ہندوستان

ہندو راشٹر کے مخمورین کو جشن آزادی مبارک

 ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

70 وا ں یوم آزادی اہلِ وطن کو مبارک ہو۔ آزادی کی یہ نعمت ہمیں پھولوں کی تھالی میں رکھ کرپیش نہیں کی گئی تھی۔ اس کے حصول کے لیے ہمارے اسلاف آباو اجداد نے شدید جدوجہد کی اور اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں پیش کی۔ جس کے نتیجے میں سات سمندر پارسے آئی ہوئی فرنگی قوم کو ہندوستان کے اجتماعی ضمیر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ تقریباً 90 سال پر محیط جدوجہد آزدای کئی ادوار و مراحل سے گزری ہے۔ لیکن فی زمانہ ہماری نئی نسل ان تمام ادوار سے واقف نہیں رہی ہے۔ بلکہ آج جنگ آزادی کی تاریخ کو اگر جدیدتناظر میں پڑھا جاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آزادی کی تحریک 1890 اور 1880 اور کی دہائی میں کانگریس کے قیام سے ہی شروع ہوئی ہو۔ اور گویا اس سے پہلے آزادی کے متوالوں نے انگریزوں کی غلامی سے نجات دہی کی کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہ کی ہو۔ 70 سال بعد آزاد ہندوستان کی اس فضاءمیں پلی بڑھی نوجوان نسل سے اگرجنگ آزادی کے مجاہدین کے نام پوچھے جائیں تو شاید وہ کچھ گنے چنے نام ہی بتا سکیں۔ اور کچھ گنے چنے واقعات کا ہی ذکر کرسکیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سابقہ حکومتوں نے جنگ آزادی کی تاریخ جس طرح مرتب کرنے کی کوشش کی ہے، اس میں بہت سے حقائق کو مسخ کردیا گیا۔ ایک مخصوص ذہن سے ایک خاص ارادے کے تحت ایک خاص رنگ میں رنگی ہوئی تاریخ آزادی نسل نوکے سامنے پیش کی جارہی ہے۔ حد یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر جب ہم اپنے ملک کا سرکاری پیج دیکھتے ہیں تو اس پر بھی ہمیں اسی رنگ کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ اب ان دنوں جو تحریریں تاریخ آزادی سے متعلق سامنے آئیں گی ان کو بھی پڑھ کر دیکھ لیجئے تو یہی محسوس ہوگا کہ گویا صر ف ایک رنگ میں رنگے ہوئے لوگوں نے ہی آزادی کا بگل بجایا۔ ہر سرکاری دفتر، ادارے، جریدے، انٹرنیٹ، سوشل سائیٹس، غرض ہر جگہ اسی رنگ میں رنگی ہوئی چنری دکھائی دے گی۔
ہم جب بھی جشن آزادی مناتے ہیں تو اس کا مقصد صرف اتنا نہیں ہوتا ہے کہ ہم قومی جھنڈے میں کچھ پھو ل لپیٹ کر رسمی طورپر ہوا میں اُڑائیں، اسے سلامی دیں قومی ترانہ گائیں، ایک دوسرے کو مبارک باد دیں اور اسکول کے بچوں کے درمیان کچھ لڈو تقسیم کردیں۔ جشن آزادی منانے کا یہ طریق کار نہ تو ہمارے قومی جذبات کو پختگی عطا کرسکتا ہے اور نہ جدو جہدآزادی کے ہیروزکے تئیں کسی عقید ت و احترام کا جذبہ بیدار کرسکتاہے۔ اور نہ ہی تحریک آزادی کے دوران پیش آنے والی قربانیوں کا کوئی احساس دلاسکتا ہے۔ انگریزوں کے مظالم کی داستان سامنے لائے بغیر اس آزادی کی قدر قیمت کا احساس نہیں دلایا جاسکتا۔ حب الوطنی اور قومیت کے جذبات اس وقت تک ماند رہیں گے جب تک تحریک آزادی کی مکمل داستان بلاکم و کاست موجود نہ ہو۔ ساتھ ہی یہی وہ موقع بھی ہوتا ہے جب ہم گذشتہ 70 سال کی اپنی قومی پیش رفت، ترقی و بہبود کی رفتار، آزادی کے ممکنہ ثمرات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملک کی سالمیت کی بقا کے سلسلے میں اپنی کاوشوں کا محاسبہ نہ کریں۔ جشن آزادی محض ایک رسم کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اسی محاسبے کا اصل نام ہے۔ اور جب ہم یہ محاسبہ کرتے ہیں تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ملک میں معاشی اور اقتصادی سطح پر یقینا ترقی کی ہے۔ وسائل کا بھرپور استعمال بھی کیا گیا ہے۔ نئے وسائل بھی پیدا کئے گئے ہیں۔ سڑکیں، پل، ریل، ہوائی سفر، انڈسٹری، ٹکنالوجی اور معیشت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس تمام تر ترقی کے ثمرات آج بھی زمینی سطح پرعوام تک نہیں پہونچائے جاسکے۔ ملک کی 80 فی صد آبادی 20 روپئے یومیہ سے زیادہ نہیں کماتی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 34 فیصد لوگ آج بھی خط افلاس کے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ ملک کی شرح نمو اور عوام کی رفتارترقی میں نمایاں فرق موجود ہے۔ جو اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ترقیات کے تمام تر منصو بوں کا رخ عوام کی جانب نہیں ہے بلکہ کچھ خاص طبقوں کی طرف ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے عوامی ترقی کی رفتا کم ہوتی جار ہی ہے ویسے ویسے سماجی ہم آہنگی پر بھی حرف آتا جارہے۔ گذشتہ 30 سال میں سماجی ہم آہنگی کا یہ گراف خطرناک حدتک گرا ہے۔ ملک کے مختلف طبقات دست گریباں ہیں او رایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ملک کی دو سب سے بڑی مذہبی اکائیوں ہندؤوں اور مسلمانوں کے بیچ نہ صرف اعتماد کم ہوا ہے بلکہ منافرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح خود ہندؤوں کے مابین اعلی ذات اور نچلی ذات کے مابیں خلیج گہری ہوئی ہے۔ اور اب عالم یہ ہے کہ ملک میں کسی بھی سطح پر ہو عوامی معاملات اور ان کی فلاح و بہبود پر نہ کوئی گفتگو کی جاتی ہے اور نہ میڈیا کے مباحثوں کا موضوع بن پاتے ہیں بلکہ ان موضوعات پر گفتگو کی جاتی ہے جس سے منافرت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ملک کا برسراقتدار طبقہ ہی یہ صورت حال پیدا کر کے عوام کی توجہ اصل مسائل سے دور رکھتا ہے اور اسکے آڑ میں ترقی کے تمام فوائد عام آدمی تک پہنچانے کے بجائے۔ ملک کی تمام ترقیاتی سرگرمیاں بڑی بڑی کمپنیوں کی طرف موڑ دی جاتی ہیں اور عوام کو ان کا احساس تک نہیں ہوتا۔

70 سال قبل حاصل کی گئی یہ آزادی ملک کی تقسیم کی قیمت ادا کرکے ملی تھی بدقسمتی سے یہ تقسیم بھی فرقہ وارانہ خطوط پر ہی عمل میں آئی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کے نام سے ایک مسلم ملک مملکت خداداد کے نام سے توعالم وجود میں آگیا۔ لیکن دوسرا حصہ جسے بھارت کہا گیا وہ ہندو ملک نہیں بن سکا اور توقع کے برخلاف اسے سیکولرزم اختیار کرنا پڑا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں سماجی تانے بانے کے بکھرنے کی بڑی وجہ یہی ہے۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم ہونے والے ملک کا ایک حصہ اگر مسلمانوں کے حصے میں آیا تھا تو دوسرا حصے پرہندؤوں کا حق تسلیم کرتے ہوئے اسے ہندو¿ ملک قرار دیا جانا چاہےے تھا۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ انتہائی طاقت رکھنے کے باوجود آرایس ایس اور ہندو مہاسبھا جیسی تنظیموں نے بھی اس کا کوئی شدید مطالبہ اس وقت نہیں کیا بلکہ کانگریس کی ایما پر سیکولرزم کو قبول کرلیا۔ اگر ملک کو اسی وقت ہندوراشٹر تسلیم کرلیاجاتا تو شاید پچھلے 70 سال میں ہونے والے 54 ہزار سے زائد فرقہ وارانہ فسادات سرزد نہ ہوتے۔ کشمیر کا مسئلہ بھی نہ ہوتا، آج وادی کے مسلمانوں کو سات لاکھ فوجیوں کی سنگینوں کے سائے میں اسرائیل سے درآمد کی گئی انتہائی مہلک بیلٹ گولیوں سے زخمی نہ ہونا پڑتا۔ پنجاب کے ہزاروں سکھوں کو خالصتان کے نام پر اپنی جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑتا۔ شمال مشرق کی سات عیسائی آبادی والی ریاستوں میں مسلح تحریک آزادی نہ چھڑتی اور ملک کی برسراقتدار جماعتوں کوبھی اپنی سیاسی چابک دستیوں کے ذریعے بابری مسجد کی شہادت، اردو کا مسئلہ اور یکساں سول کوڈ جیسی تحریکں پیدا کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہندو ملک 80 فی صد ہندؤوں کے فلاح و بہبود کو پیش نظر رکھ ہی منصوبہ سازی کرتا اور اس کی توجہ بھی عوامی فلاح وبہبود کی جانب مرکوز رہتی۔ چنانچہ آج 70 سال بعد جشن آزادی مناتے ہوئے قومی پرچم کو لہراتے ہوئے اس سوال پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر یہ ملک آزادی کے وقت ہی ہندو راشٹر کیوں نہ بن گیا۔ اسے سیکولرزم کا لبادہ کیوں اوڑھنا پڑا۔ ایک جواب تو ظاہر ہے کہ اگر اسی وقت ہندو راشٹر کا راگ الاپا گیا ہوتا تو مذکورہ بالا ریاستیں مذہبی بنیادوں پر اس ہندو راشٹر میں شریک نہ ہوتیں اور ملک کی موجودہ جغرافیائی وحدت اسی وقت منتشر ہو جاتی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2041ء میں نریندر مودی حکومت کے قیام کے پہلے ہی دن ہی وشو ہندو پریشد کی جانب سے یہ جملہ سننے کو ملا کہ 800 سال کی غلامی کے بعد پہلی بار ہندوو¿ں کی حکومت ملک میں قائم ہوئی ہے۔ اس جملے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں 700 سالہ مسلم حکمرانی کو بھی کچھ تنگ نظر لوگ غلامی ہی تسلیم کرتے ہیں۔ سوسالہ انگریزی حکومت تو حقیقت میں غلامی ہی تھی لیکن 86 سالہ آزاد سیکولر جمہوری حکومت کو بھی غلامی ہی تصور کرنا اس خاص ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ جس نے اس ملک کی رنگا رنگ تہذیبی، مذہبی، علاقائی اور لسانی اکائیوں کو کبھی بھی باہم مربوط نہیں مانا۔ اور جو ہمیشہ ایک زبان ایک تہذیب اور ایک مذہب کی حکمرانی کا خواب اپنی نظروں میں بسائے رہے۔ جس نے آزدی کے بعد سے مودی سرکار کے قیام تک نہ تو دستور کو تسلیم کیا، نہ سیکولرزم کو، نہ قومی جھنڈے کو اور نہ ہی قومی ترانے کو مانا اور ابھی حال ہی تک آر ایس ایس کے دفاتر میں بھگوا جھنڈے کو ہی سلامی دی جاتی رہی اور وندے ماترم ہی گایا جاتا رہا اور اب کھل کے دستور ہند کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے اور دستور پر متعدد سوالیہ نشانات لگا کر ان پر از سر نو بحثوں کو بھی میڈیا کے ذریعے چھیڑا جا رہا ہے۔ اسی لئے یہ کیا جارہا ہے کہ پہلی بار ہندؤوں کی حکومت بنی ہے۔ اوراسی جملے کی توسیع حال ہی میں خود وزیر اعظم نے بھی کہا کہ ملک کے عوام ماضی کی قربانیوں کو یاد کریں، اور یہ وہ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں جنھوں نے حال ہی میں گائے کی عقیدت کے نام پر دلتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی دلتوں کا نام لے کرتو سخت الفاظ میں تو مذمت کی لیکن اسی موضوع پر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر ہمیشہ کی طرح خاموش رہے۔
یہ ان کی سیاسی تربیت کے نہج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی لیے وزیراعظم سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ کن قربانیوں کاذکر کر رہے ہیں۔ آیا وہ ہندو راشٹر کے سلسلے میں دی جانے والی گروگوالوکر، ویر ساورکر، ہیڈ گوار، پنڈت دین دیال، شیاماپرساد مکھرجی، اور مدن موہن مالویہ کی قربانیوں کاذکر کررہے ہیں یا ان کے پیش نظر سید احمد شہید بریلوی، اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جیسے جنگ آزادی کے ابتدائی محرکین اور پالیسی سازوں کے نام بھی ہیں۔ انتہائی افسوس اور حیرت کا مقام یہ ہے کہ آج ملک میں مبینہ دہشت گردی کافرضی ہیولا کھڑا کرکے جب بے قصورمسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے تو ان کے خلاف پیش کئے جانے والے ثبوتوں میں جنگ آزادی کے انہی مذکورہ رہنماؤں کی کتابیں پیش کی جاتی ہیں۔ گویا یہ اکابرین مجاہدین آزادی نہ ہو کر دہشت گردوں کے سرغنہ ہوں۔ اس کے علاوہ ملک کے ہزاروں علماءاور کالا پانی کی سزا بھگتنے والے مجاہد آزادی کی قربانیوں کا ملک میں دور دور تک کہیں تذکرہ نہیں ہے۔ کیا وزیر اعظم ان کی قربانیوں کو یاد کرنے کی جانب بھی توجہ دلانے کی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ موجودہ ذہنیت کے پیش نظر یہ بعید از قیاس ہے۔ آزادی کے اس 70 ویں سال میں ہندو راشٹر کے خواہش مندوں کی امیدیں بر آئی ہیں۔ اور وہ ہندو احساس تفاخر سے لبریز ہیں۔ سیکولر زم کی مجبوری کا چولا اُتار کر پھینکا جاچکا ہے۔ ملک کو متحد رکھنے کی خاطر اختیار کئے ہوئے سیکولرزم کی آڑ میں انتہائی دور اندیشی کے ساتھ متحدہ ہندوستان کو ہندوراشٹر کے طورپر تسلیم کرنے کی راہ ہموار کردی ہے۔ حب الوطنی اور قومیت کے جذبات کو کامیابی کے ساتھ ہندو قوم پرستی کے قالب پر ڈھالا جاچکا ہے۔ ملک کی اقلیتوں دلتوں اور پس ماندہ طبقات کو ملک کی ترقی سے حاصل ہونے والے ثمرات سے محروم کیا چکاہے۔ سناتن ہندو دھرم کی اعلی ذاتوں کے ہاتھوں میں اقتدار پوری طرح سمٹ چکا ہے۔ سیکولرزم دم توڑچکا ہے۔ سماج واد محض ایک خوش گوار خواب بن کررہ گیا اور جمہوریت نیم بسمل دم توڑتی محسوس ہوتی ہے۔ آزادی کے محص 70 سال بعد ہندوراشٹر کے یہ تحفے اہل وطن کو مبارک ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close