ہندوستان

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

عزیر احمد

جب پورا ملک آزادی کے نعروں سے گونج رہا ہے، جگہ جگہ دیش بھکتی پر مبنی گیت گائے جارہے ہیں، چاروں طرف فضاؤں میں ترنگے کی پھڑپھڑاتی ہوئی آوازیں سنائی دے رہیں ہیں، دلہی میں لوگ اپنے چھتوں پر پتنگ بازیوں میں مصروف ہیں، تب میں اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھ کر دور کہیں خیالات کی وادیوں میں گم ہوں، 15 اگست 1947 کے دن کا سورج مجھے یاد آرہا ہے جب وہ اہل وطن پہ ایک نئی زندگی، اور نئے عہد کی نوید جانفزا لیکے طلوع ہوا، پورا ملک خوشی اور سرشاری سے جھوم رہا تھا، نئی امیدوں اور نئے آزوؤں کا اجالا ہوچکا تھا، بوڑھوں کے بھی جذبے جواں ہوچکے تھے، نئی امنگوں کا تانا بانا بنا جاچکا تھا، روشن مستقبل کی خواہشیں دلوں میں انگڑائیاں لے رہیں تھی، ہر چہرہ خوش، ہر مکھڑا سجا سنورا تھا، لیکن کسے خبر تھی کہ آنے والے ایام خوش آئند بھی ثابت ہوں گے، ہمیں آزادی تو ضرور ملی، مگر صرف جسمانی آزادی، فکری، اور عملی آزادی تو ہمیں نصیب ہی نہیں ہوئی، ہماری مسجدوں کو توڑ دیا گیا، ہمیں تعلیمی میدان میں پیچھے کردیا گیا، سیاست میں ہمیں بے وقعت کردیا گیا، ہم پہ خوف و ہراس کو مسلط کردیا گیا، ہمیں متنازعہ گیت گانے پہ مجبور کیا گیا، ہمیں فسادات کی آگ میں جھونک دیا، ماؤں اور بہنوں کی عصمتوں کو گجرات، احمدآباد، اور پھر مظفر نگر میں لوٹا گیا، ہمیں گھر سے بے گھر کردیا گیا، ہمیں دیش دروہی اور نہ جانے کتنے القاب سے ملقب کیا گیا، ہمارے نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا، اور پھر ان کی زندگی کے قیمتی ایام ضائع کردئیے گئے، ہماری سوچوں پہ پہرے بٹھادئیے گئے، ہماری زبانوں پہ تالے لگا دئیے گئے، ہمیں مصلحتوں کے سمندر میں غرق کردیا گیا، ڈر ڈر کے جینے پر آمادہ کیا گیا، ہمیں کبھی پاکستان بھگانے کی بات کی گئی، کبھی گئو رکشا کے نام پر ہماری ہتیا کردی گئی، ہمارے مدارس کو دہشت گردی کے اڈے بتائے گئے، ہماری یونیورسٹیوں پہ ریڈ مارے گئے…کیسی آزادی اور کس چیز کی آزادی….کس چیز کی خوشی، یہ تو آزادی کا نہایت ہی بھیانک چہرہ ہے، یہ تو وہ آزادی نہیں ہے جس کے خواب دیکھے گئے تھے، جس کے دیپ جلائے گئے تھے، یہ تو وہ تعبیر حیات نہیں ہے جس کے نقوش تیار کئے گئے، یہ تو وہ برابری اور مساوات نہیں ہے جس کی قانون میں بات کی گئی تھی، اگر آج ہمارے اکابرین زندہ ہوتے تو آج کا ماحول دیکھ کے وہ ضرور کہتے کہ اس سے اچھے تو انگریز تھے، کم سے کم وہ ہندو مسلم دونوں کو ایک نظر سے دیکھتے تھے، دونوں پہ یکساں ظلم کرتے تھے، آج کی طرح تو نہیں، کہ ایک طرف جمہوریت کے گن بھی گائے جائیں، دوسری طرف اقلیتوں پہ حملے بھی کئے جائیں، ایک طرف مساوات، عدل و انصاف کی باتیں کی جائیں، دوسری طرف اقلیتوں کے معاملے میں اس کو فراموش کردیا، بلکہ ظلم کرنے والے کو اس ملک کی سب سے عظیم الشان کرسی عنایت کردی جائے….نہیں یہ آزادی تو نہیں ہے…ہمیں وہ آزادی چاہیئے جو سب کے لئے برابر ہو، جو انسان کو مذہب کی بنیاد پہ نہیں اس کے صلاحیتوں کی بنیاد پہ تولے، جس میں دور دور تک بھید بھاؤ کا شائبہ نہ ہو، سب کو یکساں حقوق حاصل ہوں، پڑھنے کی آزادی ہو، سوچنے کی آزادی، لکھنے اور بولنے کی آزادی، جہاں ہر پل، ہر وقت احساس ہو کہ ہاں ہم آزاد ہیں، ایسی آزادی کہ جب لکھنے بیٹھیں تو یہ نہ سوچنے پہ مجبور ہونا پڑے کہ کہیں اس تحریر پہ ہماری گرفت تو نہیں کی جائیگی، کہیں اسے دیش مخالف تحریر تو نہیں بتایا جائیگا، ہمیں اس قسم کی آزادی چاہیئے جہاں اکثریتیں اقلیتوں پہ ظلم نہ کرسکیں.

ہندوستان کے اندر جس طرح کی آزادی آج کل رقصاں ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، اقلیتوں پر حملہ کرنے کی آزادی، ان کی عبادتوں کو توڑنے کی آزادی، ظلم کرکے قانون سے بچنے کی آزادی، معصوموں کے جیل کے سلاخوں میں دھکیل کر ان کی زندگی برباد کرنے بعد آرام سے رہنے کی آزادی، بے قصور لوگوں کو جھوٹے معاملات میں پھنسا کر ان کا میڈیا ٹرائل کرنے کی آزادی، چینلوں پہ بیٹھ کر سرعام دوسروں کے مذہب کے خلاف ہفوات بکنے کی آزادی، بھیڑ کو قانون ہاتھ میں لینے پر اکسانے کی آزادی، تعلیم کو بھگوا کرن کرنے کی آزادی، نصاب تعلیم سے مسلمانوں کے ذکر کو حذف کرنے کی آزادی، یہ آزادی مبارک ہو، ظالموں کو، نام نہاد وطن پرستوں کو، گائے پر سیاست کرنے والوں کو، لفظوں کے پیچ و خم میں پھنسا کر ایک خاص کمیونٹی اور قوم کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے والوں کو، آزادی مبارک ہو غنڈوں کو، بدمعاشوں کو، گئو رکشا کے ذمہ داروں کو….آزادی مبارک…انہیں مبارک ہو آزادی…ہمارے نصیب میں تو غلامی کا درد ہے، افلاس و بھکمری کی غلامی، جہالت کی غلامی، آہوں و سسکیوں کی غلامی، ہم بھی آزادی چاہتے ہیں…وہی آزادی جس کے نعرے جے.این.یو میں لگائے گئے تھے…

ہم کیا مانگیں آزادی

بھکمری سے آزادی

جہالت سے آزادی

بے روزگاری سے آزادی

سامنت واد سے آزادی

منو واد سے آزادی

برہمن واد سے آزاردی

ذاتی واد سے آزادی

سنگھ واد سے آزادی

پونجی واد سے آزادی

اور سب سے بڑھ کر

آر.ایس.ایس سے آزادی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Close