ہندوستان کا میڈیا اتنا ڈرپوک کیسے ہوگیا

حفیظ نعمانی

یہ بات ہفتوں سے تذکرہ میں تھی کہ 20  نومبر کو پورے ملک کے کسان جو اپنے اپنے صوبہ سے پیدل آرہے ہیں وہ دہلی میں جمع ہوں گے اور حکومت سے جواب طلب کریں گے کہ 2014 ء اور اس کے بعد ہر صوبائی الیکشن کے موقع پر جو کسانوں سے وعدے کئے گئے تھے وہ کیا ہوئے؟ اور کیوں آج بھی کسان خودکشی کررہے ہیں ؟

ہندوستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پوری طرح سے حکومت کا غلام بن چکا ہے چار مہینے کی جدوجہد کے بعد جو پورے ملک کے ہزاروں کسان اپنے پروگرام کے مطابق 20  نومبر کو رام لیلا میدان پہونچ گئے تب بھی پورے دن ہم نے ہر چینل پر چاہا کہ کہیں ان کی جھلک نظر آئے جو ملک کی جان ہیں لیکن ہر چینل پر پدماوتی اور رانی کے تابعدار کسی نہ کسی شہر میں ہنگامہ کرتے نظر آئے یا راجپوت لیڈر جان کی بازی لگاکر اس فلم کو روکتے ہوئے دکھائے گئے۔

رات کو 9:00  بجے این ڈی ٹی وی کا پروگرام پرائم ٹائم دیکھنا چاہا تو روش کمار نظر آئے جو کسانوں کے جلوس کے ساتھ ساتھ رام لیلا میدان سے پارلیمنٹ جارہے تھے۔ ان کی وجہ سے بمشکل یہ معلوم ہوسکا کہ 180  بڑی چھوٹی کسانوں کی پارٹیوں کو ملاکر سب کو ایک کردیا گیا ہے اور اب مطالبہ بھیک کی طرح نہیں طاقت کے بل پر کیا جائے گا۔ مختلف صوبوں کے کسان لیڈروں نے اپنے اپنے صوبہ اور اپنے اپنے علاقے کے مسائل سامنے رکھے تو اندازہ یہ ہوا کہ کوئی نہیں ہے جسے زخم نہ لگے ہوں اور کوئی نہیں ہے جو یہ نہ کہتا ہو کہ اب زمین سے کسان کا پیٹ نہیں بھرسکتا اور اب ہم کھیتی نہیں کریں گے۔

ہم کسان گھرانہ کے پروردہ نہیں ہیں لیکن اس بات سے واقف ہیں کہ کھیتی کیا ہوتی ہے؟ ہمارے دادا، نانا زمیندار بھی تھے اور کاشت بھی کرتے تھے وہ جانتے تھے کہ زمینداری آزاد ہوجانے کے بعد ختم ہونا ہے اس لئے سمجھدار زمینداروں نے اپنے لئے ہزار پانچ سو بیگھہ زمین کاشتکاروں سے واپس لے لی تھی اور اسی زمین کا نتیجہ ہے کہ خاندانوں میں خوشحالی اور فارغ البالی باقی ہے۔ زمینداری ختم ہونے کے بعد نہ جانے کیا ہوا کہ سسٹم وہی رکھا جو انگریزوں نے بنایا تھا۔ اُترپردیش میں چودھری چرن سنگھ کو کسی پٹواری نے شاید بہت ستایا تھا اس لئے انہوں نے پٹواری کا عہدہ ختم کردیا لیکن اس کی جگہ لیکھ پال بنا دیا اور وہ سارا کام جو پٹواری کرتا تھا اور جیسے کرنا تھا وہ اس کے ذمہ کردیا نتیجہ یہ ہوا کہ جو پٹواری کسان کا خون چوس کر زمیندار کو دیتا تھا وہی خون لیکھ پال نکال کر سرکار کو دینے لگا۔ زمین سے متعلق تحصیلدار، قانون گو اور لیکھ پال ان کا یہ کام ہونا چاہئے تھا کہ یہ سب مل کر کسان کی زندگی اور اس کی ترقی کے لئے حکومت کو متوجہ کرتے۔ لیکن ان کا کام یہ ہے کہ حکومت سے ملنے والی کسی بھی طرح کی مدد کسی بھی بہانے سے روک کر حکومت کے خزانے میں واپس جمع کرادیں ۔

ایک کسان لیڈر نے قدرتی آفت، سوکھا، سیلاب وغیرہ سے متعلق بتایا کہ اگر کسی گائوں کے دو چار کسانوں کے کھیتوں کو سوکھے نے یا اولہ باری نے برباد کردیا اور باقی گائوں والوں کے کھیت سلامت رہ گئے تو انہیں کوئی معاوضہ نہیں ملے گا۔ معاوضہ اس وقت ملے گا جب پورا گائوں سوکھے یا سیلاب سے برباد ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ یہ شرارت لیکھ پال اور تحصیلدار کی ہے یہ تو بھادوں کے متعلق کہاوت ہے کہ بیل کے ایک سینگ پر دھوپ ہوتی ہے اور دوسرے پر بارش لیکن بھادوں سے پہلے اور بعد کے مہینوں میں نہ جانے کتنی جگہ ایسا ہوتا ہے کہ چار کھیت سوکھے رہ گئے اور باقی کھیتوں پر پانی برس گیا۔ ہمارا بچپن سنبھل میں گذرا ہے اس وقت ہر برسات میں  اس کا تذکرہ ہوا کرتا تھا کہ مراد آباد سے بادل برستا ہوا آیا اور سنبھل کے قریب آکر بادل آدھا امروہہ اور حسن پور کی طرف نکل گیا اور آدھا چندوسی کی طرف اور سنبھل سوکھا رہ گیا۔ اور یہ بات آج بھی جب کبھی برسات میں بات ہوتی ہے تو سننے کو ملتا ہے کہ ہر طرف بارش ہے صرف سنبھل سوکھا ہے۔ خدا کی یہ قدرت ہے اس لئے اگر 35  کسانوں کا نقصان نہیں ہوا اور پانچ کا ہوا تو ان کی تلافی نہ کرنا ظلم ہے۔

ہم نہیں کہہ سکتے کہ 20  نومبر کو آنے والے کسانوں کی تعداد کتنی تھی البتہ ہم نے یہ دیکھا کہ جتنے آدمی ہیں اتنی ہی شکایتیں ہیں ۔ ہر آدمی کا کلیجہ چھلنی ہورہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ حکومت صرف میری بات سنے دوسرے کی بعد میں ۔ ہر کسان کو قرض اور اس کی ہیراپھیری سے شکوہ تھا وہ بتاتے تھے جتنوں نے خودکشی کی ہے وہ صرف قرض کے بوجھ سے دب کر کی ہے۔ نہرو گاندھی خاندان کی بات تو سمجھ میں آتی تھی کہ وہ نہیں جانتے کہ کسان کن کن پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے لیکن آج جو حکومت ہے اس میں وزیراعظم اور وزیر مالیات کو چھوڑکر اکثریت ان کی ہے جن کا تعلق دیہاتوں سے ہے اور وہ جانتے ہیں کہ کسانوں پر کیا بیت رہی ہے۔

حکومت جب تک کسان کی کھال ادھیڑنے والے لیکھ پال اور تحصیلدار کا اقتدار ختم نہیں  کرے گی اور ایک محکمہ اس کا نہیں بنائے گی کہ وہ کسان کی مشکلوں سے حکومت کو مطلع کرے اور حکومت سے کسان کا حق دلائے اس وقت تک کسانوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہم نے میڈیا کے برتائو سے بات شروع کی تھی کہ 20  نومبر کو پورے دن میں صرف رانی پدماوتی کو ہر چینل پر دکھانے کا شاید حکم دیا گیا تھا اور 21  کو دن کے تین بجے سے رات تک کسی چینل پر ذکر بھی نہیں تھا۔ جس کا مقصد اس کے علاوہ کیا ہوسکتا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ملک کو معلوم ہوجائے کہ ہر صوبہ کا کسان ایک ہوگیا ہے اور انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب اگر حکومت کچھ کرتی ہے تو کرکے دکھائے ورنہ 2019 ء میں حکومت تبدیل کردی جائے گی۔ اب تک ہندوستان کو فخر تھا کہ جیسی تحریر و تقریر کی آزادی اپنے ملک میں ہے ایسی مشکل سے کہیں ہوگی لیکن اب وہ دور آگیا ہے کہ درجنوں آوازوں میں کہیں ایک آواز ایسی سننے کو ملتی ہے جسے آزاد کہا جاسکے ورنہ سب غلامی میں مقابلہ کررہے ہیں ۔



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

پرائیویٹ اسپتال موت کے سوداگر

آزادی کے بعد انگریز افسر ہی نہیں گئے وہ اپنے ساتھ بہت کچھ لے گئے اور ان کے بعد جو افسر بنے وہ فطری چور اور بے ایمان تھے اور ان کی گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے شاطر ڈاکٹروں کے دل میں یہ خیال آیا کہ نرسنگ ہوم کے نام سے پرائیویٹ اسپتال قائم کئے جائیں۔ اور پھر ہر اس ڈاکٹر نے جس کے باپ کے پاس دولت تھی نہ کہیں نوکری کی اور نہ اپنا مطب کیا نرسنگ ہوم کھول لیا اس میں بوڑھے باپ، ناکارہ رشتہ دار اور گھر کے دوسروں کو بھی روزگار مل گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے