ہندوستان ہلاکت کے دہانے پر!

محمد صابر حسین ندوی

دنیا کی تقسیم خواہ آبادی، تہذیب وتمدن یا پھر تاریخی حیثیت کی بنیادپر کیوں نہ کی جائے؛ہندوستان اپنے آپ ایک مثال اور صفحہ ہستی کا سنہرا باب ہے، ہر یالی، سرسبزی و شادابی کا حسین منظر،اور اس کی گود میں اٹھلاتی ندیوں اور ٹھاٹھے مارتے سمندروں کا خوبصورت امتزاج ہے،مختلف علاقوں میں مختلف مذاہب و ملت کی موجودگی اور ان میں ہم آہنگی وموافقت قابل دید ہے،یکجہتی و اتحاد اس کا طرہ امتیاز رہا ہے؛لیکن اسلام اور مسلمانوں سے قبل یہ ملک بھی آپسی تنازعات و انتشار، فرقہ واریت،ذات پات کی بندشوں میں جکڑا ہوا تھا، عورتیں مثل ساماں ہوکر ؛مردوں کیلئے آرام وراحت کا اک آلہ بن گئیں تھیں۔ برہمن اور بنیا قوم نے غرباء وفقراء کو نان و نوش سے محروم کردیا تھا،ان کاکام کولہو کے بیل کی طرح جوتے رہنا اور زندگی کے بوجھ تلے دب کر گھٹن کی موت مرجانا تھا؛اگر کبھی زندگی جینے کا موقع بھی دیدیتی تو سوائے خواہشات نفسانی کی تکمیل کرنا، شراب نوشی کی خماری میں اپنے غموں کو دو پل کیلئے ہلکا کر لینے کے سوا کوئی کام نہ گیا تھا،تہذیب و ثقافت کی آڑ میں عورتوں کا ستی بن جانا یا ’’بال وواہ‘‘ کے نام پر بچپن کی بلی چڑھا دینا ہی ان کا خاص مشغلہ بن گیا تھا، تمدن ہند صفحہ نمبر ۲۳۶ میں ہے’’برہمنی زمانہ اور تہذیب میں عورت کا درجہ نہیں رہا تھا، جو ویدی زمانے میں تھا، منو کے قانون میں (بقول ڈاکٹر لی باب )عورت ہمیشہ کمزور اور بے وفا سمجھی گئی ہے،اور ا س کا ذکر ہمیشہ حقارت کے ساتھ آیا ہے ‘‘ن نیز حمیت و غیرت کے نام پر عصبیت کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کا سر قلم کر دینا ہی بہادری کا اعلی معیار سمجھا جاتا تھا،اور مذہبی، اجتماعی اور اخلاقی زوال، جنسی بحران کا دور دورا تھا۔

سیدی حضرت مولانا علی میاں ؒ لکھتے ہیں :’’غرض یہ سر سبز و شاداب ملک جو فطرت کے خزانوں سے مالامال تھا، سچے آسمانی مذہب کی تعلیمات سے عرصہ سے محروم ہونے اور مذب کے مستند ماخذوں کے گم ہوجانے کی وجہ سے قیاسات و تحریفات کا شکار اور رسوم وروایات کا پرستار بنا ہواتھا، اور اس وقت کی دنیا میں جہالت وتوہم پرستی، پست درجہ کی بت پرستی نفسانی خواہشات اور طبقہ واری نا انصافی میں پیش پیش تھا اور دنیا کی اخلاقی و روحانی رہبری کے بجائے خود اندرونی انتشار اور اخلاقی بد نظمی میں مبتلا تھا‘‘(انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج زوال کا اثر:۵۶)۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا سورج گرچہ مکہ مکرمہ کی وادیوں سے طلوع ہوا،مگر اس کی روشنی پورے آب وتاب اور تمازت کے ساتھ ایشیا بالخصوص ہندوستان کے مطلع انسانی پر نمودار ہوا، محمد بن قاسم ؒ کی سپہ گری اور شجاعت نے سرزمین ہند پر سرخیل عنوان کاکردار نبھایا،اس سے قبل تاجروں اور اسلامی سیاحوں نے صدق و امانت، اخلاق وکرداراور صلح پسندی وانسان دوستی کے ذریعہ تخم اسلامی کا ذمہ ادا کردیا تھا،پھریکے بعد دیگرے مسلم حکمرانوں کی حکمرانی خصوصاً مغلیہ سلطنت(۱۵۲۶ ء تا۱۸۵۷ء)کے اخیر کی صدی میں اورنگ زیب رحمہ اللہ نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی یاد اور اسلامی تعلیمات کی حجیت ثبت کردی،ہندوستان بحیثیت اکھنڈ بھارت امن و امان کا گہوارہ بنتا گیا،قتل و غارت گری، ہمدردی و رواداری اور انسان دوستی میں بدل گئی،ذات پات اور فرقہ واریت، باہمی نصرت و تعاون اور انسان؛انسان کیلئے ہمدم وہم نوائی میں بدل گیا،عورتیں ماں ، بہن اور بیوی کی صورت میں حسن معاشرت اور حسن سلوک کا مقام پا چکی تھیں ، بے جا رسم ورواج سے پرے بجا عقیدت و محبت، خلوص وشعوراور حاسہ صلح وصلاح بیدار ہوچکا تھا، معاشی تنگ حالی، نامناسب ٹیکس، تحصیلداروں کے طوق وسلاسل سے جھکتی گردنوں کو اٹھاتے ہوئے ؛اسے ’’سونے کی چڑیا‘‘ کا لقب دیدیا گیا تھا،اور اسکی ملکی معیشت یعنی GDPاٹھائیس پوائنٹ تک پہونچی ہوئی تھی، کوہ نور اس کی ناک اور لال قلعہ،تاج محل اسکی حضارت کا بدیہی نظارہ بن گئے تھے،یہاں تک کہ مسلمان حکمرانوں کا ذکر کرتے ہوئے نہرو جی بھی لکھتے ہیں :’’اسلام کی وجہ سے ہندوستان میں ترقی کا عنصر آیا‘‘(نہرو:صفحہ نمبر ۲۱۳)۔

واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی کدوجد اور جہد مسلسل ہی تھی ؛جس نے ہندوستان کو قابل قدر اثاثہ اور سرمایہ گراں میں بدل دیا،لیکن پھر انیسویں صدی میں انگریزوں کی آمد،تجارت و پیشہ کے پیچھے تفرقہ بازی کی پالیسی،مادیت و معدیت کی صدا لگانے والے،عقیدت و محبت میں کشمکش اور شکوک و شبہات کے بیج بونے والے اور مغربی ممالک کی دیوثیت وخباثت نے بناو شرنگار(ہندوستان)کی ہوئی دلہن کو بیوہ کرنے اور اسے تاراج کرنے کی انتھک کوشش کی، بعض مفاد پرست اور شکم پرست کی بے غیرتی کی وجہ سے وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے،ایک تاریخ داں ابن وارق ہندوستان میں برطانوی تسلط کی مذمت کے متعلق لکھتا ہے کہ ’’۱۹۴۷ ؁ء کی آزادی کے فوراً بعدہندوستانی تاریخ دانوں نے قومیت پر مبنی جو تاریخ لکھی اس میں ہندوستان کی تمام خرابیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار سلطنت بر طانیہ کا استحصالی دور ٹھہرایا ہے‘‘(ابن وارق:صفحہ نمبر ۱۹۸)، تاہم مسلمانوں کی دانشمندی اور غیور وطن پرست لوگوں کی غیرت نے ۱۹۴۷ ؁ء تک انہیں اکھاڑ پھینکا،اور ملک عزیز کی بازیابی کراتے ہوئے ایک جمہوری حکومت کی داغ بیل ڈالی،جس میں بلا مبالغہ اور بلا تفریق مذاہب کے؛لوگوں نے بھرپور حصہ لیا، رفتہ رفتہ ہندوستان ایک نئی منزل کی طرف گامزن ہوا، اس کے بکھرے گیسوں پھر سے سنوارے گئے، عالمی سطح پر نہ صرف اس کی مرکزیت ثابت کی گئی بلکہ عالمی نمائندگی کی کوشش بھی جاری ہے۔

 بلا شبہ عہد حاضر میں ہندوستان ترقی پذیر ممالک میں سے ایک ہے، اس کا مستقبل تابناک وتابندہ ہے، لیکن جس طرح ’’سپید عمارت کی خوبصورتی میں ایک معمولی داغ بگاڑ پیدا کردیتا ہے،اور ہر دیدہ ور کی نگاہ اسی پر اکتفا کر لیتی ہے‘‘ٹھیک اسی طرح ہندوستان کی فرقہ واریت، نسلی امتیاز،تعصب وتشدد اور مسلمانوں کے خلاف احسان شناسی کے بجائے احسان فراموشی کا کردار ؛ایک دھبہ ہے،جس پر مستزاد یہ کہ زعماء وحکمراں کا انہیں شہ دینا ؛ہلاکت خیزی کا باعث ہے،موب لنچنگ،گئوکشی کے نام پر معصوموں کے ساتھ خون ریزی اور فسادات کو ہوا دے کر خوں آشامی کا ننگا کھیل ؛ہلاکت و بربادی کا پیش خیمہ ہیں ،نتیجتاً بے روزگاری، GDPمیں تیزی سے گراوٹ، سینکڑوں کی تعداد میں کسانو ں کی خو دکشی،عصمت دری کے بڑھتے واقعات، لو جہاد کا پروپیگنڈہ، گھرواپسی کافتنہ، رام مندر سے ناتھورام گوڈسے کا فتنہ، دہشت گردی اور جان لیوا حادثات اس کا مقدر بن گئے ہیں ،آپسی محبت و اخوت اور آپسی میل جول حتی کہ انسانیت ومروت نے بھی رخت سفر باندھ لیا ہے،اور زعفرانی دہشت گردی کے سایہ تلے خوف وہراس کا گھنا سایہ منڈلانے لگا ہے، ذہنی سکون وچین نے رخصت لے لی اور ملک گیر بے اعتمادی اور بے اعتنائی پھیل گئی ہے،بنیادی حقوق کو پامال کرنے اور اقلیتی قوانین سے کترو بیونت نے مذہبی وملی آزادی پر قدغن لگادیا ہے۔

  یہ سب کچھ ہے، مگر آج بھی ہندوستان کی جدید تعمیر کرنے اور گلدستہ بہاراں بنانے میں مسلمان ہی سب سے اہم عنصر ہیں ،اس کا وجود مسلمانوں کے بغیر معدوم ہے،اس کی ترقی و عروج کا ہر زینہ مسلمانوں سے ہو کر گزرتا ہے،اگر مسلمان نہ ہوں ؛تو زعفرانیت کی عصبیت اور انسانی طبقہ واریت اسے لقمہ تر سمجھ کر نگل جائیں ،صرف مسلمانوں ہی کے پاس وہ پیغام جاویداں ہے جو خزاں میں بہار،ریگستان میں ابر باراں کی طاقت رکھتی ہے،اسی کی خاکستر میں میں وہ چنگاری ہے جس سے فاشسٹ طاقتیں اور فسطائیت کے خرمن خاک ہوسکیں ، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلماں خواب خرگوش سے بیدار ہوں اور بحیثیت ’’خیر امم‘‘ سلطنتوں اور حکمرانوں تک انسانیت اور انسان نوازی کا پیغام پہونچائیں اور برادران ملک کی غلط فہمیوں کا ادراک کرتے ہوئے صحیح تدارک کریں اور صحیح معنوں میں ’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر‘‘(آل عمران:۱۱۰)ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے، خیر اممم کی لاج رکھیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہہندوستان بھی تاریخ میں ایک اور اندلس اور سمرقند و بخارہ کانیا باب بن جا ئے۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاوگے اے ہندوستاں والو!  

 تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں



⋆ محمد صابر حسین ندوی

محمد صابر حسین ندوی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

مغربی تہذیب کا زوال اور اسلامی لائحہ عمل

اس صورت حال کا مقابلہ کسی فوجی طاقت اور احتساب ونگرانی سے مشکل ہے، البتہ اسلام اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں مساوات اور انصاف قائم کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ مغرب کی کن چیزوں سےاستفادہ ممکن ہے، اور کن چیزوں کا ازالہ ضروری ہے، اس کیلئے اصلاحی، تعلیمی تحریک کا آغاز اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ پیش قدمی کی جائے، اور ایک ایسے نظام کی بنیاد ڈالی جائے جوبنیادی عقائد واصول کے ساتھ عصری ودینی ضروریات سے ہم آہنگ ہو،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے