ہندوستان

500-1000بند:کچھ توہے جس کی پردہ داری ہے

ڈاکٹرجہاں گیر حسن مصباحی

میں اپنے اس تحریر میں 1000-500کی انڈین کرنسی پر پابندی کے بعد ملک میں جو حالات پیداہورہے ہیں ان کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کروںگا کہ آخراِن نوٹوں کی بندی سے کہاں تک ملک وملت کو فائدہ ہورہا ہے اور اس کے پیچھے مرکزی حکومت کی کیا منشا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اِس کو دو جہتوں سے سمجھاجاسکتاہے:
ایک موجودعہد کے تناظر میں:اِس عہد کے تناظر میں سمجھے کے لیے اِن تین باتوں کا ذہن میں رکھنا ضروری ہے:

  1. ایک ایمان دار اور باصلاحیت گورنر کی برخواستگی اور اُس کی جگہ آناً فاناً ایک انٹرنیشنل سرمایہ دار کے رشتے کی تقرری
  2. سرجیکل اسٹرائیک ،بھوپال انکاؤنٹراور یوپی الیکشن انتخاب.

      3۔ریلائنس کمپنی کی Jioکی لانچنگ،جس کی ماڈلنگ خود وزیراعظم کرتے نظرآئے۔

 یہ سن کرآپ یقیناًحیرت میں پڑجائیں گے کہ یہ تمام پروگرام ملکی وملی مفاد کے لیے اورمحض ایک سرمایہ دار کوتجارتی سطح پر نفع پہنچانے کے لیے انجام دیاگیاہے۔اس کی پہلی کڑی ریزروبینک کے سابق گورنربنے کہ عمدہ کارکردگی کے باوجود اُنھیں گورنری سے برخاست کردیا اور اُن کی جگہ ایک سرمایہ دار کے رشتے دارکوبٹھادیاگیاجو پہلے ریلائنس کمپنی کے CEOرہ چکے تھے۔ ادھرمرکزی حکومت نےایک تیرسے تین نشانہ سادھا:ایک یہ کہ گورنرکے کرتب پرکسی کی نظر نہ پڑسکےاوروہ اپناکام خوبی کے ساتھ کرلے جائے۔دوسرایہ کہ یوپی الیکشن کی تیاری اورپارلیمانی انتخاب میں عوام الناس سے کیے وعدوں پرپردہ ڈالنے کے لیے سرجیکل اسٹرائیک کی چال چل دی گئی،لیکن اس میں بھی وہ کامیابی نہ مل پائی جس کا خواب مرکز نے دیکھاتھا،بلکہ الٹاسرجیکل گھپلے کی خبروں نے اُس کے ہوش اڑادیے ۔پھراِس سے گلوخلاصی کے لیے بھوپال فرضی انکاؤنٹرکا سہارا لیاگیامگر یہ انکاؤنٹر بھی مرکزی حکومت کے لیے گلے کا پھندابن گیا۔ اس طرح ایک طرف یہ سب تمام اعمال(سرجیکل اسٹرائیک/بھوپال انکاؤنٹر)ہندوستانی عوام کو گمراہ کرنےاور مطلوبہ مقاصد تک پہنچنے کے لیے حسب پروگرام طے پاتا رہا، دوسری طرف سرمایہ دارگورنرکے ساتھ مل کر اپنی پلاننگ کی تکمیل میں مصروف رہےاوراپنے بلیک منی کو سفید منی میں تبدیل کرنے کے طریقوں پرغورکرتے رہے۔بالآخر Jioکااعلان عام ہوا،اور دیکھتے ہی دیکھتےہندوستانی مارکیٹ پر ریلائنس کاقبضہ ہوگیا،یہاں یہ بات بھی یادرکھنا اہم ہےکہ ریلائنس کمپنی نے پچھلے پارلیمانی انتخاب میں مرکز کادل کھول کر اپناتعاون پیش کیاتھا۔چناں چہ جب ریلائنس کمپنی نے اپنی تمام تر پونجی Jioمیں کھپادیا توپھر ایک منظم سازش کے تحت 1000-500 کی کرنسی بند کرنے کا اعلان کردیاگیا۔ ہمارے نظریے کی تقویت اس سے بھی ملتی ہے کہ وزیراعظم نے 30؍دسمبر تک آخری تاریخ متعین کی ہے اور Jio کی میعاد عامہ کی آخری تاریخ بھی ہے۔پس جیسے ہی آخری تاریخ ختم ہوگی دیگر لوگ اپنی تجارت سنبھالنے میں لگ جائیں گے اورریلائنس اپنی بلیک منی کوسفید منی بنانے میں۔ دوسرا عہد کانگریس کے تناظرمیں:اِس عہد کے تناظر میں سمجھنے کے لیے ہمیں اور آپ کو آج سے دوڈھائی سال پیچھے جانا پڑےگا، اور 23؍جنوری 2014 کے اُن بیانات کو سامنے رکھنا ہوگا جن میں اُس وقت کی کانگریسی حکومت کے خلاف بھاجپا ئی اپنی پوری طاقت کے ساتھ بیان بازی کررہے تھے۔اُن بیانات میں سب سے اہم بیان بھاجپائی ترجمان محترمہ میناکشی لیکھی کاتھاجوآج بھی دیکھااورسناجاسکتاہے۔اپنے بیان میں محترمہ کہتی ہیں: موجودہ حکومت (کانگریس)کی طرف سےایک نئی پالیسی لائی گئی ہے۔جس میں 2005 سے پہلے کے(1000-500) کےنوٹوں کوختم کرنے کا پلان ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ معاملہ جو بہت بڑا مدعا ہےاور کالے دھن سے توجہ ہٹانے کے لیے ایساکیاجارہاہے۔کیوں کہ اس ملک کی 65؍فی صد عوام ایسی ہیں جن کے پا س اپنے بینک اکاؤنٹ تک نہیں ہےاور جواپنے جیون کی گاڑھی کمائی کوچھوٹے چھوٹے سیونگ کے طوپراپنے گھروں میں رکھتی ہے، کیوں کہ نہ تو وہ اتنےپڑھے لکھے ہیں،اور نہ ہی دوردرازکے بینکوں میں جانا اُن کے لیے آسان ہے۔چناں چہ حکومت کی جانب سے ایسی پالیسی لانے سے وہ متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکیں گے،اور کالا دھن پر اِس کی وجہ سے کچھ فرق نہیں پڑےگا۔اس لیے کہ جن کے پاس کالا دھن ہے اور جوشہروں میں رہتے ہیں یا جن کے پاس سہولت ہےوہ ان نوٹوں کوبدل کر نئے نوٹ جمع کرلیں گے۔لیکن جو غریب آدمی ہے،اورجو اصلیت میں ایک عام عورت ہے وہ اپنے شوہر سے کچھ پیسہ شایدآٹے کے ڈبے میں چھپاتی ہےیا دال چاول میں چھپاتی ہے،اس طرح سے ان کی زندگی کی کمائی اس پلان سے یقیناً متاثرہوگی۔‘‘ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آپارہی ہے کہ یہی عمل جب کانگریس کررہی تھی توغلط تھا،پھرآج درست کیسے ہوگیا؟ جب یہی عمل ڈھائی سال پہلے 65؍فیصد عوام کے لیے مضراورنقصان دہ تھا توآج فائدہ مند کس نہج سےہوگیا؟جب کانگریس کے عہد میں1000-500 کے نوٹوں کو تبدیل اور بند کرنے سےکالے دھن پر کچھ فرق نہیں پڑھ رہا تھاتوآج 1000-500کے نوٹوں کی تبدیلی سے کالےدھن کی برآمدات کیسے ختم ہوجائیں گے؟جب کانگریس نوٹوں کو تبدیل کرکے گاؤں -دیہات میں بسنے والے غریبوں بالخصوص گھریلوعورتوں کے پاکٹ منی پر ڈاکہ ڈال رہی تھی توآج مرکزی حکومت کیا کررہی ہے؟حکومت کایہ کہناکہ اِس سے بلیک منی پر قدغن لگے گاتو دوردور تک اِس کی کوئی صورت نظر آرہی ہے،بلکہ یہ سواکڑور ہندوستانیوں کوبیوقوف بنالے والی بات ہے ۔اس کا اندازہ اِس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ بلیک منی تو سوئج بینک میں ہےجو ڈالر کی شکل میں آتاہےاور انڈین کرنسی کی شکل اختیارکرلیتا ہے۔پھر بلیک منی پر قدغن کیسے لگے گا؟یہ سمجھ سے باہر کی بات ہے۔ مزید برآں جب اس طرح کے فیصلے کے لیے کانگریس ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ بھاجپا والے جیسے:مسٹرمودی،امت شاہ،ارون جیٹلی، ششماسوراج، اسمرتی ایرانی، میناکشی لیکھی وغیرہ پوراآسمان سرپراٹھالیےتھےاور خود کو غریبوں کے مسیحاکے طورپر پیش کررہے تھے۔لیکن جب کہ آج نوٹوں کی بندی کا اعلان ہوچکاہے اور اُس میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں بچاہے ،ایسی صورت میں اگر راہل گاندھی، کجریوال،ممتابنرجی، ملائم سنگھ،مایاوتی وغیرہ عوام کےبھلےکے لیے آوازاٹھارہے ہیں،سیاسی طورپر ہی سہی،پھر مرکزی حکومت اسے غلط کیوں ٹھہرارہی ہے۔کون ایسی سیاسی پارٹی ہے جو کوئی بھی بات سیاست سےاوپراٹھ کر کہتی ہے ؟پھر جب مرکزی حکومت گانگریس کے متروکہ عمل کا انجام تک پہنچاسکتی ہے تو اگر دیگر سیاسی جماعتیں بھاجپا جماعت کے طرزپر اُس کی مخالفت کررہی ہے تو کچھ بُرا تو نہیں کررہی ہے؟ بلکہ ایمان داری کی بات تو یہ ہےکہ جب کوئی تنقید کرنے میں یقین رکھتا ہے تو اُسے تنقید برادشت کرنے پربھی ایمان رکھنا چاہیے۔ تیسرا اِس اعلان کابعدمیں کیانتیجہ نکلےگااِن تمام باتوں سے قطع نظرفی الحال عوامی سطح پرکوئی فائدہ نظرنہیں آرہاہے،بلکہ ملکی اور ملی ہر اعتبارسے نقصان دہ ہی ثابت ہورہا ہے۔مثال کے طورپر کچھ لوگ اِس وقت بھی اپنی بنیاگری سے باز نہیں آتے کہ 1000 کے بدلے800 اور500کے بدلے 400 وغیرہ لینے کے لیے عام لوگوں کو مجبورکررہے ہیں۔ یک بیک یہ خبر سن کر ایک ضعیفہ کی موت واقع ہوگئی ہے۔کتنوں کی شادیاں رک گئی ہیں۔بہت سے لوگوں کو اَنتم سنسکار میں لکڑی کی جگہ ٹائر سے کام چلاناپڑا ہے۔ اسپتالوں میں مریض اوراُن کے مصاحبین کی حالتیں دگر گوں ہیں۔ بہت سے بینکوں میں ابھی تک مطلوبہ کرنسی دستیاب نہیں ہے۔ افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ چلے تھےلوگ مگرمچھ کا شکارکرنے اور جال میں پھنس گئی بےچاری مچھلی…۔
اس میں دورائے نہیں کہ نقلی نوٹوں سے ہمارے ملک کوسخت معاشی خسارہ ہوتا ہےاور اس پر بندش لگناایک اہم اورقابل تعریف عمل ہے لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ اس عمل سے نقالی تھم جائےگی۔ جب کہ جدید کرنسی خود عوام کو ہضم نہیں ہوپارہی ہے اور اُس کے نقلی ہونے امکانات زیادہ لگ رہے ہیں۔ چنانچہ موجودہ منی ایمرجنسی کی صورت حال پیداکرنا کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ۔نہ یہ ملک کے حق میں بہتر ہے اور نہ عوام کے لیے فائدہ مند ہے، اس لیے حکومت کو اِس پہلو پر سنجیدگی سے غورکرنی چاہیے، اور کوئی ایسا طریقہ اختیارکرنا چاہیے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ورنہ بصورت دیگر یہ خیال ہرکسی کے ذہن میں ازبرہوگاکہ
کچھ توہے جس کی پردہ داری ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Back to top button
Close