ہندوستان

’ہندو دہشت گرد‘ نہیں، ’ ہندتووا گینگ‘ بے قصور نہیں

سید منصورآغا

امریکی رائٹر مارک ٹوائن کا ایک مقولہ ہے، ’سچ جب تک جوتے میں پیرڈالتا ہے، جھوٹ آدھی دنیا کا سفرپورا کرچکا ہوتا ہے۔‘ یہ بات ریڈیو کی ایجاد (1920) سے کم از کم ایک دہائی پہلے کہی گئی تھی کیونکہ ٹوائن کی وفات1910 میں ہوگئی تھی۔ ان سے بھی پہلے جانیسن سافٹ(وفات 1745) نے کہا تھا،’’جھوٹ کے پرلگ جاتے ہیں اور سچائی لنگڑاتی ہوئی اس کے پیچھے آتی ہے۔جب تک لوگ اس فریب کو سمجھ پاتے ہیں، بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، دھوکہ کی کہانی اپنا کا م کر چکی ہوتی ہے۔‘‘

حفیظ میرٹھی(وفات 2000) نے اس تاثرکو ایک شعر میں یوں سمویا ہے:

پاسباں آنکھیں ملے، انگڑائی لے آواز دے
اتنے عرصے میں تو اپنا کام کر جاتی ہے آگ

یہ کیسے ہوتا ہے؟ مودی جی کی باتوں سے سمجھ میں آتا ہے۔یہ دورایسی تیزرفتاری کا ہے کہ انٹرنیٹ کے کاندھوں پرسوار ہوکر بات پلک جھپکتے بندے بندے کی ہتھیلی تک پہنچ جاتی ہے ۔ اپوزیشن سہما ہوا ہے۔تردید کرتے جھجکتا ہے ۔کرتا بھی ہے تو اس کی ایسی تشہیر نہیں ہوتی کہ سب تک پہنچ جائے۔ پھر مودی جی کا انداز ایسا غضب کا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا سچ کہاں گم ہوگیا؟چنانچہ جب تک سچائی بیان ہوتی ہے جھوٹ اپنا کام کر چکا ہوتاہے ۔ سابق وزیراعظم ڈاکٹرمن موہن سنگھ نے غلط نہیں کہا تھا کہ مسٹرمودی اپنی سرکار کی ناکامیاں چھپانے کے لیے ہرروز نیا جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘ہمیں شرم آتی ہے وزیراعظم پر ہردم جھوٹ بولنے اورسماج کو توڑنے کے لیے لعنت ملامت ہوتی رہتی ہے اوران کی حمیت وغیرت بیدار نہیں ہوتی۔

تازہ معاملہ واردھا کی انتخابی ریلی کاہے۔اس میں انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کیس میں ملزمان کے بری ہوجانے کا فخرکے ساتھ حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایااور کہہ دیا کہ اس فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ ’ہندوؤں پر دہشت گردی‘کا الزام غلط تھا۔انہوں نے کمال شاطری سے یہ اعلان بھی کردیا کہ اس فیصلے سے کروڑوں ہندو ’دہشت گردی کے الزام سے بری ہوگئے۔‘

بیشک ’دہشت گردی ‘کو کسی مذہب یا فرقہ کے ساتھ جوڑنا قطعی غلط ہے۔ چندشدت پسندہندو ؤں کے دہشت گردی میں ملوث ہوجانے پرسارے ہندوؤں پر ’دہشت گردی‘ کا لیبل لگاناسخت زیادتی ہے۔ یہ جوگمراہ ہندو دہشت گردی میں ملوث پکڑے گئے ہیں وہ گنتی کے چند ہیں۔جبکہ ہندو سماج صدیوں سے امن پسند، صلح کل اور تحمل کا پیرو کاررہا ہے۔اس نے ہمیشہ غیرمذہبوں اورتہذیبوں کو اپنے اندرجذب کیا ہے۔ البتہ ادھر چند دہائیوں میں آرایس ایس اور بھاجپا کی پالیسیوں سے نوجوانوں میں جنگجوئیت بڑھی ہے۔ اس کا کچھ اثر عوام پر نظرآنے لگا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس، درگاہ اجمیر شریف ، مالیگاؤں اورایسے ہی بہت سی دہشت گردانہ کرتوتوں میں جو لوگ ملوث پائے گئے وہ ’ہندتووا‘ کے اس نظریہ سے متاثر تھے جس کے سرخیل سنگھ کے نظریہ ساز ہیں۔اسی نظریہ کے تحت ملک بھر میں اقلیت مخالف تشدد کی وارداتیں ہوتی رہیں جن کو ’فرقہ ورانہ فساد‘ کہا گیا حالانکہ ان میں سے ہر واردات پولیس ،پی اے سی اورانتظامیہ کو شامل کرکے ’ہندتووادہشت گردی‘ کی واردات تھی۔ بھونڈی، بھاگل پور ، ہاشم پورہ، بیسٹ بیکری ، ممبئی، اور سب سے سنگین 2002 کی گجرات کی خونریزی کی وارداتیں، جن میں مظلوم جان بچانے کو بھاگتے رہے اور ہندتووا کے پیدل ان کو گھیر گھیر کرلوٹتے اور مارتے رہے۔

خدابھلا کرے ہیمنت کرکرے کا جنہوں نے سچائی کو بے نقاب کیا اورمالیگاؤں بم دھماکوں میں پہلی مرتبہ ان کی تفتیش سے پتہ چلا کہ گرفتارکیے گیے مسلمان بے قصور ہیں۔ اصل ملزمان کا تعلق سنگھ پریوارسے ہے، جن کو انہوں نے جیل پہنچایا۔اس طرح دہشت گردی میں ملوّث ہندوؤں کو بے نقا ب مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے کیا ، کانگریس نے نہیں۔ اس کے وزیر تو پانی پی پی کر مسلم ناموں کو کوستے رہے اوربے قصوربچوں کو جیل بھیجتے رہے۔ جب دہشت گردی کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا تواس بعد میں کیا ہوا؟ قانون کے گناہ گاروں کو کس طرح بچایا گیا، ایک طویل کہانی ہے۔

ایڈوکیٹ روہنی سالین کا انکشاف:

دہشت گردی کے درجنوں کیسوں کے ملزم بے سزاچھوٹ جائیں گے، اس کا اندازہ مودی جی کے برسراقتدار آتے ہی ہوگیا ہے۔ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں ’اے این آئی‘ کی چیف پروسیکیوٹر محترمہ روہنی سالین نے ایک بیان میں (25جون 2015) بتایا تھا کہ جب سے این ڈی اے سرکار مرکز میں آئی ہے، ان سے کہا جارہا ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف نرم رویہ اختیارکریں۔ محترمہ سالین کوکیونکہ یہ بات گوارہ نہیں تھی۔ چنانچہ انہوں نے استعفیٰ دیدیا۔ ان سے 12جون کو سیشن کورٹ میں پیشی پر جانے سے پہلے کہہ دیا گیا کہ ’اوپر کے ذمہ دار‘ (Higher-ups) نہیں چاہتے کہ وہ مقدمہ کی پیروی کریں، سرکار دوسر ا وکیل مقرر کرے گی۔ یہ صاف اشارہ تھا کہ سرکار ان ملزمان کو بچانا چاہتی ہے۔

سنگھی ملزمان :

مالیگاؤں کے دودھماکوں میں اے ٹی ایس مہاراشٹرا کی تفتیش میں سنگھ سے متعلق 12 افرادپکڑے گیے تھے ۔ملزمان میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر، سنیل جوشی اور ایک فوجی افسر پروہت شامل تھے۔جب تفتیش این آئی اے کے سپر د ہوئی تو پایا گیا کہ مالیگاؤں دھماکہ 2006جس میں 31ہلاک اور312زخمی ہوئے، 29 ستمبر 2008کوایک ساتھ مالیگاؤں اورمڈاسا(گجرات) میں کے 3 دھماکے (10ہلاک)، 2000 درگاہ شریف اجمیردھماکہ (تین ہلاک 15 زخمی)، مکہ مسجد بلاسٹ (9ہلاک، 58زخمی )، اور سمجھوتہ ایکسپریس (2007)دھماکہ (68ہلاک، 13زخمی ) میں کئی ملزم مشترکہ طور پر شامل تھے۔ ان میں بڑا نام اسیمانند کا تھا جو سنگھ پریوار کی سرگرمیوں سے جڑے تھے۔انہوں نے خود اپنے ’ضمیر کی آواز‘ پر اپنے جرم کا اقبال بھی کرلیا تھا۔سنگھ پریوارکے کئی دوسرے لوگ بھی دہشت گردی کے ان واقعات میں گھیرے میں آئے۔ کئی فرار ہوگیے اورکچھ پکڑے گیے۔

الزا م اقلیت پر:

یہ ساری وارداتیں بیشک دہشت گردی کی ہیں جن کا الزام بلا ثبوت اقلیتی افراد پر لگاکر جیلوں میں ڈالا جاتا رہا اور ’اسلامی دہشت گردی ‘ کا ڈھنڈورہ پیٹا جاتا رہا ۔حالانکہ ان کرتوتوں میں تمام ملزمان ہندوتھے۔لیکن اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ ان پر ’ہندودہشت گردی ‘ کا لیبل لگانا غلط ہے۔ یہ عام ہندو ؤں کا کیا دھرا نہیں بلکہ اس دہشت کے پس پشت کیونکہ ’ہندتووا ‘کا اقلیت ،دلت واوبی سی مخالف نظریہ ہے اس کو ’ہندتووادہشت گردی‘ کہا جاسکتا ہے، ’ہندو دہشت گردی‘ نہیں۔

انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم یہ اعتراف کریں کہ ان کیسوں میں یوپی اے سرکارکا رویہ قطعی غیرمنصفانہ رہا ۔ لگاتار ایک اقلیت کو خطاوار بتاکر ملک کا ماحول بگاڑاگیا ۔ اصل ملزمان کو بے نقاب کرنے سے بچتی رہی حالانکہ یہ اس کی آئینی اورقانونی ذمہ داری تھی۔ جب بھی کہیں کوئی واردات ہوئی، روز نئی کہانی سنائی گئی۔ روز ماسٹرمائنڈ بدلے گیے اور تفتیش شروع ہونے سے پہلے ہی وزیر اورسول وپولیس افسران نے مسلم ناموں کو ماخوذ کیااوربے شمار گرفتاریاں کیں۔ اگرچہ بھاجپا کانگریس پر مسلم اقلیت کی منھ بھرائی کا مگراس اقلیت پر ہرروز نئی تباہی مسلط کی جاتی رہی۔کانگریس نے ہی اجودھیا کا تالا کھلوایا،شیلا نیاس کرایا، فسادیوں کو بچایا ۔ ان حماقتوں سے اپنا جو ووٹ بنک بنانا چاہا وہ تو بنا نہیں ، جو تھا وہ بھی بکھر گیا اورسیکولرسیاست کا جنازہ نکل گیا۔ حد یہ ہے کانگریس کے انتخابی منشور 2019-میں سچررپورٹ کا ذکر تک نہیں۔

شہادتوں کو چھپایا:

مسٹرنریندرمودی، امت شاہ اورآدتیہ ناتھ کا یہ کہنا بے بنیاد ہے کہ دہشت گردی کے کیسوں میں نامزد ہندوملزمان بے قصورتھے۔ اصل یہ ہے کہ استغاثہ نے تفتیش کو اس کے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا اورجو ثبوت ملے ان کو مضبوطی سے عدالت میں پیش نہیں کیا۔ اگرکیا ہوتا توسمجھوتہ کیس میں عدالت کو ملزمان کو بغیر سزا چھوڑتے ہوئے ’گہرے درد وکرب ‘ -deep pain and anguish- کا اظہار نہ کرنا پڑتا اورشہادتوں کو چھپانے کے لیے استغاثہ کی کھنچائی نہ کرنی پڑتی۔نوٹ کیا جائے کہ سمجھوتہ بلاسٹ کیس میں عدالت نے ملزمان کو’ باعزت بری‘ نہیں کیا بلکہ شہادتیں پور ی طرح پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے مجبوراًچھوڑ دیا ہے۔

عدالت سے سزائیں:

مودی جی بھول گئے کہ مارچ 2017میں جے پور کی ایک عدالت نے درگاہ شریف اجمیر میں دھماکہ کے جرم میں آر ایس ایس کے تین (سابق) پرچارکوں سنیل جوشی(مقتول)، دیوندرا گپتا اور بھاویش پٹیل کو عمرقید کی سزا سنائی تھی۔ اس کیس میں اسیمانند اورچند دیگر کو شک کا فایدہ پہنچاتے ہوئے چھوڑدیا گیا تھا۔ مگران کو کلین چٹ نہیں دی تھی جس کو اصطلاح میں ’باعزت بری‘ کہتے ہیں۔
’دہشت گرد گروہ‘: مہاراشٹرا کی موجودہ سرکار نے گزشتہ سال ہندتوواکے نظریہ کے تحت سرگرم 12شدت پسندوں کو دہشت گردی کے کیس میں یو اے پی اے قانون کے تحت چارج شیٹ کیا ہے۔ ان کی تحویل سے بڑی مقدارمیں اسلحہ اورگولہ بارود برامد ہوا ہے۔ ملزمان کو ’دہشت گرد گروہ‘ قراردیتے ہوئے فرد جرم میں کہا ہے،’ ’ملزمان کا تعلق سناتھن سنستھا ، ہندوجن جاگرُتی اور ایسے ہی دیگرگروہوں سے ہے ۔ سناتن سنستھا کی شائع کردہ کتاب ’اکچھتریہ دھرم سادھنا‘ سے ترغیب پائی جس کا نصب العین ’ہندوراشٹرا‘ قائم کرنا ہے۔‘‘ فرد جرم میں مزید کہا گیا ہے، ’’ملزمان نے ہم خیال نوجوانوں کاایک دہشت گرد گنک بنانے کی سازش بھی رچی تھی، جو ملک کے اتحاد، یک جہتی، سا لمیت اوراقتداراعلیٰ کو تباہ کرنے کا کام کرتا۔‘‘

چارچ شیٹ میں ہندتووا نواز اس گروہ کی سرگرمیوں اورمنصوبوں کی جو تفصیل بتائی گئی ہے اس کو پڑھ کررونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ان تنظیموں کے دہشت گردانہ منصوبوں کے پیش نظر اے ٹی ایس مہاراشٹرانے 2011میں مرکزی حکومت سے ان پرپابندی لگانے کی سفارش کی تھی مگرابھی تک نہیں لگی۔ یہ سب اس نظریہ سے جڑے ہوئے لوگ ہیں جس نے تحریک آزادی کے مخالفت کی، گاندھی جی کو قتل کیا اورفسادات برپا کرکے ہزاروں کو مارڈالا۔ اسی سلسلہ میں 2002کے گجرات کا ذکر بھی آئے گاکہ کس طرح پولیس اورانتظامیہ نے اپنی قانونی ذمہ داری نبھانے کے بجائے قاتلوں کی مددکی، پولیس اوراستغاثہ نے عدالتوں میں کس طرح خطاواروں کو بچانے کے حربے اختیارکیے اورجب ایک کیس میں سابق وزیر مایا بین کوڈنانی اوربجرنگ دلی مجرم بابوبجرنگی اوردیگرکو سزائیں ہوئیں تو ان کی جیلوں سے باہر نکلنے میں مدد کی۔ ان کی ضمانتوں کے خلاف اپیلیں نہیں کیں۔ عشرت جہاں، سہراب الدین، تلسی رام پرجاپتی اوردیگر جھوٹے انکاؤنٹرکیسوں کو اورسابق ریاستی وزیر ہیرین پانڈیا قتل کیس کو جس طرح دبانے اورملزمان کے خلاف کیسوں کو اعلی عدالتوں میں نہ لیجانے کی بھاجپا سرکاروں کی کارگزاریوں سے جو ظاہر ہورہا ہے وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ جس نے ایسا چشمہ پہن رکھا ہواس کو ہندوؤں میں دہشت گروہ کے افراد مجرم کہاں نظرآئیں گے؟

آخری بات:

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس طرح کے موضوعات عوا م کے اصل مسائل، بے روزگاری، رشوت خوری ، دھاندلیوں، مہنگائی اورمارا ماری کو دبانے اورغیر اصل جذباتی موضوعات سے الیکشن کو متاثرکرنے کا حربہ ہے۔ساتھ ہیں اقلیت مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو عوام میں قابل احترام بنانے کی سازش کا حصہ ہے جس کا نصب العین دیش کو ایک ایسے ہندوراشٹرمیں تبدیل کرنا ہے جس میں آئین اورقانون کے بجائے فاسد جذبات کو بالادستی حاصل ہوگی جیسا کی یوگی نے بساڑا (دادری) کے جلسے میں کہا کہ ایس پی سرکار نے عوام کے جذبات کو مجروح کیا ۔اس جلسے میں مظلوم مقتول اخلاق کے قتل کے گناہ گاروں کو اگلی صف میں بٹھایا گیا۔

لوک سبھا کے لیے ووٹنگ شروع ہونے والی ہے۔ ہمیں جذبات سے اوپر اٹھ کر سمجھ دار ہندوبھائیوں کے ساتھ مل کر ملک کو اس دہشت گردی کے بچانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ خیال رہے کہ جذبات نعرے اورفرقہ کی بنیادپر ووٹنگ کی اپیلوں سے ہاتھ ان کے ہی مضبوط ہونگے جو ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close