مت بول کہ لب آزاد نہیں

0

سرجیکل اسٹرائیک کے بعد ملک میں سیکولر اور جمہوری فکر رکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے

تبسم فاطمہ

9,11 حادثے کے بعد ایک امریکی صحافی کا تبصرہ تھا کہ یہ دنیا اب ہم جیسوں کے لیے نہیں رہ گئی۔ کچھ دکھانے سے قبل ہماری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ دیکھو جو ہم دکھانا چاہتے ہیں۔ اس وقت ایسے صحافیوں کی کوئی کمی نہیں تھی جو اسامہ اور دہشت گردی سے الگ بھی کچھ سوچنا چاہتے تھے۔ سیاست وہاں آگئی ہے جہاں صرف صحافی نہیں، دانشور نہیں، ادیب نہیں، بلکہ عام انسانوں کی آنکھوں پر بھی سیاہ پٹی باندھ دی گئی ہے اور میڈیا سے حکمراں تک کی منطق یہ ہے کہ جو ہم دکھا رہے ہیں، اسے دیکھو۔ یہاں سب سے بڑا نقصان اظہار رائے کی آزادی کا ہوا ہے۔ اورجو آج کے خطرناک ماحول میں اس آزادی کا استعمال کررہے ہیں، ان کی دل کھول کر تعریف کی جانی چاہیے۔ ایسے لوگ اب ہمارے زندہ معاشرے اورسماج میں اب ایک فیصد بھی نہیں رہ گئے۔ کچھ نے مصلحت اورسیاسی دور اندیشی کے تحت زبان پر تالہ لگا لیا ہے۔ اور کچھ جواپنی آنکھوں پر بھروسہ کرتے ہوئے عالمی سیاست اورملک کے موجودہ منظرنامے کو دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں، ان کی آواز کا کوئی اثر نہ میڈیا پر ہے نہ عوام پر ۔
ایک انگریزی چینل کے پروگرام میں ایک فلم میکر کے صبر کا باندھ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ چیخ پڑتے ہیں۔ آپ صحافی نہیں، فاشسٹ ہیں ۔ ایک دوسرے صحافی کو کہنا پڑا کہ میں نے آپ سے بدترین اینکر نہیں دیکھا۔ اس فہرست میں آہستہ آہستہ کئی نام جڑتے جارہے ہیں۔ لیکن فاششٹ میڈیا جھوٹ، غلط، جائز ناجائز، ایمانداری، اعلیٰ صحافت، اقدار وکردار، ضمیر ان سب کو بہت پیچھے چھوڑ کر ہندوستان کی خوفناک تصویر بنانے پر آمادہ ہے۔ اسی خوفناک تصویر کی ٹی آر پی بھی ہے اورملک کے زیادہ بڑے طبقے میں یہی چینل دیکھے جاتے ہیں۔ حب الوطنی، جنگ، شہید فوجیوں، کشمیر اورپاکستان جیسے ایشو اٹھا کر یہ ٹی وی چینل ایک ایسا بارودی ماحول تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جہاں مرکز، حکومت، آر ایس ایس پر سوال اٹھانے والا ہر شخص غدار ہے۔ یہ چینل مسلمانوں کو پہلے ہی غدار ثابت کرچکے۔ المیہ یہ کہ ہم ہندوستانی ایسے لوگوں سے حب الوطنی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، جنہیں وطن کی ساکھ اور سالمیت گوارہ نہیں۔ جن کی نفرت میں ڈوبی تاریخوں سے صفحے کے صفحے سیاہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر گاندھی کی تصویر جلاتے ہیں اور ملک دشمن گوڈسے کی پوجا کرتے ہیں۔ ہندو مہا سبھا کے لوگ گوڈسے کے نام پر جلوس نکالتے ہیں۔ سادھوی پراچی بیان دیتی ہے کہ گاندھی کو نہ مارا ہوتا تو ہندوستان مکہ بن گیا ہوتا۔ اگر میڈیا فروخت نہ ہوا ہوتا اور عوام کی برین واشنگ نہ ہوئی ہوتی تو یہ سوال لازمی تھا کہ ایسے لوگ پاگل جنگلی جانوروں کی طرح آزاد کیوں گھوم رہے ہیں۔؟ اور انہیں کیوں نہ غدار وطن کہہ کر جیل کی سلاخوں میں ڈالا جائے؟ ہندوستانی میڈیا کھلے عام نفرت بیچ رہا ہے، اور مرکز کی طرف سے کوئی بھی کارروائی اس پر لگام لگانے کی نہیں ہے۔ میتاوشسٹ سے ادم پوری اور اس ام سیتھوتک کی مثالیں دیکھ لیجئے۔ اب یہ میڈیا آپ کو اپنی بات کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ آر ایس ایس اور مودی کے نظریہ سے الگ کی فکر رکھتے ہیں تو میڈیا کی نظروں میں آپ کی دیش بھکتی کا کردار مشکوک ہے۔
کیا یہ سب یوپی اور آئندہ انتخابات کے مد نظر ہورہا ہے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یوپی کی سیاسی تصویر اچانک بدل گئی۔ سرجیکل اسٹرائیک کے ہورڈنگس اور پوسٹر لگائے گئے۔ سیاسی نوراکشتی میں ایس پی اور بی ایس پی کے رخ میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ یوپی میں بی ایس پی کے ایک پوسٹر پر کمل کھل رہا تھا۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ اس لیے یہ بات پوشیدہ رہی کہ یہ پوسٹر کس کی طرف سے جاری ہوا تھا۔ سیاسی بصیرت رکھنے والے جانتے ہیں کہ مایاوتی پہلے بھی تین بار بھاجپا کو سپورٹ کرچکی ہیں۔ اور سیاست کے نئے منظرنامے میں بھی وہ بھاجپا کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے چانکیہ ملائم سنگھ یادو نے امرسنگھ اور شیوپال یادو کے ساتھ اپنے بیٹے اکھیلیش کو حاشیہ پر ڈالتے ہوئے اپنا رخ واضح کردیا ہے۔ ملائم جانتے ہیں کہ مسلم ووٹ اس بار ان سے دور ہوگیا ہے۔ اکھیلیش یادو کا سارا زور ریاست کی ترقی پر ہے۔ اس سے یوپی انتخاب نہیں جیتا جاسکتا۔ ابھی حال میں زی نیوز کے مالک سبھاش چندرا اور اینکر سدھیر چودھری کے ساتھ امرسنگھ اور ملائم کی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے۔ یہ تصویر نئی سیاسی حقیقت کی مکمل تصویر کشی کرتی ہے۔ ملائم کی مشکل یہ کہ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں— ملائم خاندان میں رسہ کشی کا ماحول ضرور ہے مگر پارٹی نے بھاجپا کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔
بہت ممکن ہے کہ دیش بھکتی کے سرٹیفکیٹ کے پس پردہ یوپی، پنجاب اور2019 میں ہونے والا لوک سبھا انتخاب رہا ہو، مگراس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک تیر سے کئی خوفناک کھیل اس وقت ملک کی سرزمین میں کھیلے جارہے ہیں۔ سرجیکل آپریشن کے پس پشت مسلمانوں کے ساتھ مرکز اور میڈیا کا خوفناک رویہ ان دانشوروں کے خلاف بھی ابل کرسامنے آیا ہے، جو کسی بھی موقع پر اپنی بات رکھنے کے لیے خود کو آزاد محسوس کرتے تھے۔ مہیش بھٹ، سعید مرزا، راج دیپ سردیسائی، برکھادت، ارون دھتی رائے جیسی ہزاروں آوازوں کو میڈیا کا سہارا لے کر خاموش کردینا دراصل ایک ایسے سیاسی نظام کا حصہ ہے جہاں جمہوریت اور سیکولرزم کو کوئی دخل نہیں۔ مرکز سے میڈیا تک یہ بات جانتا ہے کہ سچ کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو اگرروک دیا جاتا ہے تو پھر مستقبل میں مخالفت میں اٹھنے والی آواز کے امکانات ختم نہیں تو کم ضرورہوجائیں گے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ اندنوں اسی فکرسے دو چار ہے کہ میڈیا اپنے شو میں بلا کر بے عزتی کرتا ہے اس لیے میڈیا سے فاصلہ بنایا جائے۔ اس فاصلہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمیں وہی باتیں سننے کو ملیں گی جو مرکزی حکومت کی حمایت میں ہونگیں۔ دیگرسیاسی پارٹیاں بھی اس سچ سے واقف ہیں کہ اگرمعاملہ فوج اور ملک کا ہو تو ایسے حالات میں اختلاف کرنا اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنا ہے۔ کانگریسی کچھ لیڈران نے من موہن سنگھ کے وقت میں ہوئے تین تین سرجیکل اسٹرائیک کا حوالہ ضرور دیا مگر کانگریس کی گائیڈ لائن یہی رہی کہ اس برے وقت میں ہم حکومت اور فوج کے ساتھ ہیں۔ دلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال کے ساتھ ساتھ وہ تمام چہرے عوام کے غیض وغضب کا حصہ ہیں جو سرجیکل اسٹرئیک کے ویڈیو جاری کرنے کی بات کہہ رہے ہیں یا اس پورے آپریشن کو فرضی ٹھہرا رہے ہیں۔ سیاست کی برین واشنگ کا کمال یہ کہ مودی بھکتوں نے دیش بھکتی کا سہارا لے کر ایک بارودی زمین تیار کرلی۔ آپ مودی کے ساتھ نہیں ہیں تو غدار ہیں— غورکریں تو انتہائی سوجھ بوجھ اور ہوشیاری سے چلایا گیا یہ تیر 2019 تک اپنا کام کرجائے گا۔ لیکن اس درمیان ہم ایک ایسے ہندوستان کا حصہ ہوں گے، جہاں ہم سے اظہار رائے کی آزادی پوری طرح چھین لی جائے گی۔ پہلے دو ایک چینل مرکزی حکومت کی فکر کا حصہ تھے۔ پھر آہستہ آہستہ تمام چینل حکومت کی مشنری کا حصہ بن گئے۔ ابھی کچھ آوازیں ہیں جو سچ، ایمانداری اور جمہوریت کی محافظ ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ یہ آوازیں بھی خاموش ہوجائیں گی۔ ان آوازوں کی خاموشی کے بعد فرقہ پرستی اور فاشزم کی یلغار کا سامنا کرنا کسی بھی ہوشمند عام ہندوستانی کے لیے آسان نہ ہوگا— فیض احمد فیض نے کہا تھا۔ ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔ بول، زبان اب تک تیری ہے۔‘‘ فرقہ پرست تنی ہوئی تلواروں کے درمیان زبانیں خاموش۔ سوال یہ بھی ہے کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اور ضمیر کو مردہ کرکے جینا کیا آسان ہے؟ یہ بات ملک کے ان دانشوروں کو بھی سمجھنا ہوگی جو آہستہ آہستہ نفسیاتی سطح پر بھی لہولہان ہوتے ہوئے موجودہ حالات سے خود کو الگ تھلگ کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مغرور تانا شاہوں نے اقتدار کی ہوس میں ظلم کی انتہا کردی۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ان تانا شاہوں کے غرور خاک میں مل گئے اور ایک نیا سفر پھر سے شروع ہوا۔ حکومت ہندوستان کے ہر شہری پر اعتبار کرے اور اس میڈیا پر لگام لگائے جو اظہار رائے کی آزادی کا دشمن بن گیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے