تاریخ ہندہندوستان

ہند ۔ اسرائیل تعلقات

نازش ہماقاسمی

فلسطین دنیا کامظلوم ترین اور غریب ملک ہے ،اس ملک کے پاس نہ تو اپنا کوئی ہوائی اڈہ ہے اور نہ ہی ساحل سمندر جسے تجارت کے لیے یا آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اس کے پاس کوئی ایسی تجارت اور معاشی وسائل بھی نہیں ہے جو اہل فلسطین کی ضرورت پوری کرسکے۔ مصرکی موجودہ سیسی حکومت کی پالیسیوں کی بنا پر فتح گزر گاہ بھی بند ہے معاشی مسائل سے دور چار یہ غریب ملک ہمیشہ بیرونی امداد کا منتظر رہتا ہے۔ 14؍مئی 1948کو اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطینیوں کی قسمت پر قدغن لگ گیا، عرب کے غریب بدو اسرائیل کی تربیت یافتہ  فوج کے مظالم کا شکار ہوتے رہے اور عالم اسلام کے ساتھ ساتھ پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔

ان غریب فلسطینیوں کا نہ کوئی پرسان حال تھا او رنہ ہی کوئی حامی ومدد گار، یہودیوں کی تربیت یافتہ فوج کا تختہ مشق بننے اور سب کچھ لٹانے کے بعد 1974میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا، اقوام متحدہ کے اس فیصلے کا تمام انصاف پسند ممالک نے خیر مقدم کیا بشمول ہندوستان کے اور دنیا کے نقشہ پر فلسطین نام کی ریاست کا وجود ہوا۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسیوں نے فلسطین کو ایک ریاست تسلیم کرنے کے علاوہ ہمیشہ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی ، غزہ پر اسرائیلی حملہ کی پرزور مخالفت کی گئی اور جگہ جگہ ہندوستان میں اسرائیل مخالف مظاہرہ کیے گئے۔ 2014کے اس خونریز حملہ میں تقریباً 2500فلسطینیوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ، فلسطین کو اسرائیل کریمنل کورٹ کا ممبر بنانے کے لیے ایک قرار داد پیش کی گئی تاکہ فلسطین اسرائیل کو عالمی عدالت میں کھڑا کرسکے  اور جرم کے مرتکبین کو کیفر کردار تک  پہنچایاجاسکے لیکن اس قرار دار کی مخالفت تو صرف یونائٹیڈ نے کی جبکہ تقریباً 41ممالک نے فلسطینیوں پر ہورہے مظالم کو محسوس کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حق میں ووٹ دیئے لیکن نہ معلوم کیوں ہندوستان جو ہمیشہ فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہا جس نے اس کی ہمیشہ ڈھارس بندھائی ، جس نے اقوام متحدہ میں ببانگ دہل فلسطین کے لیے آواز حق بلند کی تھی اس قرار داد کے موقع پر خاموش تھا اور یہ خاموشی ہندوستان کے بدلتے رویے کے پیش نظر تھی شاید۔ ہماری خارجہ پالیسی کے مطابق آج بھی ہم فلسطین کے ساتھ ہیں صرف اس معاملہ میں ہندوستان خاموش رہا ہے جبکہ فلسطین کے ساتھ ہمارے تعلقات پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

انگریزی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے مطابق مودی کی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے اس سلسلہ میں کافی دیر تک بات چیت ہوئی ہے اور غالباً اسی گفتگو کا اثر تھا جو اس قرار داد کے وقت ہندوستان نے فلسطین کے حق میں ووٹ نہ دے کر ثابت کردیا۔ فلسطینی اخبار کے مطابق اس قرار داد میں ہندوستان کا ووٹ نہ دینا ہندوستان کی جانب سے منفی پیغام جائے گا۔ فلسطینی سفیر نے ’دی ہندو‘ کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم ہندوستان کے اس فیصلے سے بہت دلبرداشتہ ہیں اور ہندوستان کا یہ قدم ہماری توقع کے بالکل خلاف ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی سفیر ڈینل کارمون نے ہندوستان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ہمارے آپسی تعلقات مزید خوشگوار ہوں گے اور ہم آئندہ بھی ہندوستان سے بہتر کی امید کرسکتے ہیں اور وہ بہتر کی امید حالیہ دنوں میں وزیر اعظم ہند کا دورہ اسرائیل اور وہاں کی گئی بات چیت ا سلحہ کی خریدو فروخت سے عیاں ہے۔

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے جب 2003میں اسرائیلی وزیر اعظم ایرل شیرون کو ہندوستان آنے کی دعوت دے دی اس وقت بھی وہ فلسطین کے موقف پر اٹل رہے اور اسرائیلی وزیر اعظم سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی فلسطین مخالف بات پر حامی بھری ۔ لیکن موجودہ ہندوستانی حکومت کی بدلتی روش اسے ہندوستان نے نا صرف یہ کہ پوری دنیا کے سامنے بدنام ہورہا ہے بلکہ معاشی اعتبار سے بھی ہندوستان بہت پیچھے جارہا ہے ، موجودہ حکومت کی پالیسی فلسطین مخالف نہ سہی لیکن اسرائیل کی مکمل طور پر حمایت میں ہیں ۔ یہودیوں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ اپنے انبیاء ورسل کے نہیں ہوئے تو ہزاروں میل دور ہندوستانیوں کے خیر خواہ کیسے ہوسکتے ہیں ، غداری اسرائیل کی سرشت میں پنہاں ہے اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ملک نے یہودیوں کو اپنے دامن میں پناہ نہیں دی ۔

انیسویں صدی کے اخیر میں سلطنت برطانیہ نے ایک سازش کے تحت یہودیوں کو فلسطین کی سرزمین میں جبراً آباد کردیا اور انہیں مکمل طور پر فوجی اسلحہ سے مزین کرکے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اور ایسی ذلیل ورسوا قوم سے ہندوستان کا امید  وفا رکھنا اور اچھائی کے بارے میں سوچنا فعل قبیح ہے ۔ ہند اسرائیل تعلقات اسرائیل کے لیے تو فائدہ مند ہوسکتے ہیں لیکن ہندوستانیوں کے لیے سود مند نہیں ۔

 اسرائیل نوازی میں اب عرب ممالک بھی آگے بڑھتے جارہے ہیں حالیہ دنوں میں قطر سے محض اس لیے سعودی عرب سمیت سات ملکوں نے سفارتی تعلق ختم کرلیا کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے اور سب سے بڑی بات وہ اخوان المسلمین اور حماس کی مدد کرتا ہے ۔ اگر قطع تعلق کے لیے یہی بنیاد ہے تو شاید یہ تمام ملک غلطی پر ہیں اور یہ بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ اخوان المسلمین اور حماس دونوں کا نظریہ اسلامی ہے اور وہ خدا کی سرزمین پر خدائی احکام نافذ کرنے کی بات کرتے ہیں خواہ وہ جمہوری طریقے سے ہو یا شورائی نظام سے ،لیکن ان دونوں تنظیموں کی پالیسیوں سے ان ممالک کو شدید خطرہ لاحق ہے جو کہنے کو تو صرف نام کے اسلامی حکومت کے علم بردار ہیں اگر ان اخوانیوں یا حماس کی حکومت خطہ عرب میں آگئی تو امریکی پٹھوئوں کی خیر نہیں ہوگی ۔ اسی لیے شاید یہ سب کیا جارہا ہے کہ ان کی کمر توڑی جائے اور انہیں اقتدار سے دور ہی رکھا جائے۔ لیکن بعضے کا کہنا ہے کہ قطر نے ہمیشہ دوہری پالیسی اپنائ ہے ایک طرف وہ جہاں اخوان جیسی تنظیموں کاحامی ہے وہیں شام میں بے قصور نہتے مسلمانوں کو بے گور وکفن دفن کرنے والے حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کا بھی حامی ہے اور انہیں اسلحہ دے رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو نیست ونابود کیا جاسکے ۔ اور جہاں تک ہمیں لگتا ہے قطر کی اسی دوغلی پالیسی سے ناراض ہوکر ان سات ممالکوں نے سفارتی تعلقات ختم کیے ہیں ۔

یہ وہ حقائق ہیں جو اسرائیل اور قطر کے چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں ،اور ان کے ہولناک چہروں کو ظاہر کرتے ہیں ،ظاہر کرتے ہیں ،یہ ممالک انسانیت کے کس درجہ دشمن اور مطلب پرست ہیں ،انکی نگاہیں مطلب برآری پر مرکوز رہتی ہیں ،اور اسرائیل تو اس وصف میں اول مقام رکھتا ہے ،اس صورت حال کے باوجود اگر ہندوستان اسرائیل سے فائدہ اٹھانے کا خیال ذہن میں پال رہا ہے ،تو یہ خیال دیوانگی کے سوا کچھ نہیں ہے ،اور اس شعر کی عملی تصویر ہے ،ہم کو ان سے ہے وفا کی امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close