ہندوستان

27سال سے بے حال یوپی یا کانگریس

حفیظ نعمانی

وہ زمانہ جب نہ حکیم ہوتے تھے نہ ڈاکٹر اور نہ ویدوہ تو شاید دو سو سال یا اس سے بھی پہلے کا زمانہ ہوگا۔  اس زمانہ کے بارے میں سنا ہے کہ کہیں بھی کوئی بیمار ہوتا تھا تو وہ گھر ہی پڑا رہتا تھا کہ اور گائوں کے بزرگ جسکو جس جڑی بوٹی کا تجربہ ہوتا تھا وہ دیدیا کرتے تھے۔ پاک پروردگار کو جسے بلانا ہوتا تھا وہ اسے بلا لیتا تھا۔ اور جسے اچھا کرنا ہوتا تھا اسے اچھا کردیتا تھا۔ اس زمانہ میں جو بغیر تعلیم کے وید ہوتے تھے جنہیں پروردگار شفا عطا فرمادیتا تھا وہ اپنے چیلوں کو لیکر نکلتے تھے۔ اور گائوں گائوں مریضوں کا علاج کرتے ہوئے دو چار مہینے میں واپس آتے تھے۔ وہی شفاء الملک تھے اور وہی مسیح الملک۔

اس کے بعدوہ دور آگیا۔ اور رفتہ رفتہ اس میں اتنی ترقی ہو تی گئی کہ دور دراز کے گائوں سے علاج کے لئے شہر آنے لگے اور چھوٹے شہر سے بڑے شہر آنے لگے۔ اور انتہا یہ ہے کہ سونیا گاندھی علاج کرانے کے لئے امریکہ جانے لگیں اور بائی پاس سرجری جیسے معمولی آپریشن کے لئے نواز شریف لندن جانے لگے۔ اور اسے   معمولی بات سمجھا جانے لگا۔

حیرت ہے کہ کانگریس نے وہاں سے سفر شروع کیاہے جب وید گائوں گائوں جا یا کرتے تھے۔ وہ دہلی سے پوٹلی باند ھ کر اور چیلوں کو لیکر بے حال یو پی کا علاج کرنے آرہے ہیں۔ جس کے بارے میں انہیں خبر ملی ہے کہ وہ 27سال سے بے حال ہے۔ اور یہ خبر نہ ملائم سنگھ یادو نے دی ہے جو زیادہ تر وزیر اعلیٰ رہے۔ نہ مس مایاوتی نے دی ہے جو دوسرے نمبر پر رہیں اور نہ بی جے پی کے صدر موریہ نے دی ہے جنکی پارٹی نے دو بار حکومت بنائی۔ بلکہ ان کانگریسیوں میں سے کسی نے دی ہے جو 27سال سے بے حال ہیں اور جن کے دفتر میں رات کو کبھی کبھی چراغ جل جاتا ہے۔

دہلی سے جو دیدی محترمہ شیلا دکشت اپنے چیلوں کو لیکر چلی ہیں۔ ان میں خود وہ ہیں جو شہرت کی حد تک 13سال تو بے داغ حکومت کرتی رہیں۔ لیکن کا من ویلتھ کرانے اور بعد میں اولمپک کی دعویداری کرنے کے شو ق میں لاکھوں کی جگہ کروڑوں اور کروڑوں کی جگہ اربوں پھونک دینے کے الزام میں ایک ایسی پارٹی سے جسکی عمر دو سال بھی نہیں تھی اور جو شیشی سے دودھ پی رہی تھی ،جسکے صدر جو طبعی اور سن وسال کے اعتبار سے ان کے بیٹے کی برابر ہیں یا کچھ زیادہ اور سیاسی عمر میں ان کے پوتوں اور نواسوں سے بھی چھوٹے اروند کیجریوال سے ہا ر گئیں۔ وہ کیجریوال جن سے ایک بڑے سیاسی کھلاڑی نے معلوم کیا تھا کہ آپ اگر شیلا جی سے ہار گئے تو آپکا کیا ہوگا ؟کجریوال نے جواب دیا تھا کہ یہ بات تو آپ شیلا جی سے معلوم کیجئے کہ اگر وہ ہار گئیں انکاتو کیا ہوگا ؟ اور یہی ہو ا کہ شیلا جی 25ہزار ووٹوں سے ہاریں اور انکے صرف 8ساتھی ہی جیت سکے۔ سونیا گاندھی نے بھی یہ سوچ کر کہ اب وہ مقابلہ کی سیاست کے قابل نہیں رہیں انہیں کیرالہ کا گورنر بنا دیا تھا لیکن قسمت انہیں وہاں سے لے آئی۔ اور اب وہ اپنے ان چیلوں کے ساتھ جن میں راج ببر غلام نبی آزاد اور پی ایل پنیا تینوں میں کوئی نہ لوک سبھا کا ممبر ہے اور نہ کسی اسمبلی کا۔ بے حال یوپی کا علاج کرنے کے لئے بس کا سفر کرتی ہوئی لکھنؤ پہنچنے والی ہیں۔ یا آچکی ہیں۔

راستہ میں غلام نبی آزاد اور م افضل نے جو دیکھا اسے بیان کرتے ہوئے وہ آرہے ہیں۔ اور بتایا جارہا ہے کہ جہاں سے 2014میں لوک سبھا کی ایک بھی سیٹ نہیں ملی اور 2012میں اسمبلی کی دو چار سیٹیں مل گئی ہوں۔ وہاں قدم قدم پر والہانہ استقبال ہوا ہے۔ ایسا استقبال کہ وہ بجائے اسکے کہ یہ اعلان کریں کہ جو سیکولر پارٹی یا پارٹیاں آواز دیں ہم بہار کی طرح ان کے ساتھ ملکر الیکشن لڑنے پر تیار ہیں۔ یہ کہا جارہا ہے کہ یہ وقت سیکولر پارٹیوں کے متحد ہو کر لڑنے کا ہے۔ انھوں نے سماج وادی حکومت پر یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا کہ اگر اس نے کامیابی کے ساتھ حکومت چلائی ہوتی تو 2014میں بی جے پی کو 73سیٹیں نہ ملی ہوتیں۔ اور یہ بھول گئے کہ بی جے پی کو جو 380سیٹیں لو ک سبھا کی ملیں وہ کانگریس کے بدترین 5سال کی سزا میں ملی ہیں۔ جن میں انھوں نے اول درجہ کے بے ایمانوں کو وزیر بنا یا اور جب لاکھوں کروڑ کے گھٹالے پکڑے گئے تو اپنے پانچ اہم وزیروں کو نکالنا پڑا اور تسلیم کیا کہ وہ بے ایمان تھے۔ اور آج ان میں سے ایک کو بھی نہ سزا ہوئی ہے اور نہ وہ اس دن سے اب تک جیل میں ہے۔ 2014میں جو پورے ملک میں ہوا اسکی ذمہ دار صرف کانگریس ہے۔ اور اس نے ہی گیہوں کا کردار ادا کیا تھا جسکے ساتھ ملائم سنگھ یادو اور مس مایاوتی گھن کی طرح پس گئے۔

غلام بنی آزاد صاحب نے بی جے پی سے زیادہ اسد الدین اویسی کو نشانہ بنایا کہ وہ مسلم فرقہ پرستی کو ہو ا دے رہے ہیں اویسی صاحب ہوں یا ڈاکٹر ایوب صاحب ان کے مسلم لیڈربن کر ابھرنے کی ذمہ دار بھی کانگریس ہی ہے۔ جس نے زبان سے تو کبھی نہیں کہا لیکن اسکے ہر ہندو لیڈر نے چاہے وہ پنڈت نہرو ہوں یا نرسمہا رائو سب نے یہ سمجھ کر ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک یہ سوچ کر کیا کہ وہ ملک میں سے اپنا حصہ پاکستا ن کی شکل میں لے چکے۔ اب یہاں وہ رہ رہے ہیں تو صرف ہمارے رحم و کرم پر ؟جسکے جتنے ثبوت مانگیں ہم دینے پرتیار ہیں۔ کہانی شروع ہوتی ہے آزادی کے صرف ایک سال کے بعد سے جب بابری مسجد میں مورتیاں رکھی گئیں اور وہ پنڈت پنت جو صف اول کے لیڈر تھے۔ انہوں نے پنڈت نہرو کو یہ جواب دیا کہ ڈی ایم یہ کہہ رہا ہے کہ مورتیاں ہٹائیں تو خون خرابہ ہو جائے گا۔ اور پنڈت نہرو خاموش ہو گئے۔ اور اسکے بعد سے ابتک ایک لاکھ سے زیادہ ان مسلمانوں کو قبر میں سلا دیااور کہیں کہیں اجتماعی قبریں بنانا پڑیں جنہیں وہاں کے ہندوئوں نے جگہ بھی نہیں دی۔ صر ف اس جر م میں کہ آواز کیوں بلند کی ؟

اور 50برس یا زیادہ گذر جانے کے بعد پنڈت نہرو کے نواسے نے بابری مسجد کا سرکاری تالا کھلوایا اور شیلا نیاس کیا۔ اور جن مسلمانوں نے غم کا اظہار کیا یا احتجاج کی ہمت کی تو اسی نواسے نے میرٹھ میں وہ کرایا جسکا مقابلہ صرف وہ کہا جا سکتا ہے جو گجرات میں مودی نے کرایا۔ اور وہ نر سمہا رائو جو راجیو گاندھی کے زمانہ میں وزیر داخلہ تھے اور انکے بعد وزیر اعظم بنے انھوں نے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سے مل کر بابری مسجد کا کا م ہی تمام کرا دیا اور 7دسمبر 1992کا پورا دن بند کمرے میںگذار دیا۔ اس کے بعد جس مسلمان نے یا جن جن مسلمانوں نے جس جس شہر میں آنسو بہائے یا اجتماعی طور پر غم منایا انکے سر قلم کر دئے گئے زبانیں کاٹ دی گئیں اور آنکھیں پھوڑ دی گئیں۔ اور جن مسلمانوں نے مقابلہ کی ہمت کی انکا وہ حشر کیا گیا جو ممبئی میں حکومت نے سی بی آئی سے رپورٹ لکھوا کر کیا کہ پھانسی بھی عمر قید بھی اور مختلف سزائیں بھی۔ لیکن دو ہزارسے زیادہ اور کانگریسی حکومت کے ہی بنائے ہوئے جسٹس کرشنا کمیشن کے لکھنے کے مطابق نو سو سے زیادہ مسلمانوں کو ابد ی نیند سلا دیا۔ ہزاروں کو زخمی کر کے ممبئی سے بھگا دیا اور دو سو کروڑ سے زیادہ کی انکی جائیداد یں تباہ کر کے قبضہ میں لے لیں۔ اس خون خرابہ کے ذمہ دار نہ کسی پارٹی کو سزا دی ، نہ گروہ کو ، نہ کسی فرد کو ، اور نہ پو لیس کو جو ہند وبن کر پوری طرح شریک تھی۔ اور جسکا اعتراف جسٹس کرشنا نے کیا ہے۔ اور وہ حیران ہیں کہ اور آنسو بہارہے ہیں کہ پھر ان سے یہ کام کیوں کرایا گیا ؟اگر مسلمان لیڈر وں پر حملے کرنا ہیں تو غلام نبی آزاد صاحب اور م افضل صاحب یہ سطریں پڑھ لیں۔ اور ان تمام باتوں کی صفائی میں جو کہتا ہے پہلے وہ کہہ دیں۔ ورنہ اپنی توپوں کا رخ صرف بی جے پی کی طرف رکھیں مسلمانوں کے زخموں کو نہ چھیڑیں جس سے فائدہ نہیں نقصان اور بہت نقصان ہوگا۔  رہے اویسی تو وہ انکا نہیں ہمارا موضوع ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close