ہندوستان

یوگ اور صحت:کس کا دن منایاجائے

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
دوسرے بین الاقوامی یوم یوگا کے موقع پر صدرجمہوریہ راشٹرپتی بھون اور وزیراعظم نریندرمودی چنڈی گڑھ میں منعقدہ پروگرام میں شامل ہوئے تو مودی سرکار کے وزیراور بھاجپا کے ذمہ دار ملک کے مختلف حصوں میں ہونے یوگ پروگراموں کا حصہ بنے۔گزشتہ سال نریندر مودی کی پہل پر اقوام متحدہ نے 21جون کو بین الاقوامی یوم یوگا قرار دیاتھا۔ چالیس مسلم ممالک کے ساتھ 190سے زیادہ دیشوں نے یوگ کے لئے خاص دن مقرر کرنے کی حمایت کی تھی۔ اس وقت بھارت کے کئی حلقوں کی جانب سے شک وشبہات ظاہر کئے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوگا کے ذریعہ مودی سرکار ویدک روایت اور سناتن دھرم کی مذہبی رسم کو رواج دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے سوریہ نمسکار اور اوم لفظ بولنے کو اپنے مذہبی عقیدے کے خلاف بتایا تھا۔ اس رد عمل کے نتیجہ میں یوگا کے پہلے پروگرام سے سوریہ نمسکار کو ہٹادیاگیا۔ اوم لفظ کو یوگ کرنے والے کی مرضی پر چھوڑ دیاگیا کہ وہ چاہے بولے چاہے نہ بولے۔
اس مرتبہ کسی بھی حلقے (مسلمان، عیسائی، کمیونسٹ، سیکولر اور دلت) سے یوگا کے سلسلے میں کوئی آواز سنائی نہیں دی۔ بلکہ چاروں طرف سے یوگا کے بارے میں تعریفی کلمات سنائی دےئے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر ضمیر شاہ نے یوگا کو بھارت کی قدیم تہذیب کا اٹوٹ حصہ بتایا تو تلنگانہ کے نائب وزیراعلیٰ محمد محمود علی نے یوگا کے فائدے بتاتے ہوئے کہاکہ یوگا کے ذریعہ ہم سرسے لے کر پیر تک صحت مند رہ سکتے ہیں اور ہر بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ تلگو فلموں کے مشہور اداکار اور ممبر اسمبلی بالاکرشنا نے کہا کہ بھارت کی وسیع تہذیب وثقافت کو یوگا اجاگر کرتا ہے۔ وہیں تلگو ریاستوں کے مشترکہ گورنر ای ایس ایل نرسمہا نے کہاکہ آسان آسن کے ذریعہ ہم تناؤ کو دور کرتے ہوئے صحت مند دماغ اور صحت مند جسم بناسکتے ہیں۔ جبکہ وزیر ریل سریش پربھو نے اسے جسم ودماغ کے ساتھ ساتھ روح کو سکون پہنچانے والا بتایا۔ وزیراعظم مودی نے کہاکہ آج پوری دنیا میں یوگا کا دن منایاجارہا ہے۔ ملک کے ہر کونے میں یوگا کا پروگرام ہورہا ہے اور اسے معاشرے کے ہر طبقہ کی حمایت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ٹرینرس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ یوگا دنیا میں اقتصادی کاروبار کی طرح بڑھ رہا ہے۔ یوگا ہمارے باپ دادا کی وراثت ہے اور زیروبجٹ سے صحت کی ضمانت دیتاہے۔ ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یوگا سے ذیابیطس پر کنٹرول ممکن ہے۔یوگا طرز زندگی ہے۔ یوگا اپنے آپ میں ایک ثقافت ہے جس کی مدد سے ہم اپنی زندگی کی ہر سرگرمی میں برتری حاصل کرسکتے ہیں۔ یوگا کا کوئی مذہب نہیں ہے سد گرو جگی کا کہنا ہے، وہ مزید کہتے ہیں کہ یوگا نہ جسم کی عبادت ہے نہ سورج کی۔ اسے جسمانی چستی کی ورزش تک محدود کردینا اتنا ہی افسوسناک ہے جتنا اسے کوئی مذہبی اصول گرداننا۔ جگی کا کہنا ہے کہ طرز زندگی یوگا سے نہیں اقتصادی پالیسیوں سے بدلتی ہے۔ اقتصادی مسائل میں پھنسا انسان یوگا سے نجات نہیں پاسکتا۔ یوگا نہ مذہبی ہے نہ بھارتی۔ اودھوٹھاکرنے سے یوگا پر سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا تھا کہ یوگا سے کسی کو روٹی نہیں مل سکتی نہ یہ افراط زر کے مسئلہ سے راحت دلا سکتا ہے۔
پوری دنیا میں ہندودھرم گرو یوگا کی معرفت ہندو مذہب کی تبلیغ اور سیاسی مقاصد کو سادھنے کا کام کررہے ہیں۔ جانکاروں کے مطابق یوگا صحت مند لوگوں کو صحت مند رکھنے میں معاون ہے۔ اس میں کسی بیماری کا علاج نہیں۔ البتہ کئی مرتبہ ڈاکٹر کسی بھی طرح کی ورزش کو منع کرتے ہیں۔ کئی لوگ روزے کو بھی صحت کے نقطہ نظر سے اہم مانتے ہیں ان کے مطابق روزہ رکھنے کے طبی فائدے ہیں۔ کئی لوگوں کو طبیب روزہ رکھنے سے بھی منع کرتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ کوئی بھی مسلمان روزہ طبی فوائد حاصل کرنے کی غرض سے نہیں رکھتا بلکہ وہ خدا کے حکم کے مطابق پورا دن گزارتا ہے۔ جن حالتوں میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے اس پر بھی عمل کرتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو یوگ جہاں ویدک روایت اور سناتن دھرم سے جوڑنے کا کام کرتا ہے وہیں انسان کو اس کے عقیدے یا نظریے میں اعتماد و پختگی بخشتاہے۔ یوگا کا ایک اقتصادی پہلو بھی ہے جسکی طرف خود وزیراعظم نے اشارہ کیا ہے۔ یوگا کو اسکولوں میں لاگو کرنے سے یوگا ٹیچرس کی ضرورت ہوگی اس طرح نوجوانوں کے لئے روزگار پیدا ہوگا۔ جس طرح سنسکرت کو اسکول کے نصاب کا حصہ بنانے سے سنسکرت اساتذہ رکھے گئے اسی طرح یوگا ٹرینر رکھے جائیں گے۔ آشرموں میں چل رہے سنسکرت ودھیالوں سے فارغ ہوئے ہزاروں لڑکے لڑکیوں کو سنسکرت ٹیچر بننے کا موقع ملا۔ اب امید ہے یوگا کے حوالے سے ملک اور بیرون ملک میں کچھ اور بے روزگار برہمنوں کو روزگار مل سکے گا۔
اس دوران صحت سے جڑی کچھ اہم خبریں بھی آئیں لیکن یوگ کے شور میں دب کر رہ گئیں۔ مثلاً ریاستی سرکاروں نے مرکزی وزارت صحت سے شکایت کی ہے کہ زیادہ تنخواہ پر بھی ڈاکٹر دیہی علاقوں میں جانے کو تیار نہیں ہیں جبکہ یہ لازمی کیا گیا ہے کہ کوئی بھی ڈاکٹر بننے والا طالبعلم کم از کم چھ ماہ دیہی علاقوں میں خدمات انجام دیگا۔ یا پھر دہلی کے اسپتالوں کے مطابق وائرل فیور کے مریضوں میں اس سال 40فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اترا کھنڈ جو یوگ اور یوگیوں کی سرزمین ہے میں کینسر، ذیابیطس اور طرح طرح کے بخاروں کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہاں کے یوگ ،یوگی اس کے تدارک میں کوئی قابل ذکر خدمت انجام نہ دے سکے۔ اتراکھنڈ سے لگے سہارنپور میں 24ماہ کے وقفہ میں چار سو لوگ کینسر اور شوگر، وائرل فیور، ملیریا اور ٹائفائڈ جیسے مہلک بخار کی وجہ سے کئی سو لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ لکھنؤ اور مشرقی یوپی میں بھی سینکڑوں لوگ گردن تور کمر توڑ بخار سے موت کا شکار ہوچکے ہیں۔ پنجاب کے کئی اضلاع سے علاج کیلئے لوگ راجستھان آتے ہیں۔ ہمارا ملک پولیو فری ہوچکا ہے لیکن پھر بھی کچھ کچھ دن میں کوئی نہ کوئی واقعہ سامنے آہی جاتا ہے۔ پولیو خسرا کے ٹیکے برابر لگائے جارہے ہیں پھر بھی سردی ختم ہوتے ہی خسرا چیچک کے مریض بڑی تعداد میں نظر آنے لگتے ہیں ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ گاؤں دیہات میں ہو۔ دہلی جیسے شہر میں بھی اس سے متاثر ہزاروں کی تعداد میں مریض دیکھے جاسکتے ہیں۔ ڈینگو، چکن گنیا بھی خوب ہوتا ہے۔ ہر سال شور ہوتا ہے لیکن اس کی روک تھام نہیں ہوپاتی۔
دیش میں مریضوں کی تعدا بڑھنے کے ساتھ علاج مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ عام آدمی کی پہنچ سے دور۔دوسری طرف گاؤں اور چھوٹے قصبات میں معقول طبی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ جہاں کہیں پرائمری ہیلتھ سینٹر ہے بھی تو اس میں کبھی ڈاکٹر نہیں ہوتے تو کبھی دوائی،سہیا، اے این ایم، آنگن واڑی کارکن کام کررہے ہیں لیکن ان کو پورا بیک سپورٹ نہیں مل پاتا اس کی وجہ سے 5سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات میں اضافہ درج کیا جارہا ہے۔ لڑکیوں اور بچوں میں تغذیہ کی کمی عام بات ہے۔ وجہ ہے بھرپیٹ کھانا نہ ملنا۔ پونجی پتیوں کی جیبیں بھرنے کے چکر میں مہنگائی اور غربت عام آدمی کی قسمت بن کر رہ گئی ہے۔ اوپر سے آلودگی نے اس کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔ آلودہ پانی پینے سے کئی گاؤں کے لوگ کم عمر میں ہی بوڑھے نظرآنے لگے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا آخر آدمی کو صحت مند رکھنے کی ذمہ داری یوگا لے سکتا ہے یا پھر اس کو معقول طبی سہولت انتہائی کم قیمت یا مفت میں فراہم کرکے صحت کی گارنٹی دی جاسکتی ہے۔ سچائی یہی ہے کہ بیماری کو بہتر علاج سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ یوگ سے انسانوں کی زندگی کو محفوظ رکھ پانا محض خود کو دھوکہ دینا ہے۔ ایکسویں صدی ترقی اور تکنیک کی صدی ہے اس میں کسی مسئلہ کے حل کیلئے میتھولوجی یا بناوٹی باتوں کو پیش کرنا مسئلہ سے صرف نظر کرنا ہی ہوگا اور کچھ بھی نہیں۔ آج عوام کو ضرورت ہے صاف پینے کے پانی کی، صحت مند غذا اور بہتر علاج کی۔ وہ بھی اس کی پہنچ کے اندر، سرکار اس بات پر غور کرے کہ کس طرح آخری آدمی تک صحت کی سہولت باہم پہنچ پائے۔ کس طرح عوام کوبیماریوں سے نجات دلائی جائے۔ جس دن عام آدمی بیماریوں سے محفوظ محسوس کرنے لگے گا یا اس میں یہ یقین پیدا ہوجائے گا کہ اگر وہ کسی وجہ سے بیمار ہوجاتاہے تو طبی سہولت ملنے کا اسے انتظار کرنا نہیں پڑے گا۔ وہ دن اصل میں خوشی منانے کا دن ہوگا۔ اس دن کو صحت کا دن ہی کہا جائے گا یوگا کا تونہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close