ہندوستان

یوپی میں ملا کانگریس کو نیا چہرہ

رویش کمار

بحث میں نہیں ہیں تو آپ انتخابات میں نہیں ہیں. سوشل میڈیا پر وائرل نہ ہوئے تو لوگ سمجھیں گے کہ آپ کو وائرل ہو گیا ہے اس لئے کہیں نظر نہیں آرہے ہیں. اس لئے آپ دیکھیں گے کہ انتخابات سے پہلے بحث میں بنے رہنے کے لئے جنگ چھڑ جاتی ہے. اتر پردیش کے تناظر میں کانگریس کی حکمت عملی کو دیکھ کر کیا یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ وہاں کانگریس انتخابات لڑ رہی ہے اس لئے بحث میں ہے یا انتخابات ہو رہے ہیں اس لئے بحث میں بنے رہنے کی لڑائی لڑ رہی ہے. ہماری سیاست میں ایک اور چلن پرچلن میں کچھ زیادہ ہو گیا ہے. اسے دیکھتے ہوئے میں نے نوجوان سیاست دانوں کے لئے ایک چیک لسٹ بنائی ہے. وہ کسی بھی پارٹی کا ہو سکتا ہے بلکہ بزرگ لیڈر بھی ہو سکتے ہیں. ٹکٹ پانے یا الیکشن کا چہرہ اعلان ہونے یا ہوتے ہی آپ کو یہ سب کام آ سکتا ہے.

پیدا کہاں ہوئے، کہاں بچپن بیتا، کہاں بیتی جوانی، کہاں کہاں ہے آپ کی یاری.

کہاں ہوا منڈن، کہاں ہوئی شادی، کہاں ہوئی پڑھائی، کہاں کی پہلی والی نوکری.

کہاں کے ہیں داماد، کہاں کے ہیں ساڑھو، کہاں کے ہیں سمدھی اور کہاں کے ہیں پھوپھا.

کہاں کے بھگينا، کہاں کے بھتیجا، کہاں کے پوتا اور کہاں کے ہیں ناتی.

کہاں کی ہیں بیٹی، کہاں کی بھتیجی، کہاں کی بہو اور کہاں کی ہیں دیورانی.

نئيہر، دديہر اور ممہر. ہر قسم کے لوکیشن اور ریلیشن کو یاد رکھیں. یہ اس لئے بھی کہا کیونکہ دہلی میں شیلا دکشت پندرہ سال وزیر اعلی رہیں. اس دوران انہوں نے جتنی بار یہ نہیں کہا ہوگا کہ وہ یوپی کی بہو ہیں اس سے کہیں زیادہ بار وہ گزشتہ کچھ دنوں میں کہہ چکی ہیں. ان کی پارٹی کے لوگ کہہ چکے ہیں اور میڈیا تو فلیش ہی کرنے لگا کہ وہ یوپی کے اناؤ کی بہو ہیں. شیلا دکشت کو کانگریس پارٹی نے وزیر اعلی کا امیدوار قرار دیا ہے. شیلا دکشت پنجاب جاتے ہی کھتری ہو جاتی ہیں، یوپی جاتے ہی برہمن ہو جاتی ہیں. پر شیلا دیکشت کی ایک بات تو ہے، جہاں کی وہ نہ بیٹی ہیں، نہ بہو ہیں وہاں پندرہ سال وزیر اعلی رہیں. یہ مسئلہ شیلا دکشت کا نہیں ہے. ہماری سیاست کا ہے. 2014 میں بنارس گئے وزیر اعظم کہنے لگے کہ انہیں ماں گنگا نے بلایا ہے. بلکہ وہ جہاں بھی گئے، کئی جگہوں پر ضرور بتاتے ہیں کہ اس جگہ سے ان کا کیا تعلق ہے. سطحی ہو چکی ہماری سیاست میں آپ اس سے زیادہ کیا توقع کر سکتے ہیں.

2015 میں جب دہلی میں انتخاب ہوا تب کانگریس نے شیلا دکشت کی جگہ اجے ماکن کو اپنا امیدوار بنایا تھا. شیلا دکشت انتخابات بھی نہیں لڑی تھیں. کیرلا کی گورنر بن کر دہلی چھوڑ چکی تھیں. بہر حال کانگریس پارٹی نے وزیر اعلی کے امیدوار اعلان کرکے  صاف کر دیا کہ ریاست میں اس کا کسی سے اتحاد نہیں ہوگا. دو دو وزیر اعلی کے امیدوار اتحاد نہیں کرتے ہیں۔ کانگریس کے پاس یو پی میں کوئی سابق وزیر اعلی اب نہیں ہے اس لئے دہلی کی سابق وزیر اعلی کو وزیر اعلی کا امیدوار بنایا ہے. بی جے پی کے پاس ابھی بھی بہت سے سابق وزیر اعلی ہیں مگر جس طرح سے اس کی سیاست اب آگے کی طرف دیکھ رہی ہے، نہیں لگتا کہ پارٹی کی کسی سابق کو امیدوار بنائے گی. بہوجن سماج پارٹی میں وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے. سماج وادی پارٹی میں بھی اکھلیش یادو کے علاوہ اب یہ امکان ختم ہو چکا ہے. یوپی کے ٹیمپو ٹرک پر پوسٹر بھی لگ گیا ہے کہو دل سے، اکھلیش پھر سے. چار اہم جماعتوں میں سے تین کے وزیر اعلی کے امیدوار آپ کے سامنے ہیں.

1989 سے کانگریس اتر پردیش میں واپسی کی راہ دیکھ رہی ہے. انتخابات کے چھ ماہ پہلے اس نے تنظیم کے اوپری سطح پر تبدیلی کرکے بحث میں جگہ پا لی ہے. اب اسے زمین پر جگہ حاصل کرنے کا پلان بتانا ہوگا. 2012 میں راہل گاندھی کانگریس کی واپسی کا چہرہ تھے. 2016 میں اب راہل کی جگہ پرینکا گاندھی کا نام چلنے لگا. طرح طرح کی خبریں آتی رہیں مگر آ گئیں شیلا دکشت. یوپی کے ماہرین زمین پر پارٹی تلاش کر رہے ہیں مگر پارٹی نے کاغذ پر اپنا لیڈر رکھ دیا ہے.

راج ببر پردیش کانگریس کے صدر ہیں. آر پی این سنگھ کو سینئر نائب صدر بنایا گیا ہے. سینئر نائب صدر کے نیچے چار چار نائب صدر بنائے گئے ہیں.

جتن پرساد پردیش، عبدالمنان انصاری، کوری سماج کے رہنما گيادين انوراگی، جاٹ لیڈر سابق ممبر پارلیمنٹ چودھری وجیندر سنگھ. پرمود تیواری کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے ہیں.کوآرڈینیشن کمیٹی میں جو لیڈر ہیں، ان کے نام سے لگا کہ تیواری جی ان ہی کے درمیان کوآرڈینیٹ کر لیں، تو بہت ہے. سنجے سنگھ انتخابی مہم کمیٹی کے چيئرمین ہیں. لکھیم پور کھیری کے سابق رکن پارلیمنٹ جعفر علی نقوی کنوینر بنائے گئے ہیں.

موٹا موٹی یہ کانگریس کے سپہ سالار ہیں. میڈیا میں ہر سپہ سالار کی ذات بھی بتائی جا رہی ہے. یوپی میں 10 سے 13 فیصد کے درمیان برہمن ہیں. کیا اتنا آسان ہے کہ برہمن شیلا دکشت، پرمود تیواری اور جتن پرساد کے پیچھے چلے جائیں گے. بی جے پی نے انتہائی پسماندہ اور انتہائی دلت کانفرنسوں پر توجہ دینا شروع کر دیا ہے. برہمن ووٹوں کی دعویداری بی جے پی کے پاس بھی ہے اور بی ایس پی کے پاس بھی لیکن کھل کر کانگریس ہی اشارہ دے رہی ہے کہ وہ معطل برہمنوں کی پارٹی ہے. پر کیا یہی یوپی میں کانگریس کے زوال کی وجہ نہیں تھا. جو زوال کا سبب تھا جو وہ عروج کا بھی سبب بن سکتا ہے. گزشتہ پانچ انتخابات میں کانگریس کا مظاہرہ دیکھ لیجئے کہ اسے کہاں سے کہاں پہنچنا ہے.

– 2012 میں کانگریس کو ملیں 28 نشستیں اور ووٹ فیصد رہا 15٪

– 2007 میں کانگریس نے جیتی 22 نشستیں اور ووٹ فیصد تھا 8.61٪

– 2002 میں کانگریس کے کھاتے میں 25 نشستیں آئیں اور اسے 8.96٪ ووٹ ملے تھے

– 1996 میں کانگریس نے 33 نشستیں جیتی تھیں اور ووٹ فیصد تھا 8.35٪

– 1993 میں کانگریس کو 15.08٪ ووٹوں کے ساتھ 28 نشستیں ملی تھیں.

1993 میں 28 نشستیں. 12 سال بعد 2012 میں بھی 28 نشستیں. 2012 میں راہل گاندھی کانگریس انتخابی مہم کا اہم چہرہ تھے. اس بار یوپی انتخابات کے تناظر میں ان کی جگہ پرینکا گاندھی کی ہی بحث ہو رہی ہے. کیا کسی حکمت عملی کے تحت راہل گاندھی کو ان بحثوں سے الگ رکھا جا رہا ہے. یوپی میں ایسا کیا ہو گیا ہے کہ کانگریس 28 نشستوں سے چل کر 200 کے قریب پہنچ جائے گی. 2012 میں تقریبا 300 سیٹوں پر کانگریس کو 20000 ووٹ ملے تھے. چوتھے نمبر پر رہتے ہوئے یہ کانگریس کا بینک ہے. کیا کانگریس یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس بار وہ ایک پارٹی کے طور پر منظم طور سے اتر رہی ہے. اسے بھی سنجیدگی سے لیا جائے. انتخابات سے چھ ماہ پہلے کانگریس ان تبدیلیوں سے پریکٹس میچ میں اتر رہی ہے یا فائنل میچ میں. یوپی میں کانگریس کے ساتھ بی جے پی بھی 2002 سے واپسی کا زور لگا رہی ہے. ایک بار پھر بی جے پی بھی امید کر رہی ہے.

امید کا سبب ہے یہ شخص، امت شاہ. جون 2013 میں امت شاہ نے یوپی کا چارج سنبھالا تھا. براہ راست احمد آباد سے لکھنؤ. اس کے بعد یوپی میں کیا کیا، کہاں گئے، کس سے ملے کسی کو نہیں معلوم. صرف اتنا پتہ ہے کہ جب نتیجہ آیا تو بی ایس پی کو صفر نشست اور ایس پی کو پانچ نشستیں ہی ملی ہیں. بی جے پی کو 80 نشستوں میں سے اکیلے 71 نشستیں ملی ہیں. امت شاہ اب بی جے پی کے قومی صدر ہیں مگر آسام انتخابات کے بعد انچارج کی طرح ہی یوپی یوپی گھوم رہے ہیں. ہمارے پاس مکمل فہرست تو نہیں ہے مگر گزشتہ چند مہینوں میں وہ کانپور، كاسگج، میرٹھ، بارہ بنكي، بستی، جونپور، لکھنؤ، بنارس، مئو جیسے بہت سے مقامات پر جا چکے ہیں. کارکنان کانفرنس سے لے کر جلسے تک کر چکے ہیں. ذات کانفرنس بھی کر رہے ہیں. امت شاہ اکیلے قومی صدر ہیں جو اس طرح سے انتخابی مہم میں مصروف ہیں. لگے تو بہار میں بھی تھے مگر نتیجہ نہیں ملا. یہی امت شاہ کی سیاسی خوبی ہے. ہارنے کے بعد بھی اسی طرح سے جٹ جاتے ہیں. گلی گلی کی خاک چھاننے کی دھن آپ کو فی الحال کسی اور پارٹی کے قومی صدر میں نہیں ملے گی. امت شاہ کی جھولی میں بھلے کوئی ووٹ بینک نہیں ہے مگر یوپی انتخابات میں وہ اپنے دم پر ہی فیکٹر بن گئے ہیں. امت شاہ نے پسماندہ طبقات، انتہائی پسماندہ طبقات اور انتہائی دلتوں کا توازن بنانا شروع کر دیا ہے. ان کے جلسے شروع کر دیئے ہیں.

کانگریس یا بی جے پی کو اقتدار میں آنے کے لیے ضروری ہے کہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا وجود مٹ جائے. لوک سبھا میں بی جے پی نے ایسا کر دکھایا تھا مگر کانگریس ابھی تک نہیں کر پائی ہے. کیا اسمبلی میں ایسا ہونے جا رہا ہے. ماضی کے سارے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ یوپی کا الیکشن مشکل ہے. ماضی کے سارے ریکارڈ لوک سبھا انتخابات کے دوران بھی بتا رہے تھے کہ یوپی میں بی جے پی کے لئے مشکل ہے. کیا اس بار اتر پردیش میں کچھ نیا ہونے والا ہے. کیا ہم کسی نئے سیاسی امکان کی ابھرتی ہوئی تصویر دیکھ پا رہے ہیں. پرانے ماہرین پرانی باتیں کر رہے ہیں. لیکن کیا کانگریس شیلا دکشت کے ذریعہ کوئی نئی بات کر رہی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close