ہندوستان

یکساں سول کوڈکے مطالبہ کے پیچھے کیاسازش ہے؟ (گزشتہ سے پیوستہ)

ایک دلت دانشوروی .ٹی.راج شیکھرکامدلل اورجامع تبصرہ

ترتیب: عبدالعزیز 
یہ نتیجہ درج ذیل دلیلوں سے ظاہرہوتاہے ۔
دلیل نمبر 1:
جب 1955مء میں ہندوشادیوں کاقانون (Hindu Marriage Act)اور 1956ء میں ہندووراثت کاقانون (Hindu Succession Act)کے نام سے ایک قانون پہلے سے موجودتھا۔اگرہندوؤں کامقصدکامن سیول کوڈتھاتووہ براہِ راست ہندوقانون شادی کے بجائے ’’انڈین قانون وراثت ‘‘کوہی ضروری تبدیلیوں کے ساتھ اختیارکرسکتے تھے ۔ اس سے تمام ہندوستانیوں کے لئے ایک ہی قانون ہوسکتاتھا۔ اس کے باوجودبھی انہوں نے خوداپنے لئے ہندوقانونِ وراثت بنالیا۔ اُسوقت اُن کا’’قومی یکجہتی ‘‘کاشعورکہاں چلاگیاتھا؟اوراس وقت انھوں نے فرقہ وارانہ قوانین کومٹانے کاخیال کیوں نہیں کیا؟کیااس سے کامن سول کوڈکی چیخ وپکارسے اونچی ذات والوں کامقصدظاہرنہیں ہوتا؟
دلیل نمبر 2:
پہلے ہندوقانون میں طلاق جوازنہیں تھا۔ ان لوگوں کوطلاق سے نفرت تھی اورآج بھی ہے ۔ اس کے باوجودبھی انہوں نے ہندوقانونِ شادی میں طلاق کاجواز جاری کیا،لیکن اس کواتنامشکل بنادیاکہ ایک ناخوش جوڑے کوطلاق حاصل ہونے تک اُن کی جوانی ختم ہوجاتی ہے ۔اورلاکھوں جوڑوں کی زندگیاں بربادکرنے کے بعدیہ لوگ اسلامی قانون کے قریب آگئے کہ انہوں نے ’’راضی خوشی سے طلاق‘‘کاجوازداخل کیا جس کے تحت شادی کے ایک سال بعدمیاں بیوی کی رضامندی کے ساتھ طلاق حاصل کی جاسکتی ہے ۔
لیکن یہ جوازہندوؤں کے لئے صرف کتابوں میں ہے ۔ شہروں میں پڑھی لکھی عورتیں اس کوبہترین موقع سمجھ کراپنی رضامندی ظاہرنہیں کرتیں۔اورالگ رہ کراپنے شوہروں سے نان ونفقہ طلب کرتی ہیں۔ اس حالت سے بچنے کے لئے ہندومردوں نے دوطریقے اختیارکئے ہیں۔
(الف) یہ کہ اپنی بیوی کوزندہ جلاکرتمام ثبوت تباہ کردیتے ہیں اوراس جرم کوخودکشی بتاکرپیش کرتے ہیں۔ دلہن سوزی کے واقعات جہیزکی موتیں نہیں بلکہ طلاق کی موتیں ہیں۔
(ب) دوسراطریقہ جومردوں نے اختیارکیاہے وہ ہے دوسری شادی۔ دوسری شادی کے ثبوت کے لئے عدالتی فیصلے اتنے دشوارہیں کہ اس کے لئے بڑاہی ٹھوس ثبوت دیناپڑتاہے ، جس کے سبب سے شادی تقریباًثابت ہی نہیں ہوسکتی ۔اوراگرثابت ہوبھی جائے تواس سے نہ پہلی بیوی کوفائدہ پہنچ سکتاہے اورنہ دوسری بیوی کو۔ دونوں کونقصان ہوتاہے کہ اس سے تعزیراتِ ہندکے تحت شوہرکوقیدکی سزاہوجاتی ہے ۔ ہندوسماج مردوں کی زبردستی کومانتاہے اوراِس کی اُن کے مذہب سے اجازت ملتی ہے ۔
بات یہ ہے کہ شوہراپنی بات نہ ماننے والی بیوی کے ظلم سے بچنے کے لئے اس بات کوبہترسمجھتاہے کہ ایک خیالی اورناقابل ثبوت قیدکواختیارکرلیاجائے ۔ بجائے اس کے کہ دس برس تک قانونی چارہ جوئی میں گزرجائیں اوراپنی پوری زندگی بربادہوجائے ۔ بہت ساری عورتوں کی انجمنوں نے یہ مطالبہ کیاکہ دوسری شادی کے ثبوت میں آسانی لائی جائے تاکہ دوسری شادی کرنے والاشوہرسزاپاسکے۔اگرایساکیاگیااوردوسری شادی آسانی سے ثابت ہوگئی توایک اوربڑامسئلہ کھڑاہوجاتاہے ۔ دوسری بیوی اوراُس کے بچوں کی وراثت کامسئلہ ، جوپہلی بیوی کسی صورت برداشت نہیں کرتی ۔ کیونکہ یہاں ایک دوسراقانون بیچ میں آجاتاہے کہ دوسری بیوی کے بچے اس وقت وراثت کے حقدارنہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ دوسری شادی شوہرکی زندگی میں ثابت نہ ہوجائے ۔ شوہراوربیوی دونوں سزاکے خوف سے اس شادی کورازمیں رکھتے ہیں۔ اس طرح سے دوسری شادی کرنے والاشوہردرحقیقت پوری طرح آزادہے۔
اس لئے ہندوقانون کے ماہروں کوایک ہی راستہ نظرآرہاہے کہ دوسری شادی کے ثبوت کے قانون کوآسان کیاجائے اورایسے شوہرکوسزادی جائے ۔اوردوسری بیوی اوراُس کے بچوں کوبرابرکادرجہ دیاجائے ۔ماہرین قانون محسوس کرتے ہیں کہ جیسے ہی ایساکیاگیاتواس کامطلب مسلم پرسنل لاء کااختیارکرناہوگا۔صرف اس فرق کے ساتھ کہ مسلم پرسنل لاء میں دوسری شادی کے لئے سزانہیں ہے ۔لیکن یہ لوگ اس کے ماننے میں شرم محسوس کرتے ہیں کہ اِس سے اُن کے ہندوغرورکوچوٹ لگتی ہے ۔’’ہندوقانونِ شادی‘‘کے ہاں اس کاکوئی حل نہیں ہے ۔اورتمام ماہرین قانون کے دماغ ماؤف ہوچکے ہیں۔
دلیل نمبر 3:
بہت سے ایسے شوہرہیں جوبیوی کی زناکاری ، سردمہری ، جنسی انجماد، ہٹ دھرمی سے مجبورہیں۔ یابرترسماجی حیثیت رکھنے والی عورت جیسے جج، افسر، سیاستداں، سوشیل ورکروغیرہ کے شوہرہیں جواپناوقت شوہرکے بجائے اُن کاموں میں لگاتی ہیں۔ یاایسے مردجوفلم ایکٹردھرمیندرکی طرح دوسری عورت کے دامِ محبت میں گرفتارہوجاتے ہیں،یاوہ شوہرجوکسی اورسبب سے دوسری شادی کرناچاہتے ہیں(شادی بیاہ کے معاملات انتہائی ذاتی ہونے کے وجہ سے تمام اسباب کوبیان نہیں کیاجاسکتا)۔اِن شوہروں نے ایک اورطریقہ اختیارکرلیاہے ، یعنی وہ صرف ایک حلف نامہ عدالت میں پیش کردیتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیاہے اوراس طرح سے مسلم پرسنل لاء کے ضمن میں آجاتے ہیں ۔اورپھردوسری شادی کرلیتے ہیں۔ یہاں ہندوسوچتاہے کہ اس طرح کے مجبورمردوں کومسلم پرسنل لاء بچالیتی ہے اوراس لئے اس کوتباہ کردیناچاہئے ۔ ہندوبڑی آسانی سے اپنے ضمیرکوسردخانے میں محفوظ کردیتاہے ۔ جب اس کوکسی چیزسے فائدہ اُٹھاناہوتاہے چاہے وہ چیزاس کے مذہب کی دشمن بھی کیوں نہ ہو۔ طلاق ایسی ہی ایک چیزہے۔
دلیل نمبر 4:
مسلم پرسنل لاء میں طلاق سے پہلے بہت ساری ذاتی اورسماجی شرطیں ہیں جیسے نصیحت ، تھوڑے عرصے کے لئے علاحدہ سونا،اوردونوں طرف کے بزرگوں سے مراجعت ۔ جب یہ تمام اقدام ختم ہوجاتے ہیں توطلاق کہی جاسکتی ہے ۔ ہندوقانونِ شادی نے بھی ان اقدامات کواختیارکیاہے ۔لیکن فرق یہ ہے کہ یہ سب کام ہندوقانون کے تحت جج کرتاہے ۔ شوہروبیوی اوراُن کے بزرگوں کی کوششوں کوتسلیم نہیں کیاجاتا۔اُونچی ذات والے ، آئی اے ایس والے ، سرکاری افسرجوحقیقت میں ہندوستان کاقانون بناتے ہیں ، اس بات کونہیں مانتے کہ شوہر، بیوی اوراُن کے بزرگ بھی عقل رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں عقل توصرف اُن کی ہی جاگیرہے ۔لاکھوں ناخوش جوڑوں کی زندگیاں بربادکرنے کے بعدانہوں نے ’’راضی خوشی کی طلاق‘‘کاجوازپیداکیاہے۔
دلیل نمبر 5:
ہندوستان کے شہروں میں ہرپانچواں ہندوگھربکھراہواہے ۔ شروع شروع کاپیارومحبت ختم ہوتے ہی نوکرپیشہ جوڑوں کے درمیان ناچاقی شروع ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ ہندوؤں پرمذہب کااثربہت کم ہے ۔اوران کی زندگی میں اخلاق کاکوئی کام نہیں ۔ اس لئے ہندوشوہربہت جلداپنے کئی کئی بیویاں رکھنے والے شہوت پرست آریائی خداؤں کے نقشِ قدم پرچلناشروع کردیتاہے ۔اوریہاں سے مصیبت شروع ہوجاتی ہے ۔لیکن اُن کے درمیانی طبقے کاماحول شادیوں کوتوڑنے سے روک دیتاہے ۔ اس لئے کہ اُن کامذہب نہ شوہرکی مددکرسکتاہے اورنہ عورت کی۔ ایسے شوہرفطری طورپرطلاق کافائدہ اُٹھاناچاہتے ہیں۔
دلیل نمبر 6:
چونکہ تمام اخبارات ہندوؤں کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لئے کسی مسلمان جوڑے کی طلاق کی خبرکوخوب اُچھالاجاتاہے ۔لیکن روزانہ اخبارات میں ہندوؤں کے ٹوٹتے ہوئے گھروں کے بہت سارے قصے شائع ہوتے رہتے ہیں۔میاں بیوی کاجھگڑنا، پولیس تک جانااوریہاں تک کہ قتل کی واردات کاہونا، ہندوستان میں روزکامعاملہ ہے ۔ لیکن شوہروبیوی کی تکرارمسلمانوں میں بہت کم ہے ۔ اس کاسبب مسلمانوں کی سوچ کابہترطریقہ ہے۔
کامن سول کوڈکے مطالبے کے سلسلے میں ہندوؤں کے دماغ کے پیچھے چھپی ذہنیت کاتجزیہ کرنے کے بعدمسلمانوں کی ایک سے زائدشادیوں اورطلاق کے معاملے کودوسرے قوانین کوسامنے رکھ کرہم کچھ روشنی ڈالناچاہتے ہیں تاکہ تصویرکادوسرارخ بھی ظاہرہوجائے۔
مسلمانوں کی ایک سے زائد شادیاں:
ایسے ملک میں رہنے کے باوجودجہاں کاہرچھٹاپڑوسی مسلمان ہے ۔ہندومفکر، اسلام اورمسلمانوں کویوروپ کی ان کتابوں کے ذریعہ جانناچاہتاہے کہ جوانیسویں صدی میں مسلمانوں کے خلاف چرچے کے لئے مسلمانوں کے دشمنوں نے لکھی تھیں۔ مسلمانوں سے سیاسی قوت چھیننے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعدسیاسی یوروپ کے مصنفوں نے ایسی کتابیں لکھناشروع کیاجواپنی پرانی مسلم دشمن کتابوں کی تردیدکرتی ہیں۔ اس کے باوجودہندومصنف ، اخبارنویس، جج اورسرکاری ملازم اسی مسلم دشمنی پرمبنی چرچے کے پلندہ کوپڑھتارہتاہے ۔ یہ کہنے کے لئے کہ ہرمسلمان چارچارشادیاں کرتاہے ۔ یو.پی. کے اسکولوں میں ہندواُستادچھوٹے چھوٹے بچوں کوکلاسوں میں کہتے ہیں کہ ’’ہرمسلمان اپنی زندگی میں بیس (20)گائے کھاتاہے ۔اگرہم ایک مسلمان کوماردیں تو20گایوں کابچاسکتے ہیں۔‘‘
اونچی ذات والے حقیقت کے بجائے چرچے پرزیادہ ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اعدادوشمارجماتاہے ، سماجی ومعاشی سروے کرتاہے ۔ مسلمانوں کے ساتھ ملتاہے اورجانتاہے کہ سومیں سے ایک مسلمان بھی دوسری بیوی نہیں رکھتا۔لیکن ہندوصرف اس بات کومانتاہے کہ جس کووہ مانناچاہتاہے ۔ اس لئے وہ راگ الاپتارہتاہے کہ مسلم پرسنل لاء کے مطابق ہرمسلمان چارچارشادیاں کرتاہے ۔ قابل رحم بات تویہ ہے کہ 95%(پچانوے فیصد) مسلمان تواتنے غریب ہیں کہ انہیں ایک بیوی رکھنے کی بھی حیثیت نہیں ہے ۔لیکن حقیقت کے جاننے کی کس کوضرورت ہے ؟ ہندوسمجھ سے کام لینانہیں چاہتا۔وہ اس بات پرغورکرنانہیں چاہتاکہ جس طرح سے اُس نے خودہندوقانونِ شادی میں طلاق کاجوازصرف مخصوص حالتوں کے لئے رکھ چھوڑاہے ۔اُسی طرح مسلمانوں کی ایک سے زیادہ شادیوں کاجوازبھی مخصوص حالات میں ہے۔
ہندویہ سوچنے سے انکارکرتاہے کہ شادی صرف جنسی ضروریات کے لئے نہیں ہے بلکہ اخلاقی اورسماجی ضرورتوں کوپوراکرنے کے لئے بھی ہے ۔ جیسے سماجی تحفظ ، بڑی عمرمیں معاش کی فراہمی ، ایک دوسرے کی مدد، جنگ میں مرنے والوں کی بیواؤں کاتحفظ ،اولادکی خواہش، مجبوروں کی اورمعذوروں کی مددوغیرہ۔ آج کے سماج میں جہیزایک بڑامسئلہ بن گیاہے ۔ اس کاایک سبب یہ بھی ہے کہ شادی کے لائق لڑکوں سے لڑکیوں کی تعدادزیادہ ہے ۔ اس لڑکوں کے والدین بہت چنتے اورچھانٹتے ہیں۔ وہ نوعمراورمالداراورزیادہ خوبصورت لڑکیوں کی تلاش میں لگتے ہیں۔اورزیادہ عمروالی اورمعمولی شکل وصورت والی لڑکیاں بغیرشادی کے رہ جاتی ہیں۔اسی لئے جہیزکی مانگ ہوتی ہے ۔یہ غریب زیادہ عمروالی اورکم خوبصورت لڑکیاں زندگی بھربغیرشادی کے رہنے پرمجبورہوجاتی ہیں۔ ایسی ہی لڑکیاں گھرکاکام وکاج کرنے والی، پیشہ وراورمزدوربن جاتی ہیں اورترقی یافتہ شہروں میںیہی کال گرل، سیلس گرل اوردوسرے سفیدپوش نوکربن جاتے ہیں۔ زمانۂ وسطیٰ کے انگلینڈمیں غیر شادی شدہ لڑکیوں نے چرخہ کاتنے کواپنے معاش کاذریعہ بنایاتھا۔ اس لئے انہیں چرخے کاتنے والیاں”Spinsters”کہاجاتاتھا۔اورآج تک بھی یہی لفظ غیرشادی شدہ لڑکیوں کے لئے کہاجاتاہے۔
دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اُٹھانے والے مردوں کے اقتدارکے سماج میں شہوت کے بھوکے اخبارنویس ، سیاستداں، سرکاری افسراورسرمایہ دار، ان بدنصیب مجبورعورتوں کواپنے چاروں طرف کام پرلگاکراپنے ماحول کوپُرلطف بنارہے ہیں۔ جب تک یہ جوان ہیں تب تک اُن کی ہرمقام پرضرورت ہے ۔اوراُن کے بوڑھے ہونے پرانہیں لاپروائی سے چھوڑدیاجاتاہے ۔ اپنے مستقبل کومحفوظ رکھنے کے لئے ان میں سے باشعور، قحبہ خانہ شروع کردیتے ہیں اورکم شعوروالے گھروں میں کام کرنے والے ، بھکاری اورفٹ پاتھ کے تاجربن جاتے ہیں۔کمیونزم کے آنے سے پہلے شنگھائی میں اس طرح کی سیکڑوں بدکارعورتیں تھیں۔ لیکن چین کے انقلاب نے مردوں کے اقتدارکوختم کردیا۔اوراُس کے ساتھ ہی عورتوں کی بدکاری ماضی کی داستان بن گئی ۔ ان عورتوں کی ساری زندگی آزارکی زندگی ہے۔ کسی نہ کسی طرح وہ زندہ رہ جاتی ہے ۔ لیکن ان کی سب سے بڑی فطری خواہش یعنی ماں بننے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی ۔ جب تک کہ وہ بغیرشادی کے ماں بننے کے لئے تیارنہ ہوجائیں۔ ان کے اس مسئلے کوکون حل کرسکتاہے ؟انہیں کون اولاددے سکتاہے ؟اورتمام زندگی بھرمحفوظ رکھ سکتاہے ؟ مسلمان علماء کہتے ہیں کہ انہی بدنصیب عورتوں کی تکلیف دورکرنے کے لئے اسلام میں ایک سے زیادہ شادیوں کارواج ہے ۔(سریم ظفراللہ خان :۔(Its meaning for modren man 1962 : Islam
پیشہ ور، داشتہ ، مالش کرنے والی ٹاپلیس بیرر، کال گرل وغیرہ بننے کے بجائے کیایہ عورت کے لئے بہترنہیں ہے کہ وہ قانونی طورپرکسی کی دوسری بیوی بن جائے؟وہ کہتے ہیں کہ اسلام میں ایک سے زیادہ شادیاں کاجوازمردکے بہ نسبت عورت کے فائدہ کے لئے بنایاگیاہے اورہمیں ہرطرح سے اس بات کایقین ہوتاہے کہ عورتوں کوہندوؤں کے بہ نسبت مسلمانوں میں مقدس ماناجاتاہے۔ لیکن اونچی ذاتی ہندوؤں کے لئے عورت توایک پاپوش ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close