ملی مسائلہندوستان

ہندوستان کا بدلتا منظر نامہ اور مسلمان

محمد صابر حسین ندوی

ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی قیاس لگایا جاتا تھا کہ یہ ملک ایک ہندو اکثریت ملک ہے، سیکولرزم اور جمہوریت اگرچہ اس کے دستور و آئین کے بنیادی اساس ہیں ؛ لیکن اول دن سے ہی گوڈسے اور گاندھی کی سوچ کا تصادم بویا جاچکا تھا، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ گاندھی سے پہلے گوڈسے کی فکرساوارکر اور اس کی تحریک کے ذریعہ اپنی زمین نرم کر چکی تھی اور بہت حد تک اپنے بال و پر نکالنے لگی تھی تو شاید غلط نہ ہوگا، اس سوچ کو باقاعدہ عملی جامہ پہنانے اور ملک کو ایک ہی رنگ میں رنگ کر ہندو ازم کو جگ ظاہر کرنے کا سہرا آر، ایس، ایس نے اٹھا لیا تھا، گاندھی گری نے اگرچہ اس پر اپنے حسن اخلاق اور معاشرتی گداز کی دبیز پرت ڈالی دی تھی؛ لیکن ہمیشہ یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا تھا، کہ آج نہیں تو کل یہ غبار ہٹے گا، مطلع صاف ہوگا اور ملک پر زعفرانیت چھا جائے گی، شنید ہے کہ بعض انگریز دانشوروں نے یہ پیشین گوئی پہلے ہی کردی تھی کہ ہندوستان میں مذہب افیون کی طرح استعمال کیا جاتا ہے، اور ایک دن یہی افیون ملک کو ایک لائن میں کھڑا کردے گی، تو وہیں یہ بھی مشہور ہے کہ بعضوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا؛ کہ ہندوستان کی جمہوریت صد سالہ جشن نہ منا سکے گی، وقت نے جوں جوں ترقی کہ ماہرین کی باتیں کھلتی چلی گئیں اور یہ ملک اپنے امتیازات سے دور ہوتا چلا گیا، سیاسی جماعتوں کی خود غرضی اور کرسی کی ہوس نے ملک کا تانا بانا بکھیر کر رکھ دیا، اس کے باشندے خصوصا اقلیت طبقہ اب اجنبیت محسوس کرتے ہیں اور آپس میں تفریق کی ایک ایسی کھائی پاتے ہیں جسے پاٹنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔

     حقیقت یہ ہے کہ ایک زمانے تک ہندوستان گاندھی اور ڈیموکریٹک سوچ میں ترویج پاتا رہا، لیکن سیاسی اپوزیشن پارٹیاں اس بات کو اچھی طرح جانتی تھیں ؛ کہ گوڈسے کی سوچ اگر ملک کی رگوں میں پیوست کرنی ہے اور ملک پر فکری قبضہ کرنا ہے، تو سیاست کی ایک ایسی بساط بچھانی ہوگی؛ جس سے ملک کا ہر فرد خواہی نہ خواہی ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو جائے، اس بیچ آر، ایس، ایس کی جماعت اپنے اندرون کو سنبھال کر پوری شدت کے ساتھ لوگوں کو جمع کرنے اور انہیں ملک کے خصائص سے دور کرنے میں لگی رہی، اور اس نے نپولین کا وہ طرز آزمایا جو حکومت کیلئے تاریخ کا دو ٹوک حربہ ہے، نپولین نے کہا تھا کہ لوگوں کو دو چیزیں جوڑتی ہیں : اول خوف و ہراس اور دوم: نافعیت۔۔۔۔۔۔ موجودہ حکومت نے یہی حربہ آزمایا، ایک زمانے میں بعض صاحب دل ایسے تھے جو اس تھیوری کو صحیح نہیں سمجھتے تھے، اسی لئے خواہ وہ اس جماعت سے متعلق تھے لیکن اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے تھے، جیسے اٹل بہاری واجپائی جی جنہوں نے کارگل اور شائن انڈیا کے بعد انتخابات میں شکست قبول کی؛ لیکن مذہب اور ڈر کی راج نیتی نہ کی، آپ ہی نے سنہ ۲۰۰۲ء کے گجرات مسلم کش فسادات کے بعد مودی جی کو یہ سبق دیا تھا کہ اپنا راج دھرم نبھائیں ( یہ بات الگ ہے کہ اسے قہقہوں میں ٹال دیا گیا تھا)؛لیکن یہ سلسلہ ناکام رہا اور بہت حد تک گاندھی سوچ اپنی روش پر آخری سانس لیتی رہی، پھر وہ دور آیا جس نے اس سوچ کے نرغے پر حملہ کر دیا، اور پورے ملک میں خوف اور نافعیت کو ہی اصل بنا کر نفرت انگیز نغمہ کا سرچھیڑ دیا، آج ملک کا ہر صوبہ اسی گوڈسے کی سوچ کے ساتھ ہے، جن لوگوں نے نفع کا سودا کیا تو ٹھیک ہے، ورنہ انہیں ڈرا اور دھمکا کر اس پر مجبور کر دیا گیا، آپ ملک کی سیاسی جماعتوں پر نظر دوڑائیے! تو آپ کو شاذ و نادر ہی کوئی کمیٹی اور جماعت ایسی ملے گے جس نے اس سوچ کو نکارا ہو۔

        حقیقت یہی ہے کہ ۲۰۱۹ء کے انتخابات اور اس میں گوڈسے فکر کی جیت نے یہ ثابت کردیا کہ اب ہندوستان ایک دوسرے بھارت میں بدل رہا ہے، اس نئے بھارت کا استقبال کیجئے! اور اگر آپ اس کے مخالف ہیں تو اپنی گردن بچانے اور اپنی شناخت محفوظ رکھنے کی فکر کیجئے! یہی واقعہ ہے اور اس سے انکار دن کے سورج کی تردید کرنے یا حالات سے آنکھیں بند کرلینے کی بات ہے، خود مودی جی نے یہ بات کہہ دی ہے؛ کہ یہ سیکولر کا مکھوٹا اوڑھے ہوئے لوگوں کی شکست ہے۔ بالکل ہمیں اسے تسلیم کرنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے، بھوپال میں دہشتگردی کی ملزمہ سادھوی پرگیا کی جیت اور بیگوسرائے سے کنہیا کمار کی ہار کے معانی کیا نکالا جائے، گری راج جیسی فکر کے حاملین اور شمشان و قبرستان، علی اور بجرنگ بلی کے حاملین کی فتح کیا پتہ دیتے ہیں ؟ تعلیم کے نام پر آتشی کی شکست اور سنی دیول، گوتم گمبھیر کی جیت کا کیا مطلب ہے؟ظاہر ہے کہ اس ملک کو ایک خاص مذہبی رنگ ہی پسند ہے، اسے اعلی تعلیمی نظام، سائنسی ترقی، ملکی معیشت کی بہتری اور کسانوں و نوجوانوں کی تعمیر کا کوئی خیال نہیں ہے، آپ یہ نہ سوچئے کہ مسلمان ان سب میں کہاں ہیں ؟ آپ پہلے بھی حاشیہ پر تھے اور آئندہ بھی کوئی خاص امید نہیں ہے۔۔۔ ان سب کے درمیان اگر کوئی چیز آپ کی ہے تو وہ ہے آپ کا ایمان اور استقامت۔ اگر آپ ایمان و احتساب کے ساتھ اور معاشی مضبوطی نیز اتحاد و اتفاق کے ساتھ کھڑے ہوں ، تو واقعی آپ کی جگہ محفوظ ہے؛ لیکن اگر ایسا نہیں ہے، تو ستر سال میں جس مقام تک یہ ملک اور ہم پہونچے، مزید ستر سال یا شاید اس سے بھی کم وقت کا انتظار کیجئے اور دیکھئے ہندوستان کے نئے بھارت کی زمین کیا گل کھلاتی ہے؟*

       یہاں پر یہ صراحت کردینا بھی ضروری ہے کہ *۲۰۱۹ کے پارلیمانی انتخابات میں بی، جے،پی کی ناقابل یقین فتح کو صرف مسلمانوں کیلئے شکست گرداننا اور اسے بدر و حنین سے جوڑ کر ماتھا پیٹنا درست نہیں ، اس سے کوئی انکار نہیں کہ اس حکومت کی نیت اور نیتی دونوں ہی مسلم مخالف ہی نہیں ؛ بلکہ مسلم کش ہیں ، گزشتہ پانچ سال گاہے گاہے معصوم مسلمانوں کو ہجومی دہشت گردی کا نشانہ بنانا، اور بات بات پر پاکستان چلے جانے کی دھمکی دینا؛ نیز ہر بات میں ان سے نیشنلٹی کا ثبوت مانگنا اور اس چکر میں انہیں جاں بحق کر دینا یا نیم مردہ کر دینا ایک حقیقت ہے، اسلامی رواج اور اسلامی شعائر کو نشانہ بنا کر انہیں ختم کرنا اور دستور سے ان کے حقوق کو مقید کرنے کی کوشش کرنا بھی سچ ہے، حتی کہ معاشرتی سطح پر مسلمانوں کو ذلیل و خوار کرنا اور ان کی محرمات کو گھر کی دہلیز سے نکال کر عدالت کی چوکھٹ پر پٹک دینا، حجاب پر پابندی، شادی بیاہ پر روک اور نسل کی افزائش پر قانونی شکنجہ بھی دن کے اجالے کی طرح یقینی ہے، عالم تو یہ ہے کہ عبادات کو محدود کرنے اور اس کیلئے سوقیانہ زبان استعمال کر کے مشتعل کرنے کا بھی دور قائم رہا ہے، اذان پر پابندی اور کھانے پینے پر دوسروں کی مرضی تھوپنا  وغیرہ بھی ہماری نظروں کے سامنے ہے، نوبت تو یہاں تک آئی کہ این، سی، آر کے ذریعہ ملک بدر کرنے کا بندوبست کیا گیا اور جسے جاری رکھنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے، جس کی پاداش میں بہت سے مسلمان ہندوستانی ہو کر بھی غیر ہندوستانی قرار پائیں گے اور انہیں انہیں کے گھر سے دھکے مار کر نکال کر بھگا دیا جائے گا، جس کی مثالیں آسام اور قرب وجوار میں موجود ہیں۔

     ہم یہ سب مانتے ہیں ، چونکہ ہمارا تعلق آسمانی دین سے ہے اسی لئے ممکن ہے کہ ہمارے معاملات میں ناانصافی کی انتہاء ہے؛ اور وہ ناقابل برداشت ہے، تاہم غور کیجئے یہ ملک مسلمانوں کیلئے صرف پندرہ فیصد ہی کا ہے، باقی آبادی جن میں اکثر اقلیت ہیں ، دلت سماج اور پچھڑا طبقہ ہے جن میں ایسے بھی ہیں جو خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ، ان کا کیا؟ وہ خود ایک مٹھی جماعت کے ظلم و جور سے نالاں ہیں ، مہنگائی، بےروزگاری اور جان کے تحفظ جیسے مسائل نے آگھیرا ہے، چھوا چھوت کی بیماری نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے، عورتوں کی عصمت بازار میں بکنے لگی ہے، دن کے اجالے میں ان کے ساتھ آبرو ریزی ہوجاتی ہے؛ بلکہ بچیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور حد تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سپورٹ کرنے کیلئے رواں حکومت کی پلٹن میدان میں اتر آتی ہے، دہشتگردی کے ملزم کو کھلے عام امیدوار بنایا گیا اور اسے فتح بھی دلوائی گئی، اس نے بیان بازی میں خود کو مزید دہشت گرد ثابت کیا، تب بھی کسی کے کانوں پر جون تک نہ رینگی، ٹھیک چناو سے قبل پلوامہ حملہ اور سرجیکل اسٹرائیک جیسے واقعات نے پورے ملک میں دیش بھکتی کی آگ لگادی، اور فوج کو سیاست کا حصہ بنا دیا گیا ایسے میں ویسا ہی ہوا جیسا توقع کیا جاتا تھا، اس میں کوئی حیرت کی بات نہ تھی اور نہ اب ہے، نیز انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن اور گورنر تک کا کھلے عام بی جے پی کو مدد پہنچانا اور اپنے بیانات میں مذہب کا استعمال کرنے کے باوجود کھلی ہوئی چھوٹ دیدینا یہ سب نظارے ہم نے دیکھے ہیں۔

       یہ ہماری نادانی ہوگی کہ ہم اسے اپنی شکست سمجھیں ، یہ دستور اور جمہوریت کی شکست ہے، یہ اس سوچ کی ہار ہے جو ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم نہیں ہونے دینا چاہتے تھے، جن کا خیال تھا کہ یہ ملک دھرم کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیکولر بنیادوں پر گامزن رہے گا، سالوں انگریزی حکومت کی غلامی نے جس کڑوے گھونٹ کو پلایا تھا اور جس سے نبر آزما ہو کر آزادی کا جام نوش کیا تھا، اس جدوجہد اور اس خواب کی شکست ہے، جس دستور کو بابا بھیم راو امبیڈکر نے یہ سوچ کر بنایا تھا؛ کہ وہ ملک جس میں اونچ نیچ کی کھائی گہرائی ہوئی ہے اس سے نکل کر ترقی و تعمیر کی بلندیوں کو چھوئے گا اور ہر ایک کو برابر حقوق دئیے جائیں گے، کوئی کسی کا مالک و آقا نہ ہوگا، ہر ایک اپنی محنت اور اپنی عزت کا مالک ہوگا، یہ شکست دراصل اسی سوچ کی شکست ہے، وہ لوگ جو ہندوستان کو دنیا کے اعلی تعلیمی اداروں میں اور عظیم تہذیب و تمدن اور فکر کی نیرنگی نیز حضارت و ثقافت میں امریکہ، جاپان اور چین جیسے ملکوں کے برابر دیکھنا چاہتے تھے یہ ہار انہیں افکار کے حاملین لوگوں کی ہے۔ اب پھر یہاں کے بچے حیران کن تھیوری اور ہسٹری سیکھیں گے، صرف چہرے پر ٹیکا اور زعفران رومال لے کر فضا میں اور خلا سے نت نئی تحقیق کا خواب پالیں گے، جان لیجئے! یہ اسی ایجوکیشن سسٹم کی شکست ہے، جو ایسے نکمے اور غنڈے بدمعاش نہیں ؛ بلکہ معیاری طلباء پیدا کرنا چاہتے تھے، اور یہ خواہش رکھتے کہ ہندوستان کی ترقی دنیا میں سر فہرست قرار پائے، اس لئے آپ اپنے آپ کو ایمان کی پختگی، سیاست اور دین و دنیا کو سمجھنے اور آئندہ کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے میں لگائیے، اور شکست کا غم اپنے سینے میں نہ پالئے، کیونکہ ہم صرف ظاہر دیکھتے ہیں لیکن الله علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close