ہندوستان

یکساں سول کوڈ کا نفاذ ناممکن

نازش ہما قاسمی

سرخیوں میں رہنے والے سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نےدھمکی بھرے انداز میں حکومت کا دھونس جماتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اپنے شرانگیز بیان کے ذریعہ کہا ہے کہ وہ اگر طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے کی بات نہیں مانے گی تو ہم قانون بناکر اسے مسلمانوں پر تھوپ دیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت اور کے اراکین کی نیتیں کیا ہیں اگر واقعی مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی ہوتی تو انہیں سب سے پہلے گجرات میں ان مسلم خواتین جن کی عزتیں سرعام اسی مودی کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے لٹی گئی ہیں ان کی ہمدردی میں آتے ، انہیں انصاف دلانے کی باتیں اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا معاملہ پیش کرتے ہوئے انہیں یہ باور کراتے کہ ہم آپ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں جن سے آپ پر ہوئے مظالم کا ازالہ ہوجائے گا لیکن نہیں انہیں تو مسلمانوں کے شرعی مسائل میں دخل اندازی کرنا مقصود اور انہیں دین حنیف سے دور کرکے ہندوانہ رسم ورواج کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان دوسالوں کے اندر ایک خاص بات ہندوستانی عوام نے ضرور نوٹ کیا ہوگا کہ جب سے یہ ’بھگوا پسند‘ مودی سرکار آئی ہے یکے بعد دیگرے ’گھرواپسی‘ ، ’لوجہاد‘ ،اسکولوں میں ’گیتا‘ کا پاٹھ اور سوریہ نمسکار وغیرہ اسلام مخالف افعال کے ذریعہ مسلمانوں کے عقائد پر شب خون مارنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو ان سب باتوں میں الجھا کر انہیں ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھنا اور ان کے عقائد پر حملہ کرکے انہیں ذہناً بھی مسلمان نہیں رہنے دینا ہے ۔ نہیں تو آخر کیا وجہ تھی کہ ان سب باتوں کا پے درپے ظہور ہوا اور جس طرح سے مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لاء کے تعلق سے اپنا حلف نامہ داخل کیا ہے اسے کسی بھی طرح درست اور نیک نیتی پر محمول نہیں کیا جاسکتا ۔ہندوستان مختلف مذاہب وملل والا دیش ہے جہاں بے شمار قومیں آباد ہیں جو اپنے اپنے مسلک زندگی گزار رہے ہیں۔ ہندوستان کی ایک عجيب خصوصیت یہ ہے کہ یہاں علاقہ کے اعتبار سے بھی مذاہب کے رسم و رواج میں فرق پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سب کیلئے اپنے مذہب کے تئیں عمل کرنے کی مکمل آزادی آئین ہند نے دفعہ 25 کے تحت دی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حکومت نے کسی بھی مسلک یا مذہب کے اندرونی اور داخلي امور ر میں دخل اندازی کی ہے۔ لیکن اس مرتبہ مرکزی حکومت نے مسلم پرسنل لاء میں دخل اندازی کا کام کیا ہے وہ کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ۔ حکومت اگر ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ عمل میں لاتی ہے تو کون سا قانون ایسا ہے جسے ہندوستان کے تمام لوگ قبول کرنے کیلئے تیار ہوجائیں گے؟ بادی النظر میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے، سکھوں کیلئے کرپال رکھنے کی اجازت ہے کیا حکومت اس پر پابندی عائد کردے گی یا پھر پورے ملک میں تمام لوگوں کیلئے کرپال رکھنے کی اجازت دی جائے گی؟ حکومت نے جن موضوعات کو اپنے حلف نامہ میں اجاگر کیا ہے ان میں، طلاق، تعدد ازواج اور نکاح و حلالہ ہے طلاق کے تعلق سے حکومت نے صاف طور پر اپنا یہ موقف رکھا ہے کہ طلاق اسلام کے بنیادی اصول میں سے نہیں ہے اسلئے اگر طلاق کے معاملہ میں تبدیلی آتی ہے تو اس سے اسلام کے بنیادی اصول پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ آخر حکومت نے کس وجوہ اور بنیاد پر اپنا یہ موقف رکھا ہے اور اس کے دلائل کیا ہیں اس سے خاموش ہے۔ مسئلہ طلاق میں ائمہ اربعة کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مجلس کی تین طلاق بیک وقت تین نافذ ہوجائے گی۔حکومت نے اپنے حلف نامہ میں جو بات کہی ہے کہ طلاق ثلاثہ کو ختم کردیا جائے، مجلس کی تین طلاق ہو یا پھر الگ الگ دی گئی تین طلاق ہو بہر صورت واقع ایک ہی ہوگی۔اس معاملہ میں اُن لوگوں نے خوب نام کمایا ہے جو دین بیزار ہیں اور جنہیں مغربی تہذیب نے اندھا کر رکھا ہے۔ایسی صورت میں اگر فیصلہ حکومت کے حلف نامہ کے مطابق آتا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ طلاق ثلاثہ کا وجود ہی ختم ہوجائے گا ۔حکومت نے اور دیگر خودساختہ مسلم دانشوروں نے اس بات پر بھی زور دینے کی کوشش کی ہے کہ طلاق کا حق صرف مرد کو کیوں ہے،جس طرح نکاح کیلئے دونوں کی رضامندی ضروری ہے  طلاق کیلئے بھی یہی صورت ہونی چاہیے۔لیکن ان عقل کے اندھوں نے خلع کے مسئلہ کا کہیں بھی تذکرہ نہیں کیا ہے۔جس طرح مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ طلاق کے ذریعہ نکاح ختم کرسکتا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی یہ اختیار ہے کہ وہ خلع کے ذریعہ نکاح کو فسخ کرسکتی ہیں۔ حکومت نے یہ دعوی کیا ہے کہ ملک میں کسی کے ساتھ عدم مساوات کا سلوك نہیں کیا جائے گا۔ ایک عام سا سوال یہ ہیکہ کیا ہندوستان کی تمام مسلم عورتوں کے حقوق ادا کر دئے گئے ہیں۔اگر صرف فساد متاثرین کی بات کی جائے تو یہ حکومت کے منہ پر ایسا طمانچہ ہے جس سے کوئی بھی حکومت محفوظ نہیں رہ سکتی ہے۔یہ حکومت کا ڈھکوسلہ ہے اور چند عياش قسم کے مسلم نام رکھنے والوں کی کارستانی ہے۔دہلی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بینر تلے مسلم تنظیموں کی متحدہ پریس کانفرنس میں جن باتوں پر زور دیا گیا ہے وہ قابل ستائش ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آج پھر مسلمانوں کی تقريباً سب ہی بڑی تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر آگئی ہیں جس سے مسلمانوں میں خوشی ومسرت کی لہرہے اور ان کے گمان میں اب انشاء اللہ متحدہ پریس کانفرنس سے جو دوٹوک باتیں کی گئیں ہیں وہ سرکار کی چولیں ہلادیں گی اور وہ اپنے عزائم میں ناکام ہوجائیںگے۔ مسلمانوں کے شرعی معاملات میں دخل اندازی سے اتنا تو شاید تمام مسلمانوں کو علم ہوہی گیا ہوگا کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اور جس طرح سے چند لوگوں کی آڑ لے کر میڈیا نے واویلا مچایا ہے اور جن لوگوں کو مسلم چہرہ بنا کر پیش کررہی ہیں یہ جگ ظاہر ہے۔ایسے وقت میں میڈیا کی ضرورت اور اپنی بے بسی کا شدت سے احساس ہوتا ہے، ہم نے ستر سالوں میں اپنا ایک بھی میڈیا ہاؤس قائم نہیں کیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنی بات پہنچانے کیلئے محتاج ہوگئے ہیں، مسلم پرسنل لاء پر جس شدید قسم کا حملہ میڈیا نے کیا ہے اور جس طرح ماحول بنایا ہے، یہ سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے اگر ہم بروقت اپنی بات قوم تک نہیں پہنچا پائیں گے تو ممکن ہے کہ قوم میں مایوسی پھیلے ، صرف اردو کےا خبارات ہی کافی نہیں ہے ہمیں مسلم قوم کے ساتھ ساتھ برادان وطن کی بھی ذہن سازی کرنی ہے کیوں کہ اس معاملے میں جس طرح سے مرکزی حکومت نے برادران وطن کے ذہنوں میں جو وساوس کے جال پھیلائے ہیں جس سے انہیں کچھ یقین سا ہوگیا ہے کہ مسلمان طلاق کے ذریعہ عورتوں کا استحصال کررہے ہیں لہذا اسے دور کرنے کی کوشش بہر صورت ضروری ہے۔ تاکہ ان کے اذہان صاف ہوں اور سیکولر از م کے بقاء کی خاطر یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں روڑے اٹکانے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close