ہندوستان

2017 کا معرکہ اور تیاریاں

حفیظ نعمانی
دو دن پہلے لکھنو میں چھوٹی بڑی ایک درجن سے زیادہ مسلم پارٹیوں کا ایک محاذ بنایا گیا ہے۔ جو آنے والا الیکشن ملکر لڑے گا۔ اس سے پہلے بلکہ بہت پہلے سے ڈاکٹر ایوب صاحب ایک مہنگے اخبار کے پورے اور پہلے صفحہ پر اپنی پارٹی کا اشتہار دیکر ہر سیاسی اور ملی پارٹی کو ڈرا رہے ہیں کہ وہ کروڑوں روپئے خرچ کرکے اس بار الیکشن میں 2012کے الیکشن کی اس ذلت کا پورا بدلہ لیں گے جس میں 2سو سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا خواب دیکھنے والی پیس پارٹی کو صرف تین سیٹوں پر سمٹنا پڑا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کا ہر اشتہار الگ مضمون کا ہوتا ہے۔ وہ زیادہ زور بہار کے اس محاذ پر دے رہے ہیں جو نتیش کمار لالو یادو اور سونیا گاندھی کے درمیان ہوا تھا۔ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسا ہی محاذ چاہتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں بتا تے کہ وہ اس محاذ کے نتیش ہیں لالو ہیں یا سونیا؟اس لئے کہ بہا کے محاذ میں مسلم تنظیم کوئی نہیں تھی۔ اور ابتدا میں بہار کے مسلمان فیصلہ کرچکے تھے کہ وہ نتیش کمار کو سبق سکھائیں گے اور نہ انہیں ووٹ دیں گے نہ لالو یادو کو۔
اس بات کا پورا ملک گواہ ہے کہ اسد الدین اویسی صاحب نے بہار میں پوری طرح الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ دہلی میں ہارنے کے بعد بی جے پی نے بہار کے الیکشن کو موت اور زندگی کے الیکشن کی طرح لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس موقع پر پاک پر وردگار نے اس گناہ گار کو جو یہ سطریں لکھ رہا ہے توفیق عطافرمائی کہ وہ اس میں اپنے پرودگار کی عطا فرمائی ہوئی ساری صلاحیتوں کو داؤ ں پر لگا دے اور بی جے پی کا یہ خواب پور ا نہ ہونے دے کہ ہر صوبہ میں بھی اسکی حکومت ہو۔
ملک سے نکلنے والا شاید ہی کوئی اردو اخبار ہو جس کو مسلمانوں کی فکر بھی ہو اور اس نے ہماری آواز میں آواز نہ ملائی ہو۔ اور بہار کے مسلمانوں کو یہ سمجھانے میں اللہ نے کامیابی عطا فرمائی کہ غصہ میں کیا گیا فیصلہ ہمیشہ مہلک ہوتا ہے۔ ہم اس وقت جس بات پر سب سے زیادہ زور دے رہے تھے وہ یہ تھی کہ اویسی صاحب نے پہلے 28سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ کم کرتے چلے گئے اور پھر انھوں نے صرف چھ امیدوار میدان میں اتارے۔ اورہم یہ کہتے رہے کہ مہاراشٹر میں اویسی صاحب کے دو ممبر اسمبلی میں ہیں۔ اور اتر پردیش میں ڈاکٹر ایوب صاحب کے تین ممبر ہیں۔ بس یہ دیکھ لیا جائے کہ انھوں نے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچایا؟ اگر واقعی فائدہ پہنچایا ہو تو اویسی صاحب کے امید واروں کو کامیاب کرادیا جائے۔ اور وہ کچھ نہ کر پائے ہوں تو یہ سوچا جائے کہ ڈھائی سو ممبروں میں یہ چھ کیا کریں گے؟
یہ بات سب جانتے ہیں کہ بی جے پی کے صدر امت شاہ صرف اس کام میں مشہور ہیں کہ وہ مخالف پارٹیوں کے امیدوار وں کے مقابلہ میں انہیں کی ذات اور برادری کے کسی آدمی کو نوٹوں کی موٹی موٹی گڈیاں دیکر مقابلہ پر کھڑا کردیں۔ اور اتنے ووٹ کٹوا دیں کہ بی جے پی کا امیدوار جیت جائے۔ اور وہ اب ان چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو خریدتے ہیں جو اپنے نمائندے کھڑے کرنے کی شوقین ہوتی ہیں۔ اور انہیں صرف شہرت اور نام و نمود سے مطلب ہوتا ہے۔ پرسوں یاد بھی نہیں کہ دس پارٹیوں کا محاذ بنا ہے یا پندرہ کا لیکن اسکا کوئی تعلق نہ کانگریس سے بتایا گیا نہ سماج وادی پارٹی سے اور نہ بی ایس پی سے۔ وہ صرف مسلم پارٹیوں کا محاذ ہے۔ اور نہ یہ بتایا گیا کہ یہ محاذ کن شرائط پر کس علاقائی سیکولر پارٹی سے سمجھوتہ کرے گا۔ یہ محاذ ہو یا ڈاکٹر ایوب ہوں یا اویسی صاحب کی پارٹی ابھی صرف مسلمانوں کی بات کرتے ہیں جنکے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ 140سیٹیں ایسی ہیں کہ اگر کوئی میر جعفر اور صادق اپنا ہنر نہ دکھائیں تو ان کی زیادہ تر سیٹوں پر مسلمان کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن پھر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کیا وہ آپس میں ایک رائے ہوسکیں گے۔ ؟
اویسی صاحب کو ہم سے شکایت ہے کہ ہم نے بہار میں انکی بہت مخالفت کی ہے۔ لیکن بہار کے مسلمان ہمیں دعائیں دے رہے ہیں کہ ہم نے انہیں برباد ہونے سے بچالیا۔ اویسی صاحب ہوں یا بہار میں انکے ہارے ہوئے 6نمائندے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے ایک بار بھی یہ کہا ہو کہ خدا نخواستہ اویسی صاحب کو امت شاہ نے خرید لیا۔ لیکن یہ ضرور کہا کہ امت شاہ کی دعائیں اویسی صاحب کے ساتھ ہیں۔ انہیں نہ اسکا غم ہے نہ خوشی کی اویسی صاحب کے امیدوار جیت جائیں۔ بس وہ تو یہ چاہتے تھے کہ مسلم ووٹ لالو اور نتیش یا کانگریس کو نہ جائے۔ اسکے لئے وہ سیکڑوں کروڑ روپے بھی پھونک سکتے تھے۔ لیکن وہ جو شاعر نے کہا ہے :ع
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
وہ سامنے آگیا۔ اور ایک بی جے پی کے سرگرم ورکر پارٹی چھوڑ کر عام آدمی پارٹی میں آگئے ہیں جنکا نام یاتن اوجھا بتا یا جارہا ہے۔ انکا بیان ہے کہ 15ستمبر کو رات کے 3بجے اسدالدین اویسی اور انکے بھائی اکبر الدین اویسی کی امت شاہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن اس ملاقات کا اویسی صاحب نے انکار کیا ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ دونوں کی اس بحث میں کون جیتے گا؟ لیکن! غور کرنے کی بات صرف یہ ہے کہ یاتن اوجھا عام آدمی پارٹی میں آئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کا اویسی صاحب سے کہیں اور کسی مسئلہ میں ٹکراؤنہیں ہے۔ نہ انھوں نے دہلی میں امیدوارکھڑے کئے تھے۔ اور نہ اب وہ پنجاب میں الیکشن لڑنے جارہے ہیں۔ اویسی صاحب اتر پردیش میں شطرنج کی گوٹیں بچھارہے ہیں۔ لیکن اروند کیجروال اتر پردیش کی طرف دیکھ بھی نہیں رہے۔ مقصد یہ ہے کہ اویسی اور کیجروال کا کہیں ٹکراؤ نہیں ہے۔ جب صورت حال ایسی ہے تو کیجروال یا آسو توش کو اس سے کیا مطلب کہ اویسی صاحب بہار کے الیکشن میں کسکے کہنے سے داخل ہوئے۔ اور جہاں سے انھوں نے کبھی کوئی تعلق نہیں رکھا تو وہاں وہ الیکشن لڑنے کیوں گئے تھے ؟
اویسی صاحب نے دھمکی دی ہے کہ اوجھا کی کھال کھنچوا دیں گے۔ اور سپریم کورٹ تک دوڑائیں گے۔ یہ انکا معاملہ ہے۔ لیکن یہ بات اب کھل گئی ہے جو ہم کہتے رہے ہیں کہ امت شاہ کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ مسلمان جیتے یا ہارے۔ وہ صرف اس پر ساری دولت خرچ کر دیتے ہیں کہ مسلم ووٹ سیکولر پارٹیوں کو نہ ملے۔ اس لئے ڈاکٹر ایوب صاحب ہوں اویسی صاحب ہوں مولانا توقیر رضا خاں صاحب ہوں یا مسلم مجلس یا وہ مشاورت جو اب ہے۔ وہ ایک بات طے کرلیں کہ اس الیکشن میں کانگریس سپا اور بسپا کسی ایک سے ملکر محاذ بنا لیں۔ بہار کی طرح کوئی بھی دو بڑی پارٹیاں ساتھ کھڑی اس لئے نہیں ہونگی کہ دونوں اپنے بل پر حکومت بنانے کی دعویدار ہیں۔ اور اپنے کو مسلم ووٹوں کا حقدار سمجھتی ہیں۔
مسلمانوں نے کانگریس کو بار بار اپنایا اور مجبور ہو کر چھوڑ دیا سپا کو بھی اپنا یا اور چھوڑا اور یہی سلوک بی ایس پی کے ساتھ کیا۔ ان میں سے کوئی اپنی فطرت نہیں بد ل سکتی۔ مسلمانوں کو ان میں سے ہی کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ اور اپنے لئے سو سوا سو سیٹیں محفوظ کرانا ہیں جہاں وہ اپنے ووٹ ہمیں دلوائیں اور ہم انہیں دلوائیں۔ اسکے علاوہ ہر محاذ جو بھی بنے گا امت شاہ کا بنوایا ہوا ہوگا۔ اس لئے کہ صرف مسلمانوں کی پارٹیوں کا محاذ بنا تو پہلے ہی مرحلہ پرمیں وہ لونگا۔ اور میں یہ لونگامیں جوتے چلیں گے اور وہیں پھوٹ پڑ جائے گی۔ ہم جو بھی کہہ رہے ہیں وہ ساری عمر کے مشاہدوں اور تجربوں کا نچوڑ ہے۔ اور یہی ہم آخر تک لکھتے رہیں گے۔ لیکن فیصلہ میں اس لئے شریک نہیں ہونگے کہ ہماری صحت اس قابل نہیں ہے اور تینو ں سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کی آزمائی ہوئی ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close