوں کو لڑانے کے لئے وہ الٹا انہی پر آپڑتا ہے۔  اسے اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ آپ کسی کو مارنے کے لئے گھونسہ ہوا میں لہراتے ہیں لیکن وہ الٹا آپ کے منھ پر آکر آپ کی ناک کو زخمی کرنے کا سبب بنتا جارہا ہے۔ بے چارے جو ہندو مسلم فسادات کرواکر حاصل کرنا چاہتے تھے وہ ہو نہیں رہا ہے۔  لاکھ کوششوں کے کوئی بڑا فساد نہیں ہو رہا ہے۔  شاید اس سے آگے کے کسی لائحہ عمل کے بارے میں منصوبہ بندی کررہے ہوں۔  اس سے متعلق ہمیں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے اوروقت سے قبل ہی ان کے کسی مجوزہ ٹائم بم کو ناکارہ کرنے کی پیش بندی ضروری ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close