ہندوستان

یہ کس کا لہو ہے… کون مرا؟

ابراہیم جمال بٹ

میں بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک اپاہج پر نظر پڑی جو ہر کسی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ چند پیسے اس کی جھولی میں آسکیں ، چنانچہ میں نے جب اس کی جانب قدم بڑھائے تو وہ شخص مجھے اپنی جانب آتا دیکھ کر خاصا خوش ہوا کیوں کہ زیادہ تر لوگ اسے نظر انداز کرکے پاس سے گزر رہے تھے……!

  میں نے اس کے پیروں کے بارے میں اس سے دریافت کیا ،کہ اس کے پیروں کو کیا مسئلہ ہے… جب تک وہ کچھ جواب دیتا ،کہ اچانک ایک زور کا دھماکہ ہوا، دھماکے کی خوفناک آواز سن کر بھگدڑ مچ گئی،کیوں کہ جب جان پر بن آتی ہے تو کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ کیا ہو رہا ہے بلکہ سب اپنی جان بچانے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں، میں بھی اسی دوڑ میں آگے بڑھا، پاس ہی ایک دفتری عمارت میں گھس کر سیدھے دوسری منزل پر چڑھ گیا، وہاں کھڑکی سے سڑک کی طرف جب نظر ڈالی تو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا، صرف فوجی ہی فوجی نظر آرہے تھے۔

 اچانک یکے بعد دیگرے چند اور زوردار دھماکے ہوئے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ گولیوں کی بے شمار آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں …پھر ایک گاڑی (جپسی)نمودار ہوئی جو فوجیوں سے بھری تھی… فوجیوں نے جونہی گاڑی کی کھڑکیاں کھولنے کی کوشش کی، کہ ایک اورزوردار دھماکہ ہوا… تب ہی اچانک فوجی گاڑی سے ایک نوجوان کو لات مار کر باہر پھینکا گیا، جو زندہ تھا… اس کا گرنا ہی تھا کہ اس پر اندھا دھند گولیوں کے علاوہ آس پاس سڑکوں پر ہتھ گولے پھینکے گئے۔

اگرچہ دور سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ گولیاں کتنی تھیں ،لیکن ایک سو کے قریب تو تھیں جو اس نوجوان کے جسم میں پیوست کر دی گئیں ۔ جس کے بعد اس افرا تفری کے ماحول کو چند لمحوں تک برابر قائم رکھا گیا، کچھ وقت گزرنے کے بعد لاش کو گھسیٹ کر گاڑی میں جانوروں کی طرح بھر دیا گیا… فوج اور پولیس نے شور مچا کر ادھر اُدھر چند لمحات گزار کر راہ فرار اختیار کر لی۔ اب سڑک پر چہل پہل تھی،لیکن جا نجا خون بکھرا پڑا تھا۔

سب لوگ حیرانی کے عالم میں سراپا سوال بنے ہوئے تھے، کوئی شخص اس معاملے سے کسی قسم کی بھی آگاہی نہ رکھتا تھا…کوئی نہ جانتا تھا، کیا ہوا، کیوں ہوا، کس لئے ہوا…؟البتہ صبح جب اخبار پڑھا تو معلوم ہوا کہ فلاں علاقہ میں ایک تصادم کے دوران ایک جنگجو مارا گیا جس کے قبضے سے ……عدد ہتھیار برآمد ہوا۔

میری زبان اندر ہی اندر اس شعر کا ایک حصہ یاد آرہا تھا کہ

یہ کس کا لہو ہے کون مرا…!

 اس واقعے کا ایک ایک منظر آج بھی نظر کے سامنے ہے، کانوں میں چیخ و پکار کی گونج بھی ویسی ہی ہے…دوستو!یہ ایک انکاؤنٹر تھااور ایسے فرضی انکاؤنٹر کشمیر میں معمول کا حصہ ہیں ۔خدا سے دعاہے کہ اے خدا ہم کو ظلم سے نجات دے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close