آس پاسہندوستان

 ہندو پاک کی حکومتیں مزے میں، عوام خوف و دہشت میں مبتلا

گذشتہ چند مہینوں میں ہندستانی میڈیا میں پہلے کشمیر چھایا رہا، پھر دہشت گردانہ حملوں کے واقعات پھیلے اور اب جنگ کی خبروں سے عوام میں بے چینی پیدا ہورہی ہے۔

صفدر امام قادری

                        ہندستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات اور جنگی کیفیت کم و بیش ہر زمانے میں یکساں طور پراخبارات کا حصہ ہیں۔ اگر ہر سال کا گوشوارہ تیار کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ایک برس میں کم سے کم دو بار ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جیسے دونوں ملکوں میں اگلے ہی دن اعلانِ جنگ ہونے والا ہے۔ پھر تھوڑے دنوں کے بعد یہ ساری کیفیت بدل جاتی ہے اور دونوں ملکوں کے وزراے اعظم یا بڑے سیاستداں ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے کا سلسلہ قائم کر لیتے ہیں۔ عوامی زندگی کی رفتار نئے سرے سے قائم ہوجاتی ہے اور لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ابھی یہ کل کی بات ہے کہ دونوں ملکوں میں جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔

            یہ مان لینا کہ ایسی کیفیت مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور نریندر مودی کی قیادت کے سبب پیدا ہوئی ہے تو یہ ادھوری سچائی کا اظہار ہوگا اور اسے غیر ضروری طور پر بھاجپا کی مخالفت تسلیم کی جائے گی۔ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک ہندستان اور پاکستان کی خارجہ پالیسی بالخصوص آپس میں ایک دوسرے کے سلسلے سے رشتوں کی استواری کے بارے میں سنجیدہ غور و فکر کا انداز کبھی روا نہیں رہا۔ جواہر لعل نہرو، لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی کے زمانے کو سامنے رکھیں تو دو جنگوں کی مہنگی قیمت کے باوجود ہاتھوں میں ریت کے علاوہ کسی کو ابھی تک کچھ نہیں ملا۔ لاکھوں لوگوں کی جانیں اور کروڑوں کی املاک تباہ ہوئی لیکن اس سے کسی ملک کے صدر یا وزیر اعظم یا اس کی فوج کو کیا مطلب ہے؟

            سچائی یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان غیر اعلان شدہ طور پر یہ سمجھوتہ ہے کہ جب جب کوئی داخلی تشویش یا سیاسی اتھل پتھل کا ماحول ہو اور آسانی سے اسے سنبھالنے میں حکومت کو دشواری ہورہی ہو تو عوام اور حزبِ اختلاف کے افراد کے ذہن کو دوسرے رُخ کی طرف موڑ دیا جائے۔ ہندستان کے مقابلے پاکستان کی حکومتوں میں زیادہ ناپائیداری اور ان کی افواج میں زیادہ سیاسی بھوک رہتی ہے، اسی لیے ہندستان اگر کوئی سیاسی دائوں پیچ کھیلے، جس سے جنگ کے امکانات پیدا ہوں تو پاکستان مزید گرم جوشی سے آگے بڑھتا ہے۔ ڈرامے میں گرم جوشی اور تنا تنی کا ماحول ہو، اس لیے دونوں طرف کے لوگ بالخصوص سیاست داں اور فوجی افراد اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان کرتے ہوئے سامنے آتے ہیں۔

            1965ء کی جنگ کے زمانے میں ساحر لدھیانوی نے ایک نظم بہ عنوان’اے شریف انسانو!‘ لکھی تھی۔ اسی زمانے میں انھوں نے دونوں ملکوں کے اہالیانِ حکومت کو اشارہ دیا تھا کہ اگر تمھیں جنگ ہی کرنی ہے تو اپنے اپنے ملک کی بے انصافی، بھوک، نفرت اور عدم مساوات سے کیوں نہیں جنگ کرتے ہو؟ ہندستان میں ایک تہائی آبادی بے روزگار ہے۔ بیس فی صد کے قریب اقلیت آبادی خوف و دہشت میں مبتلا ہے۔ ایک صوبے سے دوسرے صوبے کے تعلقات کشیدہ ہیں اور ایک دوسرے کے لیے عرصۂ حیات تنگ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ روزانہ ہندستان کے صدر عزت مآب پرنب مکھرجی اپنی تقریروں میں ملک میں اعلا تعلیم کی خستہ حالی اور دنیا کی دو سو یونی ورسٹیوں میں بھی ہندستان کے کسی تعلیمی ادارے کے شامل نہیں ہونے کا ماتم کرتے نظر آتے ہیں۔ خطِ افلاس سے نیچے چالیس فی صدی آبادی کے لیے جینے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ حکومتیں فسادات کراتی ہیں اور پولیس محافظت کے بجاے لوگوں کی جان لینے سے گریز نہیں کرتی ہے۔ عوام ووٹ دے کر سرکاریں بناتے ہیں اور مرکزی حکومت انھیں معطل کرنے کے لیے کوشاں ہوتی ہے۔ روزانہ ہائی کورٹ سے لے کر سپرم کورٹ تک کے ایسے مشاہدات سامنے آتے ہیں جن کی رو سے حکومتوں کو خود سے گدّی چھوڑ دینی چاہیے۔

            ہندستان میں جمہوری تقاضوں کی پورے طور پر کبھی بَلی نہیں چڑھی لیکن پاکستان تو ایک ایسا ملک ہے جس میں عوام کے جمہوری فیصلوں کو بار بار فوجوں نے زمین پر اترنے ہی نہیں دیا۔ بار بار مارشل لا کا نفاذ اور پھر ان کے چیف کا وزیر اعظم یا صدر کے طور پر سامنے آنے کا مطلب واضح ہے کہ فوج میں براہِ راست حکومت کرنے کا شوقِ بے پایاں موجود ہے۔ ایسے ماحول میں ہندستان کے داخلی حالات کے مقابلے وہاں لازمی طور پر زیادہ مشکل حالات ہیں۔ عوامی سہولیات اور سطح زندگی میں پاکستان فطری طور پر ہندستان سے پیچھے ہے۔ سیاسی انتشار کا عالم ہر طور پر ہندستان سے دگرگوں ہے۔ اس لیے دونوں ملکوں کو یہ آسانی میسر ہے کہ جب چاہیں ایک دوسرے کے خلاف آگ اُگل دیں اور جنگ میں نہ جھونک سکیں تب بھی جنگ جیسی ایک صورت حال ضرور قائم رہے۔ اس سے داخلی صورت حال اور سیاسی اتھل پتھل سے عوام اور دنیا کا دھیان موڑ دینا آسان ہوتا ہے اور پھر نقلی قومیت کا غیر عقلی جوار بھاٹا کچھ ایسے جوش سے سامنے آتا ہے جس میں حقائق پس پشت چلے جاتے ہیں اور نقلی نشانات فصیل پر سچائی کی طرح کندہ کرنے کی آخری کوشش کی جاتی ہے۔

            نریندر مودی کی مرکز میں جب سے حکومت قائم ہے، ہندستان کے پڑوسی ممالک سے تعلّقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ نیپال جسے دنیا کا واحد ہندو ملک کہا جاتاہے، اُسے بھی ہندستانی حکومت کے رویّے سے ناراضگی پیدا ہوئی۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ مصیبت کے موقعے سے ہندستان نے بڑے بھائی کا سلوک نہیں کیا۔ پانی کے سوال پر بنگلہ دیش اور نیپال دونوں سے ہندستان کے تنازعات بڑھے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کے موقعے سے پڑوسی ممالک سے مہمانوں کو بلا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ ہندستان کے ہماسایگان سے روادارانہ تعلقات کے طرف دار ہیں۔ اُس زمانے میں بھی اِنھی کالموں میں راقم الحروف نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ اِسے سیاسی ڈرامے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی کیوں کہ بغیر کسی تیاری کے ایسے فیصلے اسٹیج پر دکھانے والے منظر کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ گذشتہ ڈھائی برسوں میں نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان رشتوں کی پڑتال کریں تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ ذاتی طور پر دونوں ایک دوسرے کے لیے دو ملکوں میں رہنے والے سگے بھائیوں کی طرح ہیں۔ کبھی ماں کے لیے کوئی دوسرا تحفہ لے کر آتاہے اور کبھی گھریلوں تقریب میں خاندان کے ایک فرد کی طرح دوسرا چلا آتاہے۔ اگر ایک دوسرے کے لیے ایسی ہی دلی کیفیت اور سیاسی صورتِ حال ہے تو آخر ہنگامہ کیوں برپا رہا کیا ہے؟ ہر ہفتے کبھی پاکستان کی طرف سے بیان بازی ہوتی ہے اور کبھی ہندستان کی طرف سے۔ دونوں کا مضمون ایک جیسا ہوتاہے اور دونوں ملکوں میں میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اِن بیانات کو قومی مسئلے کی طرح سے پیش کرنے کے لیے کوشاں رہتاہے۔ سرحد پر جنگ جب بھی لڑی جائے لیکن کچھ سیاست دانوں اور مختلف چینلوں پر ہر ہفتے ہندستان پاکستان کے بیچ جنگ ہوتی رہتی ہے۔

            کشمیر میں جب سے بھاجپا کی شراکت سے حکومت قائم ہوئی، اُسی وقت سے یہ خدشات سیاسی مبصرین ظاہر کر رہے تھے کہ یہ بیگانی شادی ہے۔ مفتی محمد سعید کی تجربہ کار امیج سے کچھ دنوں تک نباہ کی صورتِ حال رہی لیکن ان کی وفات کے ساتھ ہی حالات بدلنے لگے۔ اس کا بھارتیہ جنتا پارٹی نے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھایا۔ مہینوں حکومت معطل رہی اور سیاسی سربراہی کے نام پر مرکزی حکومت کا کھیل تماشا جاری رہا۔ سیاسی حکومت میں رخنہ پیدا کرنا کتنا مہنگا پڑ سکتاہے، اِسے کشمیر میں ملاحظہ کیا جا چکا ہے۔ حالات نہ مرکز کے قابو میں ہیں اور نہ ہی صوبائی حکومت سنبھال پا رہی ہے۔ اس بیچ اکثرو بیش تر سیاسی فیصلے یا فوجی کارروائیوں کی تہہ میں جائیں تو محسوس ہوگا کہ ہر بار پالیسی کی سطح پر ہی کوئی نہ کوئی گڑبڑی پیدا ہو گئی۔ اِسی طرح پاکستان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں دیڑھ درجن کے قریب ہندستانی فوجیوں کی ہلاکت کو جس طرح پیش کیا جا رہا ہے، اِس میں دال میں کچھ کا لا نظر آ رہا ہے۔ ہندستانی حکومت اور فوج کو یہ کیوں نہیں ماننا چاہیے کہ اُن فوجیوں کی حفاظت اور سرحد کی دیکھ ریکھ میں ہندستانی حکومت کی کمیاں جگ ظاہر ہو چکی ہیں۔ پاکستان سے زبانی جنگ میں یہ حکومت ایک لمحے کے لیے بھی کمزور نظر نہیں آتی لیکن اپنے فوجیوں کی اپنے خطے میں حفاظت کے صد فی صد انتظام کی جواب دہی سے ہماری حکومت کو کیوں پیچھے ہٹنا چاہیے۔ اس میں پاکستان کی کون سی سازش ہو سکتی ہے۔

            قصور ہندستانی دفاع کا بھی ہے لیکن اس پر لوگوں کی توجہ نہ جائے، اس لیے ہندستان نے جارحانہ پالیسی اختیار کی اور دہشت گردی کو ہی موضوع بنایا۔ دہشت گردی کی طرف داری دنیا میں کوئی عقل و ہوش کا آدمی نہیں کر سکتا۔ مگر جب دو پڑوسیوں کے درمیان طویل مدّت سے اختلافات موجود ہوں تو کیا اپنی حفاظت کے انتظامات اُسے پورے طور پر نہیں کرنے چاہیے؟ کمال تو یہ ہے کہ ہندستان کے بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاست دانوں نے زبانی جنگ میں اپنی جانیں لگا دی ہیں۔ ہندستانی میڈیا میں سچی جھوٹی خبریں بھی پھیلا ئی جا رہی ہیں۔ کہا گیا کہ روس پاکستان کو ہونے والی جنگ کے لیے پوری مدد کر رہا ہے۔ اگلے روز روٗس کا انکار نامہ سامنے آ گیا۔

            ہندستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے سیاست دانوں کے سامنے موجودہ صورتِ حال کا کوئی علاج سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اِسے سمجھنا بھی نہیں چاہتے۔ عالمی سطح پر نریندر مودی کی اُڑانیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ ہندستان کے عالمی تعلقات کے سب سے بڑے ماہر ہیں۔ لیکن اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا معاملہ ہو یا پاکستان کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دینا، ہندستانی حکومت ان میں کامیاب نہیں ہوئی۔ کبھی کبھی شبہہ ہوتاہے کہ اندرونی طور پر دوستانہ میچ چل رہا ہے مگر ظاہر یہ کیا جا رہا ہے کہ دونو ں ملک ایک دوسرے سے بدلہ لے کر رہیں گے۔ پاکستان میں بھی مسلم لیگ کی حکومت ہے اور ہندستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی۔ مختلف صوبوں کے انتخابات بھی ہونے ہیں۔ فرقہ وارانہ صورتِ حال اور نقلی قومیت کا تصور پیدا کر کے آنے والے وقت میں دونو ں پارٹیوں کو فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اس لیے جنگ بندی کا ایک بھی معاملہ کسی طرف سے سامنے نہیں آتا اور ہر آدمی صرف نفرت کی بولی ہی بول رہا ہے۔ سیاسی اعتبار سے ہندستان اور پاکستان عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کا مہرہ ہیں۔ ہندستان کی طرف داری میں امریکہ کبھی کبھی کھڑا نظر آتاہے تو پاکستان کے لیے چین اور روس لالچ میں مبتلا ہیں۔ نقصان اُن بڑی طاقتوں کا نہیں ہو نا ہے۔ غربت اور جہالت کے عتابات جھیلنے والے اِن دونوں ملکوں کو ہی آخر کار ہارنا ہے۔ جو دولت اپنی تعلیم اور ترقی میں یہ ملک خرچ کرتے، اُسے جنگی تیاری کے نام پر ترقی یافتہ ملکوں سے اسلحہ جات حاصل کرنے کے لیے اُڑانے میں لگے ہوئے ہیں۔ کہیں عوام کے حالات اور ملک کے داخلی سوالوں پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اس قیامت کی گھڑی میں ہماری یہ دعا ہے کہ ہندستان اور پاکستان کی حکومتیں نفرت کی پالیسی چھوڑ کر جنگِ آزادی کے مشترکہ خوابوں کے حصول کے لیے میدانِ عمل میں آئیں۔ اِسی سے جمہوریت اور عوام کو فتح حاصل ہو گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Close