ہندوستان

دہلی میں آفس آف پرافٹ کا تنازع

رویش کمار

آج کل آپ آفس آف پرافٹ کا تنازع خوب سنتے ہوں گے. خبر ہے کہ الیکشن کمیشن نے عام آدمی پارٹی کے 21 اراکین اسمبلی کو 14 جولائی کو اپنا موقف رکھنے کے لئے بلایا ہے. اگر الیکشن کمیشن نے انہیں مجرم پایا تو ان کی رکنیت منسوخ ہو سکتی ہے. یہ معاملہ دہلی میں عام آدمی پارٹی بمقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی بمقابلہ کانگریس پارٹی بنا ہوا ہے. الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے بعد اس پر ہندوستان کے صدر فیصلہ لیں گے. صدر اس معاملے میں مرکزی کابینہ سے رائے نہیں لیتے ہیں. اس معاملے میں الیکشن کمیشن ہی اپنی رپورٹ بھیج سکتا ہے. آئین کی تمام تشریحات کے مطابق آفس آف پرافٹ کے معاملے میں قانونی طور پر مرکزی حکومت یا کابینہ کا کوئی رول نہیں ہے. عام آدمی پارٹی نے ایک قانون بنا کر صدر کو بھیجا تھا لیکن صدر نے منظوری نہیں دی. اب یہ معاملہ دہلی حکومت کے اوپر تلوار کی طرح لٹک رہا ہے. اس تنازع کے ذریعہ ہمارے آپ کے لئے پھر سے سمجھنے کا موقع ہے کہ آئین میں منتخب نمائندے کا کس طرح سے تصور کیا گیا ہے تاکہ وہ حکومت سے آزاد رہے اور اپنے علاقے کے عوام کے تئیں ذمہ دار رہے.

ہم اور آپ جب بھی کسی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کو دیکھتے ہیں تو ہمیشہ اسے حکمراں نواز یا اپوزیشن کے نمائندے کے طور پر دیکھتے ہیں. لیکن لوک سبھا یا ودھان سبھا اپنے اراکین کو حکومت کے نمائندے کے طور پر نہیں دیکھتی ہے. ایوان کا تصور اس پر مبنی ہے کہ رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ اس کے اندر عوام کی آواز ہیں. ایوان میں جو رکن وزیر ہیں صرف انھیں ہی حکومت کی آواز یا نمائندہ سمجھا جاتا ہے. آئین نے ایسا مانا ہے کہ رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ حکومت کے کسی بھی قسم کے زیراثر نہ آئے. اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسا عہدہ قبول نہ کرے جہاں سے اسے تنخواہ وغیرہ کی سہولت ملے، جس سے اس کے اقتدار میں حصہ دار ہونے کا موقع ملے اور جو حکومت کے براہ راست تحفظ میں آ جائے جس پر حکومت کا بس چلے. ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ ایوان میں رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ صرف عوام کی نمائندگی کریں. حکومت کے پاس کئی طرح کے عہدے ہوتے ہیں. وہ ہر عہدے پر اپنے اراکین پارلیمنٹ کو بٹھا سکتی ہے، اراکین اسمبلی کو دے سکتی ہے. اگر ایسا ہوا تو ایوان میں حکومت کی نمائندگی بڑھ جائے گی اور ایوان میں عوام کی نمائندگی گھٹ جائے گی. توجہ ركھيےگا کہ ایوان کے ہی رکن وزیر ہوتے ہیں جن کی کچھ مخصوص تعداد ہوتی ہے. مگر سارے رکن، وزیر یا چیئرمین نہ ہو جائیں اس کے لئے ہی آفس آف پرافٹ کا تصور کیا گیا ہے تاکہ ان کی رکنیت منسوخ کی جا سکے. آئین ساز سمجھتے تھے کہ اگر رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ حکومت کے زیراثر یا زیر تحفظ آ گئے تو وہ آزاد نہیں رہ پائیں گے. ایوان کے اندر رکن کو بغیر کسی کے دباو کے آنا چاہئے.

یہ مثالی نظام ہے. عملی نظام کچھ اور ہے. پیسے لے کر سوال پوچھنے کے الزام میں ہمارے منتخب نمائندوں نے رکنیت گنوانے کی تاریخ بنائی ہے. پارٹی کا نام لینے سے کوئی فائدہ نہیں. آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ راجیہ سبھا کے انتخابات میں رکن اسمبلی کس طرح دولت کے زیراثر اپنا ووٹ ادھر سے ادھر کر رہے ہیں. کچھ لوگ انتخابات میں پارٹی کی خدمت کر دیتے ہیں پھر وہ راجیہ سبھا سے لے کر ودھان پریشد میں آ جاتے ہیں. پہلے پارٹی کو اپنے پرافٹ میں سے کچھ دیتے ہیں پھر اس پارٹی کی حکومت سے آفس لے لیتے ہیں. ایسے رکن کو آپ عہدہ دیں یا نہ دیں، کیا کسی بھی طرح سے آپ آفس آف پرافٹ کی اخلاقیات سے آزاد رکھ سکتے ہیں. کئی جماعتوں نے ایسے اراکین کو ایوان میں بھیجا ہے جو بغیر آفس آف پرافٹ لئے حکومت کو بھی متاثر کر رہے ہیں اور ایوان کے اندر پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں.

21 اگست، 1954 کو لوک سبھا کے پہلے اسپیکر جی وی ماولنكر صاحب نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سے مشورہ کرکے آفس آف پرافٹ کے لئے ایک کمیٹی بنائی. اس کمیٹی کے صدر تھے پنڈت ٹھاکر داس بھارگو جن کی وجہ سے اسے بھارگو کمیٹی کے نام سے جانا جاتا ہے. بھارگو صاحب ہسار کے رکن پارلیمنٹ تھے. کمیٹی نے تجویز دی کہ ایک تفصیلی بل لا کر صاف کیا جائے کہ کون سا عہدہ فائدہ کا عہدہ ہے اور کون سا فائدہ کا عہدہ نہیں ہے. دھیان رہے یہ کام حکومت نہیں کرتی ہے بلکہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کرتی ہے. تب سے لے کر ہر لوک سبھا کے دوران مشترکہ کمیٹی بنتی ہے اور فائدے کے عہدے کی وضاحت کی جاتی ہے. جو رکن فائدہ کا عہدہ  قبول کرتے ہیں ان کی رکنیت چلی جاتی ہے. حکومت عوامی اداروں کو حکم بھی دیتی ہے کہ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ ان کی کمیٹی کا رکن ہے تو اسے کسی بھی قسم کی تنخواہ نہ دی جائے.

پارلیمنٹ یا اسمبلی کے اراکین کی آزادی کا کتنا خوب صورت تصور کیا گیا ہے. جان بوجھ کر تصور کہا کیونکہ جو کہا گیا ہے کیا وہ ہو بہو: احساس ہوا ہے یا ہو رہا ہے؟ جیسے کسی بل پر ووٹنگ سے پہلے ایوان احاطے میں ہی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں اجتماعی فیصلہ لے لیا جاتا ہے. رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی پارٹی لائن سے مختلف نہیں بولتے. رکن اجتماعی فیصلے کے ساتھ جائیں اس لئے وہیپ لگا دیا جاتا ہے. اس لیے آفس آف پرافٹ کی اصل روح کہاں تک لاگو ہے اسے آپ سمجھ بھی لیں گے تو کچھ نہیں کر پائیں گے. سیاسی نظام آپ کے سمجھ جانے سے نہیں بدلتا ہے. سیاست آپ کو ہی بدل دیتی ہے.

ضروری ہے کہ ہم آفس اور پرافٹ کی تعریف کو سمجھیں. آفس وہ سرکاری محکمہ ہے جس کے ذریعہ آپ معاشرے کے لئے کام کرتے ہیں. اس کے بدلے تنخواہ اور دیگر الاؤنس ملتے ہیں. سفر الاؤنس یا کچھ خرچ اس میں شامل نہیں ہیں. پیسے کا لین دین ہونا اس کے مرکز میں ہے. ہر عہدہ آفس آف پرافٹ کے دائرے میں نہیں آتا ہے. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی حکومت اپنے اراکین اسمبلی یا اراکین پارلیمنٹ کو عہدے دے کر اس پر کس حد تک اپنا اثر قائم کرتی ہے. پی ڈی ٹی آچاریہ کی ایڈیٹیڈ کتاب کے مطابق سپریم کورٹ نے آفس آف پرافٹ کا تعین کرنے کے لئے کچھ ٹیسٹ مقرر کئے ہیں. پہلے ٹیسٹ ہوتا ہے کہ آفس ہے یا نہیں. پھر ٹیسٹ ہوتا ہے کہ پرافٹ ہوا یا نہیں. سب سے بڑا ٹیسٹ اس بات کو لے کر ہوتا ہے کہ کیا حکومت تقرری کرتی ہے. یہ دیکھا جائے گا کہ حکومت رکن اسمبلی کے باس کی طرح کام تو نہیں کرتی یعنی اسے اس کے عہدے سے برخاست کر سکتی ہے، ہٹا سکتی ہے اور کام پر کنٹرول رکھ سکتی ہے. کیا حکومت اسے تنخواہ وغیرہ مالی ادائیگی کرتی ہے. اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری آفس ہوتا ہے یا نہیں. اس کے بعد پرافٹ کا ٹیسٹ ہوتا ہے. پانڈچیري کے میئر کے عہدے پر رکن اسمبلی کی تقرری ہوئی. الیکشن کمیشن نے آفس آف پرافٹ مانا کیونکہ کئی طرح کے الاؤنس ملتے تھے. مگر اسے نہیں مانا گیا کیونکہ میئر کا عہدہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں آتا ہے. اس لئے اس کی کوئی ایک تشریح نہیں نظر آتی ہے.

اب آتے ہیں عام آدمی پارٹی کے 21 اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری بنانے کے معاملے پر. بعد میں دہلی اسمبلی نے ایک بل بھی پاس کرکے قانون دیا کہ وزیر اعلی اور وزراء کے پارلیمانی سیکرٹری کا عہدہ قبول کرنے پر ان کی رکنیت نہیں جائے گی، کیونکہ یہ فائدے کے عہدے نہیں ہیں. اسمبلی نے اسے پاس کر دیا مگر صدر نے منظوری نہیں دی. یہ بھی ایک مسئلہ ہے. کیا صدر نے قطعی طور سے لوٹا دیا یا اب بھی ان خدشات کو دور کرکے نائب گورنر دوبارہ بھیج سکتے ہیں. 2006 میں بھی ایسا معاملہ ہوا تھا. تب دہلی میں شیلا دکشت نے کانگریس کے 19 اراکین اسمبلی کو کئی طرح کے عہدے دیے تھے. پارلیمانی سیکرٹری سے لے کر Trans-Yamuna Area Development Board کے چیئرمین، وائس چیئرمین، دیہی ترقی بورڈ وغیرہ. تقرری کے بعد الیکشن کمیشن نے ان 19 اراکین اسمبلی کو آفس آف پرافٹ کا نوٹس بھیج دیا. شیلا دکشت اپنی حکومت بچانے کے لئے ایک بل لے آئیں اور 14 دفاتر کو آفس آف پرافٹ کی فہرست سے باہر کر دیا. شیلا دکشت نے کہا تھا کہ میری حکومت بچانا میرا حق ہے، ہم آئینی طور پر ایسا کر رہے ہیں. ایسے ہی بل چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں پاس کئے گئے ہیں. صدر کلام نے 31 مئی 2006 کو شیلا کا یہ بل واپس کر دیا تھا. شیلا دکشت نے دوبارہ بھیجا اور صدر نے منظوری دے دی.

تب مرکز اور دہلی میں ایک ہی پارٹی کی حکومت تھی. اب صورت حال مختلف ہے. عام آدمی پارٹی تو کانگریس کلچر کے خلاف نئی سیاست کرنے آئی تھی. اتنے اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری بنانے کی کیا ضرورت تھی یا وہ کام کیوں کیا جو شیلا دکشت کر چکی تھیں. بی جے پی نے اس وقت بھی مخالفت کی تھی اب بھی مخالفت کر رہی ہے. رکن اسمبلی میناکشی لیکھی نے پریس کانفرنس کرکے کہا تھا کہ دہلی کا خصوصی آئینی نظام ہے. یہ ریاست نہیں، ایک شہر ہے. اس شہر میں صرف 7 وزیر ہو سکتے ہیں اور 7 کے اوپر 21 سیکرٹری لگائے جاتے ہیں. 21 ایم ایل اے کی جو تقرری ہوئی ہے، وہ غیر قانونی ہے. قانون میں اس کا کوئی نظام ہی نہیں ہے. پارلیمانی سیکرٹری عاملہ کا حصہ ہے. آپ اس ڈھانچے کو کنٹرول کر سکتے ہیں. اس لئے یہ فائدہ کا عہدہ ہوتا ہے. بھلے آپ  کوئی تنخواہ نہ لے رہے ہوں.

پارلیمانی سیکرٹری کیوں بنائے جاتے ہیں، کیوں کہ قانون وزراء کی تعداد اسمبلی کے اراکین کی تعداد کا 15 فیصد ہی ہو سکتا ہے. دہلی میں یہ 10 فیصد ہے. یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ وزراء کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور حکومت پر بوجھ نہ پڑے. لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ تمام ریاستوں میں ریاستی وزیر کا درجہ بانٹ دیا جاتا ہے. گاڑی، گارڈز لے کر ودھایک جی علاقے میں فلیش کرتے رہتے ہیں. بہت سے لوگوں کو سیکرٹری وغیرہ بنا دیا جاتا ہے. ہریانہ میں 13 وزراء ہیں مگر وہاں 4 اہم پارلیمانی سیکرٹری ہیں. راجستھان میں بھی 5 اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری بنایا گیا ہے. گجرات میں بھی 5 پارلیمانی سیکرٹری ہیں.

پچھلی حکومت میں ممتا بنرجی نے 24 اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری بنا دیا تھا. وہ اس کے لئے قانون بھی لے کر آئیں، لیکن 2013 میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر ہوئی. کلکتہ ہائی کورٹ نے ممتا بنرجی کے اس قانون کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا اور 24 اراکین اسمبلی کی تقرری منسوخ کر دی. لیکن ان کی رکنیت نہیں گئی. جب کہ یہ رکن اسمبلی پارلیمانی سیکرٹری رہ چکی تھیں. 2006 میں چھتیس گڑھ حکومت نے پروینشن آف ڈسكوالفیكیشن امینڈمنٹ بل لا کر 90 عہدوں کو آفس آف پرافٹ سے خارج کر دیا. اب دہلی میں ہنگامہ ہوا تو چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی نے مطالبہ شروع کر دیا ہے کہ ان 11 پارلیمانی سیکرٹریوں کو ہٹایا جائے جسے بی جے پی حکومت نے مقرر کئے ہیں. کانگریس اسے لے کر بی جے پی پر دوہرے معیار کا الزام لگا رہی ہے جب کہ 2006 میں دہلی میں ہی اس کی حکومت ایسا کر چکی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close