ہندوستان

یومِ جمہوریہ اور آرٹیکل 341 پر عائد مذہبی پابندی

ذاکر حسین

آج یوم ِ جمہوریہ ہے اور ملک میں جگہ جگہ جشن کاماحول برپاہے۔ لیکن ملک کی موجودہ صورتحال کے باعث جشن کے نام پر منعقدہ رنگا رنگ پروگرام میں خوشی کے قہقہے لگانے میں عوام فراخدلی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں ۔ہمارا مانناہیکہ جب تک ملک میں بلا تفریق سب کے ساتھ یکساں برتائو نہیں کیا جائے گا، ہم یومِ جمہوریہ کی حقیقی خوشی بانٹنے میں رہیں گے۔ اسلئے حکومت اورملک کی عدلیہ سے ہماری مانگ ہیکہ وہ آرٹیکل 341 پر لگی مذہبی پابندی ہٹانے کی طرف اپنے قدم بڑھائے۔ آرٹیکل 341 کیا ہے ، اس پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں ۔حکومت نے ملک میں آئینی اصلاح کے نام پر  ۱۹۲۷ ؁ میں سائمن کمیشن  بھارت بھیجا۔لیکن سائمن کمیشن کوسیاہ جھنڈے اور سائمن واپس جائو کے نعروں کے ساتھ زبردست مخالفت کا سامنا کرنا  پڑا۔ لیکن بعد میں ۱۹۳۰ ؁اورر ۱۹۳۲ ؁ کی گول میز کانفرنسوں میں انڈین نٰیشنل کانگریس کی زبردست مخالفت ور احتجاج کے باوجود کمیشن کی سفارشات کو منظور کر لیا گیا۔اور ملک کی پسماندہ طبقات کو ریزرویشن کے حق سے نواز اگیا اور جو ۱۹۴۳ ؁ میں نافذالعمل ہوا۔ اس میں ہندو درج فہرست ذاتوں کے مساوی پیشہ اختیار کرنے والی مسلما نوں کی تقریبا۷۵ فیصد آبادی تھی۔

 آئین ہند کے نفاذ تک ملک کے پسماندہ طبقات کو ریزرویشن کی سہولت ملتی رہی۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ ؁کو ملک میں آزادی کا سورج طلوع ہونے کے بعد برٹش حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وطن عزیز کے آئین سازوں نے بھی ملک کے پسماندہ طبقات ، دلتوں اور اچھوتوں کو درج فہرست ذاتوں میں شامل کرکے انکی آبادی کے تناسب میں سرکاری اداروں ، قانون ساز اداروں ، اور تعلیم گاہوں وغیرہ میں انکی نمائندگی یقینی بنانے کی غرض سے ریزرویشن کو حسب سابق قانون کا درجہ دیا ۔ درج فہرست ذاتوں میں نٹ، جولاہا، مداری، دھوبی، کھٹِک، جھوجھا،  بھانٹ، جوگی منگتا (فقیر)ڈفالی ،گورکن، کُجڑا،  حلال خور، مہتر، بھنگی، بیہنا، گوریا منہار، وغیرہ شامل تھیں۔

واضح ہو کہ درج فہرست ذاتوں میں مسلما نوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی ، ان تما م ذات کے لوگ خوہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں سب کو شیڈول کاسٹس کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔اور سبھی پسماندہ طبقات کو ریزرویشن کے حق سے نوازہ گیا تھا۔لیکن افسوس آئین ہند کے نفاذ کے بعد ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ۱۰ اگست ۱۹۵۰ ؁کو آرٹیکل۳۴۱کی ’’دفعہ ۱ ‘‘ کا سہارا لیکر ملک کے پہلے صدر جمہوریہ راجندر پرساد کے زریعے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کروا یا کہ شیڈول کاسٹس سے متعلق لوگوں میں سے محض انہیں کو ریزرویشن اور دوسری مراعات حاصل ہونگی جو ہندو مذہب (سناتن دھرم) کو ماننے والا ہوگا اس کے علاوہ غیر ہندو دلتوں کو ریزرویشن سے محروم کر دیا گیا۔ حکومت ِہند کے اس غیر آئینی قدم کے خلاف سکھ سماج کے لوگوں میں بیداری نظر آئی اور سکھ سماج کے دلتوں نے زبردست تحریک اور احتجاج کے ذریعے حکومت ہند کو دو بارہ ریزرویشن دینے کے لیے مجبور کر دیا۔ اور مسٹر نہرو کی قیادت والی سرکار نے۹۵۶ ؁۱ میں آئین (شیڈول کاسٹس)آرڈر۱۹۵۰ ؁ کے پیرا۔ ۳ میں ترمیم کرکے ریزرویشن کی سہولت پانے کے لیے ہندو اور سکھ ہونا لازمی کر دیا۔لیکن افسوس خود کو سیکولرزم کی پجاری کہنے والی ملک کی سب سے قدیم سیاسی پارٹی نے آئین ہند کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دلت مسلمانوں اور عیسائیوں کو ریزرویشن سے محروم کر دیا۔

نہ صرف ملک کے اقلیتوں کو ریزر ویشن سے محروم کیا گیا بلکہ آئین کے آرٹیکل ۱۴ کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔ کیونکہ آارٹیکل ۱۴ کی رو سے مذہب و ملتـ ،ذات پات ،علاقہ ،رنگ و نسل سے قطع نظر ملک کے تمام شہریوں کو برابری کے حقوق دیے گئے ہیں ۔ اور ظلم و زیادتی کی علامت سمجھی جانے والی برٹش حکومت کے زریعے ملک کے اقلیتوں کو ریزرویشن  کے نام پر جو مراعات حاصل تھیں اسے آزاد ہندوستان کی حکومت نے چھین لیا۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی ملک کی آزادی میں نما یاں رول ادا کرنے والی سیاسی پارٹی کے سربراہ ا ور ملک کے پہلے وزیر اعظم کو تسلی نہیں ہو ئی اور نا انصافی کی راہ پر ایک اور قدم بڈھتے ہوئے ۱۹۵۸ ؁میں آئین میں ترمیم کراتے ہوئے یہ اضافہ کیا کہ جن ہندو دلتوں کے آباء و اجداد کبھی اسلام میں داخل ہو گئے تھے اگر وہ دوبارہ ہندو مذہب(سناتن دھرم) میں واپس آ جاتے ہیں تو انہیں ریزرویشن اور دیگر مراعات حاصل ہوں گی۔ واضح ہو کہ آئین ہند کی دفعہ ۳۴۰ ،۳۴۱ ۱ور۳۴۲ مٰٰیں کہیں بھی مذہب لفظ کا ذکر نہیں ہے۔

۱س آرٹیکل۳۴۱  پر مذہبی پابندی کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے ۲۱ جنوری ۲۰۱۱ کو مرکزی حکومت سے پوچھا کہ ایک سیکولر ملک میں اس قسم کی پابندی کا کیا جواز بنتا ہے؟لیکن ابھی تک سپریم کورٹ کو مرکزی حکومت  نے کوئی جواب نہیں دیاہے۔ حلانکہ سچرکمیٹی اور رنگناتھ مشراکمیشن کی کانسٹی ٹیوشن(شیڈول کاسٹس)آرڈر۱۹۵۰کے پیرا۔ ۳ میں ضروری ترمیم کر کے مسلم اورعیسائی دلتوں کو بھی شیڈول کاسٹس ریزرویشن کے حق دینے کی اہم سفارش ہے لیکن مرکزی حکومت ان سفارشات کو نافذ کرنے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔۱۹۹۰ ؁ میں بدھ سماج کے دلتوں کو بھی حکومت ہند کی جانب سے ریزرویشن کی سہولت دی گئی۔ لیکن اب بھی دلت مسلمان اور عیسائی اپنے آئینی حقوق سے محروم رہے۔

آیئے اب آئین ہند کی ان دفعات پر نظر ثانی کرتے ہیں جو چیخ چیخ کر آرٹیکل ۳۴۱ پر لگی مذہبی پابندی کو غلط ٹھہراتی ہیں ۔ آرٹیکل ۱۵ملک کے تمام شہریوں کو خواہ وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتا ہوتعلیمی اداروں میں برابری کے حقوق دیتا ہے۔ آرٹیکل ۱۶ ملک کے سبھی شہریوں کو سرکاری ملا زمتوں کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔ لیکن افسوس شاید اس غیر آئینی قدم اٹھانے والے نے خود کو دستور ہند سے بالاتر سمجھا۔ اور ملک کی سب سے بڑی اقلیتی فرقے کو اس کے آئینی حقوق سے محروم کر کے پسماند گی  کے گہرے دلدل میں دھکیل دیا۔ آزادی کا ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ملک کے دلت مسلمان اورعیسائی یزرویشن کے منتظر ہیں ۔ اگر آرٹیکل ۴۱ ۳ پر عائد مذہبی ہٹائی نہیں جاتی  ہے تو ملک کا ایک بڑا طبقہ مین اسٹریم سے کٹ کر اپنی زندگی گذارنے پر مجبور ہوگا۔یہ بھی حقیقت ہیکہ ملک میں جمہوری نظام کو اس وقت تک تقویت نہیں ملے گی جب تک آرٹیکل ۳۴۱پر لگی مذہبی پابندی نہیں ہٹائی جاتی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ذاکر حسین

الفلاح فرنٹ (کنوینر: مشن بائیکاٹ مہم )

متعلقہ

Back to top button
Close