ہندوستان

مہنگائی کی مار: عوام کب تک برداشت کرے گی؟

ہلال ہدایت

  مرکز میں قائم بی جے پی کی حکومت کو قسمت والی حکومت کہنے والے نریندرمودی ان دنوں پٹرول ڈیزل اور رسوئی گیس کے بڑھتی قیمتوں پر خاموش ہیں، ملک میں ہر طرف تیل کی بڑھتی قیمت سے ہاہاکار ہے، پورا ملک چاہتاہے کہ مودی حکومت تیل پر نافذ ٹیکس کم کرے تاکہ عام آدمی کو راحت ممکن ہو تاہم حکومتی سطح پر بیٹھے کارندوں کے ذریعہ ایسے بیانات آرہے ہیں جو زخم پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ ایک طرف روپیہ ایک ڈالر کے مقابلہ ۷۳؍کے آس پاس غوطہ کھارہاہے دوسری جانب جناب وزیر مالیات ارون جیٹلی جی کہہ رہے ہیں روپیہ کمزور نہیں ہوا ہے بلکہ ڈالر مضبوط ہوا ہے، بلکہ ایسے ہی جیسے مرکز میں این ڈی اے حکومت کا قیام بی جے پی کے فتحیابی کے بعد نہیں بلکہ کانگریس کی شکست سے ہوئی ہے، یہ بڑاہی مضحکہ خیز فلسفہ ہے جو عوام پر تھوپا جارہاہے۔ جس کے من میں جو آرہاہے اپنے ’’من کی بات‘‘ سنائے جارہاہے اور بھولی بھالی عوام مہنگائی کے درد سے کراہ رہی ہے۔

جس وقت مرکز میں مودی حکومت قائم ہوئی تھی اس وقت کے کچھ دن بعد بین الاقوامی بازاروں میں خام تیل کی قیمت کم تھی اس کے باوجود ایکسائز ڈیوٹی کے بار سے عوام کو راحت نہیں دی گئی آج جب بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے تو یہ فلسفہ پیش کیا جارہے کہ تیل کی بڑھتی قیمت پرقابوپاناحکومت کے قابومیں نہیں ہے۔ حالانکہ مرکزی حکومت چاہے تو ٹیکس کم کرکے عوام کوراحت پہنچاسکتی ہے لیکن ایساہونے کی امید بہت کم نظر آرہی ہے۔ جس کے چلتے اچھے دنوں کا وعدہ کرنے والی حکومت کے خلاف عوامی جن سیلاب امڈ پڑا ہے لوگوں میں غصہ ہے ناراضگی ہے اورسوشل میڈیا پر تو ایک قسم کاسیلاب ہے جس میں لوگ خود جواب دینے کے بجائے کانگریس کے دور میں دیئے گئے مودی جی اور ان کی کابینہ کے لوگوں کے بیانات شیئرکررہیں تاکہ انہیں کی زبان میں ان کا جواب دے سکیں۔

وزیراعظم جب عوامی ریلیوں میں خطاب کررہے ہوتے ہیں تو بالکل باتوں کا ریلا لگا ہوتاہے عوام سے خوب داد تحسین حاصل کرتے ہیں اور مودی مودی کے نعروں کے بیچ بڑے گدگد رہتے ہیں، اب جبکہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں وقت بہت کم بچا ہے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر اچھے دن کب آئیں گے، کب مہنگائی پر قابوپایا جائے گا، کیے گئے وعدے کب پورے ہوں گے ؟  تو انہیں مزید ایک لالی پاپ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ۲۰۲۲ تک ملک کی صورت بدل کررکھ دیں گے۔ کسانوں کی ابتر حالت کو بہترحالت میں تبدیل کردیں گے ہر طرف خوشحالی ہوگی، ہر آدمی مگن ہوگا۔ بس یہ سب خواب ہیں اوروہ بھی ’’دن میں تارے ‘‘ نکالنے کے۔ اب یہ دونوں محال ہیں، کیونکہ ترقی اورخوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی سطح کے لوگ ایماندار ہوں، بات کے پکے ہوں اور کوئی فیصلہ عوام کے فائدے کے لیے سوچ سمجھ کرکریں۔

اب دیکھئے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا فیصلہ کس طرح اچانک لیا گیا، نا حکومتی سطح کے کسی شخص سے مشورہ لیاگیا اور نہ دوراندیشی کامظاہرہ کیاگیا۔ سیکڑوں افراد کی جانیں گئیں اور معیشت کی ایسی درگت بنی کہ اب تک نہیں سنبھل سکی۔ نوٹ بندی کے بعد اس کوجائز ٹھہرانے کے لیے درجنوں دلیلیں دی گئی کبھی اس کو دہشت گردی سے نجات کاذریعہ بتایاگیاکبھی رشوت ستانی پر قدغن، کبھی کیش لیس معیشت کی دہائی دی گئی اورکبھی بہترنظام حکمرانی کی حکمت سے تعبیر کیاگیا۔ تاہم اس جیسی جتنی بھی باتیں کی گئیں سب نوٹ بندی کے ساتھ ساتھ سب فلاپ شو ثابت ہوئیں۔ ح

کومت نا تو دہشت گردی پر قابوپاسکی اور ناہی کرپشن سے آزاد ہندوستان ہوا۔ کیش لیس ہندوستان کا خواب بھی چکناچور ہوگیا اوریہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتاہے جب تک ہندوستان سے غربت اور معیشت پر قابونہیں پایاجاسکتاہے۔ وزیراعظم نے ملک کو ایسے ایسے خواب دکھائے تھے اگر اس میں سے نصف کی بھی تکمیل ہوپائی ہوتی تو آج یہ دن دیکھنے نہیں ملتے کہ لوگوں میں حکومت کے تئیں ناراضگی ہو۔ آج پٹرول ڈیزل کی قیمت سے ہرکوئی یکساں طورپریشان ہے سوائے نیتاؤں کے کیونکہ انہیں تو ہماری جیبوں سے وصولے گئے ٹیکس سے مفت میں تیل فراہم ہوتے ہیں جیساکہ ابھی حال ہی میں ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دیاگیا۔

 خودکو خوش نصیب کہنے والے وزیراعظم آج خاموش ہیں مہنگائی پر کوئی ٹویٹ یا بیان نہیں آرہے ہیں بس ترجمان ہی الٹی سیدھی ترجمانی کرکے ٹی وی مباحثوں میں عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ اچھے دن آنے والے ہیں اورنہ مودی جی کے پاس کوئی جادوئی چھڑی یا الہٰی دین کا چراغ ہے کہ منٹوں میں اچھے دن آجائیں بس یہ ایک شعبدہ بازی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اب جو ۲۰۲۲ء کی رٹ میڈیامیں سنائی دے رہی ہے بس ایک سیاسی جملہ ہے ورنہ ساڑھے چار سال بہت ہوتے ہیں کسی حکومت کے آنکنے کے۔ دہلی کی کیجریوال حکومت نے اپنے تین سال کی قلیل مدت میں حکومتی اداروں اوراسکولوں کی جوحالت کردی ہے اس بات کے لیے کافی ہے کہ اگر آدمی کی نیت درست ہو اور کچھ کرنے کا لگن رکھتاہوتو بہت کچھ کیاجاسکتاہے ورنہ تقریریں اورلفظی کھیل سے نہ تو عوام کابھلاہوا ہے اورنہ ملک کی ترقی ممکن ہے۔

آپ کوبتادیں کہ ہمارے بچپن میں آج سے دس بارہ سال قبل پٹرول کی قیمت اتنی ہوتی تھی کہ ہم لوگ اپنے جیب خرچ کے پیسوں سے موٹر سائیکل میں پٹرول ڈال کرگھروالوں کوبغیربتائے چوری چپکے چلاتے تھے۔ دور مت جائیے اپریل ۲۰۱۰ء تک پٹرول کی قیمت پچاس روپئے آس پاس تھی حالانکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت بہت زیادہ تھی اب جبکہ خام تیل یوپی اے کے دور سے کم قیمت پرفراہم ہورہاتب بھی قیمت آئے دن ریکارڈ توڑ اضافے پرہے۔ مودی حکومت اگر تیل کے ٹیکس کو کم کرتی ہے تبھی راحت کاامکان ہے ورنہ سنچری لگانے میں دیر نہیں لگے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ہلال احمد

ایڈیٹرماہنامہ الاتحادممبئی

متعلقہ

Close