ہندوستان

 51 برس کے بعد پوری ہوئی حسرت

حفیظ نعمانی

ملک میں ایک طبقہ برسوں سے وہ بھی سرگرم ہے جو دیش پتا مہاتما گاندھی کا ذکر تو کرتا ہے لیکن ان کے نظریات سے اختلاف بھی رکھتا ہے، اتفاق کی بات ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت پر وہ طبقہ حاوی ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ 2اکتوبر جو گاندھی جی اور لال بہادر شاستری دونوں کی جینتی ہے اس طرح منائی جائے کہ دونوں برابر کے لیڈر مانے جائیں، لیکن یہ فیصلہ تقدیر نے کردیا تھا کہ گاندھی جی پورے ملک کے باپو بنے رہے اور لال بہادر شاستری اپنی خوبیوں کے باوجود قد و قامت میں بھی بہت چھوٹے رہے، آواز بھی بڑی نازک تھی، اور ریلوے کے وزارت سے استعفیٰ دینے کے بعد صرف وزیر اعظم پنڈت نہرو کے مدد گار ہو گئے تھے۔

پنڈت جی کے انتقال کے بعد ایسا کوئی نہیںتھا جس پر کانگریس کے صدر کا راج اور ورکنگ کمیٹی بھروسہ کرسکے، اس لیے سب نے متفقہ طور پر شاستری جی کو وزیر اعظم بنادیا، اب یہ پاکستان کے چیف مارشل لا ایوب خاں کی ناسمجھی تھی کہ انھوں نے ہندوستان کو شاستری جیسا دبلا پتلا اور دیکھنے میں کمزور سمجھ لیا اور حملہ کرنے کی حماقت کربیٹھے، شاستری جی نے ایسا ہی جواب دیا جیسا اگر پنڈت نہرو ہوتے تو دیتے، اور ہندوستان کے افسروں کی بس یہ حسرت رہ گئی کہ وہ لاہور کے لائنس کلب میں فتح کا جشن نہ منا سکے، اس لیے کہ روس نے دونوں سے کہہ دیا کہ بس جو جہاں ہے وہیں رُک جائے اور دونوں نے جنگ بند کردی، لیکن تاشقند میں معاہدہ کے بعد رات میں ہی شاستری جی کا انتقال ہوگیا۔

ہمارا ملک قیاس آرائیوں کا ملک ہے، انتقال کی خبر پر نہ جانے کیسی کیسی قیاس آرائیاں ہوئیں، کھانے میں زہر دینے کی بھی افواہ اڑائی گئی اور ایک صحافی نے جو ساتھ گئے تھے یہ کہا کہ معاہدہ کے بعد رات میں شاستری جی کی اہلیہ للتا شاستری کا فون آیا تھا، انھوں نے بتایا تھا کہ ہندوستانی فوج نے جو ایک اہم چوکی فتح کرلی تھی وہ معاہدہ کے تحت واپس کرنے سے سے ہندوستان والے بہت ناراض ہیں، اس کا دبائو شاستری جی نے محسوس کیا اور ہارٹ فیل ہوگیا۔

لیکن جو جانتے اور مانتے ہیں کہ زندگی اور موت پیدا کرنے والے کے ہاتھ میں ہے، انھوں نے تسلیم کرلیا تھا کہ وہ اتنی ہی زندگی لائے تھے اور خدا کو یہ بھی دکھانا تھا کہ ایک دیکھنے میں کمزور نظر آنے والے کے ہاتھوں ایک ایوب خاں جیسے فوجی اور صحت مند آدمی کو شکست دے کر اللہ قادر مطلق کو یہ دکھانا تھا کہ شکست اور فتح انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے وہ بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ جس کی پوری دنیا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔

1965کی جنگ کے بعد سے جو طبقہ گاندھی جی سے دور دور تھا وہ چاہتا تھا کہ 2؍ اکتوبر پر صرف گاندھی جی کی نہیںشاستری جی کی بھی جینتی شان و شوکت سے منائی جائے۔اور اسے اس سال یہ موقع مل گیا، کیونکہ صرف تین دن پہلے ہی ہندوستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے قبضہ والے کشمیر میں گھس کر دہشت گردی کے ٹھکانوں پر حملہ کیا اور 38 دہشت گردوں کو مارنے کے علاوہ تین ٹھکانے تباہ بھی کردئے۔

اس موقع کی مناسبت سے2؍اکتوبر کو گاندھی جینتی تو صرف اتنی نظر آئی کہ وزیر اعظم کے ہاتھ میں جھاڑو دکھائی گئی اور پوری کرکٹ ٹیم اور ان کے علاوہ عام اور خاص سب صفائی کرتے نظر آئے، لیکن ہر چینل پر 1965کی جنگ کے مناظر دکھائے جاتے رہے اور جگہ جگہ شاستری جی کو تقریر کرتے دکھایا گیا، جس سے صاف نظر آیا کہ کل کی ۲؍ اکتوبر گاندھی جینتی نہیں شاستری جینتی تھی اور اب آگے بھی شاید ایسا ہی ہوا کرے گا۔

گاندھی جی کی زندگی کے بارے میں جتنا دیکھا سنا یا پڑھا اس میں جھاڑو کہیں نظر نہیں آئی، وہ اس پر زور دیتے تھے کہ ہر قسم کی صفائی خود کرو اور دوسروں سے نہ کرائو۔ سب سے پہلا مورچہ انھیں اپنی بیوی سے لینا پڑا کہ اپنی گندگی خود اٹھائو، ہریجن سے نہ اٹھوائو، اور زبردست مقابلہ کے بعد انھوں نے بیوی کو منا لیا، سابرمتی آشرم اور جہاں بھی انھوں نے آشرم بنائے وہاں یہ طریقہ رکھا کہ بیت الخلاء نہیں بنوائے، لٹیا اور کھرپی ٹنکی کے پاس رکھوا دیں کہ کھرپی اور پانی لے کر کھیت یا جنگل میں چلے جائو اور فارغ ہو کر کھرپی سے مٹی برابر کرکے واپس آجائو اور پھر نہائو۔

آشرم کے اندر بھی اپنے کمرے خود صاف کرو، مقصد صرف یہ تھا کہ صفائی کو عیب نہ سمجھو اور نہ یہ عادت ڈالو کہ سماج کے کمزور طبقہ کے لوگ صفائی کریں۔

اس سلسلہ کا ایک لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے، قومی آواز کے ایڈیٹر حیات اللہ ا نصاری صاحب گاندھی جی سے بہت متاثر تھے، وہ برابر سابرمتی آشرم جاتے رہتے تھے، گاندھی جی ان سے ان خطوں کا جواب ا ردو میں لکھواتے تھے جو ان کے پاس اردو میں آتے تھے، گاندھی جی نے انصاری صاحب سے کہا کہ ایک ایسے آدمی کا انتظام کردو جو ہندی اور اردو اچھی جانتا ہو، اردو کے گاڑھے الفاظ کی مجھے ہندی بتادے اور میرے ہندی کے جملوں کو اردو میں لکھ دے۔

لکھنؤ میں ان سے ملنے الٰہ آباد کے محمود احمد ہنرؔ آئے ہوئے تھے وہ ہندی اور اردو کے بہت ماہر تھے، حیات اللہ صاحب نے ان سے کہا کہ آپ گاندھی جی کی اردو خط و کتابت اپنے ہاتھ میں لے لیجئے، ہنر صاحب نے کہا کہ سنا ہے وہاں اپنی غلاظت خود اٹھانا پڑتی ہے، یہ میرے بس کی بات نہیں ہے، حیات اللہ صاحب نے کھرپی اور لٹیا کے بارے میں بتایا اور کہا کہ کھرپی سے چھوٹا سا گڑھا کھودو بعد میں کھرپی سے اس پر مٹی ڈال دو، ہنرؔ صاحب بڑے ادیب تھے کہنے لگے کہ اگر میں نے کھرپی ماری اور کوئی تازہ قبر کھل گئی تو؟ تو کیا ہوگا؟ حیات اللہ صاحب سمجھ گئے کہ وہ جانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

ہمارے وزیر اعظم بار بار کہہ رہے ہیں کہ سوا سو کروڑ بھارتی اگر طے کرلیں کہ وہ اپنے ملک کو صاف رکھیںگے تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے کہ جو ہمارے ملک کو گندہ کردے۔ وزیر اعظم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اپنے ملک کے ۷۵ فیصدی لوگ گندی کو پسند کرتے ہیں، کل ہی ایک پلیٹ فارم پر نیشنل نیوز کا ایک رپورٹر دکھا رہا تھا کہ پلیٹ فارم پر بڑا سا کوڑے کا بکس رکھا ہے اور بالکل خالی ہے اور پورے پلیٹ فارم پر کوڑا پڑا ہے، ایک بینچ پر دو پڑھے لکھے آدمی بیٹھے ، دونوں نے چائے پی اور پلاسٹک کے گلاس نیچے پھینک دئے، رپورٹر نے کہا کہ آپ لوگ تو پڑھے لکھے ہیں آپ نے بھی گلاس نیچے پھینک دئے، انھوں نے جواب دیا کہ یہاں یہ نہیں لکھا ہے کہ گلاس پھینکنا منع ہے، ہم ڈنڈے کے عادی ہیں اگر صفائی چاہیے تو ڈنڈا چلانا چاہئے ورنہ جب گندگی سے نفرت نہیں ہے تو ملک کیسے صاف رہے گا؟ اور سال میںصرف 2 ؍اکتوبر کو جھاڑو ہاتھ میں لینا فیشن تو ہوسکتا ہے عادت نہیںاور ضرورت اس کی ہے کہ پلیٹ فارم پر گلاس پھینکنے والا کم از کم 24 ؍ گھنٹے تو اسٹیشن کے حوالات میںرہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close