ہندوستان

آدرش گھوٹالہ عمارت منہدم کرنے کاعدالتی حکم – حکمرانوں سیاست دانوں کا چہرہ عیان

آدرش ہاوسنگ سوسائٹی گھوٹالے پر بامبے ہائی کورٹ نے، ریٹائیررڈ فوجی جوانوں اور وطن کی راہ میں شہید ہونے والے جانبازون کے لئے مختص کی جانیوالی زمین پر،سیاست دانوں سرکاری افسران کی ملی بھگت اوربدعنوانی کے نتیجہ میں تعمیر کی جانے والی آدرش وسائٹی، کو منہدم کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔
کورٹ نے متنازعہ عمارت کے تعلق سے اپنے فیصلہ میں کہا کہ یہ سیاسی بدعنوانی کی عمارت ہے۔اسے باقی رکھنا بدعنوانی کو باقی رکھنا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں ،ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ سرکاری ا فیسران اور سیاست دانوں کے خلاف جنہوں نے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کیا۔مجرمانہ اور شہری قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے معاملات میں قانونی کارواء کیبجائے۔کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ مرکزی اورریاستی سرکار نے اب تک ،جن سیاست دانوں اور بیوریکریٹس کے خلاف، جنہوں نے اپنے عہدے اور طاقت کا غلط استعمال کیا۔ ان کے خلاف مجرمانہ اور سرکاری قوانین کے خلاف کارواء کرنے کے تحت کارواء نہیں کی ،تو اب قانونی طور پر عمل کیا جائے ۔کورٹ نے آدرش سوسائٹی گھوٹالے معاملہ سے متعلق پیش کردہ ثبوتو ں کا مشاہدہ اور جائیز ہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔کورٹ نے فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ حکومتون کو،قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اب تک کارواء کر دینا چاہئیے تھا۔کیون ایسا نہیں ہوا۔اب بھی وقت ہے کہ حکومتون نے بدعنوانون کے خلاف کارواء کرتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے ڈال دے۔
یاد رہے کہ جس زمین پر آدرش سوسائٹی بنائی گئی ہے وہ کارگل میں شہید ہونے والے جوانوں کی بیواوں کے لئے مختص تھی۔ اس زمین پر صرف چھ منزلہ عمارت کی قابو نا اجازت تھی۔اسے قانون قاعدے کا کھلواڑ کر کے اکتیس منزلہ بنا دی گیا۔اسوقت کے کانگریسی وزیراعلی اشوک چوہان کوآدرش سوسائٹی گھوٹالے کے سبب اپنی وزرات اعلی سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
کانگریس پارٹی آج کس منہ سے دھڑلے سے کرپشن اور بد عنوانیوں کے خلاف بات کرتی ہے۔
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کروہوکہ کرامت کرو ہو
ملک میں آزادی کے بعد مرکز میں تقریبا ساٹھ سال اور ملک کے متعدد صوبوں میں کئی سال ،کانگریس کی خکومت رہی۔کانگریسی سرکاروں میں بدعنوانیاں گھٹالے ہوئے۔سرکاروں کی پشت پناہی رہی۔بی جے پی اور دوسری سیاسی پارٹیوں کی بھی سرکاریں رئیں. بدعنوانیوں جاری رئین. عوامی روپوں سے کھلواڑ ہوتا رہا، بی جے پی سرکار میں ابھی تازہ تازہ معاملہ وجے مالیا کا ہے۔ہزاروں کرورروپیوں کا معاملہ ہے۔مدھیہ پردیش میں ویپم گھوٹالے کاہے۔ کتنے ہی گواہوں کو جان سے مار ڈالا گیا۔اس قدر بے شمار روپیہ کے بساتھ خردبرد،سیاست دانوں حکمران دستور پر ایمانداری سے چلنے کی وفاداری پر کرنے کے بعد کرتے جلے آئے ہیں ۔ ملک چلانے کے لئے،انتظسم حکومت کے لئے،ہمارے ملک کا دستور انتہاء
پیارا ہے ۔اگرملک اور صوبوں میں سیاست دان اور جکمران ایمانداری ہر گامزن ہوتے تو یقینی طور پر ملک کی سماجی معاشی خیالات اس قدر اتنے دگرگون نہ ہوتے۔
آج کرپشن بدعنوانیوں پر ملک کے عوام کو بے حد ناراضگیاں ہیں ۔یہ بڑھتی ہی جا رہی ہیں ، کسی بھی سیاسی پارٹی پر عوام کو کرپشن بدعنوانیاں ختم ہونے پر اعتماد نہیں ہے۔ ایسے میں طلباء4 لیڈر کنہیا کمار پر عوام کا اعتماد کیوں نہ بڑھے۔
مغربی بنگال مین شاردا گھوٹالہ ہوا، اک پل گرا معاملہ تحقیقات کیلئے، قصوردارون کو سزادینے کے لئے ،عدالت میں ہے۔اس سے پہلے راہل گاندھی اور مودی ،بدعنوانیوں کرپشن میں ممتا بنرجی کو گھیرے ہیں ۔کرپشن اور بد عنوانیوں میں ممتا کوگھیرنے سے پہلے کانگریس اور بی جے پی کو پہلے اپنے گریبانون میں جھانک کر دیکھنا ہے۔
ملک اور صوبوں میں ،کمیونسٹوں کانگریس اور بی جے پی کے راج میں کس قدر سماجی انسانی اقدار کے ساتھ ،خاص طور پر چھوٹے کسانوں مزدوروں غریبوں ادی واسیوں ، دلتوں، اقلیتوں، مسلمانوں پر بربریت ہوء۔لکھے جائیں تو ہزاروں صفحات درکار ہوں گے۔
مغربی بنگال کے رائے دہندگان با شعور ہیں ۔ ووٹ اک قیمتی ہتھیار ہے، جن لوگوں نے انسانی اقدار کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ آج بھی بھائیوں کو بھائیوں سے لڑا رہے۔ ایسے سیاست دانوں کو اپنے صرف اک ووٹ سے شکست فاش دیں۔ ظالم حکمرانوں کو بے دخل کرنے کے لئے اک ووٹ ہی کافی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close