ہندوستان

یہ کہاں آگئے ہم؟

ہمیں ایک مرتبہ پھر سے متحد ہوکر ان لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے ہمارے ملک کو اندر اندرسے کھوکھلا کر دیا ہے۔

مصباحی شبیر

15 اگست 1947 ء کو جب بھارت آزاد ہوا تو ہر کسی کے ذہن میں یہ بات رہی ہوگئی کہ اب ہم آزاد ہوگئے ہیں اور ہماری زندگی پہلے سے بہتر ہوجائے گی۔ کوئی ہمیں غلام نہیں بنائے گا۔ ہمارے آباء و اجداد کے بھی من میں یہ بات رہی ہوگئی کہ اب ہمارے دیش میں کوئی آپس میں ہمیں نہیں لڑے گا، کیونکہ انگریزوں نے سب سے زیادہ فائدہ ہمیں آپس میں لڑا کر اُٹھا یا تھا۔ جب بھی اُسے یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ اس کی تخت ِ نشینی کو کوئی خطرہ ہے تو وہ کوئی ایسا مدعا کھڑا کرتا جس سے ہندو، مسلم کے درمیان کوئی خلش پیدا ہوجاتی اور اس کی تخت ِ نشینی کی معیاد کچھ دنوں کے لئے اور بڑھ جاتی اور وہ ہمارے ہی خزانوں کو لوٹ کر ہمیں ہی غریب سے غریب تر بنانے کی پالیسی پر بہت ہی مستعدی سے گامزن رہتا تھا۔ اور آج ہندوستان آزاد ہوکر چھ سے قریب سات دھائیاں ہوگی ہیں جب ایک آزاد ملک کی حیثیت سے ہم اپنے پیارے ہندوستان کا ایک سر سری جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں کوئی خاص بدلائو نظر نہیں آتا ہے۔

آزادی کے بعد سے چاہے حکومتیں جن کی بھی رہی ہو لیکن ان کی ایجنسیاں ہوں یا کہ کوئی اور لابی ان کے مشق ِ ستم کا نشانہ صرف مسلمان ہی رہے، کچھ لوگ سب کچھ بھول صرف پچھلے تین سے چار سال کی بات زیادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن میری نظر میں تو مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا یہ دور آزادی کے بعد سے جاری ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ کھل کر میدان میں آکر کرتے ہیں اور کچھ لوگ پردے کی آڑ لے کر۔ بہرحال بات کچھ بڑھ گئی اگر ہم ہندو مسلم یا مذہب سے قطع نظر بھارت کی مجموعی کی کارکردگی کا ایک جائزہ لیں تو بھی حالات میں کچھ قابل ذکر بدلائو نہیں ہوا ہاں انگریز نہیں ہیں ، ہاں ہم غلام نہیں ہیں لیکن شکلیں اور کردار بدلے ہیں ہم اب بھی غلام ہیں اور غریب ہیں اب بھی ہمارے دیش میں لوٹ کا بازار گرم ہے۔ صرف پچھلے کچھ دہائیوں کے اعداد شمار اُٹھا کر دیکھ لیں تو معلوم ہوجائے گا کہ یہاں کے غریب کتنے غریب ہوتے جارہے ہیں اور دیش کے امیر طبقے نے کتنا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک بھاگ گئے یا بیرون ملک کے بنکوں میں سرمایہ اکھٹا کیا ہے۔ اور دیش کے غریب طبقے کو اپنے پانچ سو روپیے بھی نکالنے کے لئے بنک میں پاس بک و ادھار کارڈ کو تین سے چار مرتبہ دیکھانا پڑتا ہے۔ نوکریوں میں پنشن کا سسٹم ختم کیا گیا، نوجوانوں کو دینے کے لئے نوکریاں نہیں ہیں اوپر سے ہمارے تمام

سرکاری ادارے ایک ایک کرکے پرائیوٹ سیکٹر میں دینے کی مہم تیز ہورہی ہے۔ مہنگائی کی مار روز بروز بڑھ رہی ہے، ٹیکس کی مقدار میں اضافہ ہورہا ہے لیکن عوامی نمائندوں کی تنخواہیں لاکھوں تک پہنچ گئی ہیں اور دیگر مراعات کے طور پر بھی انہیں لاکھوں کا فنڈ ملتا ہے لیکن ہمارے دیش کا جوان یہ نہیں پوچھتا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ دوسری طرف پہلے یہ کہا جاتا ہے تھا کہ انگریز ہمیں لڑا تا ہے’’ منتشر کرو اور حکومت کرو ‘‘کی پالیسی اپنایا ہے تو سوچنے والی بات یہ کہ اب ہمیں کون لڑاتا ہے ؟

 اب ماحول پہلے سے زیادہ خراب کیوں ہے ؟ تو بات پھر وہیں ہے کہ صرف کردار بدلیں ہیں اب لوگ ہمیں لڑا کر حکومت کرتے ہیں ہمیں کہا جاتا ہے کہ فلاں پارٹی ہندو مخالف ہے اور فلاں پارٹی مسلم مخالف ہے جب کہ حقیقت کسی بھی پارٹی کو ہندو، مسلم سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ تو ہندو مسلم کے درمیان پیدا اس خلاء سے اپنی سیاسی دکانیں چمکاتے ہیں اور ہمارے نوجوانوں میں مذہبی تشدد بھر کر انہیں متشدد بنا کر ملک میں اپنی کرسی بچانے یا پانے میں راہیں ہموار کی جاتی ہیں ۔ اندر اندر سے کچھ امیروں کے در میں ماتھا ٹیک کر ہمارے جوانوں کو یہ بتایا جا تا ہے کہ جوان پیڑی ہی اس ملک کا مستقبل ہیں اور حکومت انہیں کے لئے سرگرم ہے دوسری طرف ہمارے جوانوں کو مذہبی شراب ایسی پلائی جاتی ہے کہ ان کے پاس یہ پوچھنے کا وقت ہی کہاں کہ حکومت کے پاس بے روز گار جوانوں کے لئے کیا منصوبہ ہے ملک کے غریبوں ، کسانوں ، اور نوجوانوں سے میں سوال کرتا ہوں کہ جن کی تنخواہیں لاکھوں ہوں ، جن کے کاروبار اچھے چلتے ہوں جن کو غریبوں کے نام لاکھوں کا فنڈ ملتا ہو اور جن کی پنشن بھی لاکھوں کی ہو اور جن کے اپنے قریبی بھی اچھے اچھے عہدوں میں بر اجمان ہوں ان کو کیا کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو جو آپ اور ہماری مشکلات کو حل کرنے کے لئے سوچیں گے۔ وہ تو خیر بات سمجھ میں آنے والی ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بھی کسی پاگل کتے نے ہی کاٹا ہے جو سب کچھ چھوڑ صرف آپس میں ہی لڑ جگڑ نے کے لئے تیار نظر آتے ہیں ۔ اور کسی بات کی ہمیں غرض نہیں ۔ جبکہ ہمیں ایک بار پھر سے ایک انقلاب کی سخت ضرورت ہے، ہمیں ایک مرتبہ پھر سے متحد ہوکر ان لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے ہمارے ملک کو اندر اندرسے کھوکھلا کر دیا ہے۔ اور جب ہم سنجیدگی سے سوچتے ہیں تو لگتا ہے کہ یہ ہم کہاں آگئے ہیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مصباحیؔ شبیر

دراس کرگل لداخ جموں و کشمیر

متعلقہ

Back to top button
Close