ہندوستان

کچھ نہ بولا تو مرجائے گا اندر کا شجاع

آج کل جس طرح کا ماحول ہمارے ملک میں بن رہا ہے، اس کو دیکھ کے یہی لگتا ہے کہ نازی جرمنی نے جو کام ادھورے چھوڑے تھے، وہ اب ہندوستان میں پورے ہوں گے، عجیب سی فضا بن چکی ہے، نہ کچھ بول سکتے ہیں، نہ کہہ سکتے ہیں، اور نہ ہی لکھ سکتے ہیں، ابھی حالیہ کچھ دنوں میں کئے واقعات نظر کے سامنے سے گزرے کہ کسی نے حکومت کے خلاف کچھ تنقیدی باتیں پوسٹ کیں، یا اترپردیش کے نئے مہارتھی شری مان کے خلاف کچھ طنزیہ  جملوں کا استعمال کیا، تو ان کے اوپر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے الزامات عائد کرکے انھیں گرفتار کرلیا گیا۔  یہاں تک کہ سننے میں آیا ہے کہ کئی اخباروں کے ایڈیٹر اور کالم نگاروں کو نوٹس جاری کئے گئے۔  یہ تو سراسر جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔  آزادی رائے جمہوریت کا وہ خوبصورت چہرہ ہے کہ اگر اسے مسخ کردیا جائے تو پھر جمہوریت میں کچھ بچتا ہی نہیں۔  سوال پوچھنا، سوال اٹھانا، تنقید کرنا، طنزیہ انداز میں کچھ کہنا، یہ لوگوں کا حق ہے، اور اگر اسی حق کو چھین لیا جائے تو پھر جمہوریت جمہوریت نہیں فاشزم میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

ہمارے ملک کا منظر نامہ مکمل طور سے بدل رہا ہے۔  لوگ ڈرے سہمے دکھائی دے رہے ہیں۔  بولنے والے بھی بول کے تھک چکے ہیں۔ اب خاموشی کا راج دکھائی دے رہا ہے۔ میڈیا بھی پالا بدل چکی ہے۔ جس کا کام حکومت کی پالیسیوں پہ سوال اٹھانا تھا۔ اب وہ ترجمان بن چکی ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا میں کچھ رمق باقی ہے ابھی۔ نیشنل میڈیا تو بالکل مردہ ہوچکی ہے۔ ضمیر۔ احساس سب کچھ بیچ کر حکومت کی حلیف بن چکی ہے۔ صاحب کیا کر رہے ہیں؟ کہاں جارہے ہیں؟ کیسے جارہے ہیں؟ غرضیکہ ہر پل۔ ہر منٹ کی رپورٹنگ کی جارہی ہے۔ مگر وہیں دوسری طرف بہت اقلیتوں کو مارا جارہا ہے۔ ان کے گھروں کو نذر آتش کیا جارہا ہے۔ مگر مجال کیا کہ اسے دکھا سکیں۔ یہاں تک کہ حالت یہ ہے بی۔ایس۔پی کے ایک مسلم ایم۔ایل۔اے کو مار دیا گیا۔ مگر بیشتر میڈیا ہاؤسز کو پتہ ہی نہیں چل سکا۔

بی۔جے۔پی کے اترپردیش میں برسر اقتدار آنے کے کچھ دن کے بعد کی بات ہے کہ بریلی کے ایک گاؤں میں دیواروں پہ پوسٹر لگا دئیے گئے تھے کہ مسلمانوں اس گاؤں کو اتنے دن یا اتنے دن میں چھوڑ کے چلے جاؤ۔ اب ہماری حکومت آ گئی ہے۔ سوچ لو کیا حشر کرنے والے ہیں۔ میڈیا نے اس پہ کچھ بھی دھیان نہیں دیا۔ پھر جب سوشل میڈیا پہ اس کے خلاف کچھ ہنگامہ ہوا تب جاکے اسے اخباروں کے ایک چھوٹے سے کنارے میں جگہ دی گئی۔ مگر وہیں جب کیرانہ کا مسئلہ تھا۔ تو نجانے میڈیا نے کیا کیا باتیں کیں تھیں۔ کچھ نے خبر کچھ اس طریقے سے چلائی تھی۔ "دوسرا کشمیر بنتا ہوا کیرانہ”۔ وہاں سے ہندؤوں کے بھگائے جانے کے ایسے جھوٹے جھوٹے قصے سنائے گئے کہ جھوٹ بھی شرما گیا ہوگا۔

کچھ ویڈیو ایسے دیکھنے میں آئے ہیں کہ صاف صاف اور واضح لفظوں میں دھمکی بھرے میسیج پوسٹ کئے جارہے ہیں۔ اقلیتوں کے خلاف خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ مگر مجال ہے کہ میڈیا اس پہ کچھ کہے۔

ایسا نہیں کہ میڈیا کے سارے لوگ برے ہوچکے ہیں۔ مگر ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جب حکومت فاشسٹ ہو تو عدالتوں سے لے کے میڈیا تک،  پولیس سے سیکریٹریٹ تک  سارے اسی کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ اور کوئی رنگنا نہ چاہے تو دھمکیوں سے  یا مار ڈالنے کی کوششوں سے اس کو خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ اس لئے ابھی بھی کچھ لوگ بول رہے ہیں۔ سوال اٹھارہے ہیں، پوچھ رہے ہیں، حکومت سےجواب مانگ رہے ہیں۔ مگر ہر دن وہ اندیشوں کے سایے میں گھرے رہتے ہیں۔ ہر وقت خوف کا حاکم ان کے اہل و عیال کے سر پہ مسلط رہتا ہے۔ ڈرتے ہیں۔ پھر بھی ہمت دکھاتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ بولتے ہیں۔ مگر کبھی کبھار ہار جاتے ہیں۔ ڈر سے ہار جاتے ہیں۔ پھر وہ بھی یا تو ضمیر کو بیچ کے ندی کے بہاؤ کے ساتھ بہہ جاتے ہیں یا ساری چیزوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے خاموشی سے اپنے گھر گرہستی میں لگ جاتے ہیں۔

بھگت سنگھ نے کہا تھا کہ برائی اس وجہ سے برائی نہیں ہوتی ہے کہ اس کے انجام دینے والے لوگ ہوتے ہیں۔ بلکہ برائی اس وجہ سے برائی ہوتی ہے کہ اس کے برداشت کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک میں اب ظلم کو ظلم کہنے والوں کی تعداد گھٹ چکی ہے۔ انگلیوں پہ گنے جاسکتے ہیں وہ لوگ جو سوال اٹھاتے ہیں۔ پوچھتے ہیں۔ یہاں تک کہ حالت یہ ہے کہ جن کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ خود وہ لوگ آہ نہیں کرتے۔ خاموشی سے برداشت کرلیتے ہیں۔ ان کے لیڈران مون برت رکھ کر آرام سے اپنے برج مشید میں آرام کرتے ہیں۔ قوم کیا ہے۔ قوموں کی قیادت کیا ہے اس سے انہیں کوئی مطلب نہیں۔

اخیر میں ایک بات میں کہنا چاہوں گا کہ بڑی آسانی سے ہم ہر معاملات میں دوسروں کو دوش دے کے نکل جاتے ہیں۔ خود میں نے اوپر کی ساری باتوں میں میڈیا کے بے حسی کا رونا رویا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ خود ہم کیا کر رہے ہیں۔ کیا ہم صرف اندھیروں کو برا بھلا کہہ کے خاموش ہوجاتے ہیں۔ یا روشنی لانے کے لئے کچھ کوشش بھی کرتے ہیں۔ اپنے حصہ کو دیا جلاتے ہیں۔ یا جلے ہوئے دئیے کو بھی بجھا کر خاموش ہوجاتے ہیں۔ میڈیا ہمارے ہاتھ میں نہ سہی۔ پر ٹوئیٹر اور فیسبوک ہمارے ہاتھ میں ضرور ہے۔ ہم اس پہ رائے عامہ ضرور بنا سکتے ہیں۔ اپنے درد کو لوگوں تک پہونچا سکتے ہیں۔ ٹوئیٹر پہ چلائے ہوئے ٹرینڈز بہت معانی رکھتے ہیں۔ اس کے ذریعہ نیشنل میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا کو ہم متوجہ کرسکتے ہیں۔ پوری دنیا کو ظلم اور زیادتی کے بارے میں بتاسکتے ہیں۔ جمہوریت میں بولنا بہت ضروری ہے۔ یہاں صرف اس کی سنی جاتی ہے جو بولتا ہے۔ گونگوں کے لئے جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں۔ خاموشی ظالموں کو شہہ دیتی ہے۔ لہذا بولئیے۔ کسی بھی ذریعہ سے بولئیے۔ یاد رکھئیے کچھ نہ بولا تو مرجائے گا اندر کا شجاع۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Back to top button
Close