یہ کیسی تصویر بن رہی ہے!

وصیل خان

صحافت ( جرنلزم ) کسے کہتے ہیں اور صحیح معنوں میں اس کی تعریف کیا ہے اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں ، سماج اور معاشرےمیں اس کی ضرورت کا پیمانہ کیا ہےاس کی تفہیم آج اس لئے اور بھی زیادہ ضروری ہوگئی ہے کہ موجودہ دور میں اس کے معنی ہی الٹ دیئے گئے ہیں ۔ یہ سمجھے بغیر نہ ہی اس کی صحیح شکل و صورت سامنے آسکتی ہے نہ ہی اس کا درست تجزیہ کیاجاسکتا۔ کہنے کو توآج بھی صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے لیکن صحافت اپنا جو معیار پیش کررہی ہے کیا صحیح معنوں میں اسے چوتھا ستون سمجھا جاسکتا ہے۔ اس تعلق سے ہم ہندوستان کے ایک مشہور خبررسا ں ادارے یواین آئی کے سابق جنرل منیجر جی جی میرچندانی کا ایک قول پیش کرتے ہیں جو اپنے معانی و مفاہیم اور مقصد کے اعتبار سے صحافت اور اس کےا غراض و مقاصد کو پوری طرح واضح اور روشن کردیتا ہے کہ صحافت کا معیار کیا ہونا چاہیئے اور یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ صحافت اپنے بنیادی اصول و مقاصد سے کس قدر برگشتہ و منحرف ہوچکی ہےجس کے سبب ناقابل تلافی نقصانات اٹھائے جاچکے ہیں اور آنے والے دور میں بھی اس کے کس قدر ہولناک نتائج نکل سکتے ہیں ۔

میر چندانی لکھتے ہیں ’’ صحافت ملک و قوم کی آئینہ دار ہوتی ہے اور تہذیب و تمدن،  ثقافت اور سماجی قدروں کی عکاسی و ترجمانی کرتی ہے۔ ‘‘ مولانا محمد علی جن کی عرفیت ایک بیباک صحافی،  مفکرو مدبرکے طور مسلم سمجھی جاتی ہےوہ صحافی اور صحافت کی ذمہ داریوں اور اس کے مقام و مرتبہ کے تعلق سے اپنے اخبا ر کامریڈ میں لکھتے ہیں ’’صحافی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام تر واقعات کو پوری صحت اور سیاق و سباق کے ساتھ بیان کرے، اسے خیال رکھنا چاہیئے کہ واقعات صحت کامعیار اتنا بلندہو کہ مورخ اس کی تحریروں کی بنیاد پر تاریخ کا ڈھانچہ کھڑا کرسکے، صحافی رائے عامہ کا محض ترجمان ہی نہیں راہنما بھی ہوتا ہے اسے صرف عوامی دعوؤں اور بیانات کی بند آنکھوں سے تائید و حمایت نہیں کردینی چاہیئے بلکہ صحافتی میز سے عوام کو درس بھی دینا چاہیئے۔ اخبارا ت کو ذاتیات سے مبرا ہونا چاہیئے نہ کسی دشمن کے خلاف زیادہ لکھا جائے نہ کسی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جائیں ۔یہاں تک کہ مخالفت بھی دائرہ اصول سے آگے نہ بڑھنے پائے، جو کچھ لکھا جائےعبارت آرائی کی غرض سے نہیں بلکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی والے محاورے کو ترجیح دیتے ہوئے مقصود قوم کو فائدہ پہنچانا ہو نہ کہ دیگر اقوام کو نقصان پہنچانا۔ ‘‘ان زریں اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج کی صحافت اپنے طے شدہ معیاری اصولوں سے بڑی حد تک انحراف کرتی نظر آرہی ہے اور زوال کے اس مقام پر پہنچ چکی ہے جسے اب زرد صحافت ( یلو جرنلزم ) کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا اور راہنما بننے کے بجائے شرنما بنتی جارہی ہے۔

 ذیل میں ہم مولانا وحیدالدین خان کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کررہے ہیں جس کی روشنی میں موجودہ صحافتی زوال کو بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ ’’آج میڈیا کی حیثیت ایک انڈسٹری جیسی ہے جس کا مقصد نیوز فروخت کرنا ہے وہ عموماً ایسی ہی خبروں کو سامنے لاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ قابل فروخت ہوں ۔ اور عام انسانی مزاج بھی ایسا ہے کہ اسے سنسنی خیز باتوں سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے وہ مثبت خبروں سے کم دلچسپی لیتے ہیں ،  عوام کے اسے مزاج نے میڈیا کو بری خبروں کی اشاعت کی ایجنسی بنادیا ہے۔ ‘‘

میڈیا کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حکومت او ر سماجی معاملات کو درست طور پر معاشرے کو پیش کرے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا انتظامی اداروں اور عوامی معاملات سے پوری طرح باخبر ہو۔ ذیل ہم چند مثالیں پیش کررہے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ میڈیا کس قدر اپنے پیشے سے غافل ہے یا پھر جان بوجھ کر کسی اور مقصد کے تحت اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔

اترپردیش کے ضلع جالون میں کچھ گدھوں کی جیل سے رہائی کی خبر میڈیا اسی لاعلمی کو ظاہر کرتی ہے جس میں میڈیا نے پولس کو دمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پولس نے گدھوں کے ایک جھنڈ کو رہا کردیا جن پر بیش قیمت پودوں کو کھاجانے کا الزام تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں پولس نہ صرف بے قصور ہے بلکہ سردست ا س کا کچھ لینا دینا ہی نہیں ہے محکمہ جیل اور پولس دو الگ الگ ادارے ہیں ، یہ ساری کارروائی محکمہ جیل کی ہے جس سے پولس کا کوئی سروکار ہی نہیں لیکن میڈیا نے بے سمجھ بوجھے پولس کو بدنام کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاڈالا۔اسی طرح گذشتہ دنوں میڈیا نے راہل گاندھی پر یہ تہمت لگائی کہ انہوں نے گجرات کے سومناتھ مندر میں غیر ہندو عقیدتمندوں کے رجسٹر پر دستخط کرکے خود کو ہندو ہونے سے گریز کیا۔ اس بات کو لے کر مختلف چینلوں اور اخباروں نے ایک طوفان برپا کردیا۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں کوئی کسرنہیں اٹھا رکھی اور راہل کے عقیدے کو لے کر زی نیوز نے ایک اسٹوری بھی بناڈالی یہاں تک کہ ٹائمز آف انڈیا نے بھی اسے فرنٹ پیج پر جگہ دے دی اور سب سے بڑھ کر ٹائمز ناؤ نے اپنے چینل پر ایک گھنٹے کا پرائم ٹائم کیا۔ بعد میں فرسٹ پوسٹ اور الٹ نیوز کی تفتیش میں اسے افواہ قرار دیا اور واضح کیا کہ پہلے کی یہ بھی راہل کے خلاف ایک پروپگنڈہ ہے۔ اسی طرح گذشتہ دنوں غازی آباد میں بھی ایسا ہی ہوا کہ حقیقت کو سمجھے بغیر متعدد ہندی اخبار ات نے یہ خبر شائع کی کہ یہاں کی الیکشن ریلیوں  میں مجلس اتحاد المسلمین کے کارکنان پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں لیکن تحقیق میں یہ بات بھی غلط ثابت ہوگئی کیونکہ وہاں کے پولس ایس ایچ او نے کہا کہ یہ ان پر سراسر الزام ہے ان کا کہنا ہے کہ میں نے خود سنا ہے کہ ریلی کے شرکاء مجلس کے امیدوار حاجی ذیشان زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے جس کو میڈیا نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بنادیا۔

موجودہ حالات میں میڈیا کا کردار وہ نہیں رہ گیا ہے جس کی ضرورت تھی اورجہاں اسے مضبوطی سے کاربند رہنا چاہیئے تھا۔ حالات حاضرہ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہندوستانی سیاست انتہائی برے دور سے گزر رہی ہے جہاں نہ تو سیاسی رہنما اپنے فرائض درست طور سے انجام دے رہے ہیں نہ ہی میڈیا  اپنا کردار صحیح ڈھنگ سے نبھارہا ہےجسے جمہوریت کا چوتھا ستون تسلیم کیا گیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ ایسے میں اس گلستاں کی کیسی  تصویر بنے گی جس کی ہر شاخ پر فسادی،  مطلبی اور خود غرضوں کا مکمل قبضہ ہوچکا ہے۔



⋆ وصیل خان

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

طلسمات عروض: فن عروض پر سکندر احمد کی منفرد تحریر

 موجودہ دور جب ارد و ادب کیلئے ہی پرخار ہوچکا ہے ایسے میں بھلا شاعری کا مستقبل کیوں کر مستحکم رہ سکتا ہےیہ کتنا بڑا المیہ ہے آج سب سےزیادہ کتابیں شعری مجموعوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن ان میں نہ عروض کا کہیں التزام ہوتا ہے نہ ہی فکری معیار کی بلندی کا جبکہ شاعری کا ان دونوں لوازمات سے مزین ہونا ضروری ہے۔ سکندر احمد کی یہ کتاب ’ طلسمات عروض، فن عروض پر ایک مستند اور تحقیقی تخلیق کا درجہ رکھتی ہے۔ امید ہے کہ اہل علم اور خصوصا ً شعراءاس سے بھرپور مستفید ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے